s
 ”نیانظام تعلیم ہندوستان کوسونے کی چڑیابنائے گا”—کپل سبل
فیروز بخت احمد
ابھی حال ہی میں وزیز برائے فروغِ اِنسانی وسائل جناب کپل سبل نے”حق تعلیم”(رائٹ ٹوایجوکیشن)کے قانون کوحتمی شکل دیاہے۔اِس سے پہلے بھی اُنھوں نے تعلیم کے میدان میں کچھ اِنقلابی اقدامات کیے ہیں،جن میں سی۔سی۔ای۔یعنی کانٹی نیوس کریکولم ایویلیوشن اہم پیشرفت ہے۔تعلیم کے موضوع ومسائل پرفیروزبخت احمد نے اُن سے گفتگوکی ،جس کے چند اِقتباسات درج ذیل ہیں۔   
سوال:آخرکیاوجہ رہی کہ ”حق تعلیم”بل کواِتنے دن تک مختلف سرکاروںنے دبائے رکھا؟
جواب:”حق تعلیم”کواِتنے دن تک کیوں دبائے رکھا، اِس کا جواب تووہی لوگ دے پائیں گے کہ جن کے ذریعہ ایساکیاگیا۔جہاں تک میراتعلق ہے،میری کوشش ہمیشہ یہی رہتی ہے کہ میں جس کام کا بیڑہ اُٹھائوں،اُسے میں جلدازجلد مکمل کروں۔چوںکہ تعلیم کے موضوع سے میرابھی دلی لگائوہے،یہ بات مجھے بھی کھٹکتی تھی مگراللہ کاشکرہے کہ اب ہم اِس بل کونافذکرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سوال:آپ کا ہندوستانی اِسکولی نظام تعلیم میں سی۔سی۔ای۔نافذ کرنے کا کیامقصدتھا؟
جواب:دیکھئے اِس بات سے توکوئی اِنکارنہیں کرسکتاکہ کسی بھی ملک کے لیے نظام تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتاہے۔واضح رہے کہ قوموں کاعروج وزوال ملک کے اُن ہونہاروں پرمنحصرہوتاہے جواِسکولی تعلیم حاصل کرنے کی عمرمیں ہوتے ہیں کیوںکہ آگے چل کرملک کی باگ ڈورنیزدیگرملکی کام اُنھیں ہی انجام دینے ہیں۔لہٰذا، ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم لوگ ایسانظام تعلیم تشکیل دیں جس سے ملک کے ہونہاروں کی آل رائونڈیعنی روحانی،ذہنی اورجسمانی طورپربہترپرورِوپرداخت ہوبلکہ جب وہ ملک یابیرونِ ملک کسی سے موازنہ یامقابلہ جاتی اِمتحانات میں شریک ہوں توخودکوبہترہی پائیں۔
سوال:یہ توبہت اچھی بات ہے مگریہ بتائیںکہ جس طرح سے پہ درپہ جنگی پیمانہ پرآپ نے تعلیمی میدان میں تبدیلیاں کی ہیں،اُن سے بہت سے اساتذہ حضرات کوآپ نے برہم کیاہے۔ایساکیوں؟
جواب: میں نہیں سمجھتاکہ اساتذہ حضرات اِس سے برہم ہیں۔میری رِپورٹ کے مطابق توتمام اِسکولوں کے اساتذہ اورپرنسپل حضرات اِن تبدیلیوں سے مطمئن ہیں۔جولوگ مطمئن نہیں ہیں،ہوسکتاہے کہ وہ کچھ بڑھے ہوئے کام سے گھبرارہے ہوسکتاہےکوئی اوروجہ ہوکہ جس کی وجہ سے وہ مطمئن نہ ہوں۔بہرحال،وجہ جوبھی ہو،میں ایسے برہم اساتذہ حضرات سے براہِ راست گفتگوکرنے کو تیارہوں۔میری پہلی اورآخری کوشش یہ ہے کہ جوبے تحاشہ ٹیلنٹ ہماری سوسائٹی کے مختلف طبقات کے بچوں میں ہے،وہ بروئے کارلایاجائے تاکہ نونہالانِ ہندکوترقی کے بھرپورمواقع فراہم ہوں۔
