مولاناابوالکلام آزاد کا تصورآزادی
واثق الخیر
مولانا ابوالکلام آزادکا شمار بیسویں صدی کے اہم تاریخ ساز خطیب میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کو آزاد کرانے اور اسے متحد رکھنے کے لیے ایک سچے قوم پرست کے طو رپر ہر موقع پر بے پناہ کوششیں کیں۔ جنگ آزادی کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ کشیدگی نے برصغیر کی فضا کو پوری طرح مکدر بلکہ خون رنگ بنادیا تھا۔ اس کے اثرات سیاسی قائدین پر بھی مرتب ہوچکے تھے۔مسلم لیگ اور کانگریس دو الگ خیموں میں بٹے ہوئے تھے۔جہاں مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے الگ مسلم ریاست کی مانگ کی وہیں کانگریس کا نظریہ بھی مسلمانوں کے تئیں بہتر نہیں تھا۔کانگریس کی مسلم قیادت ہی تھی جو مسلمانوں کے مسائل کی فکر کرتی تھی، ان میں سے مولانا ابوالکلام آزاد کا نام صف اول میں لیا جائے گا ۔ان کا نظریہ حریت وآزادی بالکل صاف اور واضح تھا۔ وہ فرماتے ہیں۔
’’میرا اعتقاد ہے کہ آزاد رہنا، ہر فرد اور قوم کا پیدائشی حق ہے۔ کوئی انسان یا انسانوں کی گڑھی ہوئی بیوروکریسی یہ حق نہیں رکھتی کہ خدا کے بندوں کو اپنا محکوم بنائے ۔ محکومی اور غلامی کے لئے کیسے ہی خوش نما الفاظ کیوں نہ رکھ لیے جائیں۔ لیکن وہ غلامی ہی ہے۔ اور خدا کی مرضی اور قانون کے خلاف ہے۔ میں مسلمان ہوں اور بحیثیت مسلمان ہونے کے بھی میرا مذہبی فرض یہی ہے۔ اسلام کسی ایسے اقتدار کو جائز تسلیم نہیں کرتا، جو شخصی ہو یا چند تنخواہ دار حاکموں کی ۔ بیوروکریسی ہو۔ وہ آزادی اور جمہوریت کا ایک مکمل نظام ہے جو بنی نوع انسانی کو اس کی چھنی ہوئی آزادی واپس دلانے کے لیے آیا تھا۔ یہ آزادی بادشاہوں، اجنبی حکومتوں ، خودغرض مذہبی پیشواؤں اور سوسائٹی کی طاقت ور جماعتوں نے غصب کررکھی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ حق ’’طاقت‘‘ اور ’’قبضہ‘‘ ہے۔ لیکن اسلام نے ظاہر ہوتے ہی اعلان کیا کہ حق طاقت نہیں ہے۔ بلکہ خود حق ہے اور خدا کے سوا کسی انسان کو سزاوار نہیں کہ بندگان خدا کو اپنا محکوم اور غلام بنائے۔ اس نے امتیاز اور بالادستی کے تمام قومی اور نسلی مراتب یک قلم مٹادیے اور دنیا کو بتلادیا کہ سب انسان درجے میں برابر ہیں اور سب کے حقوق مساوی ہیں۔ نسل ، قومیت، رنگ ، معیار فضیلت نہیں بلکہ صرف عمل ہے اور سب سے بڑا وہی ہے جس کے کام اچھے ہوں۔‘‘
مولانا آزاد نے بیسویں صدی کے اوائل میں جب حریت کا نعرہ بلند کیا تو ان کے سامنے منجملہ کئی مسائل تھے جن میں ایک مسئلہ اکثریت اور اقلیت کا بھی تھا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے پورے بر صغیر میں ایک انتشار کی کیفیت پائی جانے لگی اور دو قوموں کے درمیان نااتفاقی پروان چڑھنے لگی۔اس کے علاوہ مغربی تصور جمہوریت نے بھی ان دونوں قوموں کے درمیان اس فتنے کو ہوا دی جس کی وجہ سے صدیوں سے چلی آرہی ہندوستانی تہذیب اور طرززندگی میں منافرت پھلنے پھولنے لگی۔ ایسے ہی حالات میں مولانا آزاد نے تحریک خلافت کے ذریعے ملک میں فرقہ وارانہ مسئلہ پر قابو پایا اور بڑی ہمت وجرأت کے ساتھ اس خطرناک مسئلہ کو حل کرکے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا اور سبھی طبقوں کے تعاون سے برصغیر کی آزادی کے لئے راہیں ہموار کیں۔
