حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یوم ولادت
مصطفی نور ہیں کیا سایہ نظر دیکھ سکے
جسم تو اس لئے پایا کہ بشر دیکھ سکے
وحی الہی کےآخری سفیرخاتم الانبیاء ،فخرموجودات، سرور کائنات،
حضرت محمّد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور پرنور کے یہ سعادت آفرین ایام آپ سب کو مبارک ہوں۔ یہ اس کی آمد کے ایام ہیں کہ جس کا نام عالم بشریت کی پیشانی پر درخشاں ہے اور جس کے وجود کی عطربیزہواؤں سے آج بھی مشام ہستی مطہر و معطر ہے ۔ محمّد عالم تخلیق کا وہ سرّ اکبر ہے
قدم کی شان رکھتاہے یہ وہ امکان داور ہے
وہاں مداح خالق اور یہاں ممدوح داورہے
زمین پر جو محمد ہے وہی احمد فلک پر ہے
ہے تاج فتح سر پر جوشن یس با‌زو پر
جبیں پر نور کندہ دوش پر طہ کی چادر
ہے سراج نور قرآں میں جمال طورعترت میں
بشرصورت ملائک میں تو امت میں پیمبر ہے
ہم خدا کے رسول حضرت محمّد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیرو ہیں ، ہم اپنے تمام برادران اسلام بلکہ پوری دنیائے بشریت کو لباس نور سے مزین ، مادیت کے سایے سے بھی آزاد ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ورود مسعود کی مبارک باد پیش کرتے ہیں کیونکہ تمام مذاہب میں ان کے آنے کی بشارت دی گئی ہے اور ان پر ہی خدا کی نبوت الہی اور پیغام رسانی کا اختتام ہواہے۔ سبھی کو دور جہالت سے رہائی اور بشریت کی فلاح و نجابت کی فکر اور آرزو تھی اور ہر ایک ظلم و ستم کی برائیوں سے آزادی اور آدمیت کے کمال و ارتقاء کم متمنی اور خواہشمند تھا ۔ امن و سلامتی سے معمور دنیا کی تعمیر کے لئے خدا کے آخری مبشر و نذیرکی دنیا راہ تک رہی تھی اور وہ نور ہدایت سترہ ربیع الاول سن تیس عام الفیل کو آمنہ کے گھر میں آگیا ۔ چنانچہ نبی اکرم کی مادر گرامی جناب آمنہ کی زبانی روایت ہے کہ " جب میرا بیٹا دنیا میں آیا میں نے ایک غیبی آواز سنی ، منادی کہہ رہاتھا : مشرق سے مغرب تک گھوم کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مثل تلاش کرو ، ان کے جیسا کون ہوسکتاہے ، تمام انبیاء کے صفات ہم نے ان کو عطا کردئے ہیں ، آدم(ع) کی طرح صفا و پاکیزگی ، نوح(ع) کی طرح نرمی و سادگی، ابراہیم علیہ السلام کی طرح حلت و محبت ، اسمعیل (‏ع) کی طرح رضا و خوشنودی ، یوسف (ع) کی طرح حسن و زیبائی اور عیسی علیہ السلام کی طرح کرامت و بزرگواری ، سب کچھ ان میں موجود ہے ۔ "ہم اسی نبی کے پیرو ، اپنے دین اسلام پر افتخار کرنے والے مسلمان ہیں اورخوشی کے ان ایام میں آپ تمام سامعین محترم کی خدمت میں رشتۂ انسانیت کی بنیاد پر محبت و دوستی کا پیغام دیتے ہیں ۔ یہ ایام دنیا میں اس عظیم انسان کے ورود مسعود کے ایام ہیں کہ جس کا نام ہی محمّد ہے ، جس کی خود خدا نے بے پناہ مدح کی ہے اور ہم جتنی بھی تعریف کریں کم ہے ۔ خدا کا یہ وہ رسول ہے کہ جس کو خدا نے تمام اخلاق حمیدہ سے مخصوص کردیا ، جو بندوں کے حق میں اس قدر لطیف و مہربان تھا کہ ایک ہی نگاہ میں دلوں سے کینہ و دشمنی کے سیاہ بادل چھٹ جاتے تھے ۔ جس نے ہر ایک کی طرف محبت و دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا ۔ تاریخ کے اوراق الٹئے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ایک یہودی عورت کینہ و نفرت سے چور بڑھاپے کی ضد کے ساتھ جب بھی آپ کو گھر کے قریب سے گزرتے دیکھتی چھت سے آپ کے سر پر کوڑا کرکٹ پھینک دیا کرتی تھی ، نہ آپ اس پر غصہ کرتے نہ بگڑتے بولتے اور نہ ہی اپنی راہ ترک کرتے تھے ، گویا یہ روزانہ کا معمول بن چکاتھا آپ یہودن کے گھر کے قریب سے گزرتے اور وہ آپ پر کوڑا پھینک دیتی لیکن ایک دن جب آپ ادھر سے گزرتے تو کسی نے کوڑا نہیں پھینکا ۔ آپ کو حیرت ہوئی اور آپ نے لوگوں سے پوچھا " آج میری مہربان کا کچھ پتہ نہیں ہے ؟" معلوم ہوا کہ وہ مریض ہے یہ سنتے ہی آپ نے بوڑھی یہودن کےگھر دق الباب کیا ، دروازہ کھلا اور بڑھیا نے آپ کو سامنے کھڑا دیکھ کر گھبرا کے پوچھا ، تم اب آئے ہو مجھ سے انتقام لینےکہ جب میں مری‍ض ہوں ؟ آپ نے اس کے جواب میں مسکراتے ہوئے شفقت و ہمدردی سے معمور لہجے میں فرمایا : نہیں ، میں تو یہ سنکر کہ تم مریض ہو تمہاری عیادت کے لئے آیاہوں " یہ تھا ہمارے نبی کا حسن اخلاق اسی لئے خدا نے اپنے اس نبی کے لئے فرمایاہے ہم نے آپ کو خلق عظیم پر فائز کیاہے آج پھر دنیا ئے بشریت ظلم و نا انصافی کے گہرے زخموں سے چور کراہ رہی ہے ، اگرچہ اس نے بڑی تیزی سے علم و دانش کی عظیم راہیں عبور کرلی ہیں لیکن اب بھی آدمیت اخلاق اور انسانی وجدان کے بیچ راہ میں حیران و سرگردان کھڑی ہے ۔ اسے ایک ایسے" درخشاں نور " کی ضرورت ہے جو اس کی حیات کو گرمی اور تازگی عطا کردے نور محمدی کا آخری جلوہ کو ایک دنیا سراپا انتظار ہے ۔ خاص طور پر ان دنوں ہر طرف " محمّد(ص) کی آمد " کا نور پھیلا ہوا ہے ۔ یقینا" ان کی معرفت اور عشق و اطاعت دلوں سے دنیوی آلودگیوں کی سیاہی دور کردے گی اور محبت و سچائی کے تحفے نچھاور کرے گی ۔ اگر تمام انسان ان کی رہنمائیوں کے پرتو میں زندگی گزارنے کا عہد کریں تو نجات و رستگاری قدم چومے گی ۔ خداوند عالم نے بھی اس طرح کے انسانوں پر درود بھیجاہے اپنے پیغمبر (ص) کو خطاب کرکے وہ فرما چکاہے :" جب آپ کے پاس صاحبان ایمان آئیں تو ان سے کہئے : تم پر سلام ہو ، تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر تمہارے حق میں رحمت لازم کرلی ہے "اس لئے آج پوری کائنات خدا کے پیغمبر محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ و آلہ و سلم کا جشن ولادت پورے جوش و خروش کے ساتھ منارہی ہے گویا زمین و آسمان ، انسان اور فرشتے سب کے سب اپنی اپنی زبان میں آپ کی مدح سرائی میں مشغول ہیں جیسا کہ خود رسول اسلام (ص) نے ایک سائل کے سوال کے جواب میں کہاتھا :مجھ کو محمد کہتے ہیں کیونکہ اہل زمین میری نعت خوانی میں مشغول رہتے ہیں ۔مجھے احمد کہتے ہیں کیونکہ آسمان والے میرا قصیدہ پڑھتے ہیں ۔ میری کنیت ابوالقاسم ہے کیونکہ خداوند عالم نے قیامت میں جنت اور جہنم کی تقسیم کے لئے میری محبت کو معیار قراردیاہے ۔ پس جو مجھ پر ایمان لائے گا خدا اس کو بہشت میں جگہ عطا کرے گا ۔

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.