پاکستان میں دہشت گرودں کی دیوالی۔از؛ڈاکٹر خواجہ اکرام
ہندستان اور دنیا کے کئی ممالک میں دیوالی کا تہوار بڑے دھوم دھام سے منا یا جاتا ہے ۔ اس تہوار میں عام طورپر ہر طرف روشنی کا اہتمام کیا جاتاہے اور خوشیوں میں رنگ بھرنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ اس روز ہر طرف پٹاخوں کی آواز سے فضا گونجتی رہتی ہے۔
لیکن پاکستان میں دیوالی کا یہ منظر دو دن قبل ہی نظر آیا اور ایسی دیوالی جس میں پٹاخوں کے بجاےت ہینڈ گرینیڈ اور گولیوں کی آواز تھی جس سے لاہور کا تاریخی شہر دہشت گردوں کی کاروائیوں سے گونج اٹھا۔ ایک ہی دن میں لاہور میں تین حملے ہوئے جس کے نتیجے میں کئ افراداجان بحق ہوگئے ۔یہاں دیوالی کی آتش بازی کے بجائے بموں اور گولیوں کی آواز سے ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔اس واقعے نے نہ صرف پاکستان کے ہوش اڑا دئے ہیں بلکہ پڑوسی ممالک سمیت عالمی برادری بھی پاکستان میں خود کش حملوں کے بڑھتے رجحان اور دہشگردوں کے بڑھتے حوصلے سےتشویش میں ہے ۔
اس مہینے ہی پاکستان میں اس طرح کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں کافی جانی اور مالی نقصانات ہوئے ، لیکن اس سے بڑھ کر پاکستان کی سالمیت کو خطرہ پہنچا ۔ مگر حیرت ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اس طرح کی واردات کو وقت سے پہلے روکنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہر طرف یہ رجحان عام ہوتا جا رہاہے ، اس لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کب ؟ کون ؟ اور کہاں ؟ ایسے حملے ہوسکتے ہیں ۔ اب تک تو قبائلی علاقوں کو ہی اس حوالے سے متاثر سمجھا جا رہا تھا ۔ مگر اب دیکھتے ہی دیکھتے شہری علاقے بھی اس کی زد میں آنے لگے ہیں ۔
دوسری اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کئی معاملات میں پاکستانی اور امریکی ایجنسیاں مل کر کام کر رہی ہیں اس لیے بھی آپس میں تال میل نہیں بیٹھ پارہی ہوگی۔کیونکہ امریکی آرمی کا ہدف کچھ اور ہے اور پاکستانی آرمی کا ہدف کچھ اور! اس کےعلاوہ اکثر اوقات پاکستان کی خفیہ ادارے راہ فرار سے کام لیتے ہیں ، جب کچھ نہیں ملا تو بیرونی طاقت کا نام لے لیا اور تمام تفتیش الزامات اور بہتان کی جانب مُڑ جاتی ہے۔ کل ملا کر دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا ہی قصور ہے کہ وہ بر وقت کاروائی کرنے میں ہمیشہ پیچھے رہی ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے غلطیاں کی ہیں ۔ لیکن ابھی اس کا وقت نہیں کہ غلطی کرنے والوں کا مواخذہ کیا جائے ۔مواخذہ تو بعد میں بھی ہوسکتا ہے لیکن ابھی عملی اقدمات کرنے کی ضروت ہے اور ان مقامات کو نیست و نابود کرنے کی بھی ضرورت ہے جہاں اس طرح کے فدائین تیار کئے جاتے ہیں ۔ لاہور میں حملے سے چند روز قبل ہی اسلام آباد میں تھانہ شالیمار کے علاقہ سے دو دہشت گردوں کو خودکش جیکٹس اور ہینڈ گرنیڈ سمیت گرفتار کرلیا گیا، آخر ان کی تفتیش کس طور پر کی گئی کہ انھیں لاہور پر ہونے والے حملے کی بھنک تک نہیں لگ سکی ؟ لاہور میں حملے کے بعد جو دہشت گرد پکڑے گئے ان پانچ دہشت گردوں میں دو کی شناخت ہوگئی ہے۔جن کے نام صیغہ راز میں رکھے جارہے ہیں۔ ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے۔اسی طرح ایک مدرسے پر چھاپہ مار کر مدرسے کے مہتمم اور اسکے دو بھانجوں کو حراست میں لے لیا۔ ان کے قبضے سے جہادی لٹریچر اور سی ڈیز برآمد ہوئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ تخریبی ذہن رکھنے والے پاکستان میں اتنی تیزی سے کیوں پنپ رہے ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے ؟ اس پر حکومت پاکستان کو غور کرنا چاہیئے کیونکہ اس کے بغیر اس لہر کو روک پانا ناممکن ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ایک طرف امریکی کاروائیاں اور دوسری جانب دہشت گردوں کی کاروائیوں سے ملک تبا ہ و برباد ہوجائے گا۔ ملک میں امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ سختی سے ان عناصرسے نمٹا جائے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان اپنی غلطیوں کو چھپانے کے بجائے اس کی اصلاح کی سمت میں کوشش کرے۔
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.