نریندر مودی اور خصوصی تحقیقاتی ایجنسی رپورٹ

ڈاکٹر محمد اجمل،جے این یو، نئی دہلی
خصوصی تفتیشی ایجنسی ایس آئی ٹی جس کا خاص طور پر2002کے گودھراٹرین حادثہ کے بعدریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کے لئے عدالت عالیہ کی ایماء پر 2008 میں قیام عمل میں آیا ۔نریندر مودی کے غنڈا راج میں عدالت کورٹ کچہری چپدی کے شوربے کے مصداق ہیں ورنہ زیریں عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک مودی کو متعدد بار وارننگ اور سبق آموز مشورے دیے مگر انہوں نے کسی کی ایک نہیں سنی یہی وجہ ہے کہ 2008 سے تا حال یعنی تقریبا چار برس کی مدت میں کئی دفعہ عدالت کی کارروائیوں میں رخنہ انگیزی ہوئی، کیس کی کارروائیوں میں متعدد دفعہ توسیع ہوئی اور ثبوت ودلائل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بلکہ بسا اوقات انہیں مٹانے کی کوشش کی گئی حتی کہ کئی بار اس کیس کے حامیوں اور گواہوں کو د ھمکیاں بھی دی گئیں ۔ اور پھر حالیہ دنوں میں آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کا معاملہ جنہوں نے کھلم کھلا مودی کے خلاف محاذ آرائی کی اور اس کا خمیازہ انہیں کچھ دنوں کے لئے جیل میں رہ کر بھگتنا پڑا۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ کوئی مانے یا مانے کم از کم آثار تو بتا رہے ہیں کہ گجرات کے ضدی وزیر اعلی نریندر مودی کے انجام کا آغاز ہو چکا ہے۔ تاریخ عالم نے بڑے بڑے رعونت پسندوں کا احاطہ کیا ہے ان میں ہم کسی کو نہیں پاتے ہیں جس کے غرور کا سر خم نہ ہوا ہو۔نریندر مودی نے اپنے سیاسی ارتقاء کے لئے جس طریق کار کا انتخاب کیاہے اسے ذلت کی گہرائی تک پہنچنا ہی ہے اور وہ دن اب دور نہیں ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ زود یا تاخیر سے گجراتیوں کی وہ اکثریت بھی جو ریاست کی ترقی کے نام نہاد دعوؤں کے جھانسے میں آ گئی ہے اور اگر یہ نہیں تو سب کچھ جان بوجھ کر خاموش رہنے کو ترجیح دیتی آئی ہے وہ مودی کا حقیقی چہرہ مشاہدہ کرنے کی تاب لاتے ہوئے غلط کو غلط کہنے کی جرأت سے کام لے گی۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ جو شخص آئین و قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے کسی بھی حد سے گذر جانے کو تیار رہتا ہواس نے اگر 2002 میں سماج کے ایک حصے کو ہدف بنایا تو کیا بعید ہے کہ وہ مستقبل میں معاشرے کے دوسرے حصوں کے جذبات اور مفادات کو کسی نہ کسی سطح پر اپنے آمرانہ طریق کار سے ٹھیس نہیں پہنچائے گا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی کی مسلسل رعونت پسندی اور تکبر و غرور بی جے پی کی مرکزی لیڈرشپ نے اب تک کوئی نوٹس نہیں لی ہے جس سے اس کی ناراضگی ظاہر ہوتی ہو۔ یہ منافقانہ رویہ شروع سے اب تک جاری نہ رہتا تو مودی کی سرکشی اس حد تک نہ بڑھتی اور افسوس کہ پارٹی کے سینئر لیڈر اس وقت بھی مودی کی جارحیت کو سمجھ نہیں پائے جب انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو تر بہ ترکی جواب دیا تھا کہ راج دھرم کا پالن ہی تو کر رہا ہوں۔
اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو مودی کے اپنے لوگ ان سے خوف کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گجرات کے سابق وزیر اعلی کیشو بھائی پٹیل کا کہنا ہے کہ پورے ملک کو سمجھ لینا چاہئے کہ 2002 کے حادثوں کے بعد نریندر مودی کے قہر سے میری قوم اور گجرات کے عوام خوف کے سائے میں زندگی گذار رہے ہیں۔ مودی کی سیاسی دادا گیری عیاں ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ریاست کی سارے ادارے تنگ آچکے ہیں۔ یہ باتیں ریاست کے اولین درجے کے بی جے پی سیاسی لیڈرکی زابان سے جاری ہوئی ہیں جنہیں گجرات بی جے پی کا مرد آہن شمار کیا جاتا تھااور انہیں آنا فانا میں مرکزی بی جے پی لیڈر شپ نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دلواکر 2001 میں نریندر مودی کو ریاست کے منصب اعلی پر بٹھایا گیا تھا ۔ کیشو بھائی پٹیل نے گجرات کے 2007 کے اسمبلی الیکشن سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گجرات میں مودی کی حکومت گویا ناگہانی حالات سے دوچار ہے اور مودی ایک ڈکٹیٹر کی حیثیت سے حکومت کر رہے ہیں۔موجودہ حالات میں ایک سینئر رہنما کی جانب سے گجرات کے حالات پر یہ ایک نادر تبصرہ ہے جو ریاست کی ایک معتد بہ آبادی پٹیل برادری کی سربراہی کر رہے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف وزیر اعلی نریندر مودی اپنے سلسلہ وار سدبھاونا تحریک سے فارغ ہو کرامباجی قصبے میں منعقد ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گجرات مخالف سوچ رکھنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ گجرات مخالف مہم چلانا چھوڑ دیں۔ اس سے اس کی مراد خصوصی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کے سلسلے میں فریڈم اور جسٹس پارٹی اور دیگر افراد جنہوں نے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ احمد آباد سے درخواست کی تھی کہ گجرات فسادات سے متعلق نریندر مودی اور دیگر 62 اشخاص کے خلاف ایس آئی ٹی کی مصدقہ تحقیقی رپورٹ کی کاپی ذکیہ جعفری کو دیکھائی جائے اس مطالبے کو تحقیقاتی ایجنسی نے یکسر مسترد کردیا ہے۔ایس آئی ٹی نے مسلسل اس درخواست کو نظر انداز کیا ہے کہ مصدقہ تحقیقی رپورٹ کسی کو سونپی جائے جو احمد آباد میٹرو پولیٹن کورٹ کوایک مہر بند لفافے میں پیش کی جا چکی ہے جسے مجسٹریٹ ایم ایس بھٹ کے ذریعہ15 فروری 2012 کوحکم سنایا جانا تھا کہ آیا رپورٹ کی نقل ذکیہ جعفری کے سپرد کی جائے گی یا نہیں۔ اور انہیں اختلافات کے تگ و دو میں عدالت نے اس فیصلے کو ایک بار پھر 29 فروری تک یہ کہہ کر ملتوی کر دیا ہے کہ جب تک خصوصی تحقیقاتی ایجنسی تمام متعلقہ دستاویزات عدالت عالیہ کو پیش نہیں کرے گی عدالت اس معاملے میں کوئی تبصرہ نہیں کرے گی اور نہ ہی رپورٹ کی کاپی فی الحال کسی فرد کے سپرد کی جا ئے گی البتہ کورٹ نے ایس آئی ٹی کو 15 مارچ تک وقت فراہم کیا ہے کہ اس مدت کے دوران کیس سے متعلق تمام ثبوت وشواہدوہ عدالت کو پیش کرے۔واضح رہے کہ گلبرگ سوسائٹی میں ہلاک سابق ایم پی احسان جعفری کی بیگم ذکیہ جعفری نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ معائنے کے لئے ر؂پورٹ کی کاپی انہیں مہیہ کی جائے۔ذکیہ جعفری کے وکیل ایس ایم ووہرا نے جرح کے دوران کہا تھا کہ کورٹ کو چاہئے کہ رپورٹ کا مطالعہ کرے کہ آیا یہ ملزموں کے لئے کلوزر رپورٹ ہے اور کیا واقعی ایس آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے احکامات کی بنیاد پر ہی رپورٹ تیار کی ہے ؟ جبکہ ایجنسی کے وکیل آر ایس جموار درخواست کو مسترد کرتے ہوئے جرح کی کہ ہم نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے 550 صفحات پر مشتمل رپورٹ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کو پیش کردی ہے ۔ اور فی الحال کوئی بھی اس کو دیکھنے یا رائے زنی کا مجاز نہیں ہے۔ جموار نے مزید کہا کہ کورٹ کو اختیار ہے کہ آیا وہ رپورٹ کو تسلیم کرے یا انکار کرے یا مزید تحقیقات کا حکم صادر کرے۔
ذکیہ جعفری کے علاوہ سرگرم کارکن تیستا شیتلواڑ امریش پٹیل اور گلبرگ سوسائٹی سانحہ کا متاثر شخص فقیر محمد نے بھی میٹرو پولیٹن کورٹ کے سامنے درخواست دی تھی کہ ایس آئی ٹی کی مصدقہ رپورٹ انہیں سونپی جائے جس پر کورٹ نے شنوائی تو کی تھی مگر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
