عالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب عزیز بلگامی کو2015 کا’’مین آف لِٹریچر ایوارڈ‘‘
  

5th March, 2016, 10.30 pM
(مژگان نیوز نیٹ)
رانچی (جھارکھنڈ)۱۷/فروری،۲۰۱۶ء۔۔۔صوبۂ جھارکھنڈ کی ایک فعال تنظیم ’’جھارکھنڈ کونسل آف لیگل رائٹس‘‘ نے اپنے ٹرسٹ کے آرٹیکل 3(C) کے مطابق اُردو لِٹریچر کا2015ء کا ملک گیر ایوارڈ ’’دی مین آف لِٹریچر ‘‘(The Man of Lierature)،عالمی شہرت یافتہ شاعر و ادیب عزیزؔ بلگامی کی خدمت میں پیش کیا، اوراُن کی بے مثال شاعری،بہترین تنقیدی بصیرت، چشم کُشا و بے باک مضمون نگاری،غیر جانبدارانہ صحافتی تخلیقی صلاحیت اور بولڈ کالم نویسی کا اعتراف کیاگیا۔ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کے ایک معروف ہوٹل’’ ہوٹل سرتاج‘‘کے ،لوگوں سے کھچاکھچ بھرے کانفرنس ہال میں کونسل کی جانب سے منعقدہ تقریبِ ایوارڈ میں مہمانِ خصوصی رانچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ۱ور قومی سطح کے ماہر تعلیم ڈاکٹر اے۔اے۔خان نے پُر شور تالیوں کی گونج کے درمیان جناب عزیز بلگامی کی خدمت میں’’ لیگل کونسل آف لیگل رائٹس‘‘کایہ پر وقار ایوارڈ توصیفی سند و مومینٹو کی شکل میں پیش کرتے ہوئے اُن کی مذکورہ خدمات کا اعتراف کیا ۔ تقریبِ اعزازیہ و ایوارڈ کی صدارت چھتّیس گڑھ اُردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین شوق جالندھری نے کی۔مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر بدر الدین احمد(لندن)، سہیل انور سابق ایڈوکیٹ جنرل جھارکھنڈ سرکار، ایس۔ایم۔ خالدڈپٹی رجسٹرار جھارکھنڈ ہائی کورٹ اور بین الاقوامی شاعر حیرت ؔ فرخ آبادی صدر انجمن’’ بقائے ادب‘‘ نے اپنی شرکت سے محفل کی رونق بڑھائی۔ ’’جھارکھنڈ کونسل آف لیگل رائٹس‘‘ کے چیئر مین ڈاکٹر ایم۔اے۔حق نے کونسل کے اغراض و مقاصد کا تعارف کرایا ۔ساتھ ہی اُنہوں نے عزیزؔ بلگامی کا تعارف پیش کرتے ہوئے ،اس ملک گیر ایوارڈ سے نوازے جانے پر اُنہیں مبارکباد پیش کی۔اِس محفل میں اوم پرکاش برنوال صدر جن وادی لیکھک سنگھ ، پروفیسر جمشید قمرنائب صدر انجمن جمہوریت پسند مصنّفین ، ایم۔زیڈ۔خان سیکریٹری انجمن جمہوریت پسند مصنّفین ،ڈاکٹر وکیل احمد رضوی صدر شعبۂ اُردو رام گڑھ کالج و مدیر ’’اُفقِ ادب‘‘،ڈاکٹر سرور ساجد پروفیسر پوسٹ گریجویٹ ڈپارٹمنٹ رانچی یونیورسٹی و مدیر سہہ ماہی ’’عہد نامہ‘‘، نصیر افسر جنرل سیکریٹری انجمن بقائے ادب، سہیل سعید سیکریٹری گلستانِ ادب جھارکھنڈ، شان بھارتی مدیر سہ ماہی ’’رنگ‘‘ دھنباد، سلام راجن، اختر رانچوی ایڈوکیٹ ،ایم۔این۔ٹھاکر ایڈوکیٹ نرنجن پرساد، عالم گیر ساحل مدیر سہ ماہی ’’اُمیدِ سحر‘‘ ، سوم ناتھ جھا، ڈسٹرکٹ کنوینر ویلفیئر جھارکھنڈ کونسل آف لیگل رائٹس ،ایڈوکیٹ ڈیوڈ ہیکٹر فلپ ڈسٹرکٹ کنوینر لیگل رائٹس وجھارکھنڈ کونسل آف لیگل رائٹس، ڈاکٹر تسلیم عارف نائب مدیر ’’عالمی انوارِ تخلیق‘‘ونامہ نگار ’’جدید بھارت‘‘ ،معروف شاعر مصداق اعظمی اعظم گڑھ، اعجا ز انور نائب مدیر ’’اُمید سحر ‘‘،مسز نجمہ ناہید انصاری،ڈاکٹر رام داس،نیرج کمار نیرؔ ، قاصر عزیز، مسز رفعت عالیہ،محمد اعجاز احمد، محمد انظار احمد ریسرچ اسکالر،محمد آصف ریسرچ اسکالر،محمد دانش، محمد مُرشد، نور اقبال، رینو پرکاش، انکت کمار تومر ،محمد عابد،محمد شہباز اختر،محمد آصف انصاری کے علاوہ کثیر تعداد میں مقامی ادب نواز حضرات نے اِس جلسۂ تہنیت و مشاعرہ میں شرکت فرمائی۔تقریب ایوارڈ کے بعد عزیز بلگامی کی صدارت میں ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔جس کی نظامت ڈاکٹر سرور ساجد نے کی۔مقامی شعراء نے اپنے کلام سے نوازا۔ا یوارڈ یافتہ عزیز بلگامی نے اپنے تاثرات میںیہاں کی تخلیقی صلاحیتوں کے دِلی اعتراف کے ساتھ اِن کی ستائش کی۔عزیز بلگامی کے کلام کو سامعین نے کافی توجہ کے ساتھ سُنا اور سامعین کی فرمائش پر خاص طور سے اُن کے نعت نے تو گویا پوری محفل کو لوٹ لیا ۔اُن کے ایک ایک شعر کو رانچی کے باذوق سامعین نے اصرار کے ساتھ بار بار سُنا۔ آخر میں ایڈوکیٹ ممتاز احمد خان ڈائریکٹر لیگل رائٹس نے مہمان خصوصی، مہمانان اعزازی ، کے علاوہ مقامی شعراء و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اِس طرح یہ یادگار محفل اختتام کو پہنچی ۔
 ڈاکٹرخلیل طوق آر ترکی کو صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ تفویض
ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ
  

