انقلاب کہیں یک روزہ بارش تو نہیں
تحریر۔۔۔ایس جے اکبر
فصلوں کو توانائی بخشنا اور ہر یالی سے پرفضاکے قیام کو ممکن صورت دینا و موسم گرما کی اذیت ناک صورتحال سے تمام کائنات کو نجات دلانا ہی صرف بارش کی اہمیت میں شامل نہیں ہے ،بلکہ بارش کے جو دیگر فوائید ہیں وہ یہ بھی ہے کہ روئے زمین کے اوپر موجود آلودگی کوبھی ایک نئی سمت عطا ہوتی ہے ۔لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اگر موسم برسات اپنے تسلسل کو قائم نہیں رکھ پاتا ہے اور اپنی تمام مدت میں صرف ایک دن ہی جلوہ گر ہو کر رہ جاتا ہے تو اس سے موسم برسات کا حق پورا نہیں ہوجاتا ۔اسی لیے کسی چیز کا معرض وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت کو زندہ رکھنے کے لیے اس چیز کا متوازی تسلسل بھی اہمیت کا حامل ہے ۔بارش اگرصاف و شفاف فضا و ہریالی کا ضامن ثابت ہوتا ہے تو انقلاب کسی ملک کے نظام میں موجود آلودگی کو صاف کر اسے زندگی کے ہر میدان میں ایک نئی سمتکی جانب راغب کرتا ہے ۔لیکن انقلاب کے آجانے بھر سے ہی کسی ملک کی تقدیر میں تبدیلی وقوع پذیر ہو جاتی ہے ،ایسا کہنا شاید غلط ہی ہوگا ۔آج جب کہ مصر کو انقلاب ایک نئی راہ فراہم کرنے کے لیے مضطرب سا معلوم پڑرہا ہے اور زیادہ تر قلم کی سیاہیاں اس انقلاب کو قلم بند کرنے میں مشغول ہے کوئی اسے جابر ،نااہل ،آمر اور کٹھ پتلی حکمراں کے پیرائے میں دیکھنے کی کوشش کررہا ہے تو کوئی اسے امریکہ اور یہو دی لابیوں کی شکست کے طور پر ۔انقلاب عوامی بیداری کا ثبوت ہے ،ویسے اگر ہم انقلاب کی تعریف عام لفظوں میں کرنا چاہیں تو اسے یو ں کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ خامیوں سے پر نظام کی تبدیلی اور بہترین مستقبل سے پرامید مستحکم عزائم کی عملی شکلی انقلاب ہے ۔انسانی تاریخ کا ہر ادوار انقلاب سے فیضیاب ہوتا رہا ہے ۔انقلاب فرانس ہو یا انقلاب ایران یا ہندوستانی انقلاب جس نے ہمیں صیہونیت کے ناپاک چنگل سے ظاہری طور پر نجات دلائی۔میرا تجربہ جہاں تک کہتا ہے کہ اب تک ر ونما ہونے والے ہر انقلاب کی تقریباً ایک ہی وجہ بتائی گئی نااہل اور جابر حکمراں سے نجات ۔لیکن جو سوال سب سے اہم ہے کہ کیا واقعی میں کوئی ایسا ملک ہے جہاں موجودہ حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد اس ملک میں پھر اس قسم کی کوئی شکایت نہیں پائی گئی ہو ۔میں نے جہاں تک اپنے تجزیے کی روشنی میں پایا ہے کہ ہر نظام انقلاب رونما ہونے کی ایکمختصر مدت تک مثبت پیش قدمی کرتا ہے پھر انسان اپنی پہلی والی حالا ت پر واپس آجاتا ہے ۔شرح تناسب کے لحاظ سے نظام بد ہی نظام بہتر کے اوپر حاوی رہا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ہم ہندوستانیوں کو بعد آزادی ترقی کا یکساں مواقع فراہم ہوگا ۔اظہار رائے کی آزادی ہوگی ،برٹش دورحکومت کی طرح کوئی جلیا والا باغ پھر اپنے آپ کو نہیں دوہرائیگا ،ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہی ہوگی ۔لیکن کیا آزادی کے چھ دہائی گزر جانے کے بعد جو حالات سامنے آرہے وہ اس وعدے پر کھڑے ثابت ہورہے ہیں ۔ ان لوگوں کو واقعی میں ہندوستانی جمہوریت پر رسک ہورہا ہوگا جن لوگوں نے منڈل کمیشن اور سچر کمیٹی کی رپورٹوں کا مطالعہ نہیں کیا ہو۔اگرہم کشمیر سے قطع نظر کرلیں تو شاید جمہوریت کی اس تعریف پر کہ یہ اپنے شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے تو باالکل صحیح لگے گی ۔اے راجہ کے دفاع میں جنہونے کپل سبل کا بیان نہیں پڑھا ہو اسے تو جمہوریت پر یقین ہوگا ہی۔جس نے بہار میں ایک حیوان ایم ایل اے کے قتل پر ایک سیاسی جماعت کے پرچم کو سرنگوں ہوتا نہیں دیکھا ہو اسے واقعی میں جمہوریت کی چکا چوند اچھی لگے گی ۔ کل کی برٹش حکومت اپنے مفاد کی حصولیابی کے لیے لوٹ پاٹ کو جائز قرار دیتی تھی اور دور رواں میں سیاسی جماعت اپنے لیڈران کے ذریعہ کی گئی لوٹ کھسوٹ کو صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتی ہے ۔ تو کیا اس حالت میں ہندوستانی انقلاب کو کامیاب انقلاب کہا جا سکتا ہے ۔پاکستان کی حالت بھی کچھ صحیح نہیں ہے ۔نیپالی عوام نے شہنشاہیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا لیکن جمہوریت نے وہاں کیا گل کھلایا ۔جو لوگ آج مصر ی احتجاج کے حامی ہیں انہیں اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا کہ جہاں جہاں انقلاب پہلے رونما ہو چکا ہے ان ممالک کی اصل تصویر ابھی کیا ہے ۔اس راز سے انکشاف ہزاروں میل دور کسی ملک کے چند روزہ دورے سے نہیں ہوجاتا ویسے تو جو لوگ ہندوستان کے کچھ چمکتے شہروں کو دیکھیں گے اور ہماری حکومت ترقی کا جو جھوٹا اعداد و شمار پیش کرتی ہے اس سے یہی اندازہ لگائیں گے واقعی میں ہندوستا ن ترقی کی سمت میں سپر سونک رفتار سے گامزن ہے ،لیکن جو لوگ ہندوستان کے گاؤں کی موجودہ حالت اور مہنگائی سے بے حال عوام کے درمیان جا کر حقائق کا پتہ لگائیں گے ان کو ہی صرف ترقی کے دعووں کی اصلیت سمجھ میں آئیگی ۔چند شہروں کی آسمان کو چھوتی کچھ عمارتیں ہی کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کی شناخت نہیں ہوا کرتی ہے بلکہ ترقی اور خوشحالی تو اصل میں گاؤں کی فضائیں ہی طئے کیا کرتی ہیں ۔آج جو لوگ عرب حکمراں پر الزام عائد کر رہے ہیں ان کو یہ بات بھی دھیان میں رکھنی ہوگی کہ یوروپی ممالک کو چھوڑکر دیگر ایشیائی ممالک جہاں جمہوری نظام حکومت ہے وہاں عوام کا معیار زندگی عرب ممالک کی بہ نسبت نہایت نچلے درجے کی ہے ۔خواہ ہندوستان ہو پاکستان،بنگلہ دیش یا کوئی اور ممالک ۔عوامی سہولیات کا فقدان ان جمہوری ممالک میں نظام کے ایک جز کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔مصر کی حالت ہندوستان،پاکستان ،بنگلہ دیش یا نیپال سے بدتر نہیں ہے۔نہ ہی ہندوستان کی طرح ان عرب ممالک میں بدعنوانی کا بول بالا ہے ۔