تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا کردار
(عارف عزیز(بھوپال
15,January, 2016, 8.10 PM
(مژگاں نیوز نیٹ)
*ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں اردو زبان اور صحافت کا کردار ہندوستان کی قومی تاریخ کا ایک ولولہ انگیز باب ہے ، اگر یہ کہا جائے تو حقیقت سے زیادہ قریب ہوگا کہ آزادی کی جنگ جس زبان میں لڑی گئی وہ مقبولِ عام زبان اردو اور اُس کی صحافت ہے۔ اِس زبان کے ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے آزادی کی جدوجہد میں کلیدی حصّہ لیا، کئی صحافی و شاعر پھانسی پر چڑھائے گئے، اُن کی جائیدادیں ضبط اور مکانوں پر قبضے کئے گئے، اخبارات کے لیے ضمانتیں طلب کی گئیں ، اِن کے علاوہ مادرِ ہند کے جیالے ہندو مسلمان اور سکھوں نے باہمی اتحاد اور فکروعمل کی یکجہتی کے ساتھ جو جدوجہد کی اِس میں اُن کا سب سے بڑا سہارا اردو زبان اور اُس کی صحافت تھی۔ اِن سرفروشوں میں بہادرشاہ ظفرؔ ، بیگم حضرت محل، جنرل بخت روہیلہ، احمداللہ شاہ ، فیروزشاہ، مہارانی لکشمی بائی، نانا صاحب پیشوا، تاتیا ٹوپے، بابو کنور سنگھ سب کے فرمان ، خطوط اور مُہروں میں اردو ہی استعمال ہوتی تھی۔
اردو کا پہلا اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ ۱۸۲۲ء میں شائع ہوا اور مغلیہ سلطنت کے خاتمہ تک تقریباً ۴۰ اردو کے اخبارات جاری ہوچکے تھے، جنھوں نے عوام میں وطن پرستی اور ملک کی آزادی کا جذبہ پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا، ’’تاریخِ صحافت اردو‘‘ کے مؤلف کے بقول ’۱۸۵۷ء میں ہندوستانیوں نے انگریز سامراج کے خلاف جو بغاوت کی اُس کی ذمہ داری انگریزوں نے اردو کے مذکورہ اخبارات پر ہی ڈالی اور اِس کی پاداش میں ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کے بانی مولوی محمد باقر کو سولی پر چڑھادیا گیا، اُن کے بیٹے محمد حسین آزادؔ کے نام بھی گرفتاری کا وارنٹ تھا لیکن وہ بچ کر نکل گئے، اُن کے ہم عصر ’’صادق الاخبار‘‘ کے ایڈیٹر جمیل ہجرؔ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا اور انہیں تین سال کی سزا ہوئی۔ اِسی سلسلہ کی ایک کڑی ۱۸۵۷ء میں بہادرشاہ ظفرؔ کے نواسے مرزا بیدار بخت کے تحریری حکم سے شائع ہونے والا اردو اور ہندی کا اخبار ’’پیامِ آزادی‘‘ ہے جو حقیقی معنوں میں آزادی کا نقیب بن کر منظرِ عام پر آیا، اِس اخبار نے جنگِ کی آگ بھڑکانے میں ایندھن کا کام کیا، یہی وجہ ہے کہ انگریز حکمرانوں نے اس اخبار کو بند کرنے کے ساتھ اِس کے پڑھنے والوں کو بھی سزا کا مستحق قرار دیا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کے گھروں سے اِس باغی اخبار کا شمارہ یا ایک ورق دستیاب ہوا اُنہیں بھی انگریز حکومت کے عتاب کا شکار ہونا پڑا، اِس اخبار کے ایڈیٹر ، پرنٹر، پبلشر اور ایڈیٹر بیدار بخت کو موت کی سزا دی گئی۔ اخبارات کی اشاعت کا باقاعدہ مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اردو زبان عوام کے درمیان رابطہ کی زبان کا درجہ حاصل کرچکی تھی ، صرف دہلی سے بارہ ایسے قلمی اخبار سپرد ڈاک کئے جاتے، جن کا مقصد انگریز حکومت کے خلاف عوام کو بیدار کرکے بغاوت کے لیے اُکسانا تھا، یہی وجہ ہے کہ لارڈ آک لینڈ اور اور لارڈ کیننگ کو اعتراف کرنا پڑا کہ ’’قلمی اخبارات کی صحافت نے ہندوستانی عوام میں برطانوی حکومت کے خلاف بدگمانی پھیلاکر ۱۸۵۷ء کے انقلاب کی راہ ہموار کی ہے‘‘ ۔
اردو اخبارات کے اس باغیانہ رول سے گھبراکر انگریز حکمرانوں نے ہندوستانی پریس کا گلا گھونٹنے کے لئے کاروائی شروع کی جس کے نتیجہ میں اردو اخبارات کی تعداد گھٹتے گھٹتے صرف ۲ ۱ رہ گئی، اِس کے بعد آگرہ سے مکندلال کی ادارت میں ماہنامہ ’’تاریخ بغاوتِ ہند‘‘ ، اجمیر سے اجودھیا پرساد کی ادارت میں ہفت روزہ ’’خیرخواہِ خلق‘‘ ، علی گڑھ سے سرسید احمد کی ادارت میں ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ یا ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ اور لکھنؤ سے پہلے ’’اودھ اخبار‘‘ اور اس کے بعد ’’اودھ پنچ‘‘ جاری ہوئے، ان اخبارات نے عوام میں آزادی کے لئے جدوجہد کا جذبہ اور سیاسی شعور پیدا کرنے کا اہم کام انجام دیا۔ ۱۸۶۰ء میں دہلی کے مختلف امراء اور نواب زادوں کی زیرسرپرستی چھ اخبارات شائع ہورہے تھے، اِن میں سب سے مشہور ’’اکمل اخبار‘‘ تھا، جسے حکیم عبدالحمید نے شائع کیا۔ ۱۸۷۷ء میں تین مزید نئے اخبارات کا اجراء عمل میں آیا، یہ اخبار ’’نصرتُ الاکبر‘‘ ، ’’نصرتُ الاسلام‘‘ اور ’’مہرِ درخشاں‘‘ تھے، جن کا مقصد عوام کو حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھنا تھا، ۱۸۸۰ء کے دوران بارہ نئے اخبارات منظر عام پر آئے، اُس وقت تک
میرٹھ، آگرہ، لکھنؤ، علی گڑھ اور لاہور میں اردو اخبارات اپنا حلقۂ اثر قائم کرچکے تھے، نیز آزادی کے لئے جدوجہد کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔ ۲۰ویں صدی کا آغاز ہوتے ہی آزادی کے لیے قومی تحریک نے نئی کروٹ لی، حسرتؔ موہانی اور ظفرعلی خاں نے اپنے اخبارات ’’اردوئے معلیٰ‘‘ اور ’’زمیندار‘‘ کے صفحات پر مضامین اور اشعار کے وسیلہ سے ملک کے عوام کو آزادی کی ضرورت واہمیت سمجھانے کی بھرپور کوشش کی، بنگال سے مولانا ابوالکلام آزادؔ کا ’’الہلال‘‘ یا اُس کی ضبطی کے بعد ’’البلاغ‘‘ دہلی سے محمد علی جوہر کے ’’ہمدرد‘‘ ،لکھنؤ سے ’’جواہرلال نہرو کے ’’قومی آواز‘‘، پنجاب سے لالہ لاجپت رائے کے ’’وندے ماترم‘‘ ، بجنور سے ’’مدینہ‘‘، لاہور سے ’’ملاپ‘‘ ، ’’پرتاپ‘‘، ’’انقلاب‘‘ اور ’’پیام‘‘، دہلی سے ’’ریاست‘‘، ’’الجمعیۃ‘‘ اردو کے وہ اخبارات ہیں جو تحریکاتِ آزادی کے بارے میں خبریں، پیغامات، تقاریر اور منصوبوں کو پھیلاکر نیز سلگتے عصری مسائل پر اداریے لکھ کر بیرونی حکمرانوں کا ناطقہ تنگ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ سابق ریاستِ بھوپال سے ’’صداقت‘‘، ’’صبح وطن‘‘ ، ’’آواز‘‘ اور ’’رہبروطن‘‘ کا جنگ آزادی میں نمایاں حصّہ رہا، مذکورہ اخبارات کے مدیروں نے ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ لیکن بھوپال کی اردو صحافت کو بغاوت کا پہلا سبق ’’صداقت‘‘ کے ایڈیٹر مرزا عبدالکریم اُوجؔ نے پڑھایا، جس کی پاداش میں انہیں ریاست بھوپال سے بے دخل ہونا پڑا۔ وہ ۱۸۸۷ء میں بھوپال سے اپنا گھربار چھوڑکر ہوشنگ آباد چلے گئے اور وہاں سے ’’موجِ نربدا‘‘ کے نام سے ہفت روزہ جاری کیا، جو جدوجہد آزادی کا زبردست علمبردار اور انقلابی اخبار تھا۔
اردو زبان ، ادب اور صحافت کا خمیر سیاسی شعور، سماجی انصاف اور مذہبی رواداری سے اُٹھا ہے، اِسی لیے اردو کے صحافیوں، ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ سماج میں وقوع پذیر حادثات و واقعات کو جہاں بیان کیا، وہیں جابر طاقتوں کے خلاف پوری شدت سے آواز بلند کی اور عوام الناس کے دل ودماغ میں وطن سے محبت کے اُس تصور کو گہرا کیا جو مدہم پڑگیا تھا، میر تقی میرؔ ، ذوقؔ ، غالبؔ ، واجد علی شاہ اخترؔ ، ظہیرؔ دہلوی نیز بہادرشاہ ظفرؔ سبھی نے اپنے عہد کی بربادی اور انگریزوں کی غلامی پر نوحہ خوانی کی تو حالیؔ ، چکبستؔ ، اقبالؔ اور جوشؔ نے اپنی نظموں سے، مومنؔ نے اپنی مثنوی سے، داغؔ ، سالکؔ ، مجروحؔ نے اپنے مرثیوں سے ہندوستانی عوام کو آزادی کی برکات اور غلامی کی لعنتوں سے اس فنکاری کے ساتھ آگاہ کیا کہ اُن کے اشعار اپنے عہد کی دھڑکن بن گئے، اردو شعراء نے ہندو اور مسلمانوں کو قریب لانے اور اُن میں اتحادِ عمل پیدا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی برگزیدہ ہستیوں پر نظمیں لکھیں جو کافی مقبول ہوئیں اور اخبارات کی زینت بنیں۔
منیرؔ شکوہ آبادی اردو کے پہلے شاعر تھے جن کو قید کرکے انڈومان بھیجا گیا، غالبؔ کے شاگرد میکشؔ کو قیدوبند کی آزمائش سے گزرنا پڑا، امام بخش صہبائی کو توپ سے اُڑایا گیا، اِسی طرح اُن علماء کرام کو اور مجاہدینِ جنگِ آزادی کو جن کا اوڑھنا بچھونا اردو اور اُس کی صحافت تھی، جلاوطنی اور دیگر صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا، مولانا محمودالحسن، مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا برکت اللہ بھوپالی، لالہ ہردیال، لالہ لاجپت رائے تو چند نام ہیں، ایسے سیکڑوں بلکہ ہزاروں محبانِ وطن اور اردوداں حضرات نے قربانیاں پیش کرکے تحریکِ آزادی کو اپنے خون و پسینہ کا نذرانہ پیش کیا، اُس زمانے میں اردو کے خلاف نہ تو کوئی تعصب تھا، نہ امتیازی سلوک کی شکایت تھی بلکہ اردو ہی ملک کی وہ مؤثر زبان تھی جو لوگوں تک اپنا نقطۂ نظر پہنچانے کا ایک اہم وسیلہ بن گئی، علمائے دیوبند جن کا اثر ورسوخ ہر مذہب اور فرقہ پر یکساں تھا، اُن کی تقاریر سننے اور خیالات جاننے کے لئے سبھی مذاہب اور مسلکوں کے لوگ بے چین رہا کرتے تھے، مولانا ابوالکلام آزادؔ ، مولانا حسین احمد مدنی، عطاء اللہ شاہ بخاری، مولا حبیب الرحمن اس میدان کے شہ سواروں میں شامل تھے۔ ۲۰ویں صدی کے آغاز سے ۱۹۴۷ء تک تین ہزار سے زیادہ اردو کے اخبارات ورسائل شائع ہوئے، اُن میں ۹۰ فیصد اخبارات یعنی ۲ ہزار ۷۵۰ اخبارات نے
