بچوں کے تعلیمی کیریر پر ٹی وی کے اثرات
   ڈاکٹر مرضیہ عارف بھوپال
آج کے دور کو سائنس کی ترقیات اور چمک ودمک کا دور کہاجاتاہے اور اس کی ایجادات میں سب سے زیادہ اور تیزی کے ساتھ فروغ پانے والی ایجاد الیکٹرانک میڈیا( برقی ذرائع ابلاغ) ہیں جنکی ایک قسم ٹیلی ویژن ہے جو بذاتِ خود تو بری نہیں لیکن اس کا بیجا استعمال ضرور نقصا ن دہ ہے، ٹیلی ویژن کے پھیلائو کا یہ عالم ہے کہ آج ہر گھر میں اس کی پہونچ ہوگئی ہے ، کھاتے پیتے شہری ہی نہیں،جھگیوں اور مواضعات میں رہنے والے بھی ٹی وی دیکھ کر اپنی تفریح کا سامان کرلیتے ہیں خاص طور پر جب سے سیٹلائٹ چینل اور کیبل ٹی وی کا چلن بڑھا ہے توٹی وی کا دائرہ بڑھتا جارہا ہے، اب رات ودن ٢٤ گھنٹے اس کے مختلف پروگرام الگ الگ چینلوں میں دکھائے جاتے ہیں اور گھرکے سبھی ممبر چھوٹے ہوں یابڑے، بچے ہوں یا بوڑھے، ان کو دیکھتے ہیں اورجب کوئی مقبول پروگرام آتا ہے تو گھرکے لوگ تمام کام وکاج چھوڑ کر ٹی وی اسکریٹرین کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں یہاں تک کہ ضروری کاموں کی بھی انہیں پرواہ نہیں ہوتی۔
گھر کے بڑے اور ذمہ دار تو پھر بھی اپنے ضروری کاموں کو انجام دیکر ٹی وی کی طرف رخ کرتے ہیں یا اپنے پسندیدہ پروگرام دیکھ کر کام کاج میں مصروف ہوجاتے ہیں لیکن بچوں کے بارے میںیہ نہیں کہاجاسکتا کیونکہ ان کے ذہن خام ہوتے ہیں، اپنے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا اس کا انہیں زیادہ لحاظ نہیں رہتا اس لئے ان کی نگرانی نہ کی جائے تو وہ اپنا زیادہ وقت ٹی وی اسکرین کے سامنے گزار کر ضائع کردیتے ہیں ، پڑھنے لکھنے کی ذمہ داری سے منہ چراتے ہیں،تفریحی پروگرام دیکھنے میں ہی وقت نہیں لگاتے بلکہ فلر کے طور پر اس کے درمیان میں جو اشتہارات دکھائے جاتے ہیں ان کو بھی نظریںگڑا کر دیکھتے ہیں، ان اشتہارات کا بچوں کی عام نفسیات پر برا اثر پڑرہا ہے ایک سروے کے مطابق اونچے طبقہ کے ٦٨ئ٤٧ فیصد بچے، درمیانی طبقہ کے ٢٣ئ٦٢ فیصد بچے اور نچلے طبقہ کے ٥٥ئ٥٥ فیصد بچے روزانہ تین سے چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں، ایک دوسرے سروے کے مطابق ان میں سے ٩٠ئ٦٣ فیصد بچوں کو ٹی وی کے اصل پروگراموں کے مقابلہ میں اشتہار دیکھنے سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے ، اس کا احساس مختلف استعمال کی اشیاء بنانے والے صنعتی اداروں کو بھی ہوگیا ہے اس لئے وہ اپنی مصنوعات کو بازار میں مقبول بنانے کے لئے خاص طور سے ایسے اشتہارا تیار کراتے ہیں جو بھولے بھالے دل ودماغ پر قبضہ کرسکیں کیونکہ انہیں وہ اپنے گاہکوں کی نظر سے دیکھتے ہیں ، ان اشتہارات کا سب سے زیادہ اثر بچوں کے اخلاق وکردار پر پڑرہاہے وہ اشتہارات کی نقل میں لکھنے و پڑھنے میں دل لگانے کے بجائے کھیل وکود اور کرتب بازی پر زیادہ دھیان دینے لگے ہیں، ان کی نظر میں اچھی ماں وہ ہے جو ان کی ہر خواہش کے آگے سر جھکادے اور شاندار باپ وہ ہے جو ان کی کسی فرمائش پر انکار نہ کرے۔
ہم کہتے تو یہ ہیں کہ بچے ملک وسماج کا مستقبل ہیں لیکن اس مستقبل کی تعمیر وتشکیل پر توجہ نہیں دیتے، جو بچے خیالی تصورات و بے جا خواہشات میں مبتلاء ہو کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیںبھلا وہ کیسے ہمارے مستقبل کا اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں، ہم مشرق کے لوگ مغرب اور اس کی ترقیات کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر ان کی نقل کرنا تو چاہتے ہیں لیکن مغربی ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر دھیان نہیں دیتے، ٹیلی ویژن کے بچوں پر مضر اثرات کے شکار ہم سے کافی پہلے مغربی ممالک ہوچکے ہیں، اس لئے انہوں نے اس کا منصوبہ بندطریقہ سے مقابلہ بھی کیاہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب کے تجربات کو ہمارے یہاں بھی پیش نظر رکھایاجائے اس سلسلے کی روشن مثال سویڈن اور ناروے وغیرہ نے پیش کی ہے جہاں بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سامنے رکھ کر بنائے گئے اشتہارات پر روک لگادی گئی ہے، اسی طرح امریکہ میں بچوں کے ٹی وی دیکھنے کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے ، ایک جائزہ کے مطابق ١٩٨٠ء کے بعد سے بچوں کی ٹی وی بینی میں بیس فیصد تک کمی آگئی ہے۔ مغربی ملکوں میں سب سے زیادہ تشویش اس بات کولیکر ظاہر کی جارہی ہے کہ ٹی وی پروگرام بچوں کی تعلیم کو بہت متاثر کررہے ہیں، یوروپ وامریکہ کے ماہرین تعلیمات، نفسیات اور عمرانیات کی طرف سے جب اس پر خصوصی تحقیق کی گئی تو انہیں اندازہ ہوا کہ ٹی وی اسکرین کے سامنے زیادہ وقت صرف کرنے والے بچوں کی تعلیم ہی برباد نہیںہوتی، والدین سے ان کے تعلقات میںبھی فرق آتاہے، بچے اور ان کے ماں باپ کے درمیان کا فاصلہ بڑھ گیا ہے، پہلے بچے رات کو سوتے وقت اپنے بڑے بوڑھوں کے ساتھ ہنستے بولتے اور ان سے کہانیاں وقصے سنتے تھے، کئی وہ باتیں پوچھ لیتے تھے جو انہیں معلوم نہیںہوتیں، ان مواقع سے بچوں کو سیکھنے اور سمجھنے میںکافی مدد ملتی ، ان کا دماغ سوچنے اور عمل کرنے کے قابل بنتاتھا، اب والدین اور بچوں کا باہم مل بیٹھنا ٹی وی کی نذر ہوگیا ہے اور بچوں کے سیکھنے کے مواقع پر ٹی وی کی تفریحات غالب آگئی ہیں۔
پہلے بچے جو وقت اپنے اسکول کے علاوہ گھروں میںپڑھنے لکھنے اور اسکول کا ہوم ورک کرنے میںگزارتے تھے اب وہ ٹی وی دیکھ کر ضائع کررہے ہیں، نرسری اور پرائمری اسکولوں کے ٹیچروں نے ایسے بچوں کی عادت واطوار کا مشاہدہ کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ پہلے بچوں میںخیال افروزی یعنی سوچنے وسمجھنے کی صلاحیت زیادہ تھی، وہ اپنے لئے کھیل خود ایجاد کرلیاکرتے تھے، کھلونے اپنے ہاتھ سے بناتے تھے، جب سے ٹی وی ان پر حاوی ہوا ہے وہ سوچنے اور اختراع کرنے کے بجائے وہی کرنے لگے ہیں جو ٹی وی ان سے کہتا ہے یا جو وہ ٹی وی پر دوسروں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ بچوں میں محنت و کوشش کی عادت بھی کم ہورہی ہے، جب وہ آدھے گھنٹے کے ٹی وی پروگرام میں بڑے سے بڑے مسئلہ کا اطمینان بخش حل نکلتا ہوا دیکھ لیتے ہیںتو اس سے ان میںکچھ کرنے اور آگے بڑھنے کے بجائے تساہلی پیداہوتی ہے جو ان کی جسمانی وذہنی دونوں صحتوں کو نقصان پہونچا رہی ہے اور اس کے اثرات ان کے تعلیمی کیریر پر بھی پڑرہے ہیں۔
آپ کہیں گے کہ میں یہاں ٹیلی ویژن کے صرف منفی پہلو گنا رہی ہوں، بچوں کی تخلیقی وتعلیمی صلاحیتوں کو ٹی وی سے جو نقصان پہونچ رہا ہے اسی پر میرا سارا زور ہے، جی نہیں ٹی وی کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ بچہ ٹی وی پروگرام دیکھ کر دنیا کے حالات وکوائف سے واقف ہوجاتا ہے، اس کی معلومات کے ساتھ ساتھ بولنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، اس کے الفاظ کے ذخیرہ میں اضافہ ہوجاتاہے ، اگر وہ ٹی وی کے تعلیمی وتربیتی پروگراموں میں دلچسپی لے تو پڑھنے لکھنے میں اس کے لئے یہ مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ٹی وی کے تعمیری نتائج کے مقابلہ میں نقصان دہ پہلو کچھ زیادہ ہیں اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ ٹی وی کو بچوں کے لئے قطعی ممنوع قرار دینے کے بجائے اس کا استعمال محدود کردیا جائے، وہ اپنے فرصت کے لمحات میںاصلاحی سبق آموز اور صاف ستھرے تفریحی پروگرام دیکھیں ، سرپرستوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ٹی وی کو بچوں پر حاوی نہ ہونے دیں، خود ساتھ بیٹھ کر اچھے ٹی وی پروگرام بچوں کو دکھائیں اور ان کے جو منفی پہلو ہو اس کے نقصانات بھی بچوں پر واضح کردیں، خاص طور پر بچوں کے مطالعہ یا اسکول کا ہوم ورک کرنے اور اسی طرح کے دوسرے ضروری کاموں کا جو وقت ہے اس میں بچوں سے ٹی وی کو دور رکھیں۔
یاد رکھئے! جن گھروں میںٹیلی ویژن گھنٹوں چلتا رہتا ہے تو صوتی آلودگی سے بچوں کی سماعت پر اس کا برا اثر پڑسکتا ہے، امریکہ میں ٣٠ سے ٣٥ فیصد بچے اسی لئے بہرے پن کے شکار ہوگئے ہیں،کتنے ہی بچوں کی بینائی خراب ہوگئی ہے اور انہیں کم عمری میںعینک کا سہارا لینا پڑا ہے، حقیقت یہ ہے کہ بچے کچی مٹی کی طرح ہوتے ہیں جس سانچے میںچاہیں، آپ انہیں ڈھال سکتے ہیں مگر اس کے لئے ان کے بڑوں کو بھی تھوڑا بدلنا پڑے گا، تبھی آپ ان کی صحیح نگرانی اور رہبری کرسکتے ہیں، اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی مشغول زندگی کا کچھ وقت بچوں کے لئے فارغ کریں اور ان کو ساتھ بٹھاکر ایسے ٹی وی پروگرام دیکھیں جو معیاری ہوں، اسی طرح بچوں کے تعلیمی کیریر پر ٹی وی کے مضر اثرات کا مقابلہ کرکے اس کی خوبیوں سے فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے۔
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.