افغانستان میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور اس کے مضمرات

ڈاکٹر محمد اجمل
گذشتہ دنوں افغانستان میں ناٹو افواج کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی اور دنیا کے مختلف ممالک میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے خلاف دشنام طرازی کی مہم تو صلیبی و صہیونی گروپ کی پالیسی نہیں بلکہ ان کامشن ہے۔یہودی و مسیحی جماعتیں ان اشتعال انگیز حرکات سے قرآن پر ایمان اور ختم نبوت پر ایقان مسلمانوں کے قلب و جگر سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ لیکن سلمان رشدی کی ہرزہ سرائی ہو یا مغربی میڈیا کے تضحیک آمیز کارٹون اور اسلام کے خلاف ان کی ریشہ دوانیاں یہ دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کا نہ صرف ایمان میں تازگی پیدا کرتے ہیں بلکہ ان میں یکجہتی اور اللہ و رسول سے محبت کو مہمیز فراہم کرتے ہیں۔
کابل کے شمال میں واقع امریکی فوجی اڈے بگرام میں قرآن کے نسخوں کو نذر آتش کرنے پر خود افغان فوج اور حامد کرزئی حکومت کی پولیس کی جانب سے جو ردً عمل سامنے آیا وہ ناٹو افواج اور سب سے زیادہ امریکی انتظامیہ کے لئے نوشتہ دیوار ثابت ہوا۔ کیونکہ بگرام جیسے قلعہ بند حصار پر یہ خبر سنتے ہی گذشتہ ماہ 21 فروری 2012 کو دو ہزار افغانی قوم کی یلغار غیر متوقع تھی، کیونکہ وہاں تا حد نگاہ کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا، کسی عام شخص کا ادھر پھٹکنا تو مشکل ترین امر ہے۔لیکن جب پہرے دار، چوکیدار سپاہی خود امریکیوں پر ہلہ بول دیں تو ان میں اور عوام میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔چنانچہ اس مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے امریکی فوجیوں نے گولیاں چلائیں، جواب میں ہجوم نے امریکی اڈے پر تعینات فوجیوں پر دستی اور پٹرول بم پھینکے۔امریکیوں کے قرآن جلانے کی خبر پورے ملک میں پھیلتے ہی شمالی افغانستان کے صوبے قندز میں بھی امریکی فوجی اڈے پر افغانی شہریوں نے حملہ کر دیا۔جبکہ لغمان کی راجدھانی مہترلم میں واقع امریکی اڈے پرہزاروں افراد نے دھاوا بول دیا اور اس کی باؤنڈری پر چڑھ گئے۔ادھر افغانستان کے دوسرے حصوں میں عوام نے فرانس کے فوجی اڈے پر بھی چڑھائی کردی۔اس پر فرانس اور جرمنی اتنے خوفزدہ ہو گئے کہ فرانسیسی صدر نیکولاس سارکوزی نے تو اس واقعہ سے پہلے ہی اپنی فوج 2014 کے بجائے 2013 میں افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کر دیا تھاکیونکہ جنوری میں افغان فوجیوں نے چار فرانسیسی فوجیوں کوقتل کردیا تھا، البتہ جرمنی کو اب ہوش آیالہذا اس کی وزارت دفاع کی جانب سے یہ فرمان جاری ہوا کہ جرمن فوج اس واقعہ سے پہلے ہی شمالی علاقوں سے واپس بلا لی گئی تھی۔ ان حادثات اور واردات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ناٹو اور افغا نی فوج کے تال میل کی حساسیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اور معاون افغانی فوج کے ناٹو کی افواج پر حملے سے اتحادی افواج کے پاؤں اکھڑ گئے ہیں اور وہ جلد از جلد میدان کارزار سے فرار ہونا چاہتی ہے۔