آزادی کی لڑائی میں مختلف طریقوں سے حصّہ لیا اور قربانیاں پیش کیں، اُس دور کے سیاسی قائدوں میں آپ کو دو خصوصیتیں ملیں گی اوّل صحافی ہونا، دوم وکالت کرنا، مہاتما گاندھی، مولانا آزادؔ ، حکیم اجمل خاں، آصف علی، محمد علی جوہرؔ ، حسرتؔ موہانی، بال گنگا دھرتلک ، لالہ لاجپت رائے سبھی صحافی تھے۔ اُس زمانے میں جنگ آزادی پر جو فلمیں بنائی گئیں، ناول ، گیت اور نغمے لکھے گئے وہ سب اردو میں تھے، اردو کے ادیب، صحافی اور شعراء کی اِس اجتماعی کوشش کا اثر یہ ہوا کہ انقلاب زندہ باد اور انگریز حکومت مردہ باد کے نعروں سے ملک کے درودیوار گونجنے لگے، ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس نے آزادی کے لیے جدوجہد کے اپنے جس سفر کا آغاز کیا اور جس کے اسٹیج سے قومی رہنما الفاظ وجذبات کے دریا بہاتے رہے، وہاں بھی اردو زبان کا استعمال ہوتا تھا، مہاتماگاندھی نے اردو زبان کی اہمیت کا احساس کرکے اِس زبان کو خود سیکھا، کانگریس کے صفِ اوّل کے قائدوں میں موتی لال نہرو یا سروجنی نائیڈو اور دادا بھائی نوروجی ہوں یا بال گنگا دھرتلک، لالہ لاجپت رائے ، جواہرلال نہرو ہوں یا ڈاکٹر راجیندر پرساد، گووندولبھ پنت ہوں یا لال بہادر شاستری، ماسٹر تارا سنگھ ہوں یا پرتاپ سنگھ کیروں، جے پرکاش نرائن ہوں یا رام منوہر لوہیا سب اردو جانتے ہی نہ تھے اپنی تنظیم کی بہبود کے کام اور عوامی رابطہ کی مہم میں اردو زبان اور اُس کی صحافت کا استعمال کرتے رہے۔ مہاتما گاندھی نے تو اردو زبان کی اہمیت کا اندازہ لگاکر اپنے اخبار ’’ہری جن‘‘ کواردو میں بھی نکالا، اِسی طرح ’’ملاپ‘‘، ’’پرتاپ‘‘، ’’تیج‘‘ اور دیگر متعدد ہندو صحافیوں کے اخبارات نے تحریکِ آزادی میں برطانوی سامراج کے خلاف اہم رول ادا کیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ انگریز حکمراں اگر کسی سے خوف زدہ تھے تو وہ اردو اخبارات اور اُن کے صحافی تھے۔ اِسی لئے اردو کے اخبارات وصحافیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، اُنہیں قیدوبند کا شکار بنایا گیا، اُن سے ضمانتیں طلب کی گئیں۔ اِس کے باوجود اخبارات کے مالکوں اور صحافیوں نے بیرونی حکمرانوں کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا اور تحریکِ آزادی کے ہراول دستہ کا کردار نبھایا، لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد آزادی کی تحریک میں اردو صحافت کے اِس کردار کا کھلے دل سے اعتراف نہیں ہوا، اردو جیسی عوامی اور مقبول زبان کی شاعری ہوکہ نثر، فکشن ہوکہ صحافت سب نے حصولِ آزادی کا ایک جمہوری تصور پیش کیا اور عوام میں آزادی کی خاطر جان پر کھیل جانے کا جذبہ اُبھارا، اِس کو بھی فراموش کردیا گیا ہے۔(یو این این( (مژگاں نیوز نیٹ)

 وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم لیکن !
شمس تبریز قاسمی
23 September, 2014, 8.20 AM
ہند وستان کی وزرات عظمی کے منصب پر آج وہ شخص فائز ہے جس کی تقریبا دنیا کے تمام سیکولر افراد نے مخالفت کی تھی ۔گجرات فساد کے پس منظر میں نریندر مودی کے دامن پہ جو داغ لگا تھا وہ اب تک دھل نہیں سکا ہے ۔ آج وہ ہندوستان کے وزیراعظم ضرور ہیں ۔پچیس کڑور مسلمان سمیت ایک ارب تیس کروڑ ہندوستانیوں کے سربراہ ہیں۔امریکہ نے بھی پی ایم بننے کے بعد ان کو معافی کا پروانہ دے دیا ہے ۔لیکن گجرات فساد کے سلسلے میں مسلمانوں کی نگاہ میں وہ آج بھی مجرم ہیں ۔جب تک اپنی غلطی کی تلافی نہیں کرلیتے ہیں اس سے ان کو چھٹکارا نہیں دیا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کوروز اول سے ہی مسلم مخالف لیڈر سمجھاتا ہے ۔انتخالی تشہیر کے دوران بھی انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ۔اور نہ ہی اپنے دور اقتدار میں سو دنوں سے زائد کی مدت گزرجانے کے بعد ہی انہوں نے اس سلسلے میں کوئی بات کی ۔گذشتہ دو دن قبل انہوں نے ایک بیان دے کر مسلمانوں کو ایک نئی کشمکش کا شکار بنادیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 19 ستمبر کو وزیر اعظم بننے کے بعد اپنا پہلا انٹرویو ایک بین الاقوامی میڈیا سی این این کو دیا ہے ۔ان سے انٹرویو لینے والے ہند نژاد مسلم صحافی فردید زکریا نے سوال کیا کہ القاعدہ کی طرف سے جاری کردہ انٹر ویو کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔القاعدہ کی جانب سے کچھ دنوں قبل ایک وڈیو جاری کی گئی تھی جس میں القاعدہ سربراہ ایمن الظوہری کو یہ کہتے ہوئے سناگیا تھا کہ ہم ہندوستان میں اپنی نئی شاخ” قاعدة الجہاد“ قائم کریں گے۔جو برصغر خاص طور پر ہندوستان میں اسلامی خلافت کے قیام کے لئے اپنی تحریک چلائے گی۔ اس میں یہ اپیل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ گجرات اور کشمیر میں ظلم کا سامنا کر رہے مسلمانوں کو وہ نجات دلانا چاہتے ہیں۔۔ویڈیو میں یہ بات بھی کہی گئی تھی ہندوستانی مسلمان ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ہر چند کہ اب تک اس کی تحقیق نہیں ہوسکی ہے کہ آیا یہ ویڈیو فرضی ہے ،انڈین مجاہدین اور سیمی کے طرز مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے جیل کی سلاخوںکے پیچھے ڈالنے کی ایک نئی سازش ہے یا پھر یہ مبنی برحقیقت ہے ۔بہرحال اسی ویڈیو کے پس منظر میں ان کا سوال تھا جس کا جواب ہمارے وزیر اعظم نے اپنی قدیم روایت سے ہٹ کر کچھ یوں دیا ” ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی مسلم ملک کیلئے ہی جئیں گے اور ملک کیلئے ہی مریں گے۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو اس بات کاگمان ہے کہ وہ اس کے اشاروں پر ناچےں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ مسلمان ان کے اشاروں پر ناچےںگے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ہندوستانی مسلمان جان دے دیں گے لیکن ملک کے ساتھ غداری نہیں کرسکتے ۔وہ ہندوستان کے لئے برا نہیں سوچیں گے۔انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی کی حمایت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے پڑوس میں افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کا اچھا اثر ہے۔ہندوستان میں تقریبا 17کروڑ مسلمان ہیں لیکن ان میں سے القاعدہ کے رکن نہ ہونے کے برابر ہیں۔انہوں نے القاعدہ کو انسانیت کے خلاف مصیبت بتاتے ہوئے اس کے خلاف ایک جٹ ہو کر لڑنے کی بات کہی“۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو کس نظریہ سے دیکھا جائے اس کا کیا مطلب لیا جائے اس سلسلے میں کچھ بھی کنہا مشکل ہے ۔یہ بھی ہوسکتا ہے حالیہ دنوں میںبے جی پی کی مسلسل ہورہی شکست سے خوف زدہ ہوکروہ اب اپنی قدیم پالیسی ہے ہٹ کرمسلمانوں کا ساتھ بھی چاہ رہے ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے ستمبر کے آخری ہفتہ میں امریکہ کے دورہ پر روانہ ہورہے ہیں جہاں ان پر پابندی عائد تھی لھذا وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے مسلمانوں سے ہمیں ہمدردی ہے ۔ہمارے ملک میں وہ برابر کے شریک ہیں۔وزیر اعظم کے اس بیان پر مسلم لیڈروں کا ردعمل مختلف ہے کسی نے اسے مفاد پر ستی کی سیاست پر محمول کیا ہے تو کسی نے خیر مقدم کیا ہے ۔عالم اسلام کی عظیم درس گا ہ دارالعلوم کے دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی صاحب نے بہت ہی نرالے انداز میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ ”ہندوستانی مسلمانوں کو ملک کی وفادار ی اور حب الوطنی کے لئے کسی سند کی ضرورت نہیں ہے ۔ہندوستان کی تاریخ شاہد ہے کہ ملک کے لئے مسلمانوں نے ہمیشہ و فادار ی کے ساتھ قربانیاں پیش کی ہے “۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا مسلمان وفادا رہے ۔یہاں کی مٹی میں ہمارے خون پیوست ہیں ۔اس گلشن کو ہمارے آباءاجداد نے خون جگر سے سینچا ہے۔ہندوستان کی تاریخ مسلمانوں کے بغیر نامکمل ہے ۔مسلمانوں نے کبھی بھی القاعدہ ،طالبان اوراس طرح کی دیگر جماعتوں کا ساتھ نہیں دیا ہے۔ بی سی سی کی رپوٹر خدیجہ عارفہ نے کچھ دنوں پہلے مجھ سے ایک انٹر ولیا تھا اس دوران انہوں نے ایک نئی بات بتائی جو مجھے معلوم نہیں تھی ،کہ 2001 میں افغانستان پر جب امریکہ حملے ہورہے تھے ان دنوں طالبان سربراہ ملا عمر نے دار العلم دیوبند نے کے نام ایک خط لکھ کر ان سے رہنمائی چاہی تھی لیکن دار العلوم نے اس سلسلے میں کوئی جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیا ر کی۔ وزیر اعظم کا یہ پہلا انٹر ویو تھا ۔اس بیان کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں میں ایک مثبت پیغام دینے کی کو شش کی ہے اس لئے اس تناظر میںمیر ی ذاتی رائے یہ ہے کہ گجرات فساد اپنی جگہ برقرارہے وزیر اعظم بنے سے ان کا گنا ہ معاف نہیں ہوگیا ہے ۔لیکن بحیثت وزیرعظم ہمیں ان کے بیان کو مثبت نظریہ سے دیکھناچاہئے ۔ان کے اس بیان کا خیر مقدم کرنا چاہئے کیوں کہ وہ جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لیڈروں سے اس طرح کو توقع نہیں تھی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے اس بیان کے ذریعے مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کی ہے ۔اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے لیکن اس کے لئے انہیں لگے ہاتھ یہ کام کرنا ہوگا کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ پر نکیل ڈالیں ۔کیوں کہ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب بی جے پی لیڈران مسلسل مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کررہے ہیں۔محبتوں کے رشتے میں نفرت کی بیج بو رہے ہیں۔مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ قرار دے رہیں ۔قربانی کو دہشتگر دی کی ٹرینیگ سے تعبیر کررہے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف ”لو جہاد“ او ر”میٹ جہاد“ جیسی تحریک چلارہے ہیں۔نریند مودی ہندوستان کے ایسے وزیر اعظم مانے جاتے ہیں جن کا ممبران پارلیامنٹ پہ مکمل کنٹرول ہے ۔ہمارے پاس یہ اطلاعات ہیں کہ نریندر مودی نے ایک ممبرپارلیامنٹ کی ان کے جنس پہنے پر سرزنش کی تھی ۔ایک دوسرے کو انہوں فون کرکے اس لئے ڈانٹا تھا کہ انہوں نے ان کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے کسی قریبی رشتے دار کو پرسنل سیکیرٹری منتخب کرلیا تھا۔غرض یہ کہ مودی کو اپنے ارکان پہ مکمل کنٹرول حاصل ہے وہ ان کی ذاتی زندگی میں بھی دخل اندازی کرتے ہیں۔ لہذا ان کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ اپنے اس بیان پہ صداقت کی مہر لگاتے ہوئے ان بے لگا م لیڈروں پہ لگام لگائیں ۔یوگی آدتیہ ،شاکسی مہاراج ، منیکا گاندھی اوراپنے سربراہ اعظم موہن بھاگوت کی اشتعال انگیز ی پہ نوٹس لیں ان کے اس مسلم مخالف بیان پہ ان کی سرزنش کریں۔تب ہی یہ معلوم ہوسکے گا مودی جی کا مسلمانوں کے تئیں دیاگیا بیان حقیقت پر مبنی ہے ، سیکولر ہندوستان کی ترجمانی کررہا ہے ۔یا پھر بطور وزیر اعظم مجبوری میں منہ سے نکلاہوا جملہ ہے ۔ان کا مشن اپنی جگہ برقرار ہے ۔وہ اب بھی آرایس ایس اور بی جے پی کے رام راجیہ والے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہیں۔ان کے عہدوں میں تبدیلی آئی ہے ان کی سوچ وفکر اپنی جگہ اٹل ہے ان کے مشن اور ایجنڈے اپنی جگہ برقرار ہیں ۔ (مضمون نگار بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر ہیں)
(مژگاں نیوز نیٹ)

 مو دی لہر غائب سیکولر پارٹیوں کی شاندار واپسی
شمس تبریز قاسمی
23 September, 2014, 8.00 AM
لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی اور سیکولر پارٹیوں کی افسوسناک ناکامی کے بعد مایوسی کی شکار سیکولرپارٹیوں کی امید یں اب برلانے لگی ہیں ۔عام الیکشن کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلسل سیکولر پارٹیوں کو کامیابی مل رہی ہے اور بھگوا پارٹی شکست کا سامنا کررہی ہے ۔بہار میں ہوئے ضمنی الیکشن کے بعد جہاں بی جے پی کو توقع کے مطابق کامیابی ملنے کے بجائے شکست فاش کا سامنا کرناپڑا تھا ۔دس سیٹوں میں سے صرف چار پر کامیابی ملی تھی ۔اس کی نگاہیں یوپی کے ضمنی انتخاب پر تھی ۔بھاجپا لیڈران نے یہ سوچا تھا کہ جس طرح عام انتخاب میں رام مندر کی تعمیر کی وعدہ کرکے فرقہ پرستی کو پھیلاکر اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرکے ہمیں تاریخ ساز کامیابی ملی تھی اسی طرح ضمنی الیکشن میںبھی اس طرح کے ایجنڈا پر عمل کرنا ہوگا چناں چہ یوپی کی گیارہ اسمبلی سیٹوں پہ ہونے والے انتخاب کے لئے انہوں نے اس ایجنڈے بھر پور عمل کیا ۔اتر پردیش میں انہوں سیریل بم بلاسٹ کی طرح سیریل فرقہ وارانہ فسادات کرائے ۔لو جہاد کی اصطلاح قائم کرکے ہندو طبقے کے لوگو ں کومسلمانوں او رسیکولر ذہن کے حامل لوگوں کے خلاف اکسایا ۔ فرضی واقعات گڑھ کے مسلمانوں کی خلاف سازش رچی ۔بی جے پی صدر امت شاہ ،آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ،ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ ،شاکسی مہاراج منیکا گاندھی ،پروین توگڑیا اور دیگربھاجپا رہنمائوں نے خوب زہر افشانی کی۔مدرسہ کو نشانہ بنایا،قربانی پہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ان کی یہ تدبیرں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ۔ملک کی سب سے بڑی ریاست کی عوام نے یہ ثابت کردیا کہ ہم سیکولزرم پہ یقین رکھتے ہیں۔نفرت اور فرقہ پرستی کی سیاست ہماری تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔
13 ستمبر کو ہندوستان کے کل نو صوبوں میں کل 33 اسمبلی کی سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہوئی تھی جس میں سے 32سیٹوں کا نتیجہ 16 ستمبر کو آچکا ہے ایک سیٹ کا نتیجہ 20ستمبر کو آئے گا ۔نتیحہ دیکھنے کے بعد یقینی طورپر بی جے پی کو 16مئی کی تاریخ یاد آئی ہوگی کہ” تاریخ وہی ہے صرف ایک سو بیس دن کا عرصہ گذرا ہے جس میں ہمارے عروج کی تاریخ زوال میں تبدیل ہوگئی ۔16مئی کو کائونٹنگ ہوئی تھی تواس یو پی سے ہمیں لوک سبھا کی 73 سیٹیں ملی تھیں لیکن آج کے 16 ستمبر میں ہمیں گیارہ میں سے صرف تین سیٹیں ملیں ۔سات سیٹیں ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی۔وارنسی جو اپنا علاقہ تھا وہاں بھی کامیابی نہیں مل سکی“۔ 33سیٹوں پر ہوئے الیکشن میں بی جے پی کو14 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے 12سیٹوں کو اسے نقصان ہواہے ۔سماج وادی پارٹی کو یوپی کی گیارہ سیٹوں سے میں سے 8پر کامیابی ملی ہے 7 سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے ۔کانگریس کو 7سیٹوں پر کامیابی ملی ہے 5سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ دارالعلوم کی مجلس شوری کے رکن او ر ممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی پارٹی یو ڈی ایف کو بھی مو دی لہر غائب سیکولر پارٹیوں کی شاندار واپسی شمس تبریز قاسمی
لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی شاندار کامیابی اور سیکولر پارٹیوں کی افسوسناک ناکامی کے بعد مایوسی کی شکار سیکولرپارٹیوں کی امید یں اب برلانے لگی ہیں ۔عام الیکشن کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلسل سیکولر پارٹیوں کو کامیابی مل رہی ہے اور بھگوا پارٹی شکست کا سامنا کررہی ہے ۔بہار میں ہوئے ضمنی الیکشن کے بعد جہاں بی جے پی کو توقع کے مطابق کامیابی ملنے کے بجائے شکست فاش کا سامنا کرناپڑا تھا ۔دس سیٹوں میں سے صرف چار پر کامیابی ملی تھی ۔اس کی نگاہیں یوپی کے ضمنی انتخاب پر تھی ۔بھاجپا لیڈران نے یہ سوچا تھا کہ جس طرح عام انتخاب میں رام مندر کی تعمیر کی وعدہ کرکے فرقہ پرستی کو پھیلاکر اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرکے ہمیں تاریخ ساز کامیابی ملی تھی اسی طرح ضمنی الیکشن میںبھی اس طرح کے ایجنڈا پر عمل کرنا ہوگا چناں چہ یوپی کی گیارہ اسمبلی سیٹوں پہ ہونے والے انتخاب کے لئے انہوں نے اس ایجنڈے بھر پور عمل کیا ۔اتر پردیش میں انہوں سیریل بم بلاسٹ کی طرح سیریل فرقہ وارانہ فسادات کرائے ۔لو جہاد کی اصطلاح قائم کرکے ہندو طبقے کے لوگو ں کومسلمانوں او رسیکولر ذہن کے حامل لوگوں کے خلاف اکسایا ۔ فرضی واقعات گڑھ کے مسلمانوں کی خلاف سازش رچی ۔بی جے پی صدر امت شاہ ،آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت ،ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ ،شاکسی مہاراج منیکا گاندھی ،پروین توگڑیا اور دیگربھاجپا رہنمائوں نے خوب زہر افشانی کی۔مدرسہ کو نشانہ بنایا،قربانی پہ پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ان کی یہ تدبیرں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ۔ملک کی سب سے بڑی ریاست کی عوام نے یہ ثابت کردیا کہ ہم سیکولزرم پہ یقین رکھتے ہیں۔نفرت اور فرقہ پرستی کی سیاست ہماری تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے۔
13 ستمبر کو ہندوستان کے کل نو صوبوں میں کل 33 اسمبلی کی سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہوئی تھی جس میں سے 32سیٹوں کا نتیجہ 16 ستمبر کو آچکا ہے ایک سیٹ کا نتیجہ 20ستمبر کو آئے گا ۔نتیحہ دیکھنے کے بعد یقینی طورپر بی جے پی کو 16مئی کی تاریخ یاد آئی ہوگی کہ” تاریخ وہی ہے صرف ایک سو بیس دن کا عرصہ گذرا ہے جس میں ہمارے عروج کی تاریخ زوال میں تبدیل ہوگئی ۔16مئی کو کائونٹنگ ہوئی تھی تواس یو پی سے ہمیں لوک سبھا کی 73 سیٹیں ملی تھیں لیکن آج کے 16 ستمبر میں ہمیں گیارہ میں سے صرف تین سیٹیں ملیں ۔سات سیٹیں ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی۔وارنسی جو اپنا علاقہ تھا وہاں بھی کامیابی نہیں مل سکی“۔ 33سیٹوں پر ہوئے الیکشن میں بی جے پی کو14 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے 12سیٹوں کو اسے نقصان ہواہے ۔سماج وادی پارٹی کو یوپی کی گیارہ سیٹوں سے میں سے 8پر کامیابی ملی ہے 7 سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے ۔کانگریس کو 7سیٹوں پر کامیابی ملی ہے 5سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ دارالعلوم کی مجلس شوری کے رکن او ر ممبر پارلیمنٹ حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب کی پارٹی یو ڈی ایف کو بھی آسام میں ایک سیٹ پر کامیابی ملی ہے ۔جہاں مولانا کی پارٹی اپوزیشن میں ہے ۔اور کشمیر کو چھوڑ کر آسام تن تنہا ایک ایسی ریاست ہے جہاں ایک مسلم پارٹی اپوزیشن میں ہے اور جس کے تین ممبران پارلیامنٹ ہیں۔آسام کی دودیگر دو سیٹوں میں سے ایک پہ بی جے پی اور ایک پہ کانگریس قابض ہوئی ہے ۔افسوسناک پہلو یہ رہا ہے کہ سہارنپور میں قاضی خاندان کی آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے لوک سبھا کی طرح اس مرتبہ بھی ووٹوں کی تقیسم ہوگئی ہے اور بھاجپا امیدوار کو وہاں کی سیٹ آسانی سے مل گئی ۔ چچا بھتیجا کی آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے لوک سبھا الیکشن میں عمران مسعود کو صرف چالیس ہزار ووٹوں سے شکست ملی تھی ۔حالیہ الیکشن میں بھی وہی ہوا ۔ساتھ ہی بنگال میں بھی بی جے پی کی انٹری ہوگئی ہے جو افسوسناک ہے ۔وہاںکی دوسیٹوں پر ضمنی الیکشن ہواتھا جس میں ایک پہ ترنمول کو کامیابی ملی اور ایک بی جے پی کو۔گجرات میں بھی بی جے پی کا جادو کامیا ب نہیں ہوسکا جہاں کی تین اسمبلی سیٹوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ لوک سبھا کی سیٹوں کا بھی نتیجہ بہتر رہا ۔اتر پردیش کی مین پوری سیٹ سپا کو ملی ۔تلنگانہ کی سیٹ پر بی جے پی کا جادو نہیں چل سکا البتہ گجرات میں مودی کی وڈورا سیٹ پر بی جے پی ہارتے ہارتے بچ گئی ۔خاص طورپہ یوپی کی گیارہ سیٹوں کا نتیجہ مجموعی طو رسب سے بہتر رہا ۔بہار میں ہوئے ضمنی الیکشن کے مقابلے میں زیادہ بہتر ثابت ہواہے جہاں دس میں بی جے پی چار سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور چھ پر سیکولراتحادکو ۔
ضمنی الیکشن کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے ہندوستان میں فرقہ پرستی اور نفرت بھری سیاست کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو فرقہ پرستی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کانگریس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے کامیابی ملی تھی ۔بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے خود بارہا اس کا اعتراف کیا ہے کہ ہماری کامیابی کانگریس کی خراب کردگی کی دین ہے ۔عوام کرپشن ،مہنگائی اورفسادات کی وجہ کانگریس کے مخالف ہوچکی تھی اس لئے اس نے متبادل کے طو رپر بی جے پی کو حکومت کا موقع دیا ہے ۔بی جے پی کی جیت میںاہم کردا رکانگریس کا ہے کسی اور کا نہیں یہ اعتراف اڈوانی کا ہے کسی اور کانہیں۔لوک سبھا الیکشن میں بھی بی جے پی کو صرف 30فی صد ووٹ ملاتھا 70فی صد ووٹ سیکولر پارٹیوں کو ملاتھا جو اس بات کاثبوت ہے ہندوستان کی عوام سیکولر ہے ۔اسے سیکولرزم پہ یقین ہے اسی کو اپنانے میں ملک اور سماج کی ترقی ہوسکتی ہے ۔اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔ بی جے پی کے لئے یہ احتساب کا موقع ہے کہ وہ ان انتخابات کے نتائج سے سبق سیکھیں ۔اپنے ممبران کو کنٹرول میں رکھیں ۔اشتعال انگیزی اور نفرت بھری سیاست سے انہیں دور رکھنے کی تلقین کریں ۔ نفرت اور فرقہ پرستی کی سیاست سے باز آئے ۔امن ومحبت کی سیاست کا آغاز کرے ۔ہندوستان کی تمام آبادی کو ایک نگاہ سے دیکھے ۔مذہبی تعصب سے توبہ کرے ۔ملک کی ترقی اسی میں ممکن ہے ۔بصورت دیگر ملک کا خسارہ ہے ۔گنگا جمنی تہذیب کی خلاف وزری ہے ۔ہندوستان کے سیکولزم کو خطرہ ہے ۔ملک کی تقسیم کا اندیشہ ہے۔ سیکولرزم کے ایجنڈے پہ عمل کرنے والوں کو ہی یہاں کامیابی ملتی ہے۔
مضمون نگار بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر ہیں آ سام میں ایک سیٹ پر کامیابی ملی ہے ۔جہاں مولانا کی پارٹی اپوزیشن میں ہے ۔اور کشمیر کو چھوڑ کر آسام تن تنہا ایک ایسی ریاست ہے جہاں ایک مسلم پارٹی اپوزیشن میں ہے اور جس کے تین ممبران پارلیامنٹ ہیں۔آسام کی دودیگر دو سیٹوں میں سے ایک پہ بی جے پی اور ایک پہ کانگریس قابض ہوئی ہے ۔افسوسناک پہلو یہ رہا ہے کہ سہارنپور میں قاضی خاندان کی آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے لوک سبھا کی طرح اس مرتبہ بھی ووٹوں کی تقیسم ہوگئی ہے اور بھاجپا امیدوار کو وہاں کی سیٹ آسانی سے مل گئی ۔ چچا بھتیجا کی آپسی خانہ جنگی کی وجہ سے لوک سبھا الیکشن میں عمران مسعود کو صرف چالیس ہزار ووٹوں سے شکست ملی تھی ۔حالیہ الیکشن میں بھی وہی ہوا ۔ساتھ ہی بنگال میں بھی بی جے پی کی انٹری ہوگئی ہے جو افسوسناک ہے ۔وہاںکی دوسیٹوں پر ضمنی الیکشن ہواتھا جس میں ایک پہ ترنمول کو کامیابی ملی اور ایک بی جے پی کو۔گجرات میں بھی بی جے پی کا جادو کامیا ب نہیں ہوسکا جہاں کی تین اسمبلی سیٹوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ لوک سبھا کی سیٹوں کا بھی نتیجہ بہتر رہا ۔اتر پردیش کی مین پوری سیٹ سپا کو ملی ۔تلنگانہ کی سیٹ پر بی جے پی کا جادو نہیں چل سکا البتہ گجرات میں مودی کی وڈورا سیٹ پر بی جے پی ہارتے ہارتے بچ گئی ۔خاص طورپہ یوپی کی گیارہ سیٹوں کا نتیجہ مجموعی طو رسب سے بہتر رہا ۔بہار میں ہوئے ضمنی الیکشن کے مقابلے میں زیادہ بہتر ثابت ہواہے جہاں دس میں بی جے پی چار سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور چھ پر سیکولراتحادکو ۔
ضمنی الیکشن کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے ہندوستان میں فرقہ پرستی اور نفرت بھری سیاست کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو فرقہ پرستی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ کانگریس کی خراب کارکردگی کی وجہ سے کامیابی ملی تھی ۔بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی نے خود بارہا اس کا اعتراف کیا ہے کہ ہماری کامیابی کانگریس کی خراب کردگی کی دین ہے ۔عوام کرپشن ،مہنگائی اورفسادات کی وجہ کانگریس کے مخالف ہوچکی تھی اس لئے اس نے متبادل کے طو رپر بی جے پی کو حکومت کا موقع دیا ہے ۔بی جے پی کی جیت میں اہم کردا رکانگریس کا ہے کسی اور کا نہیں یہ اعتراف اڈوانی کا ہے کسی اور کانہیں۔لوک سبھا الیکشن میں بھی بی جے پی کو صرف 30فی صد ووٹ ملاتھا 70فی صد ووٹ سیکولر پارٹیوں کو ملاتھا جو اس بات کاثبوت ہے ہندوستان کی عوام سیکولر ہے ۔اسے سیکولرزم پہ یقین ہے اسی کو اپنانے میں ملک اور سماج کی ترقی ہوسکتی ہے ۔اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔ بی جے پی کے لئے یہ احتساب کا موقع ہے کہ وہ ان انتخابات کے نتائج سے سبق سیکھیں ۔اپنے ممبران کو کنٹرول میں رکھیں ۔اشتعال انگیزی اور نفرت بھری سیاست سے انہیں دور رکھنے کی تلقین کریں ۔ نفرت اور فرقہ پرستی کی سیاست سے باز آئے ۔امن ومحبت کی سیاست کا آغاز کرے ۔ہندوستان کی تمام آبادی کو ایک نگاہ سے دیکھے ۔مذہبی تعصب سے توبہ کرے ۔ملک کی ترقی اسی میں ممکن ہے ۔بصورت دیگر ملک کا خسارہ ہے ۔گنگا جمنی تہذیب کی خلاف وزری ہے ۔ہندوستان کے سیکولزم کو خطرہ ہے ۔ملک کی تقسیم کا اندیشہ ہے۔ سیکولرزم کے ایجنڈے پہ عمل کرنے والوں کو ہی یہاں کامیابی ملتی ہے۔
(مضمون نگار بصیرت آن لائن کے ایڈیٹر ہیں)
(مژگاں نیوز نیٹ)

 وہ ہر بات میں اک نیا شاخسانہ ؟؟
برجستہ : افتخاررحمانی
15 September, 2014, 10.30 PM
ہماری بے چینی اور اضطراب بھی کس قدر الم انگیز اور غم افزاہے کہ فرقہ پرست تو کجاہندوستانی جمہوریت کے پاسبان ومحافظ بھی ہم پرفقرہ بازی اور جذبات سے دل لگی کو اپنا مذہبی اور قومی فریضہ خیال کرتے ہیںجب کہ اس امر کا مکمل یقین ہے کہ شوالہ جمہوریت کے عقیدت مند بلاتفریق مذہب و ملت ،رنگ و نسل اور لسانی اور عمرانی سرحدوں اور بھید بھاوکو بالائے طاق رکھ کر تما م ہندوستانی ہیں خواہ وہ حرم کے اسیرہوںیا پھر دیر کے پجاری وہ چاہے خانقاہ میں ”اللہ ہو“کی صدائے ہستی رسالگاتے ہوںیا پھر مٹھ میںتصورجاناںمیں گم ہوںمگر ان کا دل اسی خاک ہند کو اپنے لیے ”رہ گذرعشق “تصور رکرتا ہے ،اسی کو مولد کہتا اور اسی کو اپنا مدفن بھی لیکن یہ امر کم افسوسناک اور تلخ رسا ہے کہ باربار قوم مسلم کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاتا ہے اور ایک فرقہ کو مذہبی غیرت دلا کر قتل و خون اور مار کاٹ پر اکسایابھی جاتا ہے اولا ًتو کسی مذہبی جذبہ کی پامالی پر ہی گرفت ہونی چاہیے مگرخاموشی اور پراسرارخاموشی نے یہ بھی اجازت دے دی کہ قتل وخون اور ما رکاٹ پراکسایا جائے نتیجتاً اس فعل قبیح کو انجام دینے والے اپنے کارخیر میں مشغول ہیںاور مو جودہ حکومت خاموش سرتخت اس نیرنگی وقت کا تما شہ دیکھ رہی ہے گویا زبان حال سے کہہ رہی ہوکہ
ہمت قاتل بڑھانا چاہیے
زیر خنجر مسکرانا چاہیے
