کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آو سچ بولیں
ڈاکٹر سلیم خان
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان میں جس طرح تین موسم (سردی گرمی اور برسات)پائے جاتے ہیں اسی طرح پارلیمان کے تین اجلاس بھی ہوتے ہیں موسمِ سرما میں سرمائی موسمِ باراں میں بارانی اور موسمِ گر ما میں بجٹ اجلاس۔ بجٹ اجلاس کو گرمائی اس لئے نہیں کہا جاتا کہ بجٹ کی گرمی موسم کی شدت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے ممکن ہے بہت جلد موسم کو اجلاس کے نام سے موسوم کردیا جائے اور اسے موسمِ بجٹ کہہ کر پکاراجائے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کیا اس ارضِ جنت نشان میں بہارو خزاں کے موسم نہیں پائے جاتے؟ کیوں نہیں ، لیکن ان کی نوعیت قدرتی موسم سے مختلف ہوتی ہے۔یہاں موسم پر بھی جمہوریت کا رنگ غالب آگیا ہے اور وہ بھی عوام و خواص میں فرق کرنے لگے ہیں۔حکمران طبقہ یہاں پر سال بھر بہار کا مزہ لوٹتا رہتا ہے۔اسی لئے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس طبقے میں شامل ہو جائے اور جب کسی کو یہ سنہری موقع ہا تھ آجاتا ہے وہ کسی صورت اس سے دستبردار ہونا نہیں چاہتا۔اس کے بر عکس محروم عوام ہیں جو صدا بہار خزاں سے محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خزاں بھی کوئی مزہ لینے کی چیز ہے ؟ کیوں نہیں، انسان جب کسی چیز کا عادی ہو جائیتو وہ اس سے لطف اندواز ہونے لگتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ شہ اچھی ہے یا بری ؟ مضر ہے یا مفید؟ منشیات کے عادی افراد اس امر کا ثبوت ہیں۔وہ بلا سوچے سمجھے نشے میں مست ہوتے ہیں۔ ویسے بقول خشونت سنگھ ہندوستان کی عوام کا سب سے بڑا نشہ انتخابی سیاست ہے کہ جب وہ جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور اچھے اچھوں کے ہوش اڑا دیتا ہے۔ اس سال بھی جب پارلیمان کاسرمائی اجلاس گرما گرم تصادم کا شکار ہوا تو قیاس لگایا جارہا تھا کہ یہ گزشتہ سال کا ریکارڈ توڑ دے گا جس میں صرف ۶ فی صد وقت کام میں صرف ہوا تھا بقیہ ضائع ہو گیا تھا لیکن اس بار نصف اجلاس کے خاتمے پر حکومت نے عقل کے ناخون لئے جس کے نتیجے میں کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔بھارت میں غیر ملکی کمپنیوں کو سپْر بازار کھولنے کی اجازت دیئے جانے کے سوال پر سرکارنے بالآر گھٹنے ٹیک دئیے اور اس اقدام کو فی الحال معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔اس مسئلے پر جو سیاسی ہنگامہ آرائی اور تعطل پیدا ہوا تھا اس سے نکلنے کیلئے حکومت کے پاس مندرجہ ذیل چار متبادل موجود تھے : 149 اپنی اخلاقی شکست کو تسلیم کر کے سپر بازار میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فیصلے کو معطل کر دیا جائے
149 بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تحریک التوا پر بحث اور پھر رائے شماری کا خطرہ مول لیا جائے
149 اس مسئلے پر تحریکِ اعتمادپیش کر کے حامیوں کیلئے آزمائش پیدا کر دی جائے نیزمخالفین کی ہوا نکال دی جائے
149 پارلیمان کے سرمائی اجلاس کو ہنگاموں کی نذر کر دیا جائے
حکومت کے پیشِ نظر چونکہ اس سرمائی اجلاس میں لوک پال بل ،زمین کو حکومتی استعمال میں لینے کا قانون،پنشن کا بل،ترقیاتی محکمہ کا قانون اور جوہری تحفظ کا بل پیش کرنا مقصود ہے اس لئے اس نے آخری متبادل سے گر یز کیا۔ترنمول اور ڈی ایم کے اڑیل رویہ کے چلتے حکومت۲۰۰۸ئکے نیوکلیائی بل کی مصداق سخت موقف نہیں اختیار کر سکی اور مجبوراً اسے پہلے متبادل پر راضی ہونا پڑا۔ وزیر اعظم اور وزیر تجارت آنند شرما علی الاعلان یہ کہہ چکے تھے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی مصالحت نہیں ہوگی اس کے باوجودکانگریس پارٹی اور وزیر اعظم کو جھکنا پڑا۔یہ اور بات ہے کہ بی جے پی اب بھی معطلی کے بجائے منسوخی پر اصرار کر رہی ہے۔ اس لئے کہ اس سیاسی دھینگا مشتی کا سار ا کریڈٹ تو کانگریس کی حلیف اور اشتراکیوں کی حریفِ اول ممتا کی جھولی میں چلا گیا اور حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں جو خم ٹھونک کر میدان میں ایک ساتھ اتری تھیں ہاتھ ملتی رہ گئیں۔ اس لئے اب کھسیانی بلی کی مانند کھمبا نوچ رہی ہے جس کے نتیجے میں خود اس کے اپنے ناخون لہولہان ہو رہے ہیں۔
حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جاری محاذ آرائی میں دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب متحدہ ترقی پسند محاذ میں شامل ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے نے اس مسئلے پر کانگریس کا ساتھ چھوڑ دیا۔یہ ایک ایسی عجیب و غریب صورتحال تھی جس میں ایک دوسرے کے ازلی دشمن سمجھے جانے والے فسطائی اور اشتراکی ایک ساتھ ہو گئے تھے جبکہ حکومتِ وقت کی دائمی ہمنوا علاقائی موقع پرست جماعتوں نیسرکار کی مخالفت
کا فیصلہ کیا تھا۔کرونا ندھی کی بیٹی کنی موزی کوٹوجی گھپلے میں جس طرح مرکزی حکومت نے انہیں خوار کیا ہیاس کے چلتے ڈی ایم کے اس ردعمل کی توقع تو تھی لیکن ممتا بنرجی کا رویہ یقیناً حیرت انگیز ہے۔
ممتا جب تک اپوزیشن میں تھیں تو اس وقت مغربی بنگال کی اشتراکی حکومت پر بڑھ چڑھ کر تنقید کیا کرتی تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں اپنے رائے دہندگان کو نہایت خوش آئند خواب دکھلائے لمبے چوڑے وعدے کئے اور نتیجہ یہ ہواکہ عوام نے ان پر اعتماد کرکے اقتدار کی باگ ڈور ان کو سونپ دی۔اب مسئلہ یہ ہے ان میں سے ایک ایک کر کے سب خواب ٹوٹ رہے ہیں۔ ممتا کی سمجھ میں آنے لگا ہے الزام لگانا اور وعدہ کرنا جس قدر سہل ہے ان کو نبھانا ایسا آسان نہیں ہے۔ اس لئے ممتا اب سیاسی بازیگری پر اتر آئی ہیں۔ پہلے انہوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کڑہ رخ اپنایا اور پھر ریاستی خزانے کیلئے خطیر رقم حاصل کر کے خاموش ہو گئیں۔ اس بار انہوں نے سپر بازار کے معاملے میں غیر مصالحت کا رویہ اپنا کر اپنے آپکو غربا ء و مساکین کاسب سے بڑا حامی بنا کر پیش کردیا جس کا یقینی فائدہ انہیں سی پی ایم کے خلاف آئندہ انتخابات میں ہوگا۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کا دعویٰ ہے کہ بعض جماعتوں کی جانب سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش اس مسئلے کے حل کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ان کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کی آمد سے ترقی کی رفتار بڑھے گی اور کسانوں و صارفین دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق دیگر ممالک کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ سپْر بازار کھولنے سے بنیادی ڈھانچے میں بہتری آتی ہے۔لیکن حزب اختلاف اور حکومت کی دو اتحادی جماعتوں کے مطابق اس فیصلے سے کسانوں کا استحصال ہوگا اور کرانے کے چھوٹے کاروبار تباہ ہو جائیں گے۔جہاں تک اس کے پس پردہ کھیلی جانے والی سیاست کا سوال ہے وفاقی وزیر برائے ریلوے دنیش ترویدی جن کاتعقا ترنمول کانگریس سے ہے کہتے ہیں کہ ’ ملک کا آئین کوئی روٹری یا لائنس کلب نہیں ہے، آئین سیاسی ہے، سب کچھ سیاسی ہے اور یہ فیصلہ بھی سیاسی مسئلہ ہے، جو لوگ تنگ نظریہ سے سوچتے ہیں وہ ہی اس فیصلے کی مخالفت کو سیاسی فائدہ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔سپر بازار کے مسئلے پرترویدی کا دوٹوک جواب اس شعر کی یاد دلاتا ہے ؟
کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آو سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں
ترنمول ،ڈی ایم کے،اشتراکی یا فسطائی جو بھی کہیں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ سارا معاملہ سیاسی ہے۔ ہندوستان میں تقریباً ۸ ہزار چھوٹے بڑے شہر ہیں۔جن میں سے صرف ۳۵ کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے تو گویا غیرملکی سپر بازار ان ۳۵ شہروں میں آئیں گے بشرطیکہ وہاں کی ریاستی حکومتیں اس کی تو ثیق کریں۔ چونکہ فی الحال نصف سے زیادہ ہندوستا ن کی ریاستی حکومتوں پر حزب اختلاف یا علاقائی جماعتوں کا قبضہ ہے اس لئے کل ملا کر ۵۲ کے آس پاس ایسے سپر بازار کھل سکیں گے جن میں زیادہ سے زیادہ ۱۵ فیصد سرمایہ کاری بیرونی ہوگی اور ۵۹ فیصد سرمایہ داخلی ہوگا۔ ان دوکانوں میں بکنے والاکم از کم ۰۳ فیصد مال بھی ہندوستان کی اپنی پیداوار ہوگا اور کام کرنے والے ۰۰۱ فیصد ملازم دیسی ہوں گے۔ اس کے باوجود اس قدر شور شرابہ محض سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے جس کا اندازہ اس شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کی تاریخ سے لگایا جاسکتا ہے۔
ہندوستان کے خودرہ بازار میں بیرونی سرمائے کی آمد اس زمانے میں ہوئی جب وزیر اعظم منموہن سنگھ نرسمھا راؤکے تحت وزیرخزانہ ہو اکرتے تھے۔اس وقت انہوں نے محدود پیمانے پر ڈیری فارم نامی بین الاقوامی کمپنی کو ہندوستان میں سرمایہ کاری کاموقع دیا لیکن آگے چل کر وزیرخزانہ چدمبرم نے اس پالیسی کوبدل دیا اس لئے کہ وہ سرکار اشتراکیوں کی حمایت پر قائم تھی۔ بی جے پی کے متحدہ قومی محاذ کو جب اقتدار حاصل ہوا تو اس نے بھی اس جانب پیش رفت کی اور اس کی مخالفت کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ کانگریسی تھے۔ یہ ۲۰۰۴ئکی بات ہے جب کانگریس پارٹی کیسابق وزیر پریہ رنجن داس منشی نے پارلیمان کے اندراپنی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت کو ہندوستان کے خوردہ تاجروں کو یقین دلانا چاہئے کہ ان کے کاروبار میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت نہیں کی جائیگی اس لئے کہ اس کے نتیجے میں وہ نہ صرف بیروزگار ہو جائیں گے بلکہ ان کی تجارت مکمل طور پر تباہ و برباد ہوکر رہ جائیگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی کمپنیاں انتظامیہ کی مدد سے حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ بیرونی سرمائے کے اس شعبہ میں آمد سے مقامی بیوپاریوں کو حاصل سارے مواقع چھن جا ئیں گے۔
آج کل کانگریسی خود اپنی اس مخالفت پر پردہ ڈال کر بی جے پی کو اس باب میں ان کے اقدامات کی یاد دلاتے ہیں اور بی جے پی کوان کے منشور کے حوالے بتاتے ہیں تو بی جے پی یہ کہہ کر اپنا دامن جھٹک دیتی ہے کہ وہ ان کا نہیں متحدہ قومی محاذ کا منشور تھا اوراس ڈھٹائی کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے گویا بی جے پی کا این ڈی اے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ جس مرلی منوہر جوشی نے بی جے پی بنام این ڈی اے کا مذکورہ منشور لکھا انہیں کی قیادت میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی بیرونی سرمایہ کاری کی مخالفت کر دیتی ہے اور بی جے پی ہی کے شانتا کمار کی قیادت میں قائم کردہ پینل اس سرمایہ کاری کا حامی نظر آتا ہے گویا جو بھی جماعت جب حزب اختلاف میں ہوتی ہے تو مخالفت ہوتی ہے تاکہ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی غرض سے صدائے احتجاج بلند کی جائے اور جب اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو پھر سرمایہ داروں کوخوش کرنے کیلئے یہ بل دوبار ہ درآمد کر لیا جاتا ہے گویا وقت کے ساتھ سیاسی جماعتوں کا پینترا بدل جاتا ہے اسی کو کہتے ہیں اول درجہ کی منافقت۔
کانگریس والے اس اقدام کو ایک انتظامی فیصلہ قرار دیتے ہیں جسے پارلیمان کی توثیق کی کوئی ضرورت نہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف حزب اختلاف کو تحریک التوا پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس بار پارلیمانی اجلاس سے قبل بی جے پی اور کمیونسٹوں کے اندر اچھا خاصہ تال میل دیکھنے کو آیا تھا۔شاید یہ مغربی بنگال میں شکست کا نتیجہ ہے اور ممکن ہے کہ آئندہ یہ دوستی کم از کم بنگال اور کیرالہ کی حدتک سہی انتخابی مفاہمت میں بدل جائے۔ یہ انتخابی سیاست ہے اس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ یہاں دوستی اور دشمنی کا معیار اصول و ضابطہ پر نہیں بلکہ مفاد پرستی ہوتی ہے۔ اس بار بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹی نے آپس میں یہ طے کیا کہ وہ سرکار پر دوطرفہ حملہ کریں گے ایک مہنگائی کے مسئلے پر حکومت کو گھیرے گا تو دوسرا کالے دھن کا راگ سنائے گا لیکن اس جگل بندی میں دونوں ایک دوسرے کی حمایت کریں گے۔ جس وقت اس حکمتِ عملی کو طہ کیا جارہا تھا کسی کے خواب و خیال میں بات نہیں تھی کہ کانگریس جیسی گھاگ پارٹی سپر بازار کا یہ مدعا طلائی طشتری میں سجا کر ان کے سامنے رکھ دے گی۔اسے کانگریس پارٹی کی ناعاقبت اندیشی کہیں یا بیجا خوداعتمادی جو اس نے پارلیمانی اجلاس
کے دوران یہ فیصلہ کر دیا اورسارے لوگ سب کچھ بھول بھال کر اس کے پیچھے پڑ گئے نوبت یہاں تک آپہنچی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بائیں بازو کی جماعتیں حکومت کے اس فیصلے پر التوا کی تحریک کے تحت بحث اور ووٹنگ اڑ گئیں۔ حکمراں اتحاد میں شامل ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے ان کے ساتھ ہو گئے۔ ان کی حمایت کے بغیر حکومت کو لوک سبھا میں اقلیت میں آگئی جو حکومت کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ اس لیے حکومت ایسی شق کے تحت بحث کرانے کی کوشش میں لگی گئی جس میں ووٹنگ لازمی نہ ہو اور قرارداد کا متن ایسا نہ ہو جس کے منظور ہونے سے حکومت کی سرزنش ہوتی ہو۔
حکومت کی کمزوری نے حزب اختلاف کے حوصلے بلند کر دئیے ہیں اور وہ اب کل جماعتی میٹنگ کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ قرارداد کے الفاظ ان کی مرضی سے طے ہوسکیں۔ اس کا اصرار ہے کہ اگر یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا تو احتجاج جاری رہے گا اور پارلیمان کو چلنے نہیں دیا جائیگا۔ حکومت نے اس مطالبے کوبھی تسلیم کرلیا ہے اور ۷ دسمبر کو یہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس سیاسی اٹھا پٹخ کا نتیجہ جو بھی ہولیکن اس میں شک نہیں کے سپر بازار کے اس معاملے میں سرکار اور وزیر اعظم کی عزت سرِ بازار نیلام ہو ئی ہے اور اس مسئلے نے پارلیمان کو ایک مچھلی بازار میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ کانگریس پارٹی اور پرنب مکرجی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کی جوحالت کی ہے وہ مندرجہ ذیل شعر مصداق ہے ؂
مجھ کو رسوا سرِ بازار نہ کروایا کرے
جس مصیبت نے گزرنا ہے گزر جایا کرے
ہمارے ملک میں بہت سارا کاروبار موسمی ہوتا ہے بازارِ سیاست کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے لیکن فطرت کے موسم اور پارلیمانی اجلاس میں ایک فرق مدتِ کار بھی ہوتا ہے۔ہرموسم کم و بیش چار ماہ پر محیط ہو تا ہے گویا کل ملا کر تینوں موسم پورے ۳۵۶ن کا احاطہ کرتے ہیں لیکن پارلیمانی اجلاس کی سال میں صرف ۸۳ نشستیں ہوتی ہیں۔بجٹ پر بحث کرنے کیلئے سب سے زیادہ ۳۵ دنوں کی مدت کو مختص کیا گیاہے جبکہ باقی ماندہ دو اجلاس کیلئے ۴۲ دنوں پر اکتفا کر لیا جاتا ہے۔ ویسے یہ۳۸ دن بھی ہندوستان جیسے غریب ملک کے لئے خاصے مہنگے پڑتے ہیں۔ ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں اس ڈرامے کو رچانے کا خرچ بالترتیب۵۶ء ۷۴۳ اور ۳۳ء ۲۷۱ کروڈ روپئے ہے۔ وزارتِ پارلیمانی امور کو اس کے علاوہ ۷۴ء ۷ کروڈ روپئے مہیا کئے جاتے ہیں۔ کل تخمینہ ۵۴ء۷۲۵ کروڈ روپئے ہے گویا ۵۳ء ۶ کروڈ روپئے یومیہ کا خرچ۔اس سال کے سرمائی اجلاس کا نصف ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیاجس سے ۵۲ء ۵۹ کروڈ روپئے نذرِآتش ہوگئے۔عام آدمی کیلئے یقیناً یہ ایک خطیر رقم ہے لیکن جہاں ٹوجی،سی ڈبلیوجی اور مکانات کے تین گھپلوں پر تین لاکھ کروڈ خرد برد کر دیئے گئے وہاں سو کروڈ کی کیا بساط اس لئے کہ ان تین کے علاوہ اور نہ جانے کتنی بد عنوانیاں پارلیمان کے قبرستان میں دفن ہیں بقول غالب "سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں"
سپریم کورٹ کے معروف ریٹائرڈ جسٹس کرشنا ائیر نے اس صورتحال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاستداں اس احساس سے بے بہرہ ہیں کہ ہر منٹ جو وہ پارلیمان میں ضائع کیا جاتا ہے اس پر عام آدمی کا قیمتی سرمایہ صرف ہوتا ہے۔ سیاستدانوں کی اس لاپرواہی کی وجہ یہ ہے کہ ان کی گذربسر ہی ٹیکس دہندگان کے استحصال شدہ دولت پر ہوتا۔ ایک چونکا دینے والے مطالعہ کے مطابق ۱۹۵۱ میں پارلیمان چلانے کیلئے فی منٹ خرچ صرف۱۰۰ روپئے تھا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب سیاست سوداگری نہیں ایمانداری پر چلتی تھی۔بازارِ سیاست میں انسانی ضمیر کا سودہ نہیں ہوتا تھا۔اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن پر یہ شعر صادق آتا تھا ؂
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
آزادی کے بعد گزشتہ۶۰ سالوں میں سیاست بازارِ حسن بن گئی اور سیاستدانوں کی حالت متاع کوچہ و بازار کی سی ہو گئی ۔ فی الحال پارلیمانی اخراجات پر خرچ ۱۹۵۱ کے بالمقابل ۴۵ گنا بڑھکر۴۴۹۰ روپئے فی منٹ ہوگیا ہے۔ اس کے باوجود ہنگامہ آرائی اورضیائے وقت میں اضافہ ہی ہوا ۔۱۹۹۶تا ۱۹۹۸ کی ۱۱ ویں لوک سبھا میں صرف وقت ضائع ہوا تھا جبکہ ۱۹۹۹ تا۲۰۰۴ کے دوران یہ اعداد تک پہنچ گئے اور فی الحال یہ ۳۸فیصد کو چھو رہا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایوان زیریں کے بالمقابل ایوان بالا کا حال اور بھی برا ہے وہاں۴۸ فیصد وقت ہنگامہ آرائی کی نذر ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے اگر ان اخراجات پر لگام لگائی جائے اور وقت کا صحیح استعمال کر کے مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو فی زمانہ ہمیں کسی بیرونی سرمایہ کاری کی مطلق ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لاکھ فائدے سہی لیکن اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان سرمایہ گاروں کی خصلت مردہ خورگدھ کی سی ہے جو لاشوں تک کو بھی چیر پھاڑ کر چٹ کر جاتے ہیں۔(یو این این)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.