صرف امریکی جنگجو عناصر نے افغان قضیے کو اپنے انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے۔حالانکہ وہ انجام کا آغاز ہوتے ہوئے اپنی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں مگر عبرت حاصل کرنا نہیں چاہتے ہیں۔لہذا جب صورتحال قابض فوج کے ہاتھ سے باہر ہوتی دیکھائی دی تو افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جون الین اور امریکی وزیر دفاع لیون پنیتا نے افغانی عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے قرآن کریم کی بے حرمتی پر حامد کرزئی اور افغان عوام سے غیر مشروط معافی مانگ لی اور اس واقعہ کی تفتیش کا حکم دے دیا۔اس کے بعد امریکی صدر اوبامہ نے بھی سفید محل میں بیٹھ کر فورا معافی مانگ لی اور صدارتی محل کے ترجمان کے ذریعہ بیان صادر کروا یا گیا کہ امریکی فوجیوں کا یہ فعل غیر ارادی اور اتفاقیہ تھا جس کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ در اصل امریکی فوجیوں کا قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کرنا افغانیوں کا نبض ٹٹولنااور ان کے ذہنی طور پر بیداری کا پتہ لگانا تھا، ورنہ جب اس بات کا تعین ہی نہیں ہوا کہ قرآن کو نذر آتش کرنے کا عمل سہوا تھا یا عمداتو یہ کیسے کہلوایا گیا کہ یہ فعل غیر ارادی تھا؟ اور اگر یہ غیر ارادی فرض کر بھی لیا جائے ، تو کیا امریکی پادری ٹیر ی جونس کی حرکت بھی غلطی سے سرزد ہوئی تھی جب اس نے بہت پہلے سے اپنے پلید ارادے کا اظہار کر دیا تھاکہ وہ قرآن کریم کو سر عام نذر آتش کرے گا۔اور اس جرم میں وہ تنہا نہیں تھا بلکہ امریکہ کے طول و عرض سے اس کی حمایت میں جتنی آوازیں اٹھی تھیں اتنی اس کے خلاف نہیں اٹھیں۔ اس کے بر خلاف کیا طالبان نے کبھی انجیل کے نسخے جلائے۔ کیا ایرانیوں، عربوں اور دنیا کے کسی بھی خطے میں بسنے والے مسلمانوں نے توریت یا انجیل کے نسخے نذر آتش کئے یا کبھی حضرت عیسی ومریم علیہمالسلام کی بے حرمتی کی؟ پھر بنیاد پرست، انتہا پسند، شدت پسند، جنونی اور جنگجو کون ہے مسلمان یا یہود ، نصاری؟کیا اسقف اعظم پوپ بینیڈکٹ نے پیغمبر خدا رسول اکرم ﷺکو ایک بازنطینی بادشاہ کے قول سے اتفاق کرتے ہوئے دہشت گرد نہیں کہاتھا؟
ایک طرف جان ایلن، لیون پنیتااور براک اوبامہ افغان عوام کی شورش پر طاقت سے قابو پانے کی کوشش میں ناکام ہوکر ان سے معافی مانگتے ہیں تو دوسری طرف امریکی فوجی مشیر پنٹاگن میں بیٹھے افغان حکام کی موجودگی میں ٹیلی ویژن پر کابل، قندز اور لغمان میں برپا امریکہ مخالف مظاہرے کی نشر کردہ فلم دیکھ دیکھ کر ان پر توہین آمیز تبصرے کرتے ہیں۔ یہاں تک تو ان کے افغانی پٹھو خون کے گھونٹ پی رہے ہیں۔ لیکن جب ان لعنت زدہ افراد نے قرآن مجید کے بارے میں نازیبا الفاظ ادا کئے تو ایک پچیس سالہ نوجوان کا صبر کا پیمانہ چھلک اٹھااور ان دو ملعون فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔26 فروری 2012 تک اس شورش میں ان دو فوجیوں کے بشمول 30 افراد ہلاک اور تقریبا 200 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کا اثر اتنا تو ہوا کہ امریکیوں نے افغانستان کی وزارتوں میں تعینات سارے کے سارے امریکی افسران کو واپس بلا لیا۔