یو گی آدتیہ ناتھ جو بی جے پی کے گورکھ پور سے ممبر پارلیا منٹ ہیں اور سوئے اتفاق سے موصوف گورکھ دھام جیسے عظیم مذہبی مرکز کے سربراہ اور روح رواں ہیںیعنی ایک مٹھ کے مہنت بھی ہیںلاکھوں افراد کے آستھا کے مرکز ہیں اور شردھالوؤں کی اصلاح و تربیت نیز اخلاق فاسدہ سے گریز اور اوصاف حمیدہ کی ترغیب و تلقین کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پرہے جہاں وہ وعظ وارشاد کے ذریعہ اپنے مریدین کی اصلاح کرتے ہیں وہیں ان پر یہ بھی ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ہندوستانی کی عظمت و رفعت اور آپسی اخوت و مروت کے پاٹھ پڑھاتے مگریہ کیا کہ ایک نام نہاد مصلح اور خود ساختہ مرشد نے ایسے نازیبا کلمات کہہ ڈالیں جو کسی بھی طرح سے ایک مہنت کے لیے زیبا نہیں ہے انھوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ غفلت شعاری ،بے مہری نیز رعونت و تکبر کی تمام سنتیں تازہ کر ڈالیں ان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہیں ہے بلکہ وہ کاردیگرکو ہی اپنی ذمہ داری خیال کرتے ہیں اور اپنی شعلہ نوائیوں سے حر م کے اسیروں کے کاشانہ کو خاکستر کردینااپنا مذہبی فریضہ خیال کرتے ہیں آخر یہ ہوتا کیو ں ہے ؟؟کہ وہ اپنے اس فعل سے باز نہیں آتے ہیں ان کا مذہب تو انسانیت کادرس دیتا ہے مگر وہ کیسے مذہبی شخص ہیںکہ مذہبی احکامات اور نظریات کے مخالف ہیں؟جودھااکبر کے عشق میں گرفتار ہوئی تھی یا پھر اکبر از خود جودھاپرفریفتہ ہو گیا تھایہ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے اس سے قطع نظر جودھا اکبر کے معاشقہ کو تعصب کی نظر سے دیکھنا کس امر کی طرف اشارہ ہے ؟اور پھر مزید ستم یہ کہ بداہتہً کہا کہ اب کوئی جودھااکبر سے ساتھ نہیں جائے گی گویا انھوں نے یک جہتی اور دو دلوں کے رشتہ کوقوم کی عزت نفس کا مسئلہ قرار دیا انھوں نے جہاں ایک طرف اس رشتہ کے ذریعہ غیرت دلائی تو وہیں اس مبینہ غیرت کو مشتعل کرنے کا بھی فریضہ انجام دیا ہے کہ ”اب دشٹ سکندراپنی بیٹی چندرگپت کو دے گا دینے کیلئے تیار رہے اب ہماری لینے کی باری ہے “اس قول سے جس معنی کا اظہا رہو رہاہے وہ یہی کہ اکثریتی فرقہ کے لوگ اقلیتوں کی حرمت و عظمت کو خاطر میں نہ لائیںبلکہ انتقاماًہو س و تشددکی راہ اختیا رکریں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی مہنت یا گدی نشیںایسے نازیبا کلمات کہہ سکتا ہے ؟؟اگر نہیں تو پھر مو صوف یو گی کی یہ برہنہ تقریر کیوں کر درست ہے ؟؟اگردرست نہیں ہے تو پھر شوالہ جمہوریت میں براجمان انصاف کے لات و منات پر یہ گہرا سکوت کیونکر ہے ؟اور پھر جب یہ تمام عناصر باہم یکجا ہوں تو پھر ہندوستان کے کیا معانی ہوتے ہیں؟صرف انتقام کی آگ ، قتل وخون ،عزتوںکی پامالی اور انسانیت کے بے حرمتی ۔یہ چند ہو ش ربا تصاویر ہیں جن کی رونمائی ہمیں بار بار کرائی جاتی ہے کہ اب اقلیتوں کایہی مستقبل ہیںاور مظفرنگر ،گجرات ،مئو،میرٹھ،مرادآباد،بھاگلپوراوردیگر مقامات میں ہونے والے فسادات کی یہی ایک تلخ حقیقت ہے۔
یوگی موصوف نے غیر دانستہ طور پر یہ باتیں کہی ہوںمگر جب اس مبینہ ویڈیوکودکھایاگیا اوراس ذیل میں گفتگو کی گئی تو اعتراف کرتے ہوئے فخریہ انداز میںان ہی باتوں کو دہرایا اور کہا کہ اگر ایک فرقہ (ہندو)کا ایک شخص مارا جاتا ہے تو بدلہ میںدوسرے فرقہ (مسلم)کے دس آدمی مارے جائیںآخرش ان باتوں کاکھلم کھلا تکلم کس اجازت کے بناءپر ہے ؟کس آئین کے رو کے تحت درست ہے؟عدالت عظمی کی شفافیت پر سوال نہیں کھڑاکیا جاسکتا لیکن یہ ستم کیو ں روا رکھا گیا کہ باربار ملکی آئین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیںاور کوئی مثبت اقدام سے خود کو روک لیا جاتا ہے؟ماضی میں بھی انھوںنے کسی بھی امر کو خاطر میں لائے بغیر اشتعال انگیزی کی ہے۔ 28جنوری 2008ءکو گورکھ پور ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میںیو گی نے اشتعال انگیزی کی ایک نئی طرح رکھی جس کے نتیجہ میں ماحول فرقہ وارانہ ہو گیا مکانات خاکستر کیے گئے ،سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہونچایا گیا اور کئی افراد جاں بحق بھی ہوئے علاوہ ازیں2008 ءمیں بھی موصوف نے جمہوریت کاگریباں چاک کیا ہے اس ضمن میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے تاہم کاروائی پرجمودنے ہنوز ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ ٥٠٠٢ءکے مئو کے فسادات میں بھی موصوف کے اشارے کارفرماتھے اور ان کی تنظیم ہندویوواواہنی کے افراد کی کاروائیاں اپنے عروج پر تھیںلیکن افسوس اور ستم یہ ہے کہ شواہد جمع کرنے اور تعزیرات ہند کے دفعات کے نفاذکے بجائے خاموشی ،پہلو تہی اور دورخی پالیسیاں اختیا رکی جاتی ہیں کیا یہ انصاف کےساتھ کھلا نفاق نہیں ہے؟
اشتعال انگیزتقاریر کرنے اور اس جرم میں صرف موصوف یوگی ہی نہیں ہیں بلکہ کئی ان کے ہمنوا ہیں جوباربار ہندوستانی فضاکومکدرکردیا کرتے ہیںپروین تو گڑیا ،اشوک سنگھل،راج ٹھاکرے،موہن بھاگوت،راج گری،ورون گاندھی اور دوسرے ہم نواؤں کی ایک لمبی فہرست ہے جو عوام کو مشتعل کرکے ووٹ حاصل کرنے نیزفسادات کی آگ پر تیل چھڑکنے کاہنر خوب جانتے ہیں اور یہ بھی قابل حیرت ہے کہ کوئی کاروائی اور مثبت اقدام سے پہلو تہی سے گریز کیا جاتا ہے۲۰/جولائی کو پروین تو گڑیا کے حالیہ بیان کو بھلایا نہیں جاسکتا کہ انھوں نے راست طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گجرات بھول گئے ہوگے مظفرنگر تو یاد ہو گا۔الغرض ان بیانات کے پیش نظر فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،ملک کی سا لمیت شدید خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ فرقہ پرست عناصر پر قدغن لگانے سے گریز پائی ہمیں شکوک و شبہات میں ڈال دیتی ہے کہ اس ہندو ستان میں اقلیت بالخصوص مسلمان کی کوئی بھی وقعت نہیں ہے۔ مزید طرہ یہ کہ انتخابی جمع تفریق اور گنا ضرب میں محونام نہاد سیکولر پارٹیاں اپنے ووٹ بینک اور دیگر مفادات کیلئے کو شاں رہتی ہیںجب کہ ان تمام شدت پسندانہ کاروائیوں کا سدبات لازمی ہے ۔آخر زہر افشانی اور اشتعال انگیزیوں کاسلسلہ کب رکے گا؟؟یہ اہم سوال ہے کہ ان کے جمیع مقاصد کیا ہیں ؟کون سا عنصر ہے جو ان کو باربار اس قبح پر آمادہ کرتا ہے ؟ہندوستان کی بقااور سا لمیت صرف اور صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں ہے اور وقت کا یہی تقاضا ہے کہ ان عناصر کی تخم ریزی کی جائے جو ’اچھے دنوں‘کا پھل دے سکیںان عناصر سے رشہ یک قلم توڑ ہی لیا جانا چاہیے جو ’اچھے دنوں‘کو ’برے دنوں‘سے بدل دیں ۔
(بصیرت فیچر سروس / مژگان نیوز نیٹ)

  !.....پھر دیجئے جبین کو سجدوں کی تازگی

عزیز بلگامی
15 September, 2014 10.00PM
یہ ہمارے پائوں تلے بچھا ہوا فرشِ زمین اوریہ ہمارے سروں پر تنا ہوا آسمان کا سائبان،یہ خاموش ساحلوں سے ٹکراتی ہوئی بحرِ بے کراں کی موجیںاور یہ پُر شکوہ فلک بوس کوہستانی سلسلے،یہ رم جھم کرتی آسمانوں کی بلندی سے برستی بارش اور ہر ذی روح و غیر ذی روح کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے والے یہ بپھرے ہوئے سیلاب،یہ انسانوں کے بدن کو جھلسا دینے والی گرمیاں اور یہ منجمد کر کے رکھ دینے والے سرد ہوا کے جھونکے ،یہ فراوانی رزق کے ساتھ اِسی زمین کے ایک بڑے خطے پر دیوانہ وار رقص کرنے والے قحط و قلت کے یہ بے کیف منظر،غرض کہ اس کائنات کی ہر منفی و مثبت شئے ہمارے لئے دروسِ عبرت لیے ہوئے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی عقلِ سلیم کے ذریعہ ان منظروں میںپنہاں خاموش اِشارات پر غوروفکر کریں اور ان سے حسب لیاقت واستطاعت سبق حاصل کریں۔کیا عجب کہ ہم اپنی زندگی کوبہتری کی سمت گامزن کر سکیںاور ہماری اُخروی زندگی کو کامیابی و کامرانی کی منزل نصیب ہو جائے۔ چوبیسویںسورة النور کی ترتالیسویں آےت دیکھیے: ”کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان کی بلندیوں سے پہاڑوں کی طرح حجم رکھنے والے بادلوںسے اولے بھی برساتا ہے۔پھر جس پر چاہے وہ اولے ہی برسادے اور جسے چاہے بچالے۔ ممکن ہے کہ اُس کی بجلی کی چمک ہی نگاہوں کو خیرہ کردے۔ رات اور دن کا اُلٹ پھیر بھی وہی کر رہا ہے۔ بیشک اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔“
مثلاً،ذرا ان پیڑوں کو دیکھیے !بہ ظاہر اپنی جگہ پر خاموش کھڑے ہوئے ہیں، ہر نوع کے موسم میں،طرح طرح کے نامساعد حالات کا صبرو سکون کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں، محض اس لیے کہ بحکم خداوندی یہ حضرتِ انسان کے لئے نفع بخش بنے رہیں۔ انسانوں کا حال ایک طرف یہ ہے کہ اپنی سانس کے حوالے سے فضائوں میں مسلسل کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف ان وفا شعار پیڑوں کا حال یہ کہ وہ اِس خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی ضرر رساں گیس کو اپنے اندر جذب کرلینے سے دریغ نہیں کرتے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ضرر رساں گیس کے عوض یہ پیڑ ماحولیاتی عدم توازن پیدا کرنے والے ان ہی انسانوں کے لیے آکسیجن جیسی حیات بخش اور ضامنِ زندگی شے مہیا کرتے رہتے ہیں۔انسانوں کے بے لوث خادموں کی طرح جس طرح یہ پیڑپودے مصروفِ خدمت ہیں،کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے رب کے کلام کو، جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بطورِ امانت ہمارے حوالے کیا تھا، مکمل احساسِ امانت داری کے ساتھ دنیائے انسانیت کی نذر کریں! اس عظیم جد جہد کی راہ میں اُٹھنے والے ہر طوفان بلا خیز کاعزم و حوصلے اور سنجیدگی و استقلال کے ساتھ مقابلہ کریں ! شر سے خیر کو بر آمد کریں اور اپنے رب کی راہ پر گامزن رہیں! ایسا کرتے وقت یعنی رب تعالےٰ کے پیغاما ت کے بلاغ کے دوران ہم پانچویں سورة کی سدسٹھویں آیت میں موجود خوشخبری کو ضرور پیشِ نظر رکھیں:”اے رسول، پہنچادیجئے جو کچھ نازل کیا ہے آپ پر آپ کے رب نے۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو اس کی رسالت کا حق ہی ادا نہیںہوا ۔اور (اس کام میں) اللہ آپ کو انسانوں (کے شر سے) بچائے گا۔اور اللہ نافرمان لوگوں کو راہ نہیں سوجھنے دیتا۔ پھر ایک منظر دیکھیے!ہم دیکھتے ہیں کہ آب و تاب کے ساتھ بہتے ہوئے پانی کے پُر شور بہائو کے درمیان اگرکوئی چٹان سدِّ راہ بن جاتی ہے تو بہتا ہوا پانی اِسے ہٹانے میں اپنی توانائی ضائع نہیںکرتا، بلکہ چٹان کے پہلو سے اپنا راستہ بناتے ہوئے اپنے بہائو کا سفرجاری رکھتا ہے۔ کیا اِس میں ہمارے لیے یہ درس نہیں کہ مزاحمتوں سے تصادم پر اپنی توانائی ضائع نہ کی جائے۔ بلکہ اپنی توانائی کو بچاتے ہوئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔بہتے ہوئے پانی کی طرح انسانوں کی تشنگیٔ ہدایت کو بجھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف مسلسل بڑھتے رہیں۔یہ صورتحال اُسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب ہم اپنا حتمی ہدف اللہ کی رضا اور مغفرت کو بنائیں۔صبر،توکل اور سعیٔ مسلسل ہمارا وظیفۂ حیات بن جائے ۔
