حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہبرِ کامل ( مکمل راہ نما) ہیں
لاریب ۔۔۔ پوری کائنات میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کوئی شخصیت ایسی نہیں ہے ، جسے دنیائے انسانیت کے سامنے نمونے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اے محمد !) ہم نے تجھے تمام دنیا کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : ٢٨)۔
اور اسی لیے یہ بھی ارشاد فرمایا : یہ رسول تمھارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب : ٢٨)۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لیے بڑے بڑے پیغمبر ، رسول اور نبی مبعوث فرمائے ۔ مگر کسی قوم کا ہادی ، کسی قوم کا پیشوا اور راہنما ایسا نہیں ہوا ، جو ... انسانی زندگی کا ایک مکمل لائحہ عمل ان کے سامنے رکھ سکے اور اپنی زندگی کو اپنی امت اور اپنی قوم کے لیے بطور نمونہ پیش کر سکے۔
یہ فخر صرف اس ذاتِ گرامی کو حاصل ہے ، جو ۔۔۔ تمام دنیا کے لیے یکساں راہبر اور مرشد و ہادی بن کر آیا۔ اور یوں رہبرِ کامل کہلایا ۔
آج دنیا کی جو متمدن اور مہذب قومیں ہیں ، وہ سب کی سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی ہی سے سبق لے رہی ہیں اور اعلیٰ حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی کے ارشادات پر عمل پیرا ہو کر دنیوی ترقی اور مدارج حاصل کر رہی ہیں۔
امام الانبیاء ، اعلیٰ حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مبارک زندگی ... کامیاب انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور شعبوں کا ایک مجموعہ ہے ۔ جس سے ہر کوئی سبق لے سکتا ہے ۔۔۔ مثلاً ۔۔۔ زاہد ، بادشاہ ، تاجر ، مزدور ، جرنیل ، سپاہی ، سخی ، گداگر ، حکیم ، مریض پیر ، مرید ، خطیب ، سامع ، جج ، مجرم ، فاتح ، شہری ، باپ ، بیٹا ، شوہر ، بیوی ۔۔۔
غرض دنیا کا ہر انسان اپنے اپنے شعبے اور اپنے کاروبارِ حیات میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سیرتِ مقدسہ سے سبق لے سکتا ہے ۔ اور دین کے علاوہ دنیاوی مدارج میں ترقی کر سکتا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ولادتِ با سعادت
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مکّہ میں شِعَبِ بنی ہاشم کے اندر ٩۔ربیع الاول ، یکم عام الفیل ، یومِ سوموار ( پیر ) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ ( مکّہ پر اَبْرَہہ کے حملے کے واقعے کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔ اور یہ واقعہ ، بیشتر اہلِ سِیرَ کے بقول ۔۔۔ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے صرف پچاس یا پچپن دن پہلے ماہِ محرم میں پیش آیا تھا۔لہذا یہ عیسوی سنہ ٥٧١ء کے فبروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل کا واقعہ ہے )۔
اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ٢٠۔ یا ٢٢۔ اپریل ٥٧١ء کی تاریخ تھی۔
علامہ قاضی محمد سلیمان صاحب منصور پوری رحمہ اللہ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔ ( تاریخ خضری ١ / ٦٢)۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا ابولہب کو جب اُس کی لونڈی ثوبیہ نے آپ کی ولادت کی خبر دی تو وہ اتنا خوش ہوا کہ اس خوش خبری سنانے والی لونڈی کو اسی خوشی میں آزاد کر دیا۔ ( فتح الباری ٩ / ١٤٠)۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دادا عبدالمطلب نے جب یہ خبر سنی تو سنتے ہی گھر میں آئے اور آپ کو اٹھا کر خانہ کعبہ لے گئے۔ اور دعا مانگ کر واپس لائے۔ ( سیرۃ ابن ہشام ١ / ١٦٨)۔
اور پھر ساتویں دن قربانی کی اور تمام قریش کو دعوت دی۔ دعوت سے فارغ ہو کر لوگوں نے پوچھا کہ : بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟
"محمد" عبدالمطلب نے جواب دیا۔
لوگوں نے تعجب سے پوچھا : آپ نے اپنے خاندان کے سب مروجہ ناموں کو چھوڑ کر یہ نام کیوں رکھا ؟
عبدالمطلب نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا شایان قرار پائے ۔
( البدایۃ و النہایۃ ٢ / ٢٤٧)۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ماں سیدہ آمنہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔
پس محمد اور احمد دونوں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذاتی نام ہیں۔
ایک بدوی عورت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گود لینے میں اس لیے تامل کیا کہ آپ یتیم بچے ہیں تو حضرت آمنہ نے فرمایا تھا :
اے دایہ ! اس بچے سے مطمئن رہو ، اس کی بڑی شان ہونے والی ہے ۔
( طبقات ابن سعد ١ / ١١١)۔

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.