قیصر تمکین سے انٹرویو
انٹرویو۔فیضان عارف، ۔لندن
قیصر تمکین برطانیہ میں اردو افسانہ نگاری کے قافلہ سالار ہیں اور افسانے کا تذکرہ اُن کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہوتا وہ یکم جنوری 1938 کو لکھنو میں پیدا ہوئے۔ قیصر تمکین نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور وہ 1965 سے برطانیہ میں آباد ہیں اُن کے افسانوں کے پانچ مجموعے، ایک تنقیدی کتاب اور صحافتی دنیا کی ایک داستان خبر گیر کے نام سے چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے۔ صحافتی حوالے سے بھی اُن کانام کسی تعارف کا مرھونِ منت نہیں۔ گزشتہ دنوں اُن سے ایک ملاقات یں ہماری جو بات چیت ہوئی اس کی تفصیل تحریر کی جا رہی ہے۔   
س : کیا اردو افسانہ فکشن کی عالمی صف میں شامل ہے؟

٭۔ ۔ ۔ ج: اردو افسانہ 1930 سے اب تک مسلسل ترقی کر رہا ہے اور آج بھی اردو فکشن میں بہت سے نام ایسے ہیں جن کی تخلیقات عالمی ادب کی فہرست میں شامل کی جا سکتی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم خود احساسِ کمتری میںمبتلا ہیں۔ فکشن کے حوالے سے پوری دنیا میں اس وقت تین چار اچھے ناول نگار ہیں جن میں پہلا نام قراۃ العین حیدر کا ہے۔ افسانے میں منٹو کا نام بے مثال ہے اس سے بڑا حقیقت کا غماز آج بھی کوئی نہیں ہے۔ اِن دِنوں جو نئے لکھنے والے ہیں وہ بیچارے انگریزی سے متاثر ہیں حالانکہ یہ نئے لکھنے والے خود بہت ذہین ہیں اور مسائل پر نظر بھی رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آغاسہیل نے ایک کہانی لکھی تھی جو کسی بھی طرح مغرب میں لکھے جانے والے فکشن سے پیچھے نہیں ہے اسی طرح برطانیہ میں اردو کے افسانہ نگار جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے بہت باشعور ہیں اور ان کی تخلیقات میں گہرائی اور فکر ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : برطانیہ میں آباد اردواور مشرقی افسانہ نگاروں کے لئے مغربی معاشرے کے حالات اُن کے تخلیقی افکار پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں؟
٭۔ ۔ ۔ ج: افسانہ لکھنے والا ایک شاعر کی طرح ہوتا ہے جو کچھ وہ محسوس کرتا ہے اس کا اظہار اپنی تخلیق کے ذریعے کر دیتا ہے۔ لکھنے والا چاہے پاکستان میں ہو یا برطانیہ میں زندگی کے مسائل ہر جگہ وہی ہوتے ہیں، ہر تخلیق کار زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنے زاویوں سے دیکھتا ہے اور انہیںاپنے انداز سے لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک بہت بڑا فرانسیسی مصور ساری زندگی مشرق بعید کے جذیروں میں رہا تو کیا آپ اس کے کام اور مصوری کو نظر انداز کر دیں گے؟ دنیا کے مختلف کونوں میں اہل قلم نے اپنی تخلیقات کے چراغ جلا رکھے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ جو بات امریکہ میں بیٹھ کر لکھی جائے وہی قابل توجہ ہو۔ ہر لکھنے والا اپنے مقامی معاملات کے حوالے سے لکھتا ہے اردو کے افسانہ نگار کسی اور زبان کے لکھنے والے سے کم نہیں ہیں عصمت چغتائی کی مثال ہمارے سامنے ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم باہر کی چمک دمک سے متاثر ہو جاتے ہیں۔
٭۔ ۔ ۔ س : برطانیہ کے اردو افسانہ نگاروں نے اس میں رہنے والے اپنے لوگوں اور کمیونٹی کے مسائل کو کس حد تک سمجھا اور انہیں اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے؟
٭۔ ۔ ۔ ج: جو یہودی افسانہ نگار امریکہ میں آباد ہیں وہ اپنی تہذیب اور اپنے ماحول کو ساتھ لے کر وہاں گئے تھے وہ جب بھیاکٹھے ہوتے ہیں یا کچھ لکھتے ہیں تو اپنی روایات کے حوالے سے ہی لکھتے ہیں اور اپنے مسائل کو ہی موضوع بناتے ہیں یہی حال اردو کے ترکِ وطن کرنے والے افسانہ نگاروں کا ہے۔ میں گزشتہ دنوں لاہور گیاتو وہاں کچھ لڑکیوں نے سخت اعتراض کیا کہ ہمارے باپ دادا لکھنو سے ہیں اور وہ ہمیشہ لکھنو کی ہی بات کرتے ہیں تو میں نے کہا کہ اگر تم پر لکھنو کو تھوپتے ہیں تو غلط کرتے ہیں لیکن اگر تم بیاہ کر امریکہ جاؤ گی تو وہاں تمہیں لاہور کی بات کرنا پڑے گی کیونکہ تم لاہور کو بھول نہیں سکتیں اس لئے کہ یہ تمہاری مٹی ہے اگر تم امریکہ جا کر وہاں کے ماحول میں رنگ جاؤ گی اور اپنی روایات اور اقدار فراموش کر دو گی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم نے اپنی تہذیب کے ورثے کو قبول نہیں کیا۔ تہذیب خانوں میں بٹی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے یہ تو ایک گلدستے کی طرح ہوتی ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : آج کے افسانہ میں کہانی کی جگہ واقعہ نگاری کا رجحان کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟
٭۔ ۔ ۔ ج: ہر نئی جنریشن کے اپنے مسائل ہوتے ہین اس کی اپنی کچھ لڑائیاں ہوتی ہیں اس کے محسوسات اور امنگیں الگ ہوتی ہیں ہم ایک جنریشن کی امنگوں کو دوسری جنریشن کی امنگوں سے ہم آہنگ نہیں کر سکتے۔ ہم نے جن حالات میںافسانے اور کہانیاں لکھنا شروع کیں وہ ان حالات سے مختلف تھے جن میں آج نئی نسل کے لوگ لکھ رہے ہیں، کل ہماری زبان اور تحریروں پر اعتراض کیا جاتا تھا اور اگرہم بھی اپنے بعد آنے والوں پر اعتراضات شروع کر دیں تو یہمناسب نہیں میں نے آج تک کسی نئی نسل کے لکھنے والے پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ لوگ نئی دنیابنائیں گے اور ان کے بنائے ہوئے پیمانے ہی آنے والے وقتوں کے معیار تسلیم کئے جائیں گے اور سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پیمارنے تو جھوٹے اور پرانے ہو چکے ہیں مجھے تو نئے افسانہ نگاروں میں کسی قسم کی کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ کرشن چندر نے کوریا میں لڑائی کے حوالے سے ایک واہیات کہانی لکھی تھی جس میںدو امریکی فحش باتیں کرتے ہیں اس افسانے میں کہانی کا عنصر بالکل نہیں ہے دراصل کہانی تو ایک ’’سنیپ شاٹ‘‘ ہوتی ہے جس سے کوئی بھی تصویر بنائی جا سکتی ہے میں نے جو کہانیاں لکھی ہیں اس میں آپ کو میری تہذیب کا عکس ملے گا میں نے چین اور روس کے بارے میں کہانیاں نہیں لکھیں کیونکہ میں وہاں کی تہذیب کے بارے میں نہیںجانتا حالانکہ میں کچھ عرصے کے لئے اُن ملکوںمیں رہا ہوں اور پھر جب تک کوئی چیز لکھنے والے کے احساس کو مرتعش نہ کرے اُسے اس بارے میں نہیں لکھنا چاہئے۔ کہانی کار اور صحافی میں فرق ہوتا ہے مگر احمد عباس اور کرشن چندر کہانی اور صحافت میں تفریق نہیں کر پائے۔ رالف رسل نے کرشن چندر کے بارے میں سو فیصد صحیح کہا تھا کہ اگر کرشن چندر کے تخلیقی ذخریے میں سیبہت سی واہیات کہانیاں نکال دی جائیں تو چند ایک اچھی کہانیاں مل جائیں گی جبکہ عصمت چغتائی کے ہاں ایسی بات نہیں ہے اُن کی کہانیوں کا انتخاب مشکل ہے کیونکہ ان کی ہر کہانی اچھی ہے ان کی کہانیاں مخصوص معاشرے کی کہانیاں ہیں لیکن اُن میں پوری زندگی کا عکس بھی نظر آتا ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ آپ بطور صحافی بھی مختلف اخبارات سے وابستہ رہے ہیں آپ نے اپنی افسانہ نگاری کو صحافتی اثبات سیکس طرح محفوظ رکھا؟