5th March, 2016, 10.30 pM
(مژگان نیوز نیٹ)
کلکتہ،۴؍جنوری: اردو ادب کے نشر و اشاعت کیلئے قائم ملی و ادبی ادارہ صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام استاد شاعر قیصر شمیم کی صدارت اور افسانہ نگار و کالم نویس فہیم اختر (لندن) کی سرپرستی میں حال ہی میں مغربی بنگال اردو اکادمی کے مولانا ابوالکلام آزاد آڈیٹوریم میں ترکی ادیب، شاعر، نقاداور استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو کو روز نامہ اخبار مشرق کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر اور پارلیمانی رکن محمد ندیم الحق کے ہاتھوں صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ سے سر فراز کیا گیا۔ اس موقع پر استنبول یونیورسٹی کے ایک اور اردوپروفیسر ڈاکٹر ذکائی کردس اور تہران یونیورسٹی ایران سے تشریف فرما زینب سعیدی بھی موجود تھیں۔
ڈاکٹر خلیل طوقار،ڈاکٹر جلال سوئیدان، ڈاکٹر خاقان قیوم ُجو، ڈاکٹر سلمیٰ بینلی، ڈاکٹر نورئیے بلک، ڈاکٹر گلیسرین ہالی جی، ڈاکٹر شوکت بولو، ایرکن ترکمان، درمش بلغورچند ایسے نام ہیں کہ جو ترکی میں اُردو زبان وادب اور تدریس وتحقیق میں مصروف ہیں۔
ترکی میں اِس وقت تین یونیورسٹیوں میں اُردو کے شعبے قائم ہیں۔ انقرہ یونیورسٹی، سلجوق یونیورسٹی قوینہ، استنبول یونیورسٹی۔ اِن تینوں یونیورسٹیوں میں اردو کے حوالے سے تعلیم و تدریس اور تحقیق کا سلسلہ جاری ہے۔ استنبول یونیورسٹی میں ۱۹۸۵ء میں اردو کا شعبہ اور چیئر قائم ہوئی جس پر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار کا تقرر ہوا۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار نے جہاں اردو زبان وادب کے لیے اور بہت سے کام کیے وہاں خلیل طوقار جیسے اسکالر کو تدریس اُردو کے لیے تیار کرنا بھی اُن کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے ثمرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
خلیل طوقار (Halil Toker) ۳،اپریل ۱۹۶۷ء کو باقر کوئے (Bakirkoy) استنبول میںپیدا ہوئے۔ ڈاکٹر خلیل طوقار نے ۱۹۸۹ء میں استنبول یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ اُنھوں نے ۱۹۹۲ء میںاستنبول یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا۔ اُن کا ایم اے کا مقالہ اُردو اور فارسی دونوں زبانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ایم اے میںاُنھوں نے مرزا غالب۔ فن اور شخصیت کے حوالے سے کام کیا۔۱۹۹۵ء میں اُنھوں نے استنبول یونیورسٹی ہی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔اُن کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا عنوان تھا: (Persian and Urdu Poetry in India and the Poets of the Bahadur Shah II Era) برصغیر میں فارسی اور اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفر کے دور کے شعرا۔
۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۹ء تک وہ اسسٹنٹ کے طور پراستنبول یونیورسٹی کے شعبہ فارسی سے منسلک رہے۔ ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۱ء تک بطور اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردواستنبول یونیورسٹی میں کام کرتے رہے اور۲۰۰۱ء سے نومبر ۲۰۰۶ء تک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کیا۔ نومبر ۲۰۰۶ء میں وہ پروفیسر ہوگئے اور نومبر ۲۰۰۹ء سے سینئر پروفیسر کے طور پر شعبہ اردو استنبول یونیورسٹی سے منسلک ہیں، شعبہ اُردو کے صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنے شعبے کے مقصد کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ہمارے شعبے کا مقصد ہے: ترکی میں اردو کی تعلیم کو پھیلا کر ترکی کے لوگ اور اردو بولنے والوں کے درمیان موجود تاریخی دوستی اور برادری کو اور بڑھا کر مضبوط کرنا اور علمی اور ادبی سطح پر تحقیق اور تدقیق کرنے والے رسرچ سکالرز کو تربیت دینا۔‘‘
۳۵ سے زیادہ کتابیں تحریر کر چکے ہیں،اردو، ترکی اور انگریزی میں اب تک سو سے زیادہ مقالات لکھ چکے ہیں۔زبان وادب کے سلسلے میں کئی ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ اُنھیں اپنے کام پر بہت سے ایوارڈ اور اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ مختلف موضوعات پر شایع ہونے والی اُن کی کتابوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
ڈاکٹر خلیل طوقارنے اردو تحقیق میں نمایاں کام کیا ہے۔اِس حوالے سے اردو، ترکی اور فارسی تینوں زبانوں پر اُن کی گہری نظر ہے۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید لکھتے ہیں:
’’خلیل طوقار نے ’’عہد بہادر شاہ میں اردو اور فارسی شاعری‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے اور اردو گرامر پر ایک کتابچہ بھی لکھا ہے۔‘‘ ڈاکٹرخلیل طوقار ترکی سے سہ ماہی اردو رسالہ ’’ارتباط‘‘ بھی نکالتے ہیں۔جنوری تا ستمبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ اُنھوں نے ارتباط کا فیض احمد فیض نمبر نکالا اور نومبر ۲۰۱۲ء۔ اپریل ۲۰۱۳ء میں ارتباط کا احمد فراز نمبراہمیت کا حامل ہے۔ ’’جہان اسلام۔ ترکی کا ایک اردو اخبار‘‘ بھی اُن کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر خلیل طوقار کے مضامین پاکستانی جرائد اخبار اردو، مجلہ اقبال، اردو نامہ اور دیگر متعدد رسائل میں شایع ہوچکے ہیں۔ اردو کے حوالے سے مختلف ممالک میں متعدد کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرکے اپنے تحقیقی مقالات پیش کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر خلیل طوقار نے اُردو کے حوالے سے ۳۵سے زیادہ کتب اور ۱۰۰ سے زیادہ مقالات تحریر کیے۔علامہ اقبال کے خطوط،مولانا روم کی مثنوی کے منتخب حصوں کے علاوہ اردو شعرا کے کلام کا انتخاب بھی ترکی زبان میں منتقل کیا۔اُن کا تراجم کے حوالے سے بہت ساکام شایع ہوچکاہے۔
ڈاکٹر خلیل طوقار ایک نقاد، محقق اور ماہر تعلیم وتدریس ہونے کے ساتھ ساتھ خوب صورت جذبوں کے شاعر بھی ہیں۔ اُن کی شعری کتابیں ’’ایک قطرہ آنسو‘‘ اور ’آخری فریاد‘ میں اُن کی متنوع شاعری موجود ہے۔ اُن کی شاعری جذبے اور خیال کا ایک حسین امتزاج لیے ہوئے ہے۔اُن کے شعری موضوعات میں رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔ وہ واردات قلبی اور اپنے لطیف خیالات کو لفظوں کے روپ میں بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
اُن کی نظم سوال کے یہ مصرعے دیکھیے:
میں نے پوچھا شبنم سے تیری عمر ہے کتنی
کہا اس نے مسکرا کر
کم سے کم تیرے جتنی
صاحب اعزاز پروفیسر ڈاکٹرخلیل طوق آر نے اظہار خیال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان ان کی کسبی زبان نہیں بلکہ اپنی زبان ہے۔ اس زبان سے میری محبت ہے۔ میرا عشق ہے۔ ڈاکٹرخلیل جن کی مادری زبان ترکی ہے۔ لیکن وہ فارسی ، اردواور انگریزی زبان میں بھی عبور رکھتے ہیں نے کہا کہ ترکی اور اردو زبان کا ایک قدیمی رشتہ ہے جس پر وہ نازاں ہیں۔ خود لفظ ـ’’اردو‘‘ ایک ترکی ہے جس کے معنی ’لشکر‘ کے ہے۔ حضرت امیر خسرو جو اردو کے پہلے شاعر ہیں ، خود ترک تھے۔ دکن کے قطب علی شاہ کا تعلق بھی ترکی سے تھا۔ حضرت غالبؔ اور داغؔ بھی ترکی ہی کے تھے۔ اس طرح اردو ترکی کی طرح ہماری بھی زبان ہے۔ ہماری زبان سے ہماری قوم ہوتی ہے ۔جب زبان ہی نہیں رہے گی تو قوم کہاں رہے گی؟ ترکوں میں قوم پرستی بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ ایک دفعہ تاتاری ترکیوں کو ترکی سے نکال کر روس میں بھیج دیا گیا تھا۔ ان کی تعداد ۲۰ لاکھ تھی۔ ان کی نصف تعداد راستے میں ہی فوت ہوگئی ،بقیہ زندہ رہی۔ آج کریملین میں ان کی ایک پارلیمنٹ اردو شاعری میں ان کے ۳ مجموعے بھی آچکے ہیں۔ یہ اردو کی تہذیب ہے جو دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے اور ڈاکٹر خلیل جیسے لوگ اس کے امین ہیں۔ ان کی شاعری مئے دو آتشہ ہے۔ ترکی یونیورسٹی میں ہر سال ۱۳۵؍۱۲۰ طلبا و طالبات اردو کی تعلیم حاصل کرتے ہیں جس سے اردو کی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
لٹریری سوسائٹی کے سرپرست فہیم اختر نے کہا کہ ۲۰۰۶ء میں بزرگ شاعر جب لندن آئے تھے تو میں نے ان سے اس طرزکی سوسائٹی کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ ۲۰۰۷ء میں انہوں نے اسے عملی جامہ پہنایا۔ تب سے آج تک ہر سال ادبی پروگرام کئے جاتے ہیں اور ادباء و شعراء صحافیان کو اعزازات دیئے جانے کا سلسلہ قائم ہے۔ اس سے قبل مشہور صحافی احمد سعید ملیح آبادی ،مجتبیٰ حسین، ملک زادہ منظور، عزیز برنی جیسی شخصیتوں کو اعزازات دیئے گئے۔
۲۰۱۵ء میں ترکی میں تین دنوں تک ’’جشن اردو ‘‘ منایا گیا جس میں دنیاکے سو سے زیادہ مفکرین نے شرکت کی تھی۔ اس میں بھی مدعو تھا۔ وہیں میری ملاقات ڈاکٹر خلیل طوقار سے ہوئی ۔ رواں سال کا ایوارڈ انہی کے نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ تمام اردو والوں کا ہے ۔میں اس کا رضا کار ہوں۔ اس ادارے میں تمام لوگوں کی شمولیت ہونی چاہئے۔ میں کلکتہ کو محدود سطح سے نکال کر عالمی سطح پر مرکز نگاہ بنانا چاہتا ہوں۔ اردو کی آبیاری ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اس کی ترقی و ترویج کیلئے کسی عظیم یا حکومت پر انحصار نہیں کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دینی ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل طوقارایوارڈ دینے سے کلکتہ اور استنبول کے درمیان ایک پل قائم ہوگا۔ اپنے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں لندن میں ضرور رہتا ہوں لیکن میرا دل کلکتہ میں رہتا ہے۔ میں اردو زبان کی خدمت کیلئے بر وقت تیار ہوں۔ تاتاریوں نے اپنی زبان کو مرنے نہیں دیا۔ اس طرح زبان کی حفاظت ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔ اردو دنیا کی واحد مشترکہ زبان ہے جس میں سارے مذاہب اور اقوام کے الفاظ شامل ہیں۔ ہندو یہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی زبان ہے۔ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ہے۔ ترکی بھی اسے اپنا سمجھتا ہے تو ایرانی بھی اسے اپنا جانتا ہے۔ یہ محبت اور ہم آہنگی کی زبان ہے جو مفاہمت سے پیدا ہوئی ہے ۔ یہ زبان ہم سب کیلئے اللہ کی نعمت ہے۔ اس لئے زبان کے اندر اپنی حفاظت خود کرنے کا وصف موجود ہے۔ ورنہ اردو کے ساتھ جتنے ناروا سلوک کئے گئے اس کے باوجود اس کا پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ رہنا ایک بڑی بات ہے۔
ترکی میں اردو کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ۱۹۱۵ء میں وہاں اعلیٰ تعلیم کا آغاز ہوا۔ آج تر کی کی تین یونیورسٹیوں میں اردو کی تعلیم ہوتی ہے۔ تا ہم انھوں نے اس بات کا افسوس کا اظہار کیا کہ آج اردو کو نقصان اردو والوں سے ہی پہنچ رہا ہے۔ اردو والے آج اپنے بچوں سے انگریزی میں باتیں کرتے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں غیر اردو داں طلبہ جب اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بر صغیر کے لوگوں سے اردو میں باتیں کرتے ہیں تو وہ جواب انگریزی میں دیتے ہیں ،جس سے وہ جزبز کے شکار ہوجاتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ جب اردو والے خود اپنی زبان میں گفتگو نہیں کرتے ہیں تو ایسی زبان سیکھنے سے کیا فائدہ؟ ان حالات میں مجھے انہیں سمجھانا ہوتا ہے۔
انہوں نے اردو والوں سے فریاد کی کہ خدا کیلئے اردو کے ساتھ نارواسلوک نہ کریں۔ زبان آپ کی محبت ہے۔ زبان کو روزگار بنانے کیلئے نہ سیکھیں بلکہ شوق سے سیکھیں ۔یہ زندہ رہے گی تو آپ زندہ رہیں گے۔
اس سے قبل جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین نے ڈاکٹر خلیل طوقار کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ محترم جس روانی کے ساتھ ترکی میں بات کرسکتے ہیں اس روانی کے ساتھ فارسی اور اردو بھی بول سکتے ہیں۔ موصوف ۴۰ ؍ کتابوں کے مصنف ہیں جس میں سے ۲۵؍ کتابیں اردو میں ہیں۔ یہ بیک وقت ادیب، شاعر، محقق ،نقاد بھی ہیں۔ انہوں نے سفر نامے بھی لکھے ہیں۔ صدر جلسہ قیصر شمیم نے کہا کہ تاریخ کبھی کبھی خود کو دہراتی بھی ہے۔ اس میں نئی نئی باتیں بھی آتی ہیں۔ خلافت کی تحریک کے حوالے سے اردو کا ایک پرانا رشتہ ترکی سے پیوستہ ہے جس کے اظہار کیلئے سیکڑوں صفحات بھی کم ہیں۔
دیگر مقررین میں ایم پی محمد ندیم الحق، صدر شعبۂ اردو مولانا آزاد کالج ڈاکٹر دبیر احمد ، ڈاکٹر ذکائی کرداس ترکی، زینب سعیدی ،تریاق کے ایڈیٹر میر صاحب حسن ، ڈاکٹر شکیل احمد خاں، ڈاکٹر مشتاق انجم، وغیرہ شامل تھے۔نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر صباح اسمٰعیل نے بحسن خوبی انجام دی جبکہ اظہار تشکر ادارے کے نائب سکریٹری سید حسن نے کیا۔ جلسہ گاہ میں عمائدین شہر کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔پروگرام کے آخری حصہ میں شاندار مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔
  
