مسلکی کش مکش کی صورت حال :ایک لمحہ فکر
وارث مظہری
مسلم سماج کو جن مسائل نے دولخت کر رکھا ہے،ان میں ایک اہم مسئلہ فرقہ واریت یا بین مسلکی کشمکش کا بھی ہے۔اگرچہ یہ مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔دوسرے مذاہب میں بھی جماعتی کشا کش اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ہے لیکن عام طو پر وہ باہمی تشدد اور تصادم کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ عیسائیوں کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے درمیان بنیادی عقائد میں فرق پایا جاتا ہے۔اس بنیاد پران کے درمیان تصادم اور کش مکش کی بھیانک تاریخ رہی ہے لیکن اب عمومی سطح پران کے درمیان اتحا د پایا جاتاہے۔اب کیتھولک برطانیہ اور پروٹسٹنٹ امریکا خود کو ایک دوسرے کا تکملہ تصور کرتے ہیں۔اسی طرح ہندؤوں میںآریہ سماج اور سناتن دھرم کے ماننے والوں کے درمیان عقائد کے معاملے میں گہری خلیج پائی جاتی ہے۔آریہ سماج مورتی پوجا کو مسترد کرتا ہے جو سناتن دھرم کی بنیادی شناخت ہے لیکن دونوں میں کش مکش کی نہیں فضا پائی جاتی۔
اس کے مقابلے میں شیعہ۔ سنی،سلفی۔غیرسلفی اور دیوبندی ۔بریلوی اختلاف و کشمکش کی فضا ہندوستان سمیت دوسرے ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔پاکستان اس اختلاف وکش مکش کا سب سے اہم عنوان بن چکا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟در اصل مسلم مذہبی فرقوں کے درمیان حق کی اجارہ داری کی نا مصالحت پسندنفسیات پائی جاتی ہے۔اس لیے عموما ایک فرقہ اپنے مخالف فرقے کوسرے سے اسلام سے خارج ٹھہرانے کی کو شش کرتا ہے۔وہ یہ تصوررکھتا ہے کہ مسلم سماج اس کے فلاں حریف اور’باطل‘ فرقوں کی وجہ سے ماڈل اسلامی سماج کے سانچے میں ڈھلنے سے قاصر ہے، جس کے بغیر امت صحیح عالمی کردار ادا نہیں کرسکتی اور اپنی عظمت رفتہ کو واپس نہیں لاسکتی۔
کچھ عرصہ قبل مراد آباد کا یہ واقعہ میڈیا میں مسلمانوں کی شدیدفضیحت کا باعث بنا تھاکہ ایک فرقے کے فرد کے ذریعے دوسرے فرقے کی میت کا جنا زہ پڑھا دینے کی وجہ سے اس دوسرے فرقے کے جنا زہ میں شامل افراد کو اپنی بیویوں سے ہاتھ دھونا پڑا،کیوں کہ جنازہ میں شریک سارے لوگ کافر ہوچکے تھے جس سے نکاح فسخ ہو جاتاہے۔بہار کے خود ہمارے خوداپنے گاؤں کا واقعہ ہے کہ ایک شخص کے دوسرے فرقے کی جماعت کے ساتھ تبلیغی گشت میں چلے جانے کی وجہ سے خودا س کے اپنے عالم بیٹے نے اپنے والد کے نکاح کے باطل ہونے کا اعلان کردیا اور اپنے والدین کا دوبارہ نکاح پڑھایا۔
اب ایک اہم عالم و صوفی نے اپنے مخالف مسلک کی ،ملک کی ام المدارس کی حیثیت رکھنے والی دینی درس گاہ پر انتہاپسندانہ رجحان کے فروغ دینے کا الزام عائد کرکے گویا سیاسی و صحافتی حلقوں کو اس بات پر ابھارنے اور اکسانے کی کوشش کی کہ وہ اس ادارے اور اس کے منتسبین کی خبر لیں کہ ملک کو ان سے خطرہ ہے۔یہ برادر کشی کی افسوسنا ک نفسیات کا مظاہرہ ہے۔مسلک پرستی پرمبنی اسی قسم کی سادیت پسندی نے پاکستان کو مسلکی تشدد کا جہنم زار بنا رکھا ہے۔میڈیا (دی ہندو 21اکتوبر2011 )میں اس واقعے کو انتہا پسندی پر بحث کی راہ ہموار کی اہم خدمت سے تعبیر کیا گیا۔اس الزام کے ردعمل میں خاص طور پر انٹر نیٹ پر تبصروں اورتاثراتی تحریروں کا سیلاب امڈ آیا۔کئی ایک میں اس مسلک کے پیرو کاروں کوکفر و شرک کا علم بردار بتایا گیا،جس کے نمائندے نے اپنے مخالف فرقے کی درس گاہ پر انتہا پسندی کا الزام عائد کیا تھا۔اس بات کا ذکر دی ہندو کے مذکورہ نیوز رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔
مسلکی کش مکش اورمخاصمت کے متفرق واقعات ہوتے توضرور رہے ہیں لیکن ان کی حیثیت استثنا کی رہی ہے،نہ کہ باضابطہ رجحان کی ۔لیکن نفرت انگیزی کی لے اگر اسی طرح تیزی سے بڑھی اس نے باضابطہ کسی رجحان کی شکل اختیار کرلی تو پھر ہندوستان کے مسلم سماج کوتشدد اور بکھراؤ کا نشانہ بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ مسلک پرستی کا ذہن دراصل اس حقیقت کے ادراک سے دانستہ طور پرغافل ہے کہ مسلک یا مشرب بنیادی دینی اقدار کے حامل نہیں ہوتے ۔بنیادی دینی اقدار کا تعلق عقائد اور ضروریات دین سے ہے۔اہل اسلام کوصرف دین اور دین کے بنیادی اقدارکی تبلیغ کا حکم اور اس کی اجازت دی گئی ہے ،نہ کہ اپنے مسلک ومشرب کے عام کرنے کی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت دین سے زیادہ اپنے مسلک کا مبلغ بن کر نکلتا ہے اوراسی کی تبلیغ کو اپنا سب سے اہم دینی فریضہ تصور کرتا ہے۔ اس حقیقت کوسمجھنے کی ضرورت ہے کہ دین حقیقت کے اعتبارسے توایک ہی ہے لیکن اس کی تعبیریں مختلف ہیں اور تقریبا ہردور میں مختلف رہی ہیں۔اس لیے یہ سرے سے ممکن نہیں ہے کہ دین کی کسی ایک تعبیرکو عمومی او ر اطلاقی حیثیت حاصل ہوجائے۔
ہندوستان میں مسلکی کش مکش کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس تجویز پر غورکیا جاسکتا ہے کہ مختلف مکاتب فکر کی نمائندگی کرنے والے ایک ایسے مشترکہ فورم کووجود میں لانے کی کوشش کی جائے جس کے اہم مقاصد میں بین مسلکی ہم آہنگی کی صورت حال کوبر قرار رکھنا ہو۔حساس امور میں فتوی یا فتوی نما بیان دینے اور اور دوسرے مکاتب فکر کے ساتھ کسی متنازعہ معاملے میں گفت وشنید( نہ کہ مناظرہ) کا اختیار اسی کوحاصل ہو۔ اس مشترکہ فورم کی طرف سے بین المسالک اتحا د پر مبنی پروگرام وقتا فوقتا منعقد کیے جاتے رہیں۔ مختلف مکاتب فکر کے مدارس کے درمیان روابط کوقائم و مضبوط کرنے کی حکمت عملی طے کی جائے۔اہم مدارس وجامعات میں مناظرے کی بجائے مکالمے اور مختلف مکاتب فکر کے درمیان مفاہمت کی فضا کو ہموار کرنے کی کوشش کی جائے۔دوسرے مسالک ونظریات کے خلاف غیر سنجیدہ اور نفرت انگیز لٹریچر کی مدارس کے حلقوں میں کثرت ہے۔ان کی لائبریریوں کے شیلف اس سے بھرے پڑے ہیں ۔کم از کم وہ کتابیں اور پمفلٹس جن میں دوسرے مسالک کے افراد کو کافر و مشرک اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیاہو،خود حکومت طرف سے اس پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح تمام مسالک کے نمائندہ علما و قائدین کوچاہیے کہ وہ اپنے مسلک کے تنگ نظر علما کواپنے طور پر قابومیں کرنے کی کوشش کریں۔ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے شدت پسندوں سے متعلقہ مسلک کے نمائندہ ادارے اور افراد اپنی برا ء ت کا برملا اظہار کریں۔ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور اس میں ہر شخص کو اپنی مرضی کے مطابق مذہبی عقیدہ ونظریہ رکھنے کی آزادی حاصل ہے۔اس آزادی کوبالجبر ختم کرنے کی کوشش کا مطلب ہے :سماج میں انتشار وبدا منی کو راہ دینا،جونہ تو مسلم سماج کے مفاد میں ہے اور نہ پورے ملک کے مفاد میں۔بین مسلکی نفرت و عداوت کو ہوا دینے والے لٹریچر کا ایک قابل ملاحظہ پہلو یہ ہے کہ اس میں دوسرے مسلک کے نظریات کی بکثرت من مانی اورمن چاہی تفسیر و تعبیر کی گئی ہے۔تمام مکاتب فکر کے مشترکہ فورم کے ذریعہ اگر یہ ممکن ہوسکے تو نہایت خوش آئندبات ہوگی کہ ایک ایسی کتاب ترتیب دینے کی کوشش کی جائے جو تمام مذاہب کے بنیادی مذہبی نظریات و تصورات پر مشتمل ہواور خود متعلقہ مسلک کے نمائندگان اور مقتدر علما کے قلم سے ہو۔پچاس یا سو سال قبل کی متعلقہ مسلک یا گروہ کی نمائندہ شخصیات کے نقطہاے نگاہ اور آرا دوسرے مسلک کے افراد کے تعلق سے کیا تھیں ان سے صرف نظر کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بہت سی آرا اور تصورات زمانی ومکانی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی صحیح حقیقت کواسی تناظر میں سمجھا اورپرکھا جا سکتا ہے۔
بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مکاتب فکرکی نمائندہ شخصیات گروہی عصبیت اور فرقہ وارانہ چپقلش کوایک بڑا چیلنج تصورکرتے ہوئے اس سے نمٹنے کی کوشش کریں۔مجموعی طور پر اس ملک میں اسلام اور کے وجود کے استحکام اور خود ملک کی خوش حالی اور امن کے لیے یہ ضروری ہے۔
w.mazhari@gmail.com


Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.