٭۔ ۔ ۔ ج : جب کوئی شخص سائیکل سے گر کر کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے تو ایک صحافی اس واقعے کی رپورٹ لکھ کر خبر بنا دیتا ہے اور جب ایسا واقعہ کسی حساس شخص یا لکھنے والے کے ذہن کو جھنجھناکے رکھ دیتا ہے تو پھر وہاں صحافت ختم ہو جاتی ہے اور کہانی آ جاتی ہے ۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میری کہانیوں میں جرنلزم نہ آئے اور ہر کہانی میں کوئی نہ کوئی بات کہہ جاؤں میں نے اس ضمن میں خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر سے سبق حاصل کیا ہے کیونکہ یہ دونوں لکھنے والے اپنی کہانیوں میں نعرے بازی کرتے ہیں اور اپنی بات ٹھیک سے نہیں کہہ پاتے اور اپنی باتوں کو بڑے خوبصورت پیرائے میں شفیق الرحمن کہہ جاتے ہیں۔ اُن کیایک ایک جملے پر انسان سوچتا رہ جاتا ہے ، فنکار وہی ہوتا ہے جس کی تحریر چونکا دے اور انسان تنہائی میں اس کے بارے میں سوچتا رہے جب کوئی شخص مشاعرے میں جاتا ہے تو وہ کئی اشعار سن کر واہ واہ کرتا ہے لیکن دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا وہ اشعار اُسے تنہائی میں بھی یاد آتے ہیں۔ تنہائی میں تو صرف غالب یاد آتا ہے، اقبال یاد آتا ہے ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : اردو افسانے پر ترقی پسند تحریک نے کیا اثرات مرتب کئے؟
٭۔ ۔ ۔ ج: اردو افسانہ فنی طور پر ترقی پسند تحریک کی دین ہے، ترقی پسند تحریک اور تنظیم میں فرق ہے۔ ترقی پسند تحریک نے علاقوں، زبانوں اور فرقوں کا اثر مٹادیا۔ ترقی پسند تحریک کی وجہ سے بہت سے لوگ انتہا پسندی کی طرف بھی چلے گئے لیکن اگر اردو افسانے سے ترقی پسند تحریک کو نکال دیں تو کچھ باقی نہیں بچے گا۔
٭۔ ۔ ۔ س : کیا جن لوگوں نے اس تحریک سے باہر رہ کر جدید ادب تخلیق کیا وہ ترقی پسند ادب نہیں تھا؟
٭۔ ۔ ۔ ج : بہت سے لوگ کسی پارٹی یا تحریک میں شامل نہیں ہوتے لیکن اس کے مقاصدسے ہمدردی رکھتے ہین اگر میں ترقی پسند تحریک کا رکن نہیں تھا تو اس ادب سے ضرور متاثر ہوا ہوں جو اس تحریک کے زیر اثر لکھا جاتا رہا ہے۔ ہندو مسلم فسادات میں جب انسانی رویے جانوروں جیسے ہو گئے تھے وہاں ترقی پسندوں نے انسانی حقوق کاچراغ روشن رکھا رام آنند ساگر کا ناول ’’اور انسان مر گیا‘‘ اس سلسلے کی ایک بڑی مثال ہے۔ اسناول کے کردار ہندو مسلم نہیں بلکہ انسان ہیں یہی چیز کرشن چندر اور سعادت حسن منٹو کے ہاں ملتی ہے جبکہ دوسرے دبستان کے لکھنے والوں نے انسان کو ذات پات، فرقوں اور مسلکوں میں بانٹ دیا۔ سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز یاور مخدوم کاتلعق مختلف علاقوں سے تھا لیکن ان کی آواز اور نقطہ نظر ایک ہے کیونکہ وہ بنیادی طور پر انسان کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں، ترقی پسندوں پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن ترقی پسند تحریک کے مقاصد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ترقی پسند تحریک کی وجہ سے اردو ادب درباروں سے نکل کر عوام تک پہنچا۔
٭۔ ۔ ۔ س : انگریزوں کے چلے جانے کے بعد برصغیر اور بالخصوص پاکستان میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے تسلط کی وجہ سے غریبوں کا استحصال آج بھی ہو رہا ہے اِن حالات میں ترقی پسندانہ رویہ اور تحریک کی کتنی ضرورت ہے؟
٭۔ ۔ ۔ ج : آج ہر شخص سرمایہ دار اور جاگیر دار کو گالی دے کر چپ ہو جاتا ہے وہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کی وجوہات پر غور نہیں کرتا اس لئے تاریخی شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے پاس بے شمار وسائل ہیں انہوںنے پسماندہ لوگوں کے بارے میں سوچنا بند کر دیا ہے یہ صورتحال تیسری دنیا کے تمام ملکوں میں ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : برطانیہ کے اردو افسانہ نگار خواتین کس درجے کا ادب تخلیق کر رہی ہیں؟