سوال:بات یہ نہیں ہے کہ اساتذہ حضرات بڑھے ہوئے کام سے گھبراکربرہم ہیں بلکہ یہ بتائیے کہ آپ نے اُن کوپورے اعتمادمیں لے کر یہ تبدیلیاں کیوں نہیں کیں؟
جواب:ایسانہیں ہے کہ میں اساتذہ کے رابطے میں نہیں ہوں بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ کافی اساتذہ حضرات کی مرضی سے ہی ایساممکن ہوپایاہے۔پرانانظام فرسودہ ہوچکاتھااوربورڈکے اِمتحانات سے قبل کافی بچے خودکشی کرلیتے تھے،لہٰذاضرورت اِس بات کی تھی کہ اِن تمام باتوں کومدنظررکھ کرنظام تعلیم میں خاطرخواہ مثبت تبدیلیاں لائی جائیں،جس سے ملک کے نونہالوں کو بغیر کسی بڑی رُکاوٹ وتکلیف کے خودکوہرزاویہ سے فروغ دینے کابھرپورموقع مل سکے۔
سوال:آخرانگریزی تعلیم کاگریڈسسٹم ہندوستانی نظام تعلیم پرتھوپنے کی کیاضرورت آن پڑی؟
جواب:دیکھئے تعلیم جیسے پرنورپہلوکوہم ہندوستانی وانگریزی جیسے خانوں میں تقسیم نہیں کرسکتے۔مجھے یاد ہے کہ سرسیداحمدخاں اورمولاناابوالکلام آزاددونوں نے بھی ایک مرتبہ یہ بات کہی تھی کہ اگرہمیں بیرونِ ملک سے بھی تعلیم کے کچھ بہترعناصرمل جائیں تواُس سے اِستفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔گریڈنگ سسٹم کامقصدصرف بچوں کومقابلے کے جنون ودیوانگی سے بازرکھناہے۔تعلیم کو ہم کوئی تجارت کی منڈی تصورنہیں کرتے کہ بچوں کو100میں سے کسی حد تک اُن کو نمبردے کرکے اُن کی قابلیت ولیاقت کااندازہ کرلیں۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ طالب علم نے جوسوال حل کیاہے اِتفاق سے وہ اُس کو اچھی طرح سے سمجھ میں نہ آیاہوجس کی بناپراُس کو اچھے نمبرات سے محروم ہوناپڑا۔ایسابھی ہوسکتاہے کہ کسی طالب علم نے سوال یادکیااوروہی اِمتحان کے پرچے میں بھی آگیانتیجتاًاُس کو بہت زیادہ نمبرات حاصل ہوسکتے ہیں۔تویہ جانچ کاکوئی معیاری پیمانہ نہیں ہے،لہٰذااِس نظام کو تبدیل کردیناوقت کی ضرورت تھی۔
سوال:مگرکیاآپ یہ نہیں سمجھتے کہ گریڈنگ سے بچے کی اصلی پوزیشن کھل کرنہیں آتی کیوںکہ 10نمبرتک ایک ہی گریڈچلتاہے یعنی 91سے100تک کامطلب اے ون گریڈہے؟ جواب:دراصل ہم بچوں کے ذہن سے یہی بات تونکال دیناچاہتے ہیںکہ ایک کے 40%نمبرآئے تودوسرے کے50%اورتیسرے کے پورے100%۔اِس نظام سے بچوں میں پہلی، دوسری ،تیسری پوزیشن کولے کرزبردست ذہنی کشمکش پیداہوتی ہے،نتیجتاًاُن میں منفی تصورات فروغ پانے لگتے ہیں،جونہ صرف ملک کے لیے بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے بھی باعث تشویش ہیں۔بچوںکے والدین بھی اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اوّل،دوم یاکم ازکم سوم پوزیشن ضرور حاصل کریں،اِس کے لیے اُن پرمزیدبارڈالاجاتاہے،جس سے منفی رُجحانات فروغ پاتے ہیں،خصوصاًایسے بچے جومتوسط درجے کے ہیںاُن میں تومنفی رُجحانات قدرے زیادہ فروغ پاتے ہیں،اِن سارے مسائل کا حل بس گریڈنگ نظام میں ہی دِکھائی دیتاہے، لہٰذا اُس کو اپناناوقت کی ضرورت تھی۔