بیسویں صدی کی ہندوستانی فضا میں آپ کی شخصیت نے دھوم مچادی اور تحریک آزادی ہند کے لیے آپ نے اپنے آپ کووقف کردیا اور خود کو بے دریغ استعمال کیا۔ انقلابیوں سے مولانا آزاد کے تعلقات اور مراسم بڑھتے گئے اور ان کی زندگی میں ایک زبردست سیاسی انقلاب برپا ہوا اور مولانا کو سیاست سیبہت زیادہ دلچسپی پیدا ہونے لگی۔ مولانا آزاد انقلابی جماعتوں سے وابستہ ہوگئے، جن سے متاثر ہوکر آپ کے سیاسی عقائد اور بھی زیادہ پختہ ہوگئے۔ مولانا آزاد جب پوری طرح سے انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے تو آپ کا یہ عمل اس وقت کے برطانوی حکمرانوں کو سخت ناگوار گزرا اور اس نے آپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ یہاں تک آپ کو نظربند کردیا گیا ۔ وہ کئی ماہ رانچی جیل قید رہے۔ مولانا آزاد ایک طرف برطانوی حکمرانوں کے مظلوم تھے تو دوسری طرف قوم وملت کی آزادی ، غلامی سے نجات اور برصغیر کے مستقبل کے منصوبے تیار کررہے تھے۔ ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوششیں صرف کردیں۔ مولانا آزاد کو ۱۹۲۰ء میں رانچی جیل سے رہائی ملی تو ملک میں رولٹ ایکٹ، امرتسر پنجاب میں جنرل ڈائر اور اس کے افواج کے ظلم وستم کے نتیجے میں رونما ہونے والے جلیانوالہ باغ حادثات ، سیکڑوں مردوزن کا قتل عام اور ملکی لیڈروں اور رہنماؤں کی گرفتاری کی مہم زوروں پر تھی۔ ان تمام پے درپے واقعات نے مولانا آزاد کو بے چین کردیا اور رہائی کے فوراً بعد وہ برصغیر کی آزادی کے لئے تن من دھن کے ساتھ مصروف عمل ہوگئے۔
ملک میں مولانا محمد علی جوہر ، مولانا شوکت علی اور دیگر مسلم قائدین بھی اپنے طور پر سیاسی زندگی میں مصروف تھے اور ملک کو برطانوی تسلط اور غلبہ سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ مولانا آزاد نے ان رہنماؤں کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر اپنے آئندہ کے منصوبوں پر عمل آوری شروع کردی اور اس کا دائرہ قومی سطح تک وسیع کردیا۔ آزاد نے فوری طور پر تحریک خلافت کا قیام عمل میں لاکر مسلمانوں میں خلیفہ اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عوامی تحریک کے تحت سرگرمیاں تیز کردیں۔ تحریک خلافت برصغیر کے مظلوم عوام کی پہلی تحریک تھی جس میں ملک کے تمام باشندگان نے بلالحاظ مذہب وملت حصہ لیا۔گاندھی جی کی شمولیت کے بعد یہی تحریک ہندو مسلم اتحاد کا مظہر بن گئی۔ اس تحریک نے انگریزوں کی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے منصوبوں کو ناکارہ بنادیا۔ تحریک خلافت نے ہندوستان کی آزادی میں ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ۔ مولانا آزاد اس تحریک کے اہم ترین قائد، نظریہ ساز ، عظیم مبلغ اور مجاہد کہلائے۔ مولانا آزاد کی تحریک خلافت میں پنڈت جواہر لال نہرو اور گاندھی جی بھی شامل ہوئے جس سے ساری قوم متاثر ہوئی اور وہ اس تحریک کے اہم ستون بن گئے۔ گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک بھی جاری ہوچکی تھی۔ مولاناآزاد ان کے دست راست ہوگئے۔ گاندھی جی اور مولانا آزاد کے باہم میل ملاپ اور سرکردگی میں چلنے والی اس تحریک کا برصغیر کی عوامی زندگی پر بھرپور اثر ہوا۔ نتیجتاً بہت سارے طالب علم اسکول اور کالج چھوڑ کر اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ بہت سے وکلاء نے اپنی وکالت چھوڑکر اس تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور بچوں نے مختلف جلسوں اور جلوسوں میں شریک ہوکر اپنی جان نثاری کا جذبہ پیش کرنے لگے۔
