یو پی کی تقسیم اور چھوٹی ریاستیں ۔ ایک تجزیہ
نقطۂ نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رشید انصاری
آندھرا پردیش سے علاحدگی کیلئے تلنگانہ والے زائد از چالیس سال سے (وقفوں وقفوں سے سہی) زوردار جدوجہد کررہے ہیں درجنوں افراد نے جان کے نذرانے پیش کئے ‘ تلنگانہ کے عوام (قیادت نے نہیں) طرح طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ ساحلی اضلاع (علاقہ آندھرا) اور رائل سیما کہلانے والے علاقوں کے جبر و استحصال سے نجات پانے اوراپنے علاقے کیلئے ترقی و خوشحالی کے خوابوں کو سچ کرنے کیلئے تلنگانہ کے عوام کی جدوجہد زور و شور سے 1969 ء سے جاری ہے 43 سال گذرنے کے باوجود منزل دور ہی نظر آتی ہے ۔ یو پی کے عوام کی قسمت ہے کہ 19.95 کروڑ عوام کو چار صوبوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرنے کیلئے 400 سے زیادہ ارکان پر مشتمل یو پی اسمبلی نے صرف پچیس (25) سکنڈ میں کردیا۔
مایاوتی نے ملک کی سب سے بڑی ریاست کی تقسیم کا فیصلہ چاہے جن سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کیا ہو وہ اپنی جگہ ہیں ۔ مایاوتی نے جن چار صوبوں کے قیام کا اعلان کیا ہے (ان کا قیام کب ممکن ہوگا؟ یہ ایک علاحدہ اوراہم سوال ہے لیکن اس سلسلے میں چند سوال اہم ہیں
) (1) مجوزہ چار نئی ریاستوں میں کن کن علاقوں کے عوام اپنے لئے علاحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے تھے؟
(2) چار مجوزہ ریاستوں کے عوام یا متحدہ یوپی کے عوام کیا یوپی کیلئے تقسیم کیلئے راضی ہیں؟
(3) کیا یو پی کی تمام سیاسی جماعتوں میں یو پی کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پایا جاتا ہے؟
ظاہر ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب اثبات میں نہیں ہوسکتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ اس صورت میں کیا مرکزی حکومت یو پی کی تقسیم کیلئے وہی طریقہ کار اختیار کرے گی جو وہ آندھرا پردیش میں کرتی آرہی ہے؟ ظاہر ہے کہ بظاہر اس کے امکانات روشن ہیں۔
فی الحال تو صرف اتنا ہوا ہے کہ انتہائی نزاعی انداز میں ندائی ووٹ کے ذریعہ اسمبلی نے یو پی کی تقسیم کی تجویز منظور کرلی ہے ۔ اس کایہ مطلب بہر حال نہیں ہے کہ اتر پردیش کی جگہ ملک کے سیاسی جغرافیہ میں چار نئی ریاستوں کا اضافہ بہت جلد ہوجائے گا۔ طریقۂ کار کے مطابق ملک میں کسی نئی ریاست کے قیام کا اختیار دستور کی دفعہ3 کے تحت ملک کی پارلیمان کو حاصل ہے۔ پارلیمان کی سفارش پر ہی صدر مملکت ریاست کی تقسیم یا نئی ریاستوں کے قیام کی منظوری دے سکتا ہے۔ دیگر رسمی ضوابط کی تکمیل میں خاصا وقتہ لگ سکتا ہے اور مرکزی حکومت اسے مسترد بھی کرسکتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ مایاوتی نے اتر پردیش کی تقسیم اور چھوٹی ریاستوں کے قیام کا اعلان اترپردیش کے عوام کی خواہشات اور چھوٹی ریاستوں میں بہتر طرز حکومت اور ترقی و خوشحالی کے امکانات کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا ہے بلکہ اسے عام طورپر آئندہ سال اتر پردیش میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے ضمن میں مایاوتی کا حربہ قراردیا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ 2007ء میں اکتوبر کی 9 تاریخ کو مایاوتی یہ مسئلہ ایک عوامی جلسہ میں اٹھایا تھا۔ تب سے اب تک یعنی زائد از چار سال تک مسلمانوں کے واسطے کچھ نہ کرنے کے بعد اب ان کو مسلمانوں کے لئے ریزرویشن یاد آیا ہے ۔ یہ تو بقول شاعر وہی بات ہوئی کہ ’’ آج الیکشن کیلئے تم ہم پر ہوئے ہو مہرباں‘‘ چھوٹی ریاستوں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ امریکہ میں28 کروڑ کی آبادی کیلئے 50 ریاستیں ہیں جبکہ ہمارے ملک میں امریکہ کی آبادی کی چارگنا آبادی کیلئے صرف 31 ریاستیں ہیں! خود کانگریس نے1960ء کے بعد جملہ 14 نئی ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جبکہ بی جے پی نے تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں لایا تھا۔ ملک کے سیاسی جغرافیہ کے بارے میں آزادی کے چند سال بعد ہی بے چینی اور ناراضگی کے اظہار کے بعد احتجاجی سیاست نے نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں زور پکڑا۔ تلگوبولنے والے موجودہ آندھرا اور رائلسیما کے عوام کے علاحدہ ریاست کے مطالبہ1953ء میں مدراس کو تقسیم کرکے پہلی لسانی ریاست ‘تلگو بولنے والے عوام کیلئے آندھرا کے نام سے قائم کی گئی ۔ لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تنظیم جدید کیلئے فضل علی کمیشن قائم کیا گیا تھا اس کمیشن کی طویل و مبسوط رپورٹ پر نہ فوری عمل کیا گیا اور نہ ہی چند سال بعد بلکہ اس کی سفارشات کے برخلاف ودربھ اور تلنگانہ کو مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش میں شامل کردیا گیا ۔ چند سال بعد ممبئی یا مہاراشٹرا کی دو لسانی گجراتی و مراٹھی) کو تقسیم کرکے گجرات کی ریاست قائم کردی گئی ۔ ہماچل پردیش کو پنجاب سے 1971ء میں الگ کردیا گیا اس طرح ریاستوں کی تقسیم نہ لسانی رہی اور نہ ہی انتظامی بلکہ معاملہ سیاسی ہوگیا۔1963ء میں آسام سے ناگالینڈ کو الگ کیا گیا تھا تو ناگالینڈ کی آبادی صرف 4 لاکھ تھی۔ 1972ء میں میگھالیہ اور تریپورہ کو تقسیم کرکے میزورم اور اروناچل پردیش کی ریاستیں قائم کی گئیں ۔ بی جے پی اتر پردیس سے اتر آنچل مدھیہ پردیش سے چھتیس گڑھ اور بہار سے جھار کھنڈ کو الگ کرکے نئی ریاستیں قائم کیں کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں نے ہی نئی ریاستوں کا قیام سیاسی مصلحتوں کی بناء پر کیا یا ان مطالبات کو مسترد کرنا بھی سیاسی وجوہات کے تحت ہوا مثلاً این ڈی اے (دراصل بی جے پی) نے جھار کھنڈ چھتیس گڑھ اور اتر آنچل کے ساتھ تلنگانہ ریاست کا قیام اس وجہ سے عمل میں نہیں لایا کہ تلنگانہ کا قیام بی جے پی کے اہم حلیف چندرابابو نائیڈو کو پسند نہ تھا اور بغیر بابو کی تلگودیشم کے این ڈی اے کی حکومت کا برقرار رہنا ممکن نہ تھا آج بی جے پی کو چندرابابو سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس لئے بی جے پی قیام تلنگانہ کی حمایت کررہی ہے ۔ آج کانگریس علاقہ آندھرا اور رائلسیما کے سرمایہ داروں اور بڑے زمینداروں کی خوشنودی برقرار رکھنے اور ان علاقوں میں آنجہانی وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی کے فرزند کے سیاسی اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے قیام تلنگانہ کی مخالفت کررہی ہے ۔ یہ کہنا کہ کانگریس چھوٹی ریاستوں کی حمایت کرتی ہے غلط ہے ساتھ ہی یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس کو چھوٹی ریاستوں کا قیام ناپسند ہے ۔ بی جے پی ہو یا کانگریس دونوں ہی کم یا زیادہ چھوٹی ریاستوں کے قیام کی تائید اور مخالفت سیاسی ضرورتوں اور مفادات کی خاطر کی ہے ۔عوامی مفاد اور علاقوں کی ترقی وغیرہ تو صرف کہنے کی باتیں ہیں۔
اب آئیے پھر اتر پردیش کا رخ کرتے ہیں۔ مایاوتی اور اچھی اور کارگر حکومت دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہیں۔ خود نمائی اور کرپشن ہمیشہ ہی مایاوتی حکومت کی خصوصیات رہی ہیں۔ اب جبکہ یو پی اسمبلی کے انتخابات میں چند ماہ رہ گئے ہیں تو مایاوتی نے یہ داؤ چلا ہے اب اگر ان کے مخالفین خاص طور پر بی جے پی کانگریس اور سماج وادی پارٹی یو پی کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہیں تو مخالفت کرنے والی جماعت یا جماعتوں کے خلاف مایاوتی یہی کہیں گی کہ ان ریاستوں کی پسماندگی اور ترقی نہ کرن کی ذمہ دار یہ جماعت یا جماعتیں ہیں اور اگر تمام جماعتیں یا کوئی جماعت قسیم کی حمایت کریں بھی تو ریاست کی تقسیم کا سہرا اپنے سر باندھ کر مایاوتی سرخرو ہونے کی کوشش کریں گی۔ لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے کیوں کہ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ مایاوتی کو یو پی تقسیم کا نسخہ 2007ء کے بعد سے اب تک کیو ں نہیں یاد آیاتھا۔ کانگریس نے اپنے انتہائی رد عمل میں اسے مایاوتی کا سیاسی اور انتخابی حربہ قراردیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی نے کھلم کھلا مخالفت کا اعلان کیا ہے بی جے پی کے اڈوانی نے کہا ہے کہ اسے جلد بازی کا فیصلہ قراردیا ہے۔
مایاوتی کیلئے یو پی جیسے صوبہ کا اقتدار یا 80 ارکان لوک سبھا کی بڑی تعداد کا ان کا اپنا ہونا بظاہر زیادہ سود مند ہے لیکن اس میں ’’ تخت یا تختہ‘‘ والی بات ہے یو پی کی چار ریاستوں میں ایک دو میں تو اقتدار حاصل کرنا زیادہ آسان ہے چھوٹی ریاستیں انتظامی لحاظ سے مفید ہوں نہ ہوں بی جے پی یا مایاوتی یا کسی کے لئے بھی مفید یوں ہے کہ چار ریاستوں کا مطلب ہے چار وزیر اعلیٰ ‘ چار عدد کابینہ ‘ زیادہ وزراء اور زیادہ عہدے اس طرح مایاوتی جو وزارت عظمیٰ پر نظر رکھتی ہیں اس طرح وہ زیادہ عہدے بانٹ کر اپنا ذاتی اثر بڑھاسکتی ہیں۔
واضح ہو کہ ان چار ریاستوں میں دو کی تکمیل مناسب طرح اسی وقت ہوسکتی ہے جبکہ پروآنچل (مشرقی ) پردیش میں بہار کا کچھ علاقہ اور بنڈیل کھنڈ میں تو مدھیہ پردیش کا علاقہ شامل کرنا ضروری ہوگا دوسری ریاستوں کے علاقوں کی شمولیت آسان نہ ہوگی اس کے لئے مایاوتی اپنی ریاست میں قرارداد پاس کرواسکتی ہیں لیکن کیا بہار اور مدھیہ پردیش میں ان کیلئے کیا یہ ممکن ہوگا؟
یو پی میں مایاوتی کیلئے ’’ دلت کی بیٹی ‘‘ اور برہمنوں دلتوں اور مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ’’سوشیل انجینئرنگ‘‘ کی اس بار کامیابی آسان نہیں ہے مسلم ووٹ بی ایس پی کو کم ہی مل پائیں گے ۔ کانگریس کا بھی کچھ اثر بڑھ رہا ہے ان چیزوں کو مد نظر رکھ کر یو پی کی تقسیم کا پانسہ مایاوتی نے پھینکا ہے وہ زیادہ شائد ہی کامیاب ہو۔ اگر کانگریس مایاوتی کی تجویز مان لیتی ہے تو پھر اس کیلئے ضروری ہوگا کہ تلنگانہ ہی نہیں اور دیگر چھوٹی ریاستوں کو قائم نہ کرنا کانگریس کیلئے ممکن نہ ہوگا لیکن کانگریس مایاوتی کو اس کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کا موقع شائد ہی دے ادھر علاحدہ تلنگانہ کی تحریک بظاہر دبی ہوئی ہے لیکن تلنگانہ تحریک دبنے کے بعد جب ابھرتی ہے تو بڑی شدت کے بعد ابھرتی ہے ۔ کانگریس کئی چھوٹی ریاستوں کے قیام کی حامی بھرنے کی متحمل شائد ہی ہوپائے اسلئے ریاستوں کی تنظیم جدید کےئے کانگریس ایک میشن قائم کرکے بہت سارے مطالبات سے نہ صرف کچھ عرصہ کیلئے راحت پائے گی بلکہ چھوٹی ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کرنے والوں میں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو کم کرسکے گی اور مایاوتی کا کا یو پی میں (عارضی سہی) زور توڑ سکے گی۔
مایاوتی کی تجویز پر روک لگانے کیلئے کانگریس یو پی میں وہی حربے اختیار کرسکتی ہے جو کہ وہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ معاملہ میں استعمال کرچکی ہے یعنی تمام فریقوں کا اتفاق ۔ ریاست کے مختلف قائدین سے مشاورت اور مذاکرات قومی سطح پر مشاورت وغیرہ جب کانگریس جان و مال کا نذرانہ دینے والوں جبر و ظلم اور استحصال کا شکار ہونے والے اہل تلنگانہ کی قربانیوں اور عوامی طاقت کا توڑ کرسکتی ہے تو وہ یو پی میں جہاں کئی علاقوں میں علاحدگی کی تحریک ہی نہیں ہے بہت کچھ کرسکتی ہے اگر کانگریس یو پی کی تقسیم اور قیام تلنگانہ کو مربوط نہ بھی کرے تو یہ کھیل اسے مہنگا بھی پڑسکتا ہے۔
RASHEED ANSARI,
Ph :09949466582
rasheedmansari@yahoo.co.in

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.