سوال:اگرآپ گریڈنگ نظام کوبہترمانتے ہیں توآپ ہم نصابی سرگرمیوں جیسے غزل گوئی،نغمہ سرائی،قوالی، مصوری،کھیل کود،کوکنگ وغیرہ کوبھی اِس نظام سے کیوں نہیں جوڑتے؟
جواب:یہ آپ کا بہت اچھاسوال ہے۔مگرجواب دینے سے قبل میں ایک چھوٹاساواقعہ گوش گزارکرناچاہوںگا۔ پچھلے دِنوں میں اِنگلستان گیااوروہاں کے اِسکولوں کا معائنہ کرتے وقت جب ایک اِسکول کے پرنسپل سے گفتگوچل رہی تھی تولنچ کے وقت اُنھوں نے مجھے بڑالذیذکھاناکھلایا۔میں نے دریافت کیاکہ یہ کون سے باورچی یاہوٹل سے منگوایاہے؟جواباًاُنھوں نے بتایاکہ کھاناتواُنھیں کے اِسکول کے ایسے طلبانے بنایاتھاکہ جوپڑھائی میں توبہت اچھے نہیں تھے مگرجنھیں لذیذ کھانے بنانے کا شوق تھا۔ہم نے اُنھیں کے شوق پرلگا دیا اوراگریہ آگے چل کراچھے باورچی بن گئے تو اِنجینئروںاورپروفیسروں سے زیادہ کمالیں گے اورسوچا کہ واقعی ہمارے یہاں توایسے بچوں کی کوئی کمی نہیں ہے کہ جوقوالی،غزل گوئی،مصوری،فن رقص وغیرہ میں جنون کی حدتک دِلچسپی لیتے ہیں۔میں اِس سمت میں ایسے بچوں کے اِس شوق کواُن کی معاشی تسکین کا ذریعہ بنانے کی اِسکیم پرعمل پیراہوں اورقابل لوگوں کی ایک ٹیم اِس سلسلہ میں میرے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔بہت جلدآپ اِس کاپورامنصوبہ اِسی طرح سے دیکھیں گے کہ جیسے آپ نے سی۔سی۔ای۔کودیکھاہے۔
سوال:کیاوالدین اورطلباحضرات بھی آپ کے اِس نئے نظام تعلیم یعنی سی۔سی۔ای۔کے تئیں اپنی دِلچسپی کااِظہارکرتے ہیں؟
جواب:ہاں!بالکل کرتے ہیں۔ابھی نویں جماعت کے حالیہ بورڈکے اِمتحانات سے فارغ ہوکرمختلف اِسکولوں نے جو اُن کی مفصل پروگریس رِپورٹیں بنائی ہیں،اُنھیں سبھی لوگوں نے بیحدپسند کیاہے۔یہ الگ بات ہے کہ گریڈنگ پرمبنی اِن رِپورٹوں کوبنانے میں اساتذہ حضرات کونہ صرف طویل وقت لگاناپڑابلکہ حساب وکتاب لگانے میں بڑی دماغی کثرت بھی کرنی پڑی۔ اِس کے لیے میں اُن تمام اساتذہ کومبارکباد پیش کرتا ہوں کیوںکہ اُن کے اِس جذبہ ایثارسے نونہالانِ ملک فیضیاب ہوںگے اورہندوستان سونے کی چڑیا بنے گا۔
سوال:کیاپچھڑے ہوئے اُردومیڈیم اِسکولوں کے لیے بھی آپ کچھ کرنے کے خواہاں ہیں؟
جواب:میرے بھائی،اُردومیڈیم اِسکول مجھے اُتنے ہی عزیزہیں کہ جتنے دیگراِسکول۔اُردوشاعری سے مجھے خصوصی لگائوہے۔یہی نہیں میرے والدجناب رتن سبل نے تواُردوکے بے تحاشہ اخبارات پڑھے ہیں۔یہ میری بدنصیبی رہی کہ باوجودچاہنے کے میں اِس شیریں زبان سے بے بہرہ رہا۔
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.