اردو کے نوحہ گر ہی اردو کے دشمن ہیں
سہیل انجم
  
اردو زبان کی صورت حال بہت خراب ہے ، اردو رفتہ رفتہ مٹتی اور ختم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے لیے حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ یہ اور ایسی باتیں سنتے سنتے کان پک سے گئے ہیں۔ کسی بھی اردو پروگرام میں جایئے اردو کی مرثیہ خوانی سے سابقہ پڑ جاتا ہے۔ کوئی اس کے لیے حکومتوں کی پالیسیوں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے تو کوئی اردو کو مٹانے میں اردو دشمنوں کی سازشوں کا سرا تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی اردو ہندی تنازعہ پر روشنی ڈال کر اردو کی مظلومیت کا رونا روتا ہے تو کوئی اس پر زور دیتا ہے کہ جب تک اردو کو روزی روٹی سے نہیں جوڑا جائے گا وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ لیکن ان تمام شکایتوں اور نالوں اور فریادوں کے درمیان کوئی بھی شخص جرات مندی کے ساتھ یہ نہیں کہتا کہ ہم خود اردو زبان کے قاتل ہیں اور ہم نے ہی اس کی تکفین وتدفین کا فریضہ انجام دیا ہے۔ دبے لفظوں میں کوئی اعتراف ہو جائے تو وہ الگ بات ہے لیکن ہم اردو والو ں میں اس کی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ ہم علی الاعلان یہ کہہ سکیں کہ ہاں ہم اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں اور ہمیں ہی اسے تبدیل کرنا ہوگا۔
ابھی گذشتہ دنوں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں اسی مسئلے پر ایک سیمنار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس کا اہتمام علیگڑھ کی ایک فعال تنظیم ملت بیداری مہم کمیٹی ، جریدہ علیگڑھ موومنٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کیا تھا۔ موضوع تھا ’’سیکولر آزاد ہندوستان میں اردو زبان کا رول‘‘۔ اس موضوع پر مختلف مقالات پیش کیے گئے۔لیکن مرثیہ خوانی اور نوحہ گری بھی ہوئی۔ ملت بیداری مہم کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور علیگڑھ موومنٹ کے مدیر جناب جسیم محمد نے اردو زبان کی موجودہ صورت حال پر بھرپور روشنی ڈالی۔ مہمان اعزازی کی حیثیت سے معروف ماہر تعلیم اور کالم نگار فیروز بخت احمد نے ختم ہوتے ادب اطفال پر بھرپور مقالہ پیش کرکے اردو ادیبوں اور شاعروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ راقم الحروف نے الیکٹرانک میڈیا میں اردو زبان کے بڑھتے استعمال اور اردو کی اہمیت پر ایک تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ کم از کم دو درجن مققالہ نگاروں نے اس دوروزہ کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آزاد سیکولر ہندوستان میں اردو زبان کا کیا رول ہونا چاہئے اس پر تو غور کرنے کی ضرورت ہے ہی، اس سے زیادہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آزاد سیکولر ہندوستان میں اردو کو کیا مقام حاصل ہے اور کیا اس کو اس کاجائز حق مل گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کی پالیسیاں اردو زبان کے زوال کی بہت بڑی ذمہ دار ہیں۔ حکومتیں نہیں چاہتیں کہ اردو کو اس کا جائز حق ملے، اس کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کو دور کیا جائے اور اس زبان کے فروغ کے لیے بہتر انداز میں کوششیں کی جائیں۔ حالانکہ حکومت نے متعدد ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کا کام اردو زبان کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر رول ادا کرنا ہے۔ جن کا کام اردو زبان کی تعلیم کو عام کرنا ، اردو زبان وادب کو فروغ دینااور اردو کو مختلف انداز میں پروان چڑھانا ہے۔ کچھ ادارے سنجیدگی کے ساتھ کچھ کر بھی رہے ہیں جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا رول قابل ذکر ہے۔ لیکن بیشتر ادارے سیاست کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ ان اداروں کی کرسیوں پر براجمان شخصیات اپنے فرائض سے کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ اگر ہم ایماندارانہ جائزہ لیں تو پائیں گے کہ حکومت تو بہرحال کچھ نہ کچھ کر رہی ہے ۔ لیکن سوال وہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم جو اردو کے ختم ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں اردو کو زندہ کرنے کے لیے کیا کچھ قربانیاں دے رہے ہیں۔ کیا صرف یہی ہمارا کام ہے کہ ہم مطالبات کریں، حکومتوں سے شکایات کریں اور ان کی پالیسیوں کی مذمت کریں۔ کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ ہم خود اردو کو پروان چڑھانے کے لیے دامے، درمے ، قدمے، سخنے حصہ لیں۔
جن لوگوں پر اردو کے فروغ کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہی اس کو مٹانے کے جرم کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔ پہلے اتر پردیش، بہار اور دہلی اردو کے گہوارہ ہوا کرتے تھے لیکن آج انہی گہواروں سے اردو کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکالا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی حالت تو بہت خراب ہے۔ وہاں کی نوجوان نسل اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا اس سے روزی روٹی اور نوکری نہیں ملے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زبان کو جسے ہم تہذیب و ثقافت کا گہوارہ کہتے ہیں اور جس میں ہمارا کل مذہبی سرمایہ موجود ہے ، محض اس لیے ترک کر دیں کہ اس کے پڑھنے سے ملازمت نہیں ملے گی۔ کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم اس زبان کو اپنے سینے سے لگائے رہیں خواہ نوکری ملے یا نہ ملے۔ اگر ہمارے والدین بڑھاپے میں ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں تو کیا ہم انہیں گھروں سے نکال کر سڑکوں پر مارے مارے پھرنے کے لیے چھوڑ دیں یا انہیں اولڈ ایج ہوم کے حوالے کر دیں۔ کیا ہماری ذمہ داری نہیں کہ ہم ان کا سہارا بنیں۔ یہی حالت اردو زبان کی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں اردو کے مراکز ہوا کرتے تھے، نوجوان نسل کی تعلیم کے لیے کیا ہم کوئی بند بست کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو کیا اردو پڑھنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ عام آدمی کو تو چھوڑئے خود وہ حضرات جو اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں یعنی جو یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اردو کے استاد ہیں ان میں سے بیشتر اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم نہیں دلواتے۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا۔ اس لیے وہ انہیں اعلی سطح کے انگریزی اسکولوں میں داخل کرتے ہیں ۔ جبکہ ان کی اپنی زندگی اور ترقی کی عمارت اردو کی بنیاد پر ہی قائم ہے۔ مذکورہ سیمنار میں بھی اس بات کا حوالہ دیا گیا اور اردو کے ایک بزرگ ادیب پروفیسر وہاب اشرفی نے اردو کے ایک پروفیسر اور ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی کی موجودگی میں یہ شکوہ کیا کہ اردو کے اساتذہ اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے ،بلکہ نہایت شرمناک بات ہے۔ وہ حضرات جو اردو کانفرنسوں میں شرکت کے لیے دنیا کے متعدد ممالک کے دورے کرتے ہیں ، وہ اردو کے تئیں کتنے مخلص اور سنجیدہ ہیں اس پر انہیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔
جو لوگ یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ اردو پڑھ کر کیا ہوگا اس سے ملازمت نہیں ملتی، راقم الحروف ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اردو میڈیم سے آپ آئی اے ایس کا باوقار امتحان دے سکتے ہیں اور اس میں کامیابی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ تازہ ترین مثال کشمیر کے شاہ فیصل کی ہے جنھوں نے اردو سے امتحان دیا اور آج وہ آئی اے ایس بن کر اردو والوں کے لیے ایک روشن مثال بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے ایک قاسمی مولانا نے آئی اے ایس کا امتحان اردو زبان میں دیا اور کامیا بی حاصل کی۔ اس سے بھی پہلے مسلم یونیورسٹی کے ایک طالب علم ایس ایم اشرف نے اردو زبان میں امتحان دے کر آئی اے ایس میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اردو میں کیا نہیں ہے۔ اور پھر اگر اردو سے ملازمت نہ ملے تو کیا ہم اردو کو خیر باد کہہ دیں گے۔ پروفیسر ابو الکلام قاسمی کی اس بات کی راقم الحروف تائید کرے گا کہ اس دلیل میں کوئی دم نہیں ہے۔ ہمیں اردو کے لیے قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ یہ مثال عام طور پر دی جاتی ہے کہ عبرانی زبان صدیوں تک گوشہ گمنامی میں رہی او رزمانے کے ستم جھیلتی رہی۔ لیکن جب یہودیوں کو موقع ملا او رانہوں نے اسرائیل کا قیام کر لیا تو آج وہی زبان دنیا کے نقشے پر باوقار انداز میں اپنی حاضری درج کرا رہی ہے۔
اس سلسلے میں شمالی او رجنوبی ہند کے مسلمانوں اور اردو داں طبقے کے رویے میں فرق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شمالی ہند کے اردو داں حضرات صرف شکوہ بیجا ہی میں مصروف رہتے ہیں جبکہ جنوبی ہند کے اردو داں طبقے اپنے کام میں یقین رکھتے ہیں۔ آج مہاراشٹرا میں جانے کتنے اردو میڈیم اسکول ہیں او روہاں کے طلبہ سو فیصد نمبر حاصل کرتے ہیں۔ وہ اردو کے سہارے روزگار بھی حاصل کر رہے ہیں اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگیاں بھی بنا رہے ہیں۔ اردو کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا رونا رونے کی بجائے انھوں نے اردو کے لیے قربانی دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کیا اور آج اس کے ثمرات سے وہ فیض یاب بھی ہو رہے ہیں۔ کیا شمالی ہند کے مسلمان او راردو سے پیا ر کرنے والے لوگ اس مثال کو اپنے سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار نہیں کر سکتے۔ در اصل شمالی ہند کے مسلما ن صرف جذباتی اقدامات ہی میں یقین رکھتے ہیں وہ ٹھوس اور بنیادی کام کرنا نہیں جانتے۔ وہ تن آسانی کے شکار ہیں اور اپنی ذمہ داری سے غفلت شعاری کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے میں یقین رکھتے ہیں۔
در اصل اردو کے دشمن حکومت اور اردو مخالف عناصر ہوں یا نہ ہوں ہم اردو والے ضرور ہیں۔ وہ لوگ جو اردو کی مرثیہ خوانی کرتے ہیں ، جو اردو کا نوحہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو لوگ مذمتی اور مطالباتی رویے میں یقین رکھتے ہیں وہ کسی بھی قسم کا تعمیری اور ٹھوس کام کر ہی نہیں سکتے۔ ایسے کام کرنے کے لیے اپنا خون جگر جلانا پڑتا ہے، اپنے آپ کو مٹا دینا پڑتا ہے اور قربانیوں کی مصیبت بھری راہوں سے گزر کر دوسروں کے لیے نشان راہ قائم کرنا پڑتا ہے۔ کیا وہ لوگ جو محض مرثیہ خوانی میں یقین رکھتے ہیں، اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے اور ایثار وقربانی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں گے۔ کیونکہ کوئی بھی نغمہ خون جگر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح کہ خون جگر کے بغیر عشق کوئی رنگ نہیں لاتا۔ (مضمون نگار وائس آف امریکہ اردو کے نامہ نگار ہیں)۔
s_anjum11@yahoo.com---09818195929

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.