فلک پر روشن اِس چمکتے ہوئے سورج کو دیکھیے! زمےن کی ہر مخلوق کے لئے یہ منبع توانائی ( انرجی) بنا ہوا ہے۔ہر صبح ایک وقتِ مقررہ پر یہ طلوع ہوتا ہے۔ شاید نہیں۔ یہ بظاہر غروب ہو جاتا ہے ، لیکن دراصل وہ طلوع ہی ہوتا رہتا ہے، یعنی عین اُس وقت جب کہ وہ غروب ہو رہا ہوتا ہے تو دراصل وہ زمین کے کسی اور حصے کے لیے طلوع ہورہا ہوتا ہے اور زمین پر آباد مخلوق کی زندگی کی ضمانت بنتا ہے اور غروب ہو کر اپنے پیچھے اندھیرا بھی چھوڑجاتا ہے تو انسانوں کے لیے آرام کرنے اور تاز ہ دم ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یعنی یہ اپنے فرض کی ادائیگی میں فرمانبرداربنا رہتا ہے اور ایک مقررہ وقت پرغروب ہو کر ہمارے لئے یہ پیغامِ روشن چھوڑجاتا ہے کہ اپنے فرائض کو وفا شعاری اورپابندیٔ وقت کے ساتھ ادا کیا جائے ،اپنی موجودہ زندگی کے غروب ہونے اور اپنی ابدی زندگی کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے اپنے فرائض کو مکمل احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے۔
پھر آسمان سے برسنے والی بارش پر ایک نظر ڈالیے۔بارش برستی ہے تو کتنے دروسِ عبرت ہیں جو ہمیں حاصل ہوتے ہیں! ہم دیکھتے ہیں کہ یہ رنگ و نسل میں تفریق نہیں کرتی، ذات پات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی، تذکیر و تانیث کی بحث نہیںچھیڑتی ، بلکہ ساری مخلوق کے لیے یکساں طور پر برستی ہے اور ابرِ رحمت بن کر برستی ہے۔پیاسی دھرتی کی پیاس بجھاتی ہے، اِسے سیراب کرتی ہے۔ کیا ہم بارش کے شعار کو نہیں اپنا سکتے ! انسانیت کو بارشِ ہدایت کی ضرورت ہے اور زمین پر بسنے والی محرومِ ہدایت انسانیت کے خشک سینوں کو رب تعالےٰ کا کلام ہی سیراب کر سکتا ہے۔کیا ہم سسکتی بلکتی انسانیت کے مسیحا نہیںبن سکتے! انسانیت کے جسم پر گمرہی اور سرکشی کے جو زخم آئے ہیں کیا اِن زخموں پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا عطا کردہ رُشد کا پھاہا نہیں لگا سکتے!!وہ نسخۂ کیمیا جو گوشۂ حرا کی پرکیف تنہائیوں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے تھے، کیا بیمار انسانی ذہنوں کے امراض کا مداوا نہیں بن سکتا؟کتنی کثافتیں ہیں جو اِس وقت انسانیت کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں اور آلودہ کر چکی ہیں۔یہ بات نگاہ سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ رب تعالیٰ انسانیت کے لئے فائدہ مند چیزوں کو زمین میں ثبات اوربقا عطا فرماتے ہیں جیسا کہ تیرھویں سورة کی ستراویں آیت میں بالکل واضح الفاظ میں ذکر ہے:”....جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتاہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے....“
پھر ذرا سمندر کو دیکھیے ! بظاہر پُر سکون دکھائی دینے والا ےہ سمندر،جس کے سینے میں نہ جانے کتنے طوفان مچلتے رہتے ہیں۔آئیے ذرا اِس کی گہرائیوں میں جھانک کر دیکھیں۔اِس کی گہرائیوں کی دنیا بڑی عجیب ہے۔روشن سورج کی سفید کرنیں جب سطح سمندر سے ٹکراتی ہیںتو مختلف گہرائیوں اور گیرائیوں کے اعتبار سے نور کی یہ سپیدی مختلف رنگوں میں منقسم ہوجاتی ہے۔چوبیسویں سورة النور کی چالیسویں آیت مےں اللہ تعالیٰ سمندروں کی گہرائےوں اوراسکے عمےق اندھےروں کا تذکرہ فرماتا ہے :”یا (ایسے نافرمانوں، ناشکروں اور حق کے انکاریوںکے اعمال کی دوسری مثال ) جیسے سمندر کی عمیق گہرائیوں میں اندھیرے ، اس پر موج کے اوپر موج چھا رہی ہو اوراسکے اوپر ( آسمان میں) گھنے سیاہ بادل ، تاریکیوں پر تاریکیاں ہوں۔ جب اپنے ہاتھ کو ہی دیکھنا چاہے تو بھی نہ دیکھ سکے (ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے) اور اللہ جس کے لئے کوئی نور مہیا نہ کرے، تو کوئی اسے نور فراہم کرنے والا نہیں ہے ۔ “ اِس آیت سے ہماری فکر و نظر کو یہ مہمیز ملتی ہے کہ ہم علومِ بحرOceanography کی موجودہ معلومات سے بھی کچھ استفادہ کریں۔سمندر کی گہرائےوں سے پےدا ہونے والے اندھےروں کی حقیقت ذیل میں بیان کی جارہی ہے:
اولاً،سمندر مےں دو سو میٹر کی گہرائی تک کا جوخطہ ہوتا ہے وہ خطۂ سطحیت کہلاتا ہے۔وہاں تک صرف اتنی روشنی باقی رہ جاتی ہے کہ سمندری پودوں میں کلوروفل بنانے کا عمل یعنی Photosynthesisجاری رہے۔ سمندری زندگی بس اسی گہرائی تک پائی جاتی ہے۔ شارک جیسی مچھلیاں بھی اِسی گہرائی تک متحرک رہتی ہیں۔ اس خطہ کو Epipelagic Zoneکہتے ہیں۔یہ وہ خطے ہیں جنہیں دنیا نے ابھی ابھی دریافت کیا ہے،جبکہ چودہ صدیوں قبل ہی ہمارے ربِّ ذو الجلال نے ہمارے لیے یہ معلومات مہیا کردی تھیں۔
ثانیاً،دو سو میٹر سے ایک ہزار میٹر کی گہرائی کے خطے کو Mesopelagic Zone کہا جاتا ہے۔ سمندری گہرائی کے اِس حصہ میںانتہائی خفیف سا نور نفوذ کر پاتا ہے، جو سمندری زندگی کی بقا کے لئے کافی نہیں ہوتا۔ اس لئے یہاں آبی پودے یا سمندری مخلوقات تقریباً ناپید ہوتی ہیں۔
ثالثاً، ایک ہزار سے تقریباً چار ہزار میٹرکی گہرائی کے خطے کو Bathypelagic Zone کہا جاتا ہے۔ گہرائی کے اِس حصہ میں سمندر بالکل ہی تاریک ہوجاتا ہے۔ نور کی کوئی کرن اس گہرائی تک پہنچ نہیںپاتی نتیجتاً ہر طرف تاریکی ہی تاریکی چھائی ہوتی ہے، جیسا کہ مذکورہ آیت میں کہا گیا ہے۔ رابعاً، چار ہزار سے لے کر سمندر کی سب سے نچلی سطح یا صحنِ سمندرتک،تاریکیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے، جس کے تصور ہی سے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس خطہ ٔ گہرائی کو Abyssopelagic Zoneکہا جاتا ہے۔پھرصحنِ سمندر کو دیکھیے!یہاںتنگ مگر گہری کھائیوں کے سلسلے ہوتے ہیں، جنہےںTrench کہا جاتا ہے۔بحرِ اوقیانوس کی Mariana Trenchنامی ایسی ہی ایک کھائی کی گہرائی10,924 میٹریعنی تقریباً 35,840 پیمائش کی گئی ہے، یعنی اگر ہمالیہ پہاڑ کوMariana Trenchمیں رکھ دیا جائے تو اس کی سب سے بلند چوٹی مائونٹ ایورسٹ سمندری پانی میں اِس قدر گہرائی تک ڈوبے گی کہ اِس کے اورسطح سمندر کے درمیان پھر بھی 1.5 کلو میٹر کافاصلہ ہوگا یعنی ہمالیہ کی اِس بلند ترین چوٹی کے تقرےباًایک میل کی اونچائی تک پانی بھراہوا ہوگا۔ خدا کا شکر کہ آج سائنس، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میںاِن آیات کی گہرائی و گیرائی کی حقیقت کو سمجھنا ہمارے لئے آسان ہوگیا ہے۔ ساڑھے چودہ سو سال قبل اس طرح کی تفصیلات کا علم کیا انسان کے بس کی بات ہو سکتی تھی؟ےہ الکتاب الحکیم کی آیتیںہےں جو ہردور کے انسان کوقائل ہونے پرمجبور کرتی ہیں کہ یہ کتاب ’کلامِ بندہ‘ نہیں بلکہ’ کلامِ الٰہی ‘ہے جو انسانوں کے خالق کی کتاب ہے،جس نے سمندروں کی بھی تخلیق کی اور وہی ہے جس نے معلومات ِ عامہ کے دروازے ہم پر وا کیے کہ ہم اِس کی روشنی میں کلامِ الٰہی کی آیات کا مزید ادراک کریں۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور خلاق العلیم کی یہ کتاب نئی نئی معلومات کی روشنی میں اپنی حقانیت ثابت کرتی رہے گی اور انسانیت بے اختیار پکار اٹھے گی کہ یہ کتاب فی الحقیقت ربِّ کائنات کی کتاب ہے، جسے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے ۔
ہمارے سامنے سائنسی حقائق بھی ہوں،یہ آیاتِ بینات بھی ہوں!رات دن ان کا ہمیں مشاہدہ بھی ہورہا ہو!پھر بھی ہم غفلت سے نہ جاگیں؟نورانی کتاب ہمارے درمیان ہو،پھر بھی ہم اندھیروں میں رہنا پسند کریں؟ہدایت کے چمکتے سورج کے باوجود،ہدایت کی کوئی کرن ہم تک نہ پہنچے، کیا یہ حیرت کی بات نہیں؟ کیا ہم اپنی سطح کو اس قدر بلند نہیںکر سکتے کہ تاریکی سے باہر آجائیں؟ کتاب اللہ کی نور انی کرنیںہماری زندگی کو جگمگا دےں۔ہماری آخرت کو روشن کردیں۔کیوں اِس کتابِ منوّر سے ہم قریب نہیں ہو پاتے! کہ اِس کی تلاوت بھی ہوتی رہے اور اسکے معنی و مفہوم سے بھی ہم قریب تر ہو جائیںاور توفیقِ خداوندی سے اِس کی ہدایات پر عمل پیرائی کا موقع میسر آئے !
پانچویں سورة کی پندرھویں اور سولھویں آیت میں ساری انسانیت سے صاف صاف ارشاد فرمایا گیا ہے: © ©”اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارے ایسے رسول آئے ہیںجو الکتاب کا بہت سا بیان کردیتے ہیں جو تم نے چھپا رکھا ہے اور تمہاری بہت سی باتوں سے درگذر کرجاتے ہیں۔بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین آچکے ہےں۔ اللہ اس کے ذریعہ ہر اس شخص کو سلامتی والے راستوں پر چلاتا ہے جو اللہ کی رضوان کے پیچھے چلنا چاہے اور انہیں اندھیروں سے نکالتا ہے، نور کی طرف(رہنمائی کے لیے)۔“
ہدایت کاسورج اپنی آب و تاب کے ساتھ مسلسل چمک رہا ہے، لیکن ہم اپنے دل کی کھڑکیوں پر پڑے پردوں کوہٹانا نہیں چاہتے۔کیا جگمگا نہیں جائے گی ہمارے ذہن و دل کی کائنات؟ اگر ہم کتاب اللہ سے اپنے تعلق کو جوڑ لیں!نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور ہم اخلاقِ کریمانہ کی جستجو کریں!رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ قول بڑا معروف ہے: بلوغوا عنی ولو آیةیعنی ”مجھ سے اگر ایک ہی آیت تم نے سنی ہو،تو دوسرے انسانوں تک اُسے پہنچائو۔“
یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ دنیا کی تقریباً دو ہزار زبانوں میں قرآن شریف کے ترجمے ہوکر سارے عالم میں پھیل چکے ہیں۔تفاسیر کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔ لیکن حقیقی ضرورت اللہ کے اوریجنل کلامOriginal Text کے بلاغ کی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اندھیروں میں بھٹکنے والی انسانوں کی اکثرےت اپنے رب کی راہ گم کر چکی ہے جس میں ہم بھی شامل ہیں۔ ایک کامیاب اور باعزت زندگی کے لیے کتاب اللہ کی طرف پلٹناضروری ہے۔پھر نہ خام خیالیاں رہیں گی،نہ توہمات نہ جہالت کے اندھیرے۔ عقل ،سائنس، علوم وفنون لوگ ہم سے سیکھنے لگےں گے۔المیہ یہ ہے کہ ہم چاند اور مرےخ پر کمندےں تو ڈال رہے ہیں،مگر ہمارے اپنے اندر کے نہاں خانے کتاب اللہ کے نور سے جگمگا نہیں رہے ہیں۔دنیا خالقِ کائنات کے پیغام سے غافل ہے۔ہمارا بھی حال کچھ یہی ہے۔ کیا دنیا کی اس امتحان گاہ میں ہم کتابِ نور سے اپنی زندگی کی تاریکیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں؟
کیا ہم اپنی کھوئی ہوئی عزت و عظمت کی بازیافت کے خواہشمند ہیں؟
کےاآخرت کی فلاح ہمارے پیش نظر بھی ہے؟
یہ فیصلہ ذاتی طور پر ہم میں سے ہر شخص کو کرنا ہے۔اپنے معمولات،اپنے اخلاق و کرداراور اپنے رویہ اور طرز زندگی میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔
Azeez Belgaumi
azeezbelgaumi@hotmail.com
From BANGALORE

(مژگاں نیوز نیٹ)


 لبیک اللھم لبیک۔۔۔ کیوں
الحاج حافظ) محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی جمشیدپور
1st September, 2014
حج ایک عظیم عبادت ہے۔ اللہ کی عبادتِ عظمیٰ ہے جس میں بے پناہ اسرار و فضائل ہیں۔ اس تعلق سے ضروری باتیں آپ تک پہنچ رہی ہیں۔ کوشش ہوگی کہ حج کے اسرار آپ تک پہنچیں ۔ حج کا احرام باندھتے ہی ہمیں حکم دیا جاتا ہے لبیک اللھم لبیک جسے تلبیہ کہتے ہیں یعنی میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں۔
تلبیہ کہنا کیوں ضروری ہے آخیر حاجی صاحب کو کس نے آواز دی ہے اور کس کی آواز سنا کہ احرام باندھتے ہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں والا جواب دینے لگے ۔ پیارے پیارے مومنوں قرآن میں مولائے رحیم کا یہ ارشاد ہے ۔ سورہ الحج آیت 27 ترجمہ: اور لوگوں میں عام منادی (اعلان) کردولوگ پیدل چل کر اور ہر پتلی دُبلی اونٹنی پر سوار ہو کر دور دراز راستوں سے آئیں گے تمہارے پاس (حج کیلئے) اس آیت مبارکہ کا شانِ نزول تفسیر روح البیان میں یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوگوں میں حج کا اعلان کیجئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ میری آواز کہاں تک پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابراھیم تمہارا کام صرف اعلان کرنا ہے اور پہنچانا میرا کام ہے۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام صفا پر چڑھے تو وہ مقام پہاڑ کے برابر ہوگیا۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنی انگلی کانوں میں ڈالی اور دائیں بائیں اور آگے پیچھے زور سے پکارا ” اے لوگو خبر دار تمہارے رب نے ایک گھر بنایا ہے اورحکم فرمایا ہے کہ تم اس گھر کی زیارت کیلئے آئو اور حج ادا کرو تاکہ تمہیں اس کا ثواب عطا فرمائے اور جنت سے نوازے۔ اور دوزخ سے نجات بخشے “ آپ کی اس آواز کو آسمان و زمین کے درمیان والوں سب نے سنا۔اور جواب دیا لبیک اللھم لبیک گویا احرام باندھتے ہی لبیک اللھم لبیک کی صدا جو حاجی دے رہا ہے اس حاجی نے عالمِ ارواح میں حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی آواز سنی تھی اس لئے اس کے مقدر میں لکھا تھا لبّیک کہنا وہ احرام باندھتے ہی تلبیہ شروع کردیتا ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت مجاھد رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ جس نے ایک بار جواب دیا اُسے (ایک بار سعادتِ حج لبیک) کہنانصیب ہوگاجس نے دو بار جواب دیا اس کو دو بار نصیب ہوگاا لغرض جس نے جتنی بار جواب دیا اس کو اتنی بار حج نصیب ہوگا۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو سوار ہو کر حج کو جاتا ہے اسکو سات سو نیکیاں نصیب ہونگی جس کی ہر نیکی حرم شریف کی نیکی کے برابر ہوتی ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کی نیکی کا کتنا ثواب ہے ۔ آپ نے فرمایا وہاں کی ایک نیکی غیر حرم کی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہوتی ہے ( تفسیر روح البیان)
پیارے مومنوں پہلے اَدیان کے راہب سیر و تفریح کو جاتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کیا ہمارے لئے سیر و تفریح کے لئے اجازت ہے یا نہیں۔ آپ مصطفےٰ جانِ رحمت نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سیر و تفریح کا نعم البدل حج کعبہ کا سفر عطا فرمایا ہے کہ اس سے سیر و تفریح بھی ہوگی اور عبادت و اطاعت کے اجر و ثواب بھی۔ (روح البیان) مومنین پرا للہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم ہے کہ حج کے ساتھ عمرہ بھی عطا فرمایا ہے تاکہ اس طرح سے زیارت حرمین طیبین سے اللہ کے بندے دنیاو اخرت دونوں کی سعادتیں حاصل کرتے رہیں وہ بڑا کم نصیب ہے جو صاحبِ حیثیت ہو کر حج و زیارت سے محروم ہے اللہ تعالیٰ سارے مومنین مرد و عورت کو اپنی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کی زیارت نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔
تفسیر روح البیان میں ایک ایسے ہی بدنصیب کا عبرت آموز واقعہ ذکر کیا ہے جو حج کرنے سے کتراتا تھا آخیر میں خوش بختی نے اس کے قدم چومے۔ واقعہ دلچسپ ہے غور سے پڑھیں۔ حضرت شیخ اکبر (محی الدین عربی رحمتہ اللہ علیہ) نے فرمایا کہ مجھے ایک عارف نے فرمایا کہ ایک دنیا دار شخص تھا جس کا کعبہ کو جانے کا جی نہیں چاہتا تھا دولت جمع کرنے کی حرص میں مبتلا تھا۔ خدائی طور پر اس پر جرم کا ایک الزام لگا ۔ اسے بیڑیاں پہنا کر امیر مکّہ کے پاس لایا گیا اورجرم بھی اتنا سنگین تھا کہ اسے امیر مکہ کے یہاں قتل کرنے کے لئے پیش کرناتھا۔ معلوم ہوا کہ امیر مکہ مناسک حج کے لئے گئے ہوئے ہیں۔اور عرفات میں مقیم ہیں۔مجرم کو گلے میں لوہے کا طوق ڈال کر بیڑیاں پہنا کر ٩ ذی الحجہ کو میدان عرفات میں لایا گیا جونہی مجرم پیش ہوا۔ امیر مکہ نے اس سے معذرت چاہی اور کہا کہ یہ تو میرا دوست ہے تمہیں اسکی گرفتاری میں غلط فہمی ہوئی ہے چناچہ امیر مکہ اس سے معذرت کی ، بیڑیاں اور طوق ہٹائے گئے اور نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے۔ احرام بندھوایا اور حج کے مناسک ادا کرائے اسطرح اسے حج نصیب ہوا امیر مکہ نے اعزاز و اکرام سے نوازا اور وہ ظاہر اور باطنی طور پر بہت بلند مرتبہ پر فائز ہوا۔
اس واقعہ کو درج کرکے صاحبِ روح البیان فرماتے ہیں یہ اس کا کرم ہے کہ بندوں سے جس طرح چاہے کرے ایسے ہی قیامت کے دن پا بہ زنجیر بندوں کو اپنے کرم سے جنت میں لے جائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کے اسرار و رموز کا ایک عجیب کرشمہ ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشار ہے کہ ” حج کرنے والے خدا کے قاصد ہیں اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے اور جو دعا کرتے ہیں اللہ قبول فرماتا ہے۔
لیکن جو مقامِ خلقت کا طالب ہوتا ہے وہ صرف پناہ چاہتا ہے ۔ نہ کچھ مانگتا ہے نہ کوئی دعا کرتا ہے بلکہ حالت تسلیم و رضا پر قائم رہتا ہے وہ صرف اللہ کی خوشنودی چاہتا ہے جیسا کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے کیا۔
جب خدا نے ان سے فرمایا کہ سر جھکائو تو عرض کیا ۔ میں نے رَبُّ العالمین کے حضور تسلیم خم کر دیا جب حضرت ابراھیم علیہ السلام مقامِ خلقت پر فائز ہوئے تو انہوں نے تمام تعلقات سے مُنہ موڑ کر دل غیر اللہ سے بالکل خالی کر دیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کے جلوے کی بر سر عام نمائش کر دیا ارشاد باری ہوا ۔ سلام ہو ابراھیم پر اور میں اس کی یادکو قیامت تک باقی رکھا۔ یہی یاد قیامت تک جاری و ساری رہے گی اور لا تعداد لوگ حج کی سعادت سے سرفراز ہوتے رہیںگے
حاجی جب لبیک اللھم لبیک کہنا شروع کرے تو خیال کرے اللہ تعالیٰ کی نِدا کا جواب ہے۔ اسی طرح قیامت میں بھی نِدا آئے گی ۔۔ سفرِ حج کو سفرِ آخرت سمجھے دل کو اللہ کی یاد سے لبریزرکھے۔ سب سے تاریک گھر وہ ہے جو گھر محبوب کی یاد سے خالی ہو۔ اللہ سفر حج پر جانے والوں کے حج کو قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
شکر خداآج گھڑی کس سفر کی ہے
جس پر نِثار جان فلاح و ظفر کی ہے
(مژگاں نیوز نیٹ)
(الحاج حافظ) محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی
مسجدِ ھاجرہ رضویہ ، اسلام نگر، کوپالی، وایا: مانگو، جمشید پور
hhmhashim786@gmail.com
09386379632, 09031623075

 ایروم شرمیلا،انسانیت ایک بہترین مثال

ڈاکٹرراحت مظاہری
1st September, 2014
مذہب کو دورحاضر کے انسان نے محض اپنی شہری و سماجی شناخت کا ذریعہ یاپھرزیادہ سے زیادہ پالتو جانور کے گلے میں پڑے قلادے کی بیلٹ سمجھ رکھاہے،اسی لئے اس کو مذہب اور اپنے دھرم کے اصول وضوابط پر عمل کرنایا ان پر زندگی گذارنا بری طرح گراںگذرتاہے،چونکہ اس کی نظرمیںمذہب ایک رسمی چیز بن کر رہ گیاہے،اسی لئے ہر مسلمان، سکھ عیسائی اوریہودی سے لیکر ہندووپارسی تک بجائے مذہبی اصول پر چلنے کے اپنے جذبات،خیالات، اورخواہشات کا بندہ بن کررہ گیاہے ،اسی لئے وہ مذہبی اصول پر ان تمام واہی تباہی خیالات کو ترجیح دیتااوران ہی پر عمل کرتاہے، جو کہ اس کا ناطہ صرف اس کے مالک ہی نہیں بلکہ انسانیت سے بھی توڑدیتے ہیں، جیساکہ ہم اپنے سماج میں رات دن، اپنے سفر ،حضر۔مقامات، عام پبلک پیلیس،ڈاکخانہ، اسپتال۔ راستوں، ریلوے اسٹیشنوں بس اسٹاپ، اور ہوائی اڈوں پر بھی دیکھتے ہیں کہ ہرایک اپنی باری سے پہلے دوسروں کو بیوقوف بناتے یا بدّھوسمجھتے ہوئے اس کو چقمہ دے کراپنی بالادستی قائم رکھنے یااپنی عقلمندی کارعب جماتے ہوئے دوسرے کانمبر کاٹ کر بڑے فخرسے سینہ تانتے ہوئے آگے بڑھ جاتاہے،اس طرح وہ اپنے مفاد کی خاطر دوسرے کے حق پر ڈاکہ ڈال کر سماج میں ایک نیا ظلم کھڑاکردیتانیز اس کے فاتحانہ انداز سے جہاں دوسرے کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے وہیں اس کی اس بدعملی وبداخلاقی کو چند ناعاقبت اندیش یا کم فہم لوگ چالاکی سمجھ کر وہ بھی اس کی ڈگرپر چلنے کاارادہ بنالیتے ہیں، گویاکہ اس نے اپنی اس غلط چال سے دوسروں کوبھی گمراہ اور کردیا جو کہ دونوں ہی چیزیں غلط ہیں۔
یعنی پہلے تو اس نے دوسرے کا نمبر کا ٹا، جو کہ اس سے پہلے آنے والے کاحق تھا،مسجداور نماز کے تعلق سے فرمایاہادی عالم نے المناخ لمن سبق(جگہ اس کی ہے جو کہ پہلے آیا)،دوسرے یہ کہ اس نے بغیر ایک شخص کی رضامندی کے اس کے حق اورملکیت کو غصب کرلیا جس پر سخت نکیر آئی ہے ، ارشاد نبی ہے لایحل مال امراِ الابطیب نفسہ(کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر دوسرے آدمی کے لئے حلال نہیں، )ایسے موقع پر اگرانسان کو جلدی ہی ہو تو وہ اپنے آگے ولاے آدمی کو اپنی مجبوری اورضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا نمبر مانگ کر تب آگے بڑھے، حالانکہ اس میں بھی ایک خدشہ یہ باقی ہے کہ جس سے آپنے درخواست(Request) کی ہے وہ تو رضامند ہوجائے مگر جو ا سکے پیچھے والا شخص نمبر(Que)میں لگاہے وہ اس پر راضی نہ ہوتواور مشکل میں جان آسکتی ہے، اس لئے بہتر تویہی ہے کہ اپنے حلم ،ضبط اور صبرکا مظاہرہ کرکے اپنے کام سے فارغ ہواجائے، دراصل اس طرح کی خودغرضی اورمطلب پرستی سوچ ہم لوگوں کے اندریہود کی ریشہ دوانیوں اورا ن کے اعمال کی نقل کا نتیجہ ہے، جس طرح کہ ہم دوررسالت سے لیکر آج تک دیکھتے ہیں کہ یہودی لوگ شب و روزصرف اپنا کام بنانے یعنی دوسرے کی ہانڈی اتارکر اپنی ہانڈی چڑھانے ہی کے فراق میں رہتے ہیں۔
جس کی تازہ مثال تل ابیب حکومت کی طرف سے غزہ کے فلسطینیوں کی زندگی سے کھلواڑ ہے ،کہ ان کا مقصد مسجد اقصیٰ کے دروازے مسلمانوں پر بند کرکے وہاں ہیکل سلیمانی کی تعمیرا ن کاہدف ہے تو اس ناجائز مقصد کے لئے چاہے ان کو کتنے ہی خون بہانے پڑیں یا پھر پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے اتارنے پڑے ان کو اس سے کوئی گریز ہے اور نہ پرہیز،کہ دنیا کے چیخنے اور چلّانے کے باوجود صیہونیوں کے کان پر کوئی جوںرینگتی دکھائی نہیں دے رہی، حالانکہ اس بربادی میں اب تک لاکھوں فلسطینی بوڑھے، جوان اورمعصوم بچوں کی بلی یہ ظالم لے چکے ہیں، چونکہ ہمارے اندر خود غرضی کاعنصربے انتہا داخل ہوچکاہے اسی لئے ہم کواپنی اجتماعی وانفرادی زندگی میں یہ بڑے بڑے اورتباہ کن عیب بھی حقیر اور کمترین دکھائی دیتے ہیں، چونکہ بے رحمی، ظلم وبربریت، بے انصافی، نامساوات ،وناہمواری کے جراثیم ہم کو اپنے مقصد میں کامیابی کازینہ نظرآتے ہیں ، اسی لئے انسانیت کا زوال ، محبت کا فقدان،خودغرضی کا دوردورہ،مطلب پرستی جوکہانسانیت کےلئے نامرادی وناکامی اورمحرومی کے نشانات تھے ہم کو اپنی زندگی کے خوشنمامناظر محسوس ہوتے ہیں، جس کے سبب انسانیت آج مکمل تباہی اور بربادی کے دہانے پر کھڑی نظرآتی ہے ۔
غورکیجئے اسی دنیامیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کامقصد حیات دوسروں کے لئے جینااورمرنا ہوتاہے ، جس کی مثال میں، میںآ پ کو دوچارہزار برس پرانا،گھسا،پٹا ،فرسودہ ، کہنہ واقعہ یا چودہ سوسال پرانی حدیث نہیں اور نہ ہی کسی نبی، ولی پیر،پیغمبرجوگی سنیاسی ، مہاتما، سادھو، سنت،یاسیاسی وخود غرض لیڈر کانام بتاناچاہتاہوں، بلکہ اسی ہندوستان کے تناظر میں ایک ایسی بہادر اور دوسروں کے لئے جینے ،مرنے کی قسم کھانے والی خاتون کا نام لیناچاہوں گا،جوکہ عقیدہ آخرت سے ناآشنا، مبدا ومعاد کے ایقان وایمان سے خالی، صرف اسی دنیا کی موت وحیات کے عقیدہ کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینے والی خاتون جو کہ پورے 14سال کے لمبے چوڑے عرصے سے مکمل بھوک ہڑتال کی زندگی گذاررہی ہے ،جوکہ حکومت سے اس کی گدی یا کرسی کی طلبگار نہیں ،محض اپنی قوم کے حقوق ،
اوربین الاقوامی اصول کے مطابق انسانی زندگی کے حقوق کا مطالبہ کرنےکی قصوروار ہے، غورکیجئے کہ سونیااور منموہن سنگھ بھی عوامی ووٹوں کی شہ پر پندرہ سال ٹھاٹ کرگئے اور اب سواتین ماہ (100)اچھے دنوں کا بھروسہ دلانے والی پارٹی کو بھی ضمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لئے ہوچکے ہیںمگر امپھال(آسام )میں ،آسام رائفل کے سپاہیوں کے ہاتھوںدس بے گناہوں کے خون کے لئے حق کی جنگلڑنے والی عوامی خدمتگار، سماجی کارکن اور شاعرہ ،ایروم شرمیلا،نومبر2000سے برابر بھوک ہڑتال پر ہیںجنھوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ جب تک ان بے گناہ معصوموں کا خون رنگ نہیں لائے گا یعنی ان کے خون کا بدلہ ان کے وارثین کو نہیں مل جاتانیز مجرموں کو کیفرکردارتک نہیں پہنچایاجاتاہے میں جان تو دے سکتی ہیں مگر اپنے قدم سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتی، مگرحکومت ہندہے کہ اس طرف سے گونگے کا گُڑ کھائے بیٹھی بہری اور اندھی بنی ہوئی ہے۔
غورکیجئے اگر یہی جزبہ قربانی ہم سب کے اندر پیداہوجائے تو نہ کوئی کسی کا نمبر کاٹ کرآگے بڑھے،اور نہ ہی کہیں ایک بیڑی پر قتل وخون کی نوبت آئے اور نہ ہی ہمارے ملک وسماج میں فرقہ ،ذات بندی اورٹولہ بندیوں کے لئے کہیں کسی کے خون سے ہولی کھیلنے کی نوبت پیش آئے۔ اور نہی کسی ماں بہن اوربیٹی کی عصمت وعزت پر حملے کی نوبت،اسی لئےہر ہندوستانی اور بھارتی کواپنے مذہب پرقائم رہتے ایک دوسرے کی عزت۔،احترام اورا س کے مان سماّن کی ضرورت ہے۔یہی ہرایک مذہب کی تعلیم اوردھرم کی گُہارہے۔اس لئے یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے ہندوستانی سماج کے لئے ایروم شرمیلابھی ایک بہترین مثال ہیں۔
(مژگاں نیوز نیٹ)
9891562005

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.