  بھارت رتن ڈاکٹر کلام کے انتقال پر سات روزہ قومی سوگ کا اعلان
  

28th July, 2015, 6.00 AM
(مژگان نیوز نیٹ)
نئی دہلی،۲۸ جولائی ( مظہر حسنین /مژگان نیوز نیٹ )شیلونگ کے ایس پی سٹی وویک سیام نے بی بی سی کے انوراگ شرما کو بتایا، ’ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے وہ گر گئے اور انھیں سنگین حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔‘ انھیں ملک کے میزائل پروگرام کا خالق کہا جاتا تھا جبکہ ملک کے جوہری پروگرام کی ترقی میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔تمل ناڈو کے علاقے رامیشورم میں پیدا ہونے والے عبدالکلام سنہ 2002 سے 2007 تک بھارت کے 11ویں صدر رہے اور اس سے قبل وہ بھارت کے عسکری میزائل پروگرام سے وابستہ تھے۔ اطلاعات کے مطابق شیلونگ میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے طلبا سے خطاب کے دوران ڈاکٹر کلام کی طبعیت خراب ہوئی اور وہ سیمینار میں ہال میں گر گئے جہاں موجود لوگوں نے فوراً اسپتال پہچایا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ڈاکٹر کلام رامیشورم تامل ناڈرمیں پیدا ہوئے۔ عبدالکلام 2002 سے 2007 تک ہندوستان کے 11ویں صدر رہے۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ ایل سی گوئل کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے اے پی جے عبدالکلام کے انتقال پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا ہے کہ ’بھارت ایک عظیم سائنسدان، قابل صدر اور ایک متاثر کن شخص کی موت پر غمگین ہے۔‘عبدالکلام نے ایروناٹیکل انجینئرنگ کرنے کے بعد 1969 میں بھارتی خلائی تحقیقی ادارے میں ملازمت شروع کی تھی۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک میں دفاعی تحقیق اور ترقی کے ادارے اور انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے منتظم رہے۔( مژگان نیوز نیٹ) 28th July, 2015, 6.00 AM
(مژگان نیوز نیٹ)
 مسلمانوں کو عبادت اس کی اصل روح کے مطابق کرنا چاہیئے۔۔۔۔ شخد معراج ربانی
  

5th July, 2015, 5.00 PM
(مژگان نیوز نیٹ)
دبئی،رمضان فورم ۲۰۱۵ کے اردو زبان کے سشن سے خطاب کرتے ہوئےشخں معراج ربانی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ آخرت کی کاماربی صرف اللہ تعالی کی عبادت یینا اس کی اصل روح کے مطابق اوراس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علہخ و سلم کے بتائے ہوئے طریقوں پرعمل کر کے ہی حاصل کی جا سکتی ہےجبکہ دنا کی کاما بی بھی صرف محمد صلی اللہ علہہ و سلم کی شریعت پر عمل سے ہی ممکن ہے۔ شخہ معراج ربانی اتوار رات زعبیل ہال، دبئ ورلڈ ٹریڈسنٹرب مں "اللہ نے انسان کو کویں تخلقا کاب؟" کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمںر عبادت کے اصل مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور عبادت کی تنو ں حالتںص یینر اعتقادی عبادت، قولی عبادت اور عملی عبادت صرف اور صرف حضرت محمد صلی اللہ علہت و سلم کی بتائی ہوئی شریعت پر عمل سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ "اللہ تعالی کی دی گئ عقل کو استعمال کرتے ہوئے قرآن پاک اور محمد صلی اللہ علہر و سلم کی سنت پر عمل کر کے ہم عبادت کی اصل روح پا سکتے ہںا۔ ہمںر اللہ تعالی کو پانے کے لےے کسی سڑمھی یا وسلےس کی ضرورت نہں ہے"۔ شخن معراج نے قرآن مجدہ سے مثالںع دے کر واضح کا کہ اللہ تعالی نے انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پدکا کاد اور تخلقی کا مقصد لوگوں کو آزمانا کہ کون احسن طریقے سے اس کی عبادت کر کے کامانبی حاصل کرناچاہتا ہے۔ "لوگوں نے دناقوی کاماابومں کو مقصد بنا لاک ہے جس مںا روزی کمانا، مکان بنانا اور پسہچ جمع کرنا شامل ہںو جو کہ سرا سر نقصان کا سودا ہے۔ اللہ تعالی کی عبادت کر کے ہمںب ابدی زندگی کی کاماببی کو اپنا اصل ھدف سمجھنا چاہے "۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کو شرک سے بچنا چاہے اور اللہ تعالی کی بشر بہا نعمتوں کا شکر ادا کر کے اس کی عبادت کریں اور اس کی قدرت کے مظاہر پر غوروفکر کرنا چاہےل تا کہ ہماری عبادات صححم اور اس کی اصل روح کے مطابق ہوں۔ انہوں نےمسلمانوں پر زور دیا کہ علم حاصل کرنے پر بھرپور توجہ دیں کواں کہ آج کا مسلمان علم سے دور ھے جس کی وجہ سےامت کو بہت سے مسائل درپشد ہںا۔ آخر مں شخت معراج نے حاضرین کے سوالوں کے بھی جوابات دیے اور اپنی گفتگو سے شرکا کو محظوظ کار۔ رمضان فورم کے لکچرش کے ساتھ ساتھ کئی اہم سرگرما ں بھی شامل ہںو جس مںٓ ایک مقابلہ "مبلغ قوم" اور "صحت اور روزہ" کے حوالے سے آگاہی مہم اور مفت صحت کے چکا اپ بھی حاضرین کے لےق تھے۔ 5th July, 2015, 5.00 PM
(مژگان نیوز نیٹ)
 اردو دماغی قوت کیلئے بہترین زبان ثابت
ہم بین الاقوامی سطح پر کی گئی ڈاکٹر اتم کی تحقیق کی سرہنا کرتے ہیں: ذاکر بھلیسی
21st March, 2015, 8.30 AM
(مژگان نیوز نیٹ)
راجوری ( جموں و کشمیر)// تحریک بقائے اردو نے کہا ہے کہ سائنسدانوں کی تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ اردو زبان کے استعمال سے انسان کے اندر سب سے زیادہ دماغی قوت بڑھتی ہے اور فیصلہ سازی میں انسان کو مہارت حاصل ہوتی ہے۔ تحریک بقائے اردو کے جنرل سیکریٹری و ترجمان ذاکر ملک بھلیسی نے بتایا کہ ایک بین الاقوامی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف نیرو سائنس لیٹر میں دماغی سائنس پر کام کررہے اسکالر ڈاکٹر اتم کمار کا تحقیقی مقالہ شائع ہوا ہے جنہوں نے اپنی تحقیقی میں ثابت کردیا ہے کہ اردو سب سے ضروری زبان ہے جس سے انسان کا دماغ بڑھتا ہے ۔ بھلیسی نے بتایا کہ ڈاکٹر اتم کمار اس وقت سنٹر فار بایو میڈیکل ریسرچ لکھنوؤ میں تعینات ہیں جن کی اپنی برین لیبارٹری بھی ہے ۔ حال ہی میں انہوں نے زبانوں کے استعمال سے دماغ پر ہونے والے اثرات کے موضوع پر تحقیقی کام مکمل کرلیا ہے ۔ اس تحقیق کے مطابق اردو زبان سے انسانی روح کو تسکین ملتی ہے اور یہ زبان دماغ کیلئے امرت کا کام کرتی ہے۔ ذاکر ملک بھلیسی نے بتایا کہ اس تحقیق نے صاف کردیا ہے کہ فیصلہ سازی کی سب سے مظبوط قوت اس میں پائی جاتی ہے جو اردو زبان کا استعمال کرتا ہے۔ اس تحقیقی کام سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جذبات پرکنٹرول اور نقل کرنے کی سب سے زیادہ قوت اس انسان میں ہوتی ہے جو اردو زبان کا استعمال کرتا ہے۔ بھلیسی نے بتایا کہ اس تحقیق میں دماغ کی میپنگ ہتی ہے جس کیلئے اتم کمار نے گراپین فونیم میپنگ کا استعمال کیا ہے اور ای جی آر آئی ٹیکنیک کے استعمال سے دماغ کی میپنگ کی ہے۔ بقول تحقیق کے دماغ کے اندر زبانوں کی میپنگ دو طرح کی ہوتی ہے جن میں سے ایک شفاف اور دوسری گہری ہوتی ہے ۔بھلیسی نے بتایا کہ اتم کمار نے ثابت کیا ہے کہ ہندی زبان اور جرمن شفاف زبانیں ہیں اور انگریزی و فرنچ گہری زبانیں ہیں اردو سب سے گہری زبان ہے جس کیلئے دماغ کے بیشتر حصہ کو حرکت کرنی پڑتی ہے اور تمام حصہ کا استعمال ہوتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق اردو کے الفاظ کی بناوٹ اور لکھنے کا طریقہ بھی ایسا ہے کہ اس کو دیکھنے سے ہی دماغ کا وہ حصہ حرکت میں آتا ہے جو سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ ریسرچ کے مطابق پیچیدگیوں کو حل کرنے کیلئے دماغ کا پورا استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح اردو کیلئے بھی دماغ کا پورا استعمال ہوتا ہے جس سے دماغ کی قوت بڑھتی ہے اور فیصلہ سازی کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ریسرچ می یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اردو کے استعمال سے اچھے و برے کی تمیز آجاتی ہے کیونکہ اس کا اثرات برابر دماغ پر ہوتے ہیں۔ ذاکر بھلیسی نے اس ریسرچ کا خیر مقدم کیا ہے اور ڈاکٹر اتم کمار کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان ایک شیریں زبان ہے جس کا تعلق ہندوستان سے ہے کیونکہ یہ زبان سنسکرت کے خاندان سے ہے اور ہندی کی بہن ہے اور اس زبان کا نہ صرف احترام ہونا چاہئے بلکہ اپنی دماغی قوت کو بڑھانے کیلئے اس کا استعمال بھی کیا جانا چاہئے اور اپنے بچوں کے دماغی صحت کیلئے اس کو استعمال میں ضروری سمجھا جانا چاہئے ۔
 موجودہ دور میں سماجی علوم کی اہمیت ،مسائل اور امکانات ‘‘ایم وی ایس کالج محبوب نگر میں بہ اشتراک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ایک روز ہ قومی سمینار 23 فروری کو
  