مولانا آزادنے برصغیر کے مسلمانوں کو بھی برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا ۔ آزادی سے متعلق ان کا نقطہ نظر بالکل واضح تھا ۔ اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ انہوں نے الہلال کے ذریعے مسلم قوم کو بیدار کرنے کا کام کیا۔ جو لوگ انگریز حامی تھے اور جو رہنما قوم کو انگریزوں کی غلامی قبول کرلینے کی دعوت دے رہے تھے۔ الہلال کے صفحات گواہ ہیں کہ مولانا آزاد نے ان رہنماؤں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ الہلال کے مطابق برصغیر کو آزادی تو ملنی ہی تھی لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ اس ملک کے ہندو اور مسلمان سب ساتھ مل کر قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھیں۔ آزادی کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ برصغیر سے انگریز اپنے ملک چلے جائیں۔ مولانا آزاد براہ راست مسلمانوں سے مخاطب ہیں۔
’’غفلت اور سرشاری کی بہت سی راتین بسر ہوچکیں، اب خدا کے لیے بستر مدہوشی سے سر اٹھاکر دیکھئے کہ آفتاب کہاں تک نکل آیا ہے؟ آپ کے ہم سفر کہاں تک پہنچ گئے ہیں اور آپ کہاں پڑے ہیں؟ یہ نہ بھولئے کہ آپ اور کوئی نہیں بلکہ مسلم ہیں اور اسلام کی آواز آپ سے آج بہت سے مطالبات رکھتی ہے۔ یاد رکھئے کہ ہندوؤں کے لئے ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنا داخل حب الوطنی ہے مگر آپ کے لیے ایک فرض دینی اور داخل جہاد فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔‘‘ 2 ؍ستمبر 1946ء میں ہندوستان میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کی صدارت پنڈت جواہر لعل نہرو کررہے تھے جن کی سربراہی میں سردار بلبھ بھائی پٹیل، ڈاکٹر راجندرپرساد، راج گوپال اچاریہ، جان متھائی اور مولانا ابوالکلام آزاد شامل تھے۔ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان اور پاکستان دو مملکتیں وجود میں آئیں۔ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کی نیم شب سے ہی پورے ہندوستان میں آزادی کا جشن منایا گیا۔ برصغیر کی اسی آزادی کے ساتھ ہندوستانی عوام کی ایک سو پچاس سالہ غلامی کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔ انگریزوں کو یہاں سے بھاگنا پڑا۔ جنگ حریت ۱۸۵۷ء سے شروع ہوکر ۱۹۴۷ء میں بالآخر اختتام پذیر ہوگئی۔لیکن تقسیم کا درد دے گئی۔جس کا ابوالکلام آزاد کو ہمیشہ قلق رہا۔
یہی وہ آزادی تھی جس کے لیے بلالحاظ مذہب وملت سیاسی شخصیتیں اور نمائندے اور علمائے دین نے اپنے آپ کو قربان کردیا۔ بے شمار لوگوں نے جدوجہد کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جیلوں کی سلاخوں میں برسوں بند رہے۔ ابوالکلام آزاد نے تقریباً گیارہ سال جیلوں میں گزارے۔ ان کا ایک بڑا حصہ احمد نگر جیل میں بھی گزرا۔ گویا مولانا آزاد کی شخصیت اور اس وقت کی قومی، سماجی، سیاسی اور ادبی تحریکیں لازم وملزوم نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب پہلی کابینہ عمل میں آئی تو مولانا آزاد نے تعلیمی وزارت کا قلمدان سنبھالا اور ایسے اقدامات کئے جو تاریخ کا ایک حصہ بن کررہ گئے۔ آپ کا ۱۹۵۸ء میں انتقال ہوا تو اس وقت بھی آپ عہدہ وزارت پر فائز تھے۔ ملک کی خدمت کرتے کرتے آپ نے جان دے دی۔ مولاناآزاد نہ صرف تحریک آزادی کے سرخیل تھے بلکہ ایک عالم دین ، مفسر قرآن انشاء پرداز، بے باک صحافی، مصنف ، مدبر، شاعر ومفکر ، ایک بے مثال خطیب اور آخر میں ایک قوم کے خادم وزیر تعلیم رہے۔ ان کے گراں قدر خدمات کے باعث آزاد کو ادب و زندگی کے کسی بھی شعبہ میں فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
پتہ ۔۱۷۰/سابرمتی ہاسٹل،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی۔۶۷
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.