٭۔ ۔ ۔ ج : برطانیہ کی افسانہ نگار خواتین جو کچھ محسوس کرتی ہیں اسی کو اپنی تحریرکا موضوع بناتی ہیں یہ خواتین برطانیہ میں اردو ادب کی خدمت کر رہی ہیں اور شاعرات سے بہتر ہیں جو صرف غزلیں لکھتی ہیں اور خضاب لگانے والے لوگوں کو اپنی شاعری سنا کر خوش ہو جاتی ہیں۔
٭۔ ۔ ۔ س : گزشتہ دنوں آپ نے لندن کے ایک ادبی ماہنامہ میں شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی رویوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا تھا۔ کیا آپ نقادوں رویوں اور رجحانات سے مطمئن ہیں؟
٭۔ ۔ ۔ ج : تخلیق کار اور قاری کے مابین دلال کا میں کبھی قائل نہیں رہا اس لئے میں نے آج تک کسی ناقد سے یہ نہیں کہا کہ میرے بارے میں مضمون لکھو یا میری کسی کتاب پر تبصرہ کرو، حسن والے اور حسن پرست میں برہ راست تعلق ہوتا ہے۔ تاج محل کو دیکھنے والا خود اس کی خوبصورتی کو محسوس کرتا اور دیکھتا ہے وہ اس کے لئے کسی کا مرھون منت نہیں ہوتا اگر ادب پڑھنے والا باشعور ہے تو وہ خود ہی تخلیق کی تہہ تک پہنچ جائے گا اور اس کے محاسن کو سمجھ لے گا۔ شمس الرحمن فاروقی نے فیض کو چوتھے درجے اور فراق کو معلوم نہیں کس درجے کا شاعر قرار دیا لیکن اس طرح کے بیانات وینے والے کے بارے میں ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ وہ خد کیا ہے ایسے بیان دینے والے لوگ اردو ادب کے لئے ایک سانحہ ہیں۔
٭۔ ۔ ۔ س : موجودہ حالات میں اہل قلم کا معاشرتی کردار کیا ہونا چاہئے؟
٭۔ ۔ ۔ ج: لکھنے والے کو بغیر کسی مصلحت کے صرف سچ لکھنا چاہئے، سچ لکھنا ہی تخلیق اور ادب ہے۔ اہل قلم سچ لکھ کر ہی اپنا معاشرتی کردار ادا کر سکتے ہیں، دراصل تخلیق ایک خدائی وصف ہے جو خدا تعالی اپنے مخصوص لوگوں کو عطا کرتا ہے، جو شخص تخلیق کار ہوتا ہے اس کے کردار ماورائی نہیں ہوتے وہ اس دنیامیں بسنے والے انسانوں کو ہی اپنا ہیرو بناتا ہے جو نہ فرشتہ ہوتا ہے اور نہ ہی شیطان اس سلسلے میں سعادت حسن منٹو کی مثال ہمارے سامنہ ہے جس کی کہانیوں کے کردار عام انسان ہیں۔ لکھنے والا معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی بنیادی صفت بے دھڑک سچائی کا اظہار ہوناچاہئے جیسا کہ اقبال نے کہا ہے ؂ اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند چپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبال کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مند بند سچ بولنے والے کو سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ میں جلسوں اور کانفرنسوں میں اس لئے نہیں جاتا کہ لوگ مندوبین سے خوشامد اور تعریف کی توقع کرتے ہیں۔
٭۔ ۔ ۔ س : آج کل کے اہل قلم میں گروہ بندی اور ایک دوسرے کی کردار کشی کا رجحان بہت شدت اختیار کر گیا ہے۔
٭۔ ۔ ۔ ج: یہ رجحان تو بہت پرانا ہے دنیابھر کے ادیبوں میں گروہ بندیاں موجود ہیں خاص طور پر یہودی ادیبوں میں تو یہ رویہ بہت شدت کے ساتھ موجود ہے جو ایک دوسرے کی کردار کشی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے لیکن اگر غور کیا جائے تو اِن گروہ بندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اس طرح کسی کسی کی ادبی حیثیت میں اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے کیونکہ ادبی حیثیت کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرتا ہے بقول محشر بدایونی