1st Feb, 2015, 8.30 PM
(مژگان نیوز نیٹ)
محبوب نگر(راست)ڈاکٹر محمد غوث کنوینر سمینار وڈاکٹر عزیز سہیل آرگنائزار سکریٹری کی اطلاع بموجب شعبہ سماجی علوم ایم وی ایس ڈگری و پی جی کالج محبوب نگر کے زیراہتمام بہ اشتراک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے ایک روزہ قومی سمینار بعنوان’’ موجودہ دور میں سماجی علوم کی اہمیت مسائل وامکانات‘‘ 23فروری بروز پیر انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے۔اس سلسلہ کے طور پر آج کالج میں ڈاکٹر جی یادگیری پرنسپل ایم وی ایس کا لج نے سمینار کا بروچر جاری کیا۔ انہوں نے اس موقع پر منعقدہ تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دراصل گلوبلزیشن کے اس دور میں سماجی علوم کے شعبہ میں ہورہی تبدیلیوں اور رحجانات کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے امکانات کی تلاش کرنا اس سمینار کا مقصد ہے،اس سمینار میں شریک سماجی علوم کے دانشوروں،محققین ،اساتذہ اور طلبہ کے درمیان موضوع سے متعلق معلوماتی فضاء مہیا کرنا ‘ معلوماتی مقالوں کی پیش کشی اور مباحث کے ذریعہ سیر حاصل گفتگو کرنا اور مثبت نتائج تک پہونچنے کی کوشش کی جائیگی اس سمینار میں قومی سطح کے معروف پروفیسرس کی شرکت کو یقینی بنایا جائیگا۔ اس موقع پر کنوینر ڈاکٹر محمد غوث نے سمینار س سے متعلق تفصیلات فراہم کی اور کہا کہ سماجی علوم سے متعلق عصرحاضر کے تناظرپر لیکچرارس،اساتذہ اور ریسرچ اسکالر اپنے مقالہ جات15فروری 2105سے قبل پرmvsseminar2015@gmail.com روانہکریں۔اس پروگرام میں جناب محمد وزیر نائب پرنسپل،تما م صدور شعبہ جات نے شرکت کی۔مزید تفصیلات کیلئے محمد غوث کنوینر سے فون نمبر9030853239، اورآرگنائز سکریٹری ڈاکٹر عزیز سہیل سے فون نمبر9299655396پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔
 قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر کا سالانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ ۲۰۱۵
1Feb, 2015, 8.30 PM (مژگان نیوز نیٹ)
   قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر نے ۱۶/جنوری ۲۰۱۵ء ؁ بروز جمعہ بمطابق ۲۵ ربیع الاول ۱۴۳۶ ؁ھ کو آٹھ بجے شب علامہ ابن حجر لائبریری فریق بن عمران کے وسیع ہال میں حسبِ روایت ایمان افروز سالانہ نعتیہ طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا۔ مشاعرے میں قطر کے منتخب مقامی شعرا ء کے علاوہ حیدر آباد دکن ، ہندوستان سے تشریف لائے مہمان شاعر جناب شوکت علی دردؔ بطورِ مہمانِ خصوصی اور پاکستان سے تشریف لائے شاعر جناب شمس الغنی بطورِ مہمانِ اعزازی شریک ہوئے۔عربی ، فارسی اور اردو پر مہارت رکھنے والے عالمِ دین اوربزمِ اردو قطر کے سرپرست جناب مولانا عبدالغفار نے مشاعرے کی صدارت فرمائی۔مہمانِ خصوصی جناب شوکت علی دردؔ ادارہ ادبِ اسلامی حیدرآباد سے وابستہ ہیں اور آپ کے دو مجموعۂ کلام منظرِ عام پر آچکے ہیں جن میں ’’متاعِ درد‘‘ شامل ہے۔ مہمانِ اعزازی جناب شمس الغنی کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے اور آپ کے بھی دوشعری مجموعے ’’سانپوں کا نگر‘‘ اور ’’کوفۂ سخن‘‘ شائع ہو کر اہلِ ادب سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو کے پانچ بڑے شعراء کے سات سو اشعار کا آپ نے انگریزی ترجمہ کیا ہے جن کا مجموعہ زیرِ طبع ہے۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض بزمِ اردو قطر کے رکن فنِ نظامت سے آراستہ خوش فکر مترنم شاعر جناب مقصود انور مقصودؔ نے بہت عمدہ انداز میں ایمان افروز برجستہ منتخب نعتیہ اشعار کی خوشبو سے فضا کو معطر رکھتے ہوئے انجام دیے اور شعرا اور سامعین کو باندھے رکھا۔تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت قاری محمد دانش کے حصے میں آئی۔ اس سال نعتیہ مشاعرے کے لیے معروف ہندوستانی شاعر جناب تاج الدین اشعرؔ رام نگری کے حمد و نعت کا مجموعہ ’’موجِ نسیمِ حجاز‘‘ کی نعتوں سے ماخوذ مندرجہ ذیل دو مصرع ہاے طرح دیے گیے تھے۔
۱؂ ملتی ہے کلیدِ درِ جنت اسی در سے
۲؂ جب بھی زبانِ شوق پر نامِ حضور آگیا
بزمِ اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب افتخار راغبؔ نے ابتدائی نظامت میں خطبۂ استقبالیہ اور بزم کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔ بزمِ اردو قطر کے نائب صدر جناب فیروز خان نے مہمانان کا استقبال کیا۔ بزمِ اردو قطر کے چیئرمین جناب ڈاکٹر فیصل حنیف خیالؔ طبیعت کی ناسازی کے سبب تشریف نہیں لا سکے اور بزمِ اردو قطر کے صدر جناب محمد رفیق شادؔ اکولوی وطنِ عزیز اکولہ ، ہندوستان کے سفر پر ہونے کے باعث اس اہم مشاعرے میں شریک نہیں ہو سکے جب کہ بزم کے خازن جناب محمد غفران صدیقی عمرہ کے مبارک سفر پر روانہ تھے۔ جن کی کمی محسوس کی گئی۔ سالانہ نعتیہ طرحی مشاعرے کی میزبانی بزمِ اردو قطر کے اخلاص و محبت کے موقف کی تائید کرنے والی نیک طینت شخصیت اور بزم کے کرم فرما جناب فیاض بخاری کمالؔ نے کی جن کی طرف سے بہت عمدہ عشائیہ کا اہتمام حیدرآبادی اسپائسیز ریسٹورینٹ سے کیا گیا تھا ۔
   حسبِ معمول مشاعرے میں بیرونِ قطر سے ای میل کے ذریعے گیارہ نعتیں موصول ہوئیں۔ دیگر ممالک سے جن شعراے کرام نے اس بابرکت محفل میں غائبانہ شرکت کی ان میں جناب تاج الدین اشعرؔ رام نگری ( یوپی ، ہندوستان) ، جناب ابوالفیض عزمؔ سہریاروی (دہلی)، جناب تنویر پھولؔ (امریکہ)، جناب سعیدؔ رحمانی (کٹک ، ہندوستان)، جناب احمد نثارؔ (پونہ ، ہندوستان)، جناب احمد علی برقیؔ اعظمی (دہلی، ہندوستان) ، جناب اقبال خلشؔ اکولوی (اکولہ ، ہندوستان)، جناب او۔ پی۔ اگروال سراجؔ دہلوی (ہندوستان) کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ بعض شعراے کرام نے دونوں مصرع ہاے طرح پر نعتیں ارسال کیں۔ جن احباب نے ای میل سے موصول نعتیں اپنے دل کش ترنم یا عمدہ تحت الفظ میں پیش کیں ان میں جناب سید فیاض پاشا، جناب سیف اللہ محمدی ، جناب نور الدین ندوی ، جناب جاوید عالم ، جناب سرفراز نواز ، جناب فیروز خان، جناب فخرالدین رازی جناب وزیر احمد وزیرؔ اور جناب ابوالخیر کے نام شامل ہیں۔پوری بزم داد و تحسین ا ور درودِ پاک کی صداؤں سے گونجتی رہی۔ جناب تاج الدین اشعرؔ رام نگری کو جناب ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے ذریعے جب اطلاع ملی کے ہندوستان سے ہزاروں میل دور بزمِ اردو قطر میں ان کے مصرعے بطورِ طرح دیے گئے ہیں تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنی طرحی نعت کے علاوہ اہلِ بزمِ اردو قطر کے لیے مندرجہ ذیل قطعہ ہدیۂ خلوص کے طور پر ارسال کیا:
مصرع پہ مری نعت کے ہے بزمِ سخن گرم
تاخیرسے آئی ہے خبر ارضِ قطر سے
دوری ہے بہت پہونچے نہ پہونچے مری آواز
کیا پیش کروں عرضِ ہنر رام نگر سے
اشعرؔ کا سلام ان سبھی احباب کو پہونچے
فرمائیں جو مشقِ سخن اس مصرعِ تر سے

   ای میل سے موصول نعت پاک سے چند اشعارملاحظہ فرمائیے:
تاج الدین اشعرؔ رام نگری ( یوپی ، ہندوستان):
کیوں عالمِ اسلام کے حالات ہیں غمناک
کیا ہٹ گئے ہم سرورِ کونین کے در سے

ابوالفیض عزمؔ سہریاروی (دہلی) :
میں ہوں غلامِ مصطفی مجھ کو یہ جب پتہ چلا
پاؤں میں پنکھ لگ گئے مجھ میں غرور آگیا

تنویر پھولؔ (امریکہ):
جنت کا گوشہ مل گیا، نازک ہے جو کہ عرش سے
دیکھو ! زمیں کے دل میں بھی فخر و غرور آ گیا
طیبہ میں بلایا، یہ عنایت ہے نبیؐ کی
اِک جذبۂ بے تاب لیے نکلے ہیں گھر سے

سعیدؔ رحمانی (کٹک ، ہندوستان):
ہے آرزو دیکھوں گا مدینے کو نظر سے
اس واسطے نکلا ہوں بصد شوق میں گھر سے

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی (دہلی، ہندوستان):
روحِ حیات پھونک دی مردہ دلوں کے جسم میں
جن میں نہ تھا کوئی شعور ان میں شعور آگیا
فرش سے عرش کا سفر چشمِ زدن میں طے کیا
ہے جو حبیبِ کبریا رب کے حضور آگیا
اقبال خلشؔ اکولوی (اکولہ ، ہندوستان):
حبِ رسولؐ کا مجھے جب سے شعور آگیا
روشن ہوا دیارِ جاں چہرے پہ نور آگیا
کوشش کے باوجود بھی جو ہو نہیں سکا رقم
وہ جذبۂ خلوص بھی بین السطور آگیا
او۔ پی۔ اگروال سراجؔ دہلوی (ہندوستان) :
اب کوئی ڈگر اُس کو کبھی بھا نہیں سکتی
جو لوٹ کے آیا ہے مدینے کی ڈگر سے
تا حشر زمانے میں کبھی اُٹھ نہیں سکتا
جو گر گیا دنیا میں محمدؐ کی نظر سے
چاروں طرف ہی جہل کی چھائی تھی دہر میں گھٹا
آئے مرے حضور جب علم و شعور آگیا
مقامی شعرا میں سب سے پہلے نعتیہ مشاعرے کے میزبان جناب فیاض بخاری کمالؔ کو ناظمِ مشاعرہ نے آواز دی ۔ آپ نے پہلی بار بطور شاعر بزمِ اردو قطر کی اِس نورانی محفل میں شرکت کی اور عقیدت و محبت سے لبریز اپنی طرحی نعت پیش کی اور خوب داد و تحسین وصول کی۔ فیاض بخاری کمالؔ :
جس نے بھی غلامی شہِ بطحا کی ہے پائی
ہے مرتبہ اُس کا پرے خورشید و قمر سے
ناظمِ مشاعرہ جناب مقصود انور مقصودؔ جہاں نظامت میں اپنی مثال آپ ہیں وہیں اچھی شاعری کرنے اور اچھے انداز میں پیش کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ آپ نے اپنے دل کش ترنم کا خوب جادو جگایا۔مقصود انور مقصودؔ :
رودادِ سفر سن کے چھلک جاتی ہیں آنکھیں
آتا ہے کوئی جب درِ اقدس کے سفر سے
خوشبو سے معطّر در و دیوار ہیں شاہد
اِس بزم میں آئی ہے ہوا طیبہ نگر سے
حلقہ ادبِ اسلامی قطر کے نائب سکریٹری جناب مظفر نایابؔ جو اپنی غزلوں میں بھی اکثر نعت یا حمد کے عمدہ اشعار پیش کرنے کے لیے معروف ہیں، نے طرحی نعت میں رسولِؐ کریم سے عقیدت و محبت کے ساتھ ساتھ جو فنکارانہ جوہر دکھایا ہے وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ مظفر نایابؔ :
رفتارِ محمدؐ کا تقابل سرِ اسرا
کیا برق و شرر سے کروں کیا برق و شرر سے
روحانی تعلق ہے یہ مضبوط بہت ہے
طیبہ کے نگر سے مرا طیبہ کے نگر سے
پڑھتا ہوں درود اور ٹپکتا ہے فقط نور
اب قلب و نظر سے مرے اب قلب و نظر سے
بزمِ اردو قطر کے جنرل سکریٹری جناب افتخار راغبؔ نے بھی اپنے عشقِ نبیؐ میں ڈوب کر کہے گئے اشعار سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ افتخار راغبؔ : عشقِ نبیؐ میں ڈوب کر لکھی جو نعتِ مصطفےٰ
نورِ حبیبِ کبریا بین السطور آگیا
امّی لقب کے نور سے، قرآن کے ظہور سے
دل کا اندھیرا چھٹ گیا دل کو شعور آگیا
کوئے نبیؐ سے واپسی کس درجہ کرب ناک ہے
واپس دلِ حزیں لیے صدموں سے چور آگیا
انڈیا اردو سوسائٹی قطر کے نائب صدر جناب عتیق انظرؔ نے طویل طرحی نعت پیش کی جس میں ایک سے بڑھ کر ایک ایمان افروز اشعار موجود تھے ہر شعر پر سامعین داد و تحسیں کے پھول لٹاتے رہے۔ عتیق انظرؔ :
میں نعتِ نبیؐ کہتا نہیں بس اسی ڈر سے
کچھ چوک نہ ہو جائے تقاضاے بشر سے
ہم نعت کی خاطر ہیں بہت دیر سے ترسے
رحمت کی گھٹا اُٹھے ذرا ٹوٹ کے برسے
وہ درسِ مساوات دیا شاہِ امم نے
سب شاہ و گدا رہنے لگے شیر و شکر سے
محتاجی و ناداری سے تنگ آئے ہوئے لوگ
مختار و غنی ہو کے اٹھے آپؐ کے در سے
انڈیا اردو سوسائٹی کے بانی صدر اور شاعرِ خلیج جناب جلیلؔ نظامی غزل گوئی کے ساتھ نعت گوئی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں ۔ آپ نے دونوں ہی مصرعوں میں نعت پیش کی،ایک تحت الفظ تو دوسرا سحر انگیز ترنم میں اور مشاعرے کے آہنگ کو بلند و بالا کر دیا۔ جلیلؔ نظامی :
افلاک کے تارروں سے نہ خورشید و قمر سے
کونین ہے روشن ترے تلوں کی سحر سے
تسلیم و رضا، صدق و صفا، جود و سخا کے
دنیا کو ملے ہیں یہ خزانے ترے در سے
اللہ کے ہاتھوں کی لکھی نعتِ نبیؐ ہے
جبریلِؑ امیں باندھ کے لائے ہیں جو پر سے
آپس میں لب سے لب ملے چہرے بہ نور آگیا
’’جب بھی زبانِ شوق پر نامِ حضورؐ آگیا‘‘
کہتی ہوئی یہ دہر سے تاریکیاں ہوا ہوئیں
شمس الشموس آگیا بدر البدور آگیا
مہمانِ اعزازی جناب شمس الغنی نے دونوں مصرعوں پر بہت اعلیٰ نعتیں پیش کرنے سے قبل غیر طرحی چار مصرعوں سے باذوق سماعتوں کو اپنی طرف مرکوز کر لیا ۔ شمس الغنی:
وا ہونے لگے ذہن و دل و جاں کے دریچے
مضمون اگرچہ ابھی سوچا بھی نہیں ہے
خوشبوے حرم آنے لگی موئے قلم سے
گو نامِ محمدؐ ابھی لکھا بھی نہیں ہے
سوچا اُنھیں تو موجۂ کوثر لبوں کو چھو گئی
آنکھوں میں نور بھر گیا دل میں سرور آگیا
گزرے گی یہیں عمر جو عصیاں سے بچی ہے
اِس بار تو نکلیں ہیں یہی سوچ کے گھر سے
ہے حبس بہت اتنا تو امت پہ کرم ہو
اُٹھے جو مدینے سے گھٹا ٹوٹ کے برسے