در اصل عام امریکی شہری اور سرکاری اہلکار دونوں کی فکر میں کوئی فرق نہیں ہے۔تھنک ٹینکس یا غور و فکر کے بکتر بندذرا غور کریں کہ کیا افغانستان پر امریکہ کا قبضہ برقرار رہ سکتا ہے یا وہ اپنی پسندکی حکومت مسلط کر سکتا ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ قابض حکومت کی فوجیں مقبوضہ ممالک میں دیر تک نہیں ٹھیر سکتیں اور نہ ہی ان کے ایجنٹ اس کار بد کے انجام کو پار لگا سکتے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے یہ تاثر دیا ہے کہ افغانستان میں صورت حال معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں مگر یہ ان کی خوش فہمی یا دل کو بہلانے کے شگوفے ہیں۔ کیونکہ 27 فروری 2012 کو ایک مشتعل ہجوم نے جسے امریکی حضرات طالبان کے رضاکار سمجھتے ہیں، جلال آباد ہوائی اڈے پر ناٹو کے فوجیوں پر ایک کار بم دھماکہ کر کے 19 افراد کو ہلاک کر دیا ہے جن میں چھہ عام شہری ایک افغان فوجی اور دو چوکیدار تھے اور مبینہ طورپر ناٹو کے فوجی اہلکار بال بال بچ گئے۔ امریکہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ جس ملک پر قبضہ کرتے ہیں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں اور بنجر و کھنڈر میں تبدیل کرد یتے ہیں اور مقامی آبادی پر ایسے مظالم ڈھاتے ہیں کہ آدم خوروں کو بھی اس پر شرم آتی ہے۔اوبامہ قرآن حکیم کی بے حرمتی کو غیر ارادی فعل قرار دیتے ہیں لیگن گوانتانامو بے، ابو غریب جیل اور بگرام کے عقوبت خانوں میں جارج بش دوئم کے حکم پر مشتبہ افراد کو تفتیش کے دوران جو جسمانی جنسی اور ذہنی اذیت پہنچائی جاتی رہی وہ اب جاری ہے اور منصوبہ بندی کے ساتھ کی جاتی ہے اور ان اذیتوں کو جائز ٹھہرانے کے لئے جواز بھی پیش کئے جاتے ہیں۔
افغانستان کی راجدھانی کابل میں قرآنی آیات کو فٹ بال پر لکھ کر اسے ٹھوکروں پر رکھا جاتا رہا جبکہ قرآن کریم کے بکھرے ہوئے اوراق کو امریکی فوجی پامال کرتے رہے یا انہیں مسلمان قیدیوں کے سامنے پرزے پرزے کر کے معاذ اللہ نالیوں میں بہا ئے گئے ۔۔بقول صدر امریکہ اوبامہ یہ سب غیر ارادی اعمال و افعال ہیں۔ ایسی قوم کے رہنما جب اوبامہ جیسے ہوں جنہوں نے 11 ستمبر 2001کے بعد فرمایا تھا کہ اب اگر ایسی واردات پیش آئے تو امریکہ کو خانہ کعبہ پر بمباری سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ان سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اسلام دشمنی میں ساری حدیں پا رکر سکتے ہیں۔قرآن پاک کی بے حرمتی کے تعلق سے یوں تو امریکی وزیر دفاع لیون پنیتا اور صدر امریکہ اوبامہ نے معافی مانگ لیے ہیں۔ واضح رہے کہ آئند نومبر میں متوقع صدارتی انتخابات کے بعض امیدواروں نے ان معافیوں پر اپنی راضگی اور غصے کا اظہار کئے ہیں۔
گذشتہ 8 مارچ کو ایک معتوب امریکی فوجی نے مشرقی افغانستان کے دیہات میں واقع ایک فوجی پڑاو سے نکل کر عام لوگوں کے مکانوں میں اندھا دھند فائرنگ کرکے مبینہ طور پر 16 افراد کو قتل کردیا ہے اور اموات میں زیادہ تر بچے شامل ہیں اور متعدد اپنے زخموