اردو صحافت کو بدنام کرنے والوں پرقدغن کیوں نہیں
محمد مغیث خان
ہندوستان کی جنگ آزادی میں اردو اخبار کا ایک اہم کارنامہ رہاہے ۔اردو اخبار کے اندر مضامین اور سیاسی تجزیے نہایت مدلل، فکر انگیز اور دلچسپ ہوتے تھے ،انگریزی سرکار پر سخت تنقید کے ساتھ عوامی جذبات و آزادی کی تحریک کی بھرپور نمائندگی ہوا کرتی تھی۔لیکن سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ اردو اخبارجس کا اتناشاندارماضی رہاہے آج وہ پستی کی طرف کیوں جارہا ہے ؟اردوصحافت کی تاریخ میں ایسے ایسے جید لوگوں کے نام شامل ہیں جوصحافت کی آبرو سمجھے جاتے تھے۔ مولاناابوالکلام آزاد، مولانا محمدعلی جوہر ،حسرت موہانی، عبدالماجددریاآبادی اورکئی ایسے نام ہیں جوصحافت کے ذریعہ اردوادب کے ساتھ ساتھ ملک وقوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تھے۔ وہ اپنی جائیداد سے اس عظیم کام میں خطیررقم خرچ کرتے تھے اور متعدد بادانگریزوں کے ظلم کا شکاربھی بنے ۔ لیکن آج اس پاک اورقومی خدمت جیسے معتبر کام کولوگ بدنام کررہے ہیں۔حد یہ ہے کہ1000سے زائد اردو اخبار کا رجسٹریشن صرف دہلی کے اندر ہے لیکن بازار میں صرف چند اخبار نظر آتے ہیں۔ جو اخبار بازار میں نظرآتے ہیں ان میں سے چند کا نام ،سہار ا،ہماراسماج ،صحافت ،انقلاب،ہندوستان ایکسپریس، اخبارمشرق ، عندلیب ، اردو نیٹ ،سیکولرقیادت،جدیدمیل ،جدیدخبر،خبردار، قومی تنظیم،نئی دنیا ،فاروقی تنظیم ، صدائے وطن، راشٹری وادی، صدائے اودھ ،صدائے انصاری ،چوتھی دنیا ،اکبری ،مسرت ،پروازایکسپریس،جسٹس ایکسپریس، سیاسی افق وغیرہ جوبازار میں نظر آرہے ہیں۔ ان میں کچھ DAVPیاDIPہیں اور کچھ نہیں۔ DAVP ؁ٓیاDIPنہ ہونے کی باوجودبھی قوم کی خدمت کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے اخبارایسے ہیں جوDAVPیاDIPہونے کے باوجودحسب ضرورت یعنی دس سے پندرہ کاپیاں نکال کرحکومت اور عوام کونہ صرف دھوکہ دیتے ہیں بلکہ صحافت کے پیشے کو بھی بدنام کرتے ہیں۔ مستحق اخباروں کو ان کامناسب حق دلانے کے لیے دہلی کی ایک فعا ل غیرسرکاری تنظیم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام اردواخباروں سے بذریعہ آرٹی آئی یہ معلوم کیا جائے کہ حقیقت میں ان کی کتنی کاپیاں چھپتی ہیں اور وہ حکومت کی آنکھ میں دھول جھوک کر سی اے کی مدد سے کتنا دکھاتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد اتنی ہے تووہ مارکیٹ میں نظر کیوں نہیں آرہے ہیں ۔
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ سرکار سے اشتہارتولے رہے ہیں لیکن صرف اتنی کاپیاں چھاپتے ہیں جو سرکاری آفسوں تک محدد ہے۔ سرکارکے نظروں میں ان کا اخبارنکل رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا اخباربوریوں میں بند ہے ۔اردو اخبار تیسرے نمبر پر کیوں نہیں رہے گا ،کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
’’مرغ لڑارہے ہیں پیسے کی واسطے،
اخبارنکل رہے ہیں بوٹی کے واسطے ۔‘‘
لوگوں کا مقصد بن گیا۔ رجسٹریشن کرا کے پیسہ کمانا ہے ایک آفس سے چارچاراخبار نکلنا و ہ اخبار صر ف آفس تک محدد رکھناایک تو عوام کو دھوکھا دینا دوسرا سرکار کو ۔نشرواشاعت کے وزیر سے مطالبہ ہے جن اخبارو ں کے مالک اس طرح کی اوچھی حرکت کرتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اگر ممکن ہو تو اپنی سطح پر اس کی تحقیق کرکے ان کا DAVPاورDIPرد کردیاجائے۔( یو این این )

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.