مہمانِ خصوصی جناب شوکت علی دردؔ نے نورانی طرحی نعتوں کے سلسلے کو اپنی عمدہ نعت سے اختتام پذیر کیا اور داد و تحسین وصول کی۔ شوکت علی دردؔ : تھکتے ہی نہیں پاؤں مدینے کے سفر سے
سودا یہ وہ سودا ہے کہ جاتا نہیں سر سے
چاند آج بھی اُس وقت کا احوال سنائے
انگلی کا اشارہ کوئی پوچھے جو قمر سے
مہمانِ اعزازی جناب شمس الغنی نے اپنے تاثرات میں بزمِ اردو قطر کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ میںیہاں کی ادبی محفلوں میں ایک خاص قسم کی تہذیب دیکھ رہا ہوں ۔ یہاں ادبی محفلوں کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور کثیر تعداد میں سامعین کی موجودگی اور ان کی داد و تحسین محلفوں کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہیں۔ مہمانِ خصوصی جناب شوکت علی دردؔ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں پیش کی گئی نعتیں بہت ہی صاف ستھری ، پاکیزگی سے لبریز اور غلو سے پاک ہیں جو یہاں کے پاکیزہ ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔ ای میل سے موصول کلام کا پیش کیا جانا اردو ادب کے فروغ کے لیے ایک بہت اہم اور انوکھاکام ہے۔
صدرِ مشاعرہ اور بزمِ اردو قطر کے سرپرست جناب مولانا عبد الغفار نے صدارتی خطبے میں پیارے نبیؐ ، سرورِ کائنات کی سیرتِ مبارکہ کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور آپؐ کی ذاتِ پاک کی اوصافِ حمیدہ کا بڑے ہی عمدہ انداز میں بیان کیا۔ آپ نے اپنی پسند کی ایک نعت کے چند اشعار بھی پیش کیے۔ آخر میں سالانہ نعتیہ مشاعرے کے میزبان جناب فیاض بخاری کمالؔ نے تمام مہمانان ، شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ مذکورہ بالا احباب کے علاوہ نمایاں شرکاء میں جناب سید عبد الحئی ، ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی ، جناب سید عبد الباسط ، جناب مشتاق قادری ، جناب آصف حسین ، جناب علی عمران ، جناب احتشام الدین ندوی ، جناب محمد غوث ، جناب عدنان خان ، جناب اکرام الدین ، جناب افسر عاصمی ، جناب عبد الوحید ، جناب فاروق احمد ، جناب شمس الدین رحیمی ، جناب امتیاز احسن ، جناب شمس الرحمن صدیقی ، جناب عبد الحکیم ، جناب اشفاق احمد اور جناب جمال الدین کے اسماے گرامی شامل ہیں۔ رپورٹ: افتخار راغبؔ
جنرل سکریٹری ۔ بزمِ اردو قطر
موبائیل:00974 55707870
 کیجریوال نے دہلی کےرام لیلا میدان میں ساتویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا
دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کیجریوال سے حلف لیا۔ ان کے ساتھ ارکانِ اسمبلی منیش سیسودیا، سومناتھ بھارتی، ستیندر جین، کماری راکھی برلا، گریش سونی اور سوربھ بھاردواج نے بھی حلف لیے۔ حلف لینے کے بعد کیجریوال نے کہا ’یہاں عام آدمی کی جیت ہوئی ہے۔ یہ حلف در اصل دہلی کے عوام نے لیا ہے۔ یہ قدرت کا کرشمہ ہی ہے کہ دو سال پہلے ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم اس جنگ کو جیت پائیں گے۔‘ انہوں نے کہا ’اروند کیجریوال یہ جنگ اکیلے نہیں لڑ سکتا۔ ہمارے پاس تمام مسائل کا حل نہیں ہے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے لیکن دہلی کے عوام مل کر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔‘ ذرائع کے مطابق لوگوں کا کہنا ہے کہ 15 اگست اور 26 جنوری کو بھی اتنا رش نہیں ہوتا، جتنا رش اس موقع پر ہے۔ بدعنوانی کے خلاف تحریک سے وجود میں آنے والی کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے حکمراں کانگریس کو شکست دے کر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔
 مشہور اداکار فاروق شیخ کا دل کا دورہ پڑنے سے دبئی میں انتقال
فاروق شیخ کے اہلِ خانہ ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے جو کافی دنوں سے بیمار تھے۔ان کے جسد خاکی کو آج دبئی سے ممبئی لایا جائے گا۔فاروق شیخ کی موت سے جہاں ہندوستانی فلم انڈسٹری پر سوگ طاری ہوگیا وہیں ان کے پرستاروں میں غم کی لہر ڈور گئی۔
   بی بی سی ہندی کے مطابق فاروق شیخ آشا بھوسلے کے کنسرٹ کے سلسلے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی گئے تھے۔ شیخ ہندی فلم انڈسٹری میں کافی مقبول رہے۔ اُنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1973ء میں ہندوستان کی آزادی پر بنے والی فلم 'گرم ہوا' سے کیا تھا۔ اس کے علاوہ اداکار فاروق شیخ نے فلم 'شطرنج کے کھلاڑی، چشم بدور، ساگر، میرے ساتھ چل، بازار، کسی سے نہ کہنا، رنگ برنگی، سلمی، فاصلے، کھیل محبت کا، نوری اور امراؤ جان ادا' سمیت متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ اور گذشتہ سال ریلیز ہوئی فلم ’شنگھائی‘ میں بھی نظر آئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ شیخ فاروق آرٹ فلموں کے حوالے سے بھی کافی مقبول تھے، جبکہ انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
 مودی کا وزیر اعظم کے لیے انتخاب ہندوستانی سیاست کا سب سے گھناؤنا چہرا:تیستا سیتلواڈ
(مظہر حسنین کی محترمہ تیستا سیتلواڈ سے خصوصی بات چیت کے کچھ حصے )
مودی کی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بی جے پی کی طرف سے نامزدگی کے موضوع پر بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی پارٹیاں بھی اس معاملے کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہی ہیں اور حقیقتاًیہ مسئلہ بھی نہایت سنگین ہے ۔اس حوالے سے سماجی کارکنان اور سنجیدہ افراد کے نزدیک یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور ہر امن پسندشخص نے گجرات 2002 فسادات میں ہوئی مسلم کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔اب ان صداقت پسند اور امن پسند سماج کو کو یہ فکر لاحق ہے کہ مودی کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جانادرست ہوگا ؟کیا اقتدار ایسے شخص کو سونپ دینامناسب ہے جس نے لاشوں پر سیاست کی ہے؟اس سنجیدہ موضوع پر یواین این کے لیے مظہرحسنین نے گجرات میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کی داستان عدالت تک لے کر جانے والی سماجی خدمتگار محترمہ تیستا سیتلواڈ سے بات کی۔ انہوں موصوف سے دریافت کیا کہ کیامودی ہندوستان کے وزیر اعظم بنیںگے ؟ محترمہ تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ دیکھئے میں سیاسی طور پر یہ نہیں کہہ سکتی کہ مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں ۔لیکن اخلاقی طور پر اتنا ضرور کہوں گی کہ بی جے پی اخلاقی کی طور پر اتنی پست ہوگئی ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے ایک ایسے شخص کو وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار قرار دے رہی ہے جو ا بھی بھی الزامات عائد ہیں۔گودھرا سانحہ ،ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری قتل معاملہ، 14اضلا ع میں مسلمانوں کا قتل عام ، منافرت پھیلانے ، اشتعال انگیز تقریر کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چل رہاہے۔ایسے شخص کو ایک سیاسی جماعت وزیر اعظم کے لیے امیدوار کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ہندوستانی سیاست کااس سے گھنونا چہرا اور کیا ہو سکتاہے اور اس ملک کے لیے اس بدترین وقت اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس نے ملک کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے وہ ملک کی وزارت عظمیٰ کا دعویدار ہے ۔ ابھی مودی الزامات سے بری نہیں ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک ملزم شخص کو ملک کے سب اعلی عہدے کے لیے دعویدار قرار دینا آئین کی سراسر خلاف ورزی اور توہین ہے ۔ 2002کے گجرات فسادات کو قطعی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ایسے میں کم ازکم عدالت کا فیصلہ آنے تک بی جے پی کو مودی کو وزیر اعظم کے لیے امیدوار کے طور پرپیش کرنا ملک کی جمہوریت اورسیکولر کردار پر ایک بدنما داغ ہے ۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے حوالے سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں محترمہ سیتلواڈ نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا تجزیہ آسان نہیں ہے ۔آزادی کے ٦٦ سال گزر جانے کے بعد آج بھی مسلمان سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر بے حد پسماندہ ہے ۔اس کو ہم کئی طرح سے دیکھ سکتے ہیں ۔تاریخی طور پر بھی مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور جس کا پروپگنڈہ آج بھی خوب کیا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے لیے مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔صاف طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ ملک کی تقسیم میں مسلم لیگ اور محمد علی جناح کا اہم کردار ہے۔لیکن سیکولر افراد اس سے ناواقف نہیں ہیں کہ کن عوامل اور محرکات کی بنا پر تقسیم کی بد نما سیاسی سامنے آئی ۔دوسرے یہ کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں مثلاً آر ایس ایس ، ہندومہاسبھا وغیرہ نے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول پیدا کرنے میں بھر پور کوشش کی۔ بعد میں بجرنگ دل انہیں کی ترجمانی کے لیے وجود میں آئی ۔ایسے ہی شدت پسند نظریات کے حامی ہندوستان کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں اور جو مسلمانوں کی حق تلفی کرتے چلے آ رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی صورتحال میں کبھی بہتری نہیں آسکی اور (دھیرے وہ مزید پسماندگی کی طرف بڑھتے گئے ۔( یو این این
 سارے وعدے وفا ہوں گے : اکھلیش یادو
لکھنؤ، اترپردیش کے نئے وزیر اعلی ٰ جناب اکھلیش یادو نے آج اپنی حلف برداری کے بعد پریس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کریں گے ۔ واضح ہو کہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد سماج وادی پارٹی نے ملائم سنگھ کے بیٹے اکھلیش یادو کو ریاست کے وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی تھی ۔جنہوں نے آج اپنے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے بعد نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی نے جوعوام سے وعدے کئے تھے انہیں ہم بروئے کار لائیں گے ۔
 مودی کا وزیر اعظم کے لیے انتخاب ہندوستانی سیاست کا سب سے گھناؤنا چہرا:تیستا سیتلواڈ
(مظہر حسنین کی محترمہ تیستا سیتلواڈ سے خصوصی بات چیت کے کچھ حصے )
مودی کی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بی جے پی کی طرف سے نامزدگی کے موضوع پر بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی پارٹیاں بھی اس معاملے کو اپنے اپنے مفادات کے مطابق استعمال کر رہی ہیں اور حقیقتاًیہ مسئلہ بھی نہایت سنگین ہے ۔اس حوالے سے سماجی کارکنان اور سنجیدہ افراد کے نزدیک یہ مسئلہ نہایت اہم ہے اور ہر امن پسندشخص نے گجرات 2002 فسادات میں ہوئی مسلم کشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔اب ان صداقت پسند اور امن پسند سماج کو کو یہ فکر لاحق ہے کہ مودی کو ملک کا وزیر اعظم بنایا جانادرست ہوگا ؟کیا اقتدار ایسے شخص کو سونپ دینامناسب ہے جس نے لاشوں پر سیاست کی ہے؟اس سنجیدہ موضوع پر یواین این کے لیے مظہرحسنین نے گجرات میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کی داستان عدالت تک لے کر جانے والی سماجی خدمتگار محترمہ تیستا سیتلواڈ سے بات کی۔ انہوں موصوف سے دریافت کیا کہ کیامودی ہندوستان کے وزیر اعظم بنیںگے ؟ محترمہ تیستا سیتلواڈ نے کہا کہ دیکھئے میں سیاسی طور پر یہ نہیں کہہ سکتی کہ مودی وزیر اعظم بنیں گے یا نہیں ۔لیکن اخلاقی طور پر اتنا ضرور کہوں گی کہ بی جے پی اخلاقی کی طور پر اتنی پست ہوگئی ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے ایک ایسے شخص کو وزیر اعظم کے عہدے کا دعویدار قرار دے رہی ہے جو ا بھی بھی الزامات عائد ہیں۔گودھرا سانحہ ،ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری قتل معاملہ، 14اضلا ع میں مسلمانوں کا قتل عام ، منافرت پھیلانے ، اشتعال انگیز تقریر کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چل رہاہے۔ایسے شخص کو ایک سیاسی جماعت وزیر اعظم کے لیے امیدوار کے طور پر پیش کررہی ہے ۔ہندوستانی سیاست کااس سے گھنونا چہرا اور کیا ہو سکتاہے اور اس ملک کے لیے اس بدترین وقت اور کیا ہو سکتا ہے کہ جس نے ملک کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے وہ ملک کی وزارت عظمیٰ کا دعویدار ہے ۔ ابھی مودی الزامات سے بری نہیں ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک ملزم شخص کو ملک کے سب اعلی عہدے کے لیے دعویدار قرار دینا آئین کی سراسر خلاف ورزی اور توہین ہے ۔ 2002کے گجرات فسادات کو قطعی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ایسے میں کم ازکم عدالت کا فیصلہ آنے تک بی جے پی کو مودی کو وزیر اعظم کے لیے امیدوار کے طور پرپیش کرنا ملک کی جمہوریت اورسیکولر کردار پر ایک بدنما داغ ہے ۔ مسلمانوں کی پسماندگی کے حوالے سے ایک دوسرے سوال کے جواب میں محترمہ سیتلواڈ نے کہا کہ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا تجزیہ آسان نہیں ہے ۔آزادی کے ٦٦ سال گزر جانے کے بعد آج بھی مسلمان سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر بے حد پسماندہ ہے ۔اس کو ہم کئی طرح سے دیکھ سکتے ہیں ۔تاریخی طور پر بھی مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور جس کا پروپگنڈہ آج بھی خوب کیا جاتا ہے کہ تقسیم ہند کے لیے مسلمان ہی ذمہ دار ہیں۔صاف طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ ملک کی تقسیم میں مسلم لیگ اور محمد علی جناح کا اہم کردار ہے۔لیکن سیکولر افراد اس سے ناواقف نہیں ہیں کہ کن عوامل اور محرکات کی بنا پر تقسیم کی بد نما سیاسی سامنے آئی ۔دوسرے یہ کہ ہندو انتہا پسند تنظیموں مثلاً آر ایس ایس ، ہندومہاسبھا وغیرہ نے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول پیدا کرنے میں بھر پور کوشش کی۔ بعد میں بجرنگ دل انہیں کی ترجمانی کے لیے وجود میں آئی ۔ایسے ہی شدت پسند نظریات کے حامی ہندوستان کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں اور جو مسلمانوں کی حق تلفی کرتے چلے آ رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی صورتحال میں کبھی بہتری نہیں آسکی اور (دھیرے وہ مزید پسماندگی کی طرف بڑھتے گئے ۔( یو این این
 سارے وعدے وفا ہوں گے : اکھلیش یادو
لکھنؤ، اترپردیش کے نئے وزیر اعلی ٰ جناب اکھلیش یادو نے آج اپنی حلف برداری کے بعد پریس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کریں گے ۔ واضح ہو کہ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد سماج وادی پارٹی نے ملائم سنگھ کے بیٹے اکھلیش یادو کو ریاست کے وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی تھی ۔جنہوں نے آج اپنے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے بعد نامہ نگاروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی نے جوعوام سے وعدے کئے تھے انہیں ہم بروئے کار لائیں گے ۔
 
