اردو کے حقوق کی لڑائی : اردو اکیڈمیاں اور اردو تنظیمیں
سہیل انجم
حال ہی میں کشمیر سے دہلی آئے ہوئے انگریزی کے ایک نوجوان صحافی پرویز مجید سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں کا دورہ کیا اور پھر وہ لکھنؤ بھی گئے۔ وہاں انہوں نے مسلم علاقوں میں کئی روز گزارے۔ اس دوران انہوں نے اپنی خاص توجہ اردو زبان اور اردو صحافت کی صورت حال پر مرکوز رکھی۔ وہاں سے واپسی کے بعد راقم الحروف سے گفتگو کے دوران انہوں نے بڑے کرب کے ساتھ کہا کہ اردو کے مراکز رہے دہلی اور لکھنؤ میں انہوں نے اردو کی جو حالت دیکھی ہے اس سے ان کو بہت صدمہ پہنچا ہے۔ دہلی میں بھی اردو زبان والے علاقوں میں انہیں اردو بہت کم نظر آئی اور لکھنؤ میں بھی ہندی نے اردو کی جگہ لے لی ہے۔ انہوں نے دہلی کا اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ سڑکوں اور مقامات کے جو نام اردو میں لکھے ہوئے نظر آئے ان میں سے بیشتر غلط املا کے ساتھ دکھائی دیے اور یہاں سے شائع ہونے والے اردو اخباروں میں جو زبان استعمال ہو رہی ہے اس میں نہ صرف یہ کہ ہندی کی آمیزش زیادہ ہے بلکہ غلط اردو بھی لکھی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی مثالیں پیش کیں۔ اس سے قبل بھی انہوں نے غلط اردو میں سڑکوں کے نام دیکھے تھے اور کشمیر واپس جانے کے بعد دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کے نام ایک تفصیلی خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے غلط اردو والے بورڈوں کی تصاویر بھی شامل کی تھیں۔ لیکن ان کو اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کے دفتر میں فون کرنے پر ان کو بتایا گیا کہ متعلقہ ذمہ داروں کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ لیکن جب وہ دوبارہ دہلی آئے تو صورت حال جوں کی توں رہی۔ جس سے ان کو بڑی مایوسی ہوئی۔
اس تناظر میں اگر ہم جائزہ لیں تو پائیں گے کہ اردو زبان کے حقوق اور تحفظ کی لڑائی مختلف سطحوں پر جاری ہے جن میں غیر سرکاری تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ متعدد سرکاری ادارے بھی اردو کے فروغ کے لیے قائم ہیں اور اپنی اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں۔اگر چہ اردو کے نام پر دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں اور اردو کو کاروبار کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے لیکن بہر حال اسی بہانے سہی اردو کا کچھ نام تو لیا جا رہا ہے۔ اردو کے فروغ کے سلسلے میں حکومت کی سطح پر جو ادارے کام کر رہے ہیں ان میں قومی سطح پر ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘ اور ریاستی سطحوں پر سب سے نمایاں اردو اکامیاں ہیں۔ لہذا ہم نے ضروری سمجھا کہ سب سے پہلے دہلی اردو اکیڈمی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین پروفیسر اختر الواسع اور سکریٹری جناب انیس اعظمی سے ملاقات کی اور ان کے سامنے بہت سے سوالات رکھے۔ ان دونوں ذمہ داروں نے اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے جو تفصیلات پیش کیں ان سے اندازہ ہوا کہ اگر چہ دہلی اردو اکیڈمی کا سالانہ مالی بجٹ بعض دوسری اکیڈمیوں سے کم ہے لیکن اردو زبان کی ترویج واشاعت اور اردو تہذیب وثقافت کے تحفظ کے سلسلے میں اس کا نمایاں رول ہے۔ کیونکہ بعض دوسری اکیڈمیوں کے ذمہ اماموں کی تنخواہوں اور مدرسوں کی امداد بھی شامل ہے جبکہ دہلی اردو اکیڈمی صرف اردو کی ترویج کے لیے کام کرتی ہے۔
