میڈیا کا تعصب : مسلمان اور اسلامی تہذیب
ڈاکٹر خواجہ اکرام
اکیسویں صدی کی یہ پہلی دہائی ہے لیکن اس برق رفتار دنیا میں سرعت سے بدلتی تہذیبی اور لسانی اقدار کو دیکھ کر اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقتصاد اور طاقت و قوت کے دوش پر سوار مختلف اقوام اور ممالک کے لوگ اگر اپنی تہذیبی شناخت اورلسانی اقدار کو مضبوطی سے تھامے نہ رہیں تو عالمی نشیب وفراز کے ہلکے جھٹکے بھی انھیں گہری کھائی میں پہنچا دیں گے۔ کیونکہ صارفیت (Consumerism) کے اس دور میں تمام اقوام و ملل اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت اور بر تری حاصل کرنے کی فکر میں کسی غیر اخلاقی، غیر آئینی اور غیر انسانی اقدام سے بھی بعض نہیں آتے ۔جس کی مثالیں فلسطین ،عراق ، افغانستان ، پاکستان اور اب ایران کی تازہ ترین صورت حال ہے۔
اسلام اور میڈیا :
· اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر زمانے کے لیے Update ہے ۔
· پھر میڈیا کے حوالے سے کیا ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
· میڈیا سےمراد پیغام رسانی ہے ۔
· اسلام میں پیغام رسانی کے جو ذارئع موجود ہیں وہ اپنے آپ میں مثالی ہیں ۔
· لیکن ہم ان کی اہمیت نہیں سمجھتے یا اسے بھی روایت کا ایک حصہ جانتے ہیں ۔
· اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ کے لیے جن عوامی میڈیا کا سہار الیا ۔
اسلامی میڈیا کے ابتدائی روپ
اصحاب صفہ جمعہ کا خطبہ جلسہ و جلوس دینی اجتماع دعوت وتبلیغ
· اسلام لانے کے بعد ہی ہم پر یہ واجب ہو جا تا ہے کہ حق کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں ۔
· اسلام کی رو سے کتمان حق معصیت کا سبب ہے۔
· لیکن ہم نے پیغام رسانی کو چند روایتوں جیسے تقریری محفلوں وغیرہ میں محدود کر دیا ہے ۔
· آج کے پس منظر میں اسلام کی روحِ پیغام رسانی کو نہیں سمجھا ۔
· آج کی ضرورت اور حالات کے پیش نظر بھی میڈیا کی جانب توجہ نہیں کی۔
· نئے ذرائع ابلاغ ( (Means of communicationکو حق کی ترسیل اور دعوت کے لیے استعمال کرنے کی سمت میں کوئی مثبت کوشش نہیں کی۔
· ہندستان کی سطح پر دیکھیں تو اولیائے کرام اور علمائے عظا م نے ہی تحریری اور تقریری میڈٰیا کی ابتدا کی ۔
· بزرگوں کے رسالے ان کے ملفوظات ، ان کے درس یا تذکیر کی محفلیں میڈیا کی ہی ابتدائی شکلیں ہیں ۔
· صوفیائے کرام نےجس اندازسے ہندستان میں دین کو پھیلایا اسی مصلحت اور کوشش کی ضروت ہے۔
· خواجہ غریب نواز کا گِروا رنگ کا لباس
· اور مخدوم بہاری کا عقتمندوں سے اجنبیت دور کرنے کا یہ انداز
‘‘جو کچھ فالنے کے پنڈ پران میں ہوئے ، راہ کا باٹ کا ، کُوّے کا ، پوکھر کا ، اندھیاری کا ، اجیالی کا ، چوٹ کا
پھیٹ کا ، کیے کا ، کرائے کا ، بھیجے کا ، بھیجائے کا ،لانگھے کا ، اُلکہین کا ، دیو ، دانَو ، بھوت پریت، راکس بھوکس،
ڈائن ڈکن، سب دور ہوئے بحق لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ’’
· اس کے بعد اخبارات ، رسائل ، جرائد بھی دینی اداروں اور علما کی کوششوں کا ثمرہ ہے۔
· لیکن آزادی کے بعد سے ہم نے تقریباً اس کی جانب توجہ ہی نہیں دی ۔ ورنہ آج ہمارے پاس سب سے طاقتور میڈیا ہوتا۔
میڈیا کی کارستانیاں:
· اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ کو خراب کرنا۔
· یہودی طرز پر غلط کی اتنی تشہیر کرنا کہ صداقت پر دبیز پردہ پڑ جائے ۔
· مسلمانوں کو دہشت گرد اور ملک مخالف بتانا۔
· اسلامی تہذیب کی روایات و اقدار کو مسخ کر کے پیش کرنا۔
موجودہ ہندستانی میڈیا اور اس کے منصوبے:
· میڈیا آج کے معاشرے کی تیسری آنکھ ہے۔
· صداقت وہی ہے جو میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے۔
· ایسے میں ہم پر جھوٹا الزام عائد کرنے والے سچ کیسے بول سکتے ہیں ۔
· لیکن ہم انھیں پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں ۔
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.