 اسرائیل کی23روزہ جنگ کا مقصد منتخب فلسطینی حکومت کو گرانا اور مزاحمتی آوازوں کو دبانا تھا ۔۔ اسماعیل ہانیہ
استنبول،( یو این این )فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ تین سال قبل اسرائیل کی جانب غزہ پر مسلط کی گئی 23 روزہ جنگ کا مقصد منتخب فلسطینی حکومت کو گرانا، مزاحمتی آوازوں کو دبانا اور فلسطینی قوم کی ثابت قدمی کا امتحان تھا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تین ممالک کے دورہ کرنے کے بعد گزشتہ روز ترکی پہنچنے والے فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ ترک وزیر اعظم رجب طیب سے ملاقات کے بعد آج ترک بحری جہاز ماوی مرمارہ پر پہنچ گئے۔ 31مئی 2010 کو یہ جہاز غزہ کی جانب گامزن عالمی امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا میں شریک تھا کہ اسرائیلی بحریہ نے عالمی سمندری پانیوں میں اس جہاز پر نو ترک رضا کاروں کو شہید کر ڈالا تھا۔ پانچ سال بعد فلسطین سے ببرون ممالک کے دورے پر روانہ وزیر اعظم نے اہالیان غزہ سے یکجہتی میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ترک رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے اس بحری جہاز کا خصوصی دورہ کیا اور جہاز پر ہی شہید رضا کاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والوں کے خلاف اسی جہاز پر ظلم و بربریت کی بھی ایک داستان رقم کی ہے۔ اسرائیل نے عالمی رضا کاروں پر حملہ کر کے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے تمام رضا کاروں کو خوف کا پیغام دیا تھا۔ اس تاریخی ترک بحری جہاز پر کھڑے ہوئے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا مرمارہ جہاز کے شہدا کے خون نے غزہ کے محاصرے کے خلاف کامیابی حاصل کر لی، اس جہاز کے شہدا کا خون سمندری پانی کے ذریعے غزہ کے ساحل تک پہنچ گیا، اس طرح رضا کاروں کا غزہ پہنچنے کا مشن مکمل ہو گیا، ترک شہدا کا خون اب اہالیان غزہ کے شہدا کے ساتھ مل چکا ہے، یہ خون ایک بار پھر فلسطین کا شاندار کردار بحال کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ اسماعیل ہانیہ نے اسرائیلی قائدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہااگرچہ تم نے مرمارہ کو غزہ پہنچنے نہ دیا لیکن آج غزہ اور فلسطین مرمارہ تک آگئے ہیں۔ اس جہاز پر شہید ہونے والے رضا کاروں کی روحیں آج ہم سے اپنے سرزمین کی آزادی اور اپنے مسلمہ حقوق سے دستبردار نہ ہونے کا تقاضہ کر رہی ہیں۔ فلوٹیلا شہدا سے وفا کا تقاضا یہی ہے کہ ہم القدس، مسجد اقصی کی آزادی اور فلسطینی اسیران کی رہائی کے ہدف پر مضبوطی سے جم جائیں اس موقع پر فلسطینی وزیر اعظم نے ایک بار پھر ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان اور ترک عوام سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ رجب طیب ایردوان سے ہماری ملاقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ فلسطین ہر ترک شہری کے کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ترک عوام اور ان مختلف تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیاجنہوں نے مسئلہ فلسطین کو مرکزی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے بحری جہاز مرمارہ کے سامنے موجود ہزاروں ترک شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم آج آپ سے کہ رہے ہیں کہ ہم اسرائیل اور اس کے ظالمانہ محاصرے کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے ان کا کہنا تھا میں آج یہاں استنبول اور مرمارہ جہاز پر کھڑا ہو کر کہتا ہوں کہ غزہ اپنے خلاف سازشوں پر کامیابی حاصل کر چکا ہے اور غزہ میں اسرائیلی اسٹریٹجی ناکام ہوچکی ہے۔اسماعیل ھنیہ اتوار کے روز ترکی پہنچے تھے جہاں پر وہ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان سے ملاقات کر چکے ہیں۔
 
 کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے،ترک وزیر اعظم کا بیان غیر ضروری ۔۔ ایس ایم کرشنا
نیویارک،( یو این این )جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے بھارت نے ترک حکومت کے سامنے اس بات کیلئے سخت احتجاج کیا ہے کہ ترک وزیر اعظم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیرکاذکر کیا۔ترکی نے اس معاملے پر بھارت سے معذرت کا اظہار کیا ہے۔کے ایم این مانیٹرنگ کے مطابق اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران ترکی کے وزیر اعظم طیب اردوگان نے اپنی تقریر میں کئی بین الاقوامی مسائل کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کا بھی تذکرہ کیا اور اس ضمن میں ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز بات چیت کریں۔انہوں نے عالمی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنازعہ کا حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور ترکی بھی اس ضمن میں اپنا رول ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔چنانچہ ترک وزیر اعظم کے اس بیان سے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑااور بھارتی وزارت خارجہ نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔اس سلسلے میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے استنبول میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع اپنے ترک ہم منصب احمت دوتوگلو کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ نئی دلی اقوام متحدہ میں ترک وزیر اعظم کی تقریر کے دوران کشمیر کا ذکر کرنے پر مایوس ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو اس بیان سے حیرت اور ناراضگی ہوئی ہے اوربھارتی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ترک صدر کا کشمیر سے متعلق بیان غیر ضروری ہے۔مسٹر کرشنا نے ترک ہم منصب کے سامنے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور وہاں جمہوری طریقے سے منتخب کی گئی سرکار کام کررہی ہے۔اس کے جواب میں احمت دوتوگلونے بھارتی وزیر خارجہ کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ اگر بھارت کو اس بیان سے دکھ ہوا ہے تو ترکی اس پر معافی مانگے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ ترک وزیر اعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا ذکر کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ ترکی کشمیر تنازعہ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال کے بعد ترک وزیر خارجہ کی طرف سے باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں بھارت سے معذرت کا اظہار کیا گیا۔ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ترکی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش نہیں رکھتا اور ملک کے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران جس طرح سے کشمیر کا ذکر کیا ، اس کا مقصد یہ تھا کہ ترکی کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کی حمایت کرتا ہے اوردونوں ملکوں کو ہی باہمی بات چیت سے کشمیر کا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ انکے ملک کے سربراہ نے مذاکراتی عمل کو لیکر دونوں ملکوں کی تعریف کی تھی ۔
 
 نیویارک میں مسجد اور مندوں سمیت چار مقامات پر پٹرول بم حملے ٗ 80افراد زخمی ٗکوئی جانی نقصان نہیں ہوا
نیویارک،( یو این این )امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں ایک مسجد اور مندروں سمیت چار مقامات پر پٹرول بم حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں 80افراد زخمی ہوگئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ حملے نیویارک میں تارکین وطن کے سب سے بڑے علاقے کوئنز میں ہوئے جہاں اکثیریت جنوبی ایشائی، مشرق وسطی اور لاطینی امریکہ سے آئے ہوئے باشندوں کی ہے۔علاقے میں موجود شیعہ مسلمانوں کی مسجد اور بڑے مرکز الخوئی سینٹر کے سربراہ اور خطیب مولانا السہلانی نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ روز شب گئے الخوئی سینٹر کے صدر دروازے پر نا معلوم افراد نے آگ لگانے والی دھماکیدار بوتل پھینکی جس سے مرکز کے دروازے میں آگ لگ گئی اور اسے نقصان پہنچا۔مولانا السہلانی نے کہاکہ گزشتہ شب عشا کی نماز کے بعد مرکز پر حملے کے وقت اسی کے قریب نمازی مسجد کے عمارت کے تہہ خانے میں موجود تھے مگر واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔نیویارک میں کوئنز کے علاقے جمیکا میں واقع الخوئی سینٹر کو شیعہ مسلمانوں کے مرکز کے طور پر اہم حیثیت حاصل ہے اور یہ عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے جسے امریکی عراقیوں نے قائم کیا تھا۔عراقی اور ایرانی حکومتی سربراہ اور سفیر بھی الخوئی سینٹر میں آتے رہے ہیں۔دوسرا حملہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے رات کے قریب اسی کوئنز کے علاقے میں مشہور ہندو مندر پر ہوا۔ نامعلوم افراد نے وہاں بھی ایک بوتل بم پھینکا جس سے مندر کے دروازے اور کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔ تیزی سے پھیلنے والی آگ سے قریبی نجی عمارت کو بھی نقصان پہنچا تاہم مندر پر حملے میں بھی کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ایک اور حملہ کوئنز کے علاقے میں ہسپانوی بولنے والی آبادی میں ایک اسٹور پر ہوا جسے ہندو عبادت گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔نیویارک پولیس کے مطابق تینوں حملوں میں اسٹار بکس کافی کی بوتلیں استعمال کی گئی ہیں اور نیویارک پولیس کا نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قائم یونٹ اب اس کی بھی تفتیش کر رہا ہے کہ آیا گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا تعلق نفرت آمیز جرائم سے تو نہیں۔اگرچہ الخوئی سینٹر کے سربراہ نے بتایا کہ انہوں نے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دے دی تھی جو بروقت وقوعہ پر پہنچی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے پہلے انہیں نفرت انگیز جرائم قرارد دینا قبل از وقت ہوگا۔تر سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والی وسیع الثقافتی اور لسانی علاقے کوئنز میں رہنے والے تارکین وطن خاص طور جنوبی ایشیائیوں اور عربوں میں خوف و تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ادھر نیویارک کے میئر مائیکل بلومبرگ نے نئے سال کی پہلی شب مسجد اور مندروں پرحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص نے بھی جس ارادے سے یہ حملے کیے ہیں اس نے نیویارک کی روایتی روارداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی روایت کے خلاف کام کیا ہے۔نیویارک شہر کی انتظامیہ نے اب ان حملوں کی تہہ تک پہنچنے کے لیے نیویارک ریاست کی پولیس کے انسداد نفرت انگیز جرائم یونٹ اور ماہرین سے مدد مانگ لی ہے۔نیویارک میں متاثرہ مسجد اور مندروں کے گرد پولیس کی بھاری نفری نگرانی کے لیے تعینات کر دی گئی ہے۔نیویارک میں کچھ مسلم تنظیموں نے ان حملوں سے ایک روز قبل میئر بلومبرگ کی طرف سے نئے سال کی بین المذاہب تقریب کا احتجاجی بائیکاٹ کیا تھا۔ ان تنظیموں کے مطابق نیویارک میں مبینہ طور مسلمانوں کے علاقوں، مساجد اور مذہبی مراکز کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نسلی بنیاد پر نگرانی اور جاسوسی کی جار ہی ہے۔ادھر کوئنز حملوں پر تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کہیں نیویارک میں ان حملوں کا تعلق دوسرے شہروں میں ماضی قریب میں ہونے والے حملوں سے تو نہیں۔
 
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.