دہلی میں اردو کے سلسلے میں سب سے بڑا مسئلہ اردو اساتذہ کی تقرری کا ہے۔ غالباً سولہ برسوں سے یہاں اردو اساتذہ کی تقرری نہیں ہوئی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت وعدے تو بہت کرتی ہیں لیکن اس معاملے میں وہ گفتار کی غازی ثابت ہو ئی ہیں۔ اس سلسلے میں وہ یہ وجہ بیان کرتی ہیں کہ اردو اساتذہ کی تقرری کا ریکروٹمنٹ رول نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے یہ ذمہ داری دہلی اردو اکیڈمی کے سر ڈال رکھی ہے۔ اس سے پہلے اکیڈمی نے ۲۳ ۱؍اردو ٹیچر مقرر کیے تھے اور ۲۸ کی دوبارہ تقرری ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ کام اس کا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر اختر الواسع کہتے ہیں کہ ’’ہم نے اب منع کر دیا ہے کہ ہم یہ کام نہیں کریں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اردو ٹیچر خود مقرر کرے‘‘۔ یہ بات درست بھی ہے۔ کیونکہ اکیڈمی جو ٹیچر رکھتی ہے اسے وہ تنخواہ نہیں ملتی جو مستقل ٹیچر کو ملتی ہے، کچھ مشاہرہ دے دیا جاتا ہے۔ ایسے اساتذہ کا مستقبل برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ لہذا یہ کام دہلی حکومت کو کرنا چاہیے۔ اختر الواسع کے مطابق ہم نے ریکروٹمنٹ رول بھی بنا کر دے دئے ہیں پھر بھی حکومت اس پر عمل نہیں کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندی اور پنجابی وغیرہ کے لیے جو ریکروٹمنٹ رول ہیں وہی اردو کے لیے بھی اپنائے جانے چاہئیں۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ہم اس سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری لڑائی جاری ہے۔
پروفیسر اختر الواسع اور انیس اعظمی کا دعوی ہے کہ دہلی اردو اکیڈمی ملک کی دیگرتمام ۱۶؍ اکیڈمیوں کے مقابلے میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں ان کے پاس دلیلیں بھی ہیں۔ وہ دہلی اکیڈمی کی امتیازی پوزیشن کے بارے میں ثبوت پیش کرتے ہوئے پہلی بات تو یہی بتاتے ہیں کہ کوئی اور اکیڈمی اردو ٹیچر فراہم نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ اس نے شہر کے مختلف علاقوں میں اردو خواندگی مراکز قائم کر رکھے ہیں جن کی تعداد ۱۹۴ ہے، یہ کام بھی کوئی اور اکیڈمی نہیں کرتی۔ این آئی او ایس کے آٹھ مراکز اور این جی اوز کے تحت بیس مراکز بھی ہیں۔ ان تمام مراکز میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد نا خواندہ اردو کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان مراکز کو اخراجات کے لیے فنڈ کی فراہمی اکیڈمی کرتی ہے۔ یہ واحد اکیڈمی ہے جس کے پاس اردو خطاطی مرکز ہے۔ اس کا کمپیوٹر کا شعبہ خود مختار ہے جبکہ دوسری اکیڈمیاں اردو کونسل کے اشتراک سے چلاتی ہیں۔ مختلف مصنفوں کے مسودات کی طباعت کے لیے سالانہ ساڑے پانچ لاکھ روپے، ۲۵ کتابوں پر سالانہ انعام پر ڈھائی لاکھ روپے، سالانہ ایوارڈوں پر ساڑھے سات لاکھ روپے، تین فیلو شپ پر چار لاکھ روپے، تعلیمی مراکز پر ۳۲ لاکھ روپے اور اردو ٹیچروں پر سالانہ ڈیڑھ سے دوکروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ مزید براں مختلف علاقوں میں اخبار بینی کے مراکز بھی ہیں جہاں اردو کے یومیہ دو اخبار خرید کر رکھے جاتے ہیں۔ اکیڈمی ملک سے شائع ہونے والے ۲۶ رسائل وجرائد خریدتی ہے۔ جو تیس سے پینتالیس کاپیوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ اردو سرٹی فکٹ کورس بھی چلایا جاتا ہے۔ بیواؤں اور ضعیفوں کو پنشن دی جاتی ہے۔ موجودہ گورننگ کونسل نے پنشن کی رقم بڑھا کر پانچ ہزار اور تین ہزار کر دی ہے۔ تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ دہلی اردو اکیڈمی کا ادبی رسالہ ایوان اردو اور بچوں کا رسالہ امنگ انتہائی معیاری رسالے ہیں اور ان کی سرکولیشن سولہ ہزار ہے اور تمام کاپیاں فروخت ہوتی ہیں۔ کسی اور اکیڈمی کا رسالہ اتنی تعداد میں نہیں چھپتا۔ کتابوں کی اشاعت میں بھی یہ سب سے آگے ہے۔ اس کی شائع کردہ کتابوں کے ایڈیشنوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔
جبکہ ایک سوال کے جواب میں اکیڈمی کے وائس چیئرمین پروفیسر اختر الواسع بتاتے ہیں کہ ہم نے اردو کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے تحت اردو میں سائنس کے موضوع پر سیمنار کروایا جس کے بارے میں کوئی اکیڈمی سوچ بھی نہیں پائی تھی۔ صحافت پر جو سیمنار ہوتا ہے وہ بہت معیاری ہوتا ہے۔ اکیڈمی نے پاپولر لٹریچر پر سیمنار کروایا ہے۔ سیمناروں میں پڑھے جانے والے مقالوں کو کتابی صورت میں شائع بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے پاس جو لائبریری ہے ویسی کسی اور اکیڈمی کے پاس نہیں ہے جہاں ریسرچ اسکالر آکر استفادہ کرتے ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ دہلی اردو اکیڈمی نے دہلی والوں کے لیے کیا کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے پہلی بار دہلی کی وزیر اعلی اور اردو صحافیوں کے مابین مکالمہ کروایا جس میں وزیر اعلی کے سامنے اردو کے مسائل رکھے گئے۔ تاریخی لال قلعہ اردو کے تشخص کی لسانی علامت ہے لہذا ہم نے لال قلعہ کے وسیع وعریض میدان میں اردو وراثت میلہ کا انعقاد کیا۔ اردو علاقوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ہم نے ان علاقوں میں اردو اکیڈمی کو پہنچایا اور اردو والوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل یہ شکایت کی جاتی تھی کہ دہلی اردو اکیڈمی ایوارڈوں کی تفویض کے سلسلے میں باہر والوں کو ترجیح دیتی ہے اور دہلی والوں کو نظر انداز کرتی ہے لہذا ہم نے اس معاملے میں دہلی والوں کو ترجیح دی۔ جن اردو والوں کو لوگ فراموش کرتے جا رہے تھے جیسے کہ شجاع خاور وغیرہ، ان کا جشن منایا۔ مردم شماری کے وقت جگہ جگہ ہورڈنگس لگوا کر لوگوں کو ترغیب دینے کی کوشش کی کہ وہ اپنی مادری زبان اردو ہی لکھوائیں۔ دولت مشترکہ کھیلو ں کے دوران اردو کے ثقافتی پروگرام منعقد کروائے گئے۔ چاندنی چوک کے ٹاون ہال اور جامعہ ملیہ میں شام غزل، مشاعروں اور ڈراموں کا انعقاد کروایا گیا۔ یہ واحد اکیڈمی ہے جس نے بچوں کے تھیئٹر ورکشاپ کا انعقاد کروایا۔ ۲۳ ڈرامہ فیسٹیول منعقد کیے جا چکے ہیں جن میں سو سے زائد ڈرامے اسٹیج کیے گئے ہیں۔ اس طرح ساڑھے پانچ کروڑ روپے سالانہ کے بجٹ میں ہم نے وہ کام سرانجام دیے ہیں جو پندرہ سولہ کروڑ کے بجٹ والی اکیڈمیوں نے بھی نہیں کیا ہے۔ پروفیسر اختر الواسع اور انیس اعظمی دونوں ان کاموں کا سہرا اکیڈمی کے اسٹاف کے سر باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہاں کے کارکن ان کاموں میں دلچسپی نہ لیں تو ہم اتنا کام کر ہی نہیں سکیں گے۔ اوقات کار سے زیادہ رک کر وہ لوگ کام کرتے ہیں اور ایک عرصہ ہو گیا کہ کسی کارکن نے کوئی چھٹی نہیں لی ہے۔
اس کا اندازہ تو تقریباً ہر اس شخص کو ہوگا جو اکیڈمی میں آتا جاتا ہو یا اس کے پروگراموں میں شرکت کرتا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہلی اردو اکیڈمی کا اسٹاف نہایت محنتی اور دیانت دار ہے اگر وہ صرف اپنی ڈیوٹی انجام دے تو بہت سے کام رک جائیں پورے نہ ہوں۔
دہلی اردو اکیڈمی مختلف پرائیویٹ انجمنوں اور تنظیموں کے اردو پروگراموں میں مالی تعاون بھی دیتی ہے۔ سابق وائس چیئرمین جناب م۔ افضل کے دور میں ڈی ٹی سی بسوں پر اردو لکھوائی گئی تھی اور سڑکوں اور شاہراہوں کے نام بھی اردو میں لکھے گئے تھے۔ جس کو دیکھ کر کچھ لوگ کہنے لگے تھے کہ دہلی میں اردو چلتی پھرتی نظر آ رہی ہے۔ لیکن اس کام کو پھر آگے نہیں بڑھایا گیا۔ متعدد اردو اخباروں اور یہاں تک کہ بعض انگریزی اخباروں نے بھی غلط اردو کی نشاندہی کی ہے لیکن ان کو ابھی تک درست نہیں کرایا گیا ہے۔ سب سے اہم مسئلہ اردو اساتذہ کی تقرری کا ہے۔ اکیڈمی کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی کوشش تیز کرے لیکن خود اساتذہ فراہم نہ کرے۔ اس سے حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ جاتی ہے اور ان اساتذہ کا مستقبل تباہ ہو جاتا ہے۔ آخر میں ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ اردو کی لڑائی یا غلط اردو کو صحیح کرانے کی ذمہ داری صرف اردو اکیڈمی کی نہیں ہے، اردو والوں کی بھی ہے۔ جس طرح انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری جناب خلیق انجم نے اردو اساتذہ کی تقرری کی مہم شروع کی ہے اسی طرح دوسری تنظیموں کو بھی اس لڑائی میں شرکت کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ان کو چاہیے وہ اٹھیں اور گروپ بنا کر دورہ کریں اور اپنے ساتھ پینٹر لے کر سڑکوں اور مقامات پر لکھی گئی غلط اردو کو صحیح کروائیں۔ اگر حکومت کا کوئی نمائندہ اس میں رخنہ اندازی کرے تو اس کی شکایت متعلقہ ذمہ داروں سے کریں۔ دوسری بات یہ کہ شام غزل، ڈرامے، مشاعرے اور دوسرے پروگراموں کا انعقاد ٹھیک ہے لیکن اس سے اردو کا اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے پرائمری سطح پر اردو کی تعلیم کو تیز کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے اردو اساتذہ کی تقرری کا کام ہونا چاہیے اور اسی کے ساتھ اردو کی درسی کتابوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اس قسم کے دوسرے اہم مسائل کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ تو دے دیا گیا ہے لیکن عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگر اردو اکیڈمی کے ذمہ داران اور اردو کی تنظیمیں اردو کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ اس مہم پر لگ جائیں تو آج نہیں تو کل ان مسائل کو مکمل طور پر نہیں تو کچھ تو حل ہی کر لیا جائے گا۔

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.