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ جس دیئے میں جان ہو گی وہ زیادہ جائے گا
مصفحی اور انشا کے درمیان جو کشمکش تھی اردو ادب پڑھنے والے اس سے واقف ہیں کچھ نقادوں نے بھی اس طرح کے رجحان کو فروغ دیا ہے بلکہ بھارت کے ایک نقاد نے تو اردو تنقید کو لفنگے پن سے آشنا کر دیا ہے جس کی وجہ سے اردو میں لفنگی تنقید کا دبستان کھل گیا ہے۔ ٭۔ ۔ ۔ س : برطانیہ میں تخلیق ہونے والا اردو افسانہ برصغیر کے افسانے سے کس حد تک مختلف ہے؟ ٭۔ ۔ ۔ ج: میرے خیال میں تو کوئی نمایاں فرق نہیں ہے یہاں کے بہت سے افسانہ نگاروں کی نظر ، فکر اور شعور پاکستان اور بھارت کے افسانہ نگاروں سے بہتر ہے۔ برصغیر کے لکھنے والے برطانیہ اور مغربی ادب سے مرعوب رہتے ہیں جبکہ برطانیہ میں آباد اردو کے ادیب کسی سیمرعوب ہوئے بغیر وہی کچھ لکھتے ہیںجو اُن کی سمجھ میں آتا ہے لیکن برطانیہ میں تاحال کوئی دبستان تشکیل نہیں پایاجس کی خصوصیات گنوائی جا سکیں مگر برطانیہ میں لکھنے والوں کی تخلیقات معیار کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ہیں برطانیہ میں نثر نگاروں کی تخلیقات اس لئے بھی قارئین تک کم پہنچتیں ہیں کہ یہاں مشاعرے زیادہ ہوتے ہیں نثری تخلیقات کے ابلاغ کے لئے کم مواقع میسر آتے ہیں۔ اگر مشاعروں پر پابندی لگے اور افسانے کی محفلیں منعقد ہوں، نثری تخلیقات کے لئے تقریبات کا انعقاد ہو تو یہاں سے بھی نئی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔
٭۔ ۔ ۔ س : آنے والے دنوں میں یہاں اردو زبان و ادب کا مستقبل کیا ہو گا؟
٭۔ ۔ ۔ ج : وہ پرانے لوگ جو برطانیہ میں اردو کے ختم ہونے کی پیش گوئی کرتے ہیں دراصل انہوں نے خود تمام عمر اردو کے نام کا کھایا اور ان کا اپنا جو تھوڑابہت تشخص ہے وہ بھی اردو ہی کی وجہ سے ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سنسکرت کیاشلوک کے مطابق ’’جو ہے وہ نہیں، نہیں ہو سکتا‘‘ جس طرح مادہ Matter کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک شکل سے دوسری شکل اختیار کر لیتا ہے اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے اس کے وجود میں آنے کے بعد خاتمہ ناممکن ہے جب ہم انگلستان میں آئے تھے تو اس وقت اردو کے لئے حالات ایسے سازگار نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ اردو کا مستقبل تاریک نہیں ہے یہ باالکل ایسے ہی ہے جیساکہ پرانے زمانے میں لوگ معمومی معمولی بات پر کہا کرتے تھے کہ اسلام خطرے میں ہے۔ دنیا میں ہر جگہ کوئی نہ کوئی یونیورسٹی ایسی ضرور ہے جہاں اردو پڑھائی جاتی ہے اقوام متحدہ میں اردو زبان کی اہمیت کو تسلیم کیا جا چکا ہے میں اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں بعض لوگ سمجھتے ہیں اُن کے بعد اردو کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا حالانکہ کسی ایک شخص کے چلے جانے سے نوع انسانی ختم نہیں ہو جاتی۔
٭۔ ۔ ۔ س : آپ کو اپنی کون سی کہانی بہت اچھی لگتی ہے؟
٭۔ ۔ ۔ ج: مجھے اپنی کہانی کفن کھسوٹ بہت پسند ہے۔
٭۔ ۔ ۔ س : آپ کو کن افسانہ نگاروں نے بہت متاثر کیا؟
٭۔ ۔ ۔ ج: میں سب سے زیادہ عصمت چغتائی اور منٹو سے متاثر ہوں۔
قیصر تمکین کی تخلیقات
٭ جگ ہنسائی (افسانے) 1957
٭ خبر گیر (صحافتی دنیا کی داستان) 1986
٭ سواستگا (افسانے) 1987
٭ اللہ کے بندے (افسانے) 1989
٭ یروشلم، یروشلم (افسانے) 1993
٭ او یاسمین (افسانے) 1997
٭ شعر و نظر (تنقید) 1997
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.