عرب ممالک میں مطلق العنان حکومت کو کوسنے والے یہ کیوں فراموش کر جاتے ہیں کہ جمہوری ملک ہی کون سا اپنی عوام کے ساتھ انصاف کر رہا ہے ۔میری نظر میں جمہوریت اور شہنشاہیت میں اگر کسی بات کا فرق ہے تو اول الذ کر میں انسانوں کے ایک بڑے لشکر کو قومی خزانہ اور عوام کو لوٹنے کا موقع فراہم ہو پاتا ہے جب کہ آخر الذکر میں لوٹ پاٹ کرنے والوں کی محدود تعداد ہوا کرتی ہے ۔خیر نہ تو میں جمہوریت کا بدخواہ ہوں نہ ہی میں مطلق العنان حکومت کا قدردان ۔ہمیں تو عوام کو حقائق سے روشناش کرانا ہے ،اس لیے ہم عوام تک دونوں نظام کی خامی اور خوبی پہونچا دینا چاہتے ہیں ۔کم ازکم عوام مصر نے ہندوستان کے سپریم کورٹ کے جسٹس کاٹجو کے اس بیان کو تو صحیح ٹھہرا دیا ہے کہ عو ام بے وقوف نہیں ہے ،عوام سب کچھ جانتی ہے ۔مبارک کے جانے کا غم ان کے امریکی اوریہودی آقاؤں کے لیے باعث تشویش تو ہوگا ہی ۔یہ امریکی لابی کی شکست ہی کہی جائیگی کہ اس بار اس کا اندازہ غلط نکلا ۔ان کی کوشش تو یہی رہی ہوگی کہ کسی طرح عوام سب کچھ بھول کر گھر لوٹ جائے لیکن مبارک باد کی مستحق ہے مصر کی عوام کہ اس نے دنیا بھر میں ظلم سے دست وگریباں قوم کو پیغام دیدیا ہے ۔یہ امر ان کشمیریوں کے لیے بھی ایک خوش آئیں علامت ہے جو اپنی بقا ء کی جنگ کے لیے شہادت کو ترجیح دے رہے ہیں ،اس سے ان معصوم فلسطینوں کو بھی تلقین صبر حاصل ہوئی ہوگی ۔اس انقلاب نے عوامی طاقت کا اصل چہرہ ظاہر کیا ہے ۔لیکن اس سب کے پیچھے ایک اور حقیقت ہے ،جو کہ ساٹھ سالہ ہندوستانی جمہوریت میں مضمر ہے ۔وہ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب ہی نظام میں بہتری کی علامت نہیں ہے، بلکہ عوامی بیداری میں تسلسل کا ہونا ہے ۔یہ ساٹھ سالہ ہندوستانی جمہوریت مصریوں سے کہتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہے کہ مبارک کو تو تم نے بھاگنے پر مجبور کر دیا لیکن تمہاری کامیابی تمہارے مسلسل بیدار رہنے میں ہی پوشیدہ ہے ۔ویسے بھی غفلت کے ضمن میں ہم لوگوں نے خرگوش اور کچھوئے کا واقعہ پڑھا ہی ہے ۔اگر یہ انقلاب مانند رفتار خرگوش رہتا ہے تو یہ یقیناًکہا جا ئیگا کہ کچھوا روپی امریکی اور یہودی لابی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ۔ویسے امریکی اور یہودیوں کی کوشش ہوگی کہ مصر میں بھی کوئی جلال طالبانی یا حامد کرزئی آئے ۔لیکن مصر کی عوام کو اب یہ طئے کرنا ہوگا کہ ان کا مقصد مبارک سے نجات حاصل کرنا تھا یا کہ واقعی میں وہ لوگ آزادی اور خودداری کے لیے جنگ لڑرہے تھے ۔یہ فیصلہ آنے والا ستمبر ہی کریگا ۔فی الحال تو ابھی سے کچھجلد بازی ہوگی۔بحرحال یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ مصر نے ایک اور فرعون سے نجات پالی ہے ۔مصر کی ہلچل سے نہ صرف عرب ممالک ہلے گا بلکہ اس طوفان کی زد میں بہت سے ممالک کے اڑنے کا امکان ہے ۔
(sjakbar1234@gmail.com)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.