لہذا گجرات کے فسادات اور مسلم نسل کشی ہندوستانی جمہوریت اور انسانی تہذیب کے دامن پر بدنما داغ ہیں۔ جنہیں شاید ہی کبھی دھویا جا سکے ۔ ویسے تو وطن عزیز کی تقسیم کے بعد سیکڑوں فرقے وارانہ فسادات ہوئے لیکن گجرات میں یہ سانحہ منفرد نوعیت کا تھا کیونکہ یہاں بالکلیہ یک طرفہ انداز میں مسلم اقلیت کے افراد کو چن چن کر بے رحمی سے جس منصوبہ بند طریقے اور نریندر مودی کی ریاستی دہشت گردی اور انتظامیہ کی سرپرستی اور اشارے پر مسلمانوں کی نسلی تطہیر کی گئی اس کی مثال آزاد ہندوستان میں شاید ہی ملے۔غرض گجرات میں ایسا ننگا ناچ ہوا کہ آج دس برس کے بعدبھی ان واقعات کے تصور سے ہر ذی شعور انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔ لیکن انسانی وحشت وبربریت کے اس ننگے ناچ نے ہمیں اور ہمارے ملک کو ہمیشہ کیلئے دنیا کی نظروں میں شرمندہ کردیا وہیں ہمارے اس عظیم ملک میں ہندوؤں میں سے کچھ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے یہاں کے سیکولر اور جمہوری اقدار آج بھی باقی ہیں۔اور حق و انصاف کی ایک اس لڑائی میں تن من دھن سے ساتھ دے رہے ہیں۔
گجرات کے معطل سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے حوالے اگر ہم بات کریں جنہوں نے ایس آئی ٹی کے ذریعہ مودی کو کلین چٹ دئے جانے اور اس کیس کو بند کئے جانے کے معاملے کو چیلنج کیا ہے اور ریاستی حکومت و تفتیشی ادارے پر گجرات فسادات کے دستاویز کو تباہ کردینے کا الزام عائد کیا ہے اور اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت گجرات اور آر کے راگھون کی قیادت والی خصوصی تفتیشی ٹیم نے متعلقہ دستاوایزات کو بادی النظر میں ٹھنڈے بستے میں ڈال دیاگیا ہے یا پھر انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور مبینہ طور پر یہ حرکت طاقتور اور با اثر افراد کو قانونی سزا سے بچانے کے شیطانی منصوبے کے تحت کیا گیا ہے تاکہ انتہائی اہم دستاویزات کبھی بھی عدالت تک نہ پہنچ سکیں۔واضح رہے کہ بھٹ کے الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایس آئی ٹی کی جانب سے مودی کو کلین چٹ دئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
جبکہ حالیہ اطلاعات کے مطابق گجرات ہائی کورٹ نے 2002 کے فسادات کے دوران مسلم مذہبی مقامات کے انہدام اور تباہ کئے جانے کی بابت ریاستی حکومت کو ذمہ قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کی پر سرزنش کی اور حکم صادر کیا ہے کہ کم و بیش 500 مسلم مذہبی عمارتوں کے لئے گجرات حکومت معاوضہ ادا رکرے۔ ہائی کورٹ فسادات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت میں اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’ان مقامات کی تباہی کی وجہ صرف ریاستی سرکار کی غفلت اور بے عملی تھی، اس لئے سرکار ان عمارتوں کی مرمت اور از سر نو تعمیر کے لئے فورا معاوضہ ادا رکے‘‘۔ لہذا عدالت کے اس فیصلے کو ملک کے لئے جہاں تاریخ ساز تصور کیا جارہا ہے وہیں مودی حکومت کیلئے ایک زور دار جھٹکا مانا جار ہا ہے کیونکہ اس تعلق گجرات حکومت نے کوئی پالیسی ہی نہیں بنائی تھی کہ ان مسمار شدہ مقامات کی از سر نو تعمیر کرائے جائے۔
ویسے تو وزیر اعلی نریندر مودی نے اب تک تمام عدالتوں سے صادر احکامات کو ان سنی کردیا ہے۔ اس فیصلے کے تناظر میں بھی دیکھنا ہے کہ کہاں تک گجرات حکومت عدالت کے اس حالیہ فیصلے پر پورا اترتی ہے۔
Dr. Mohammad Ajmal
Visitng Professor
JNU New Delhi
Address for correspondence
H-1, Anand Niketan
New Delhi- 110021
مورخہ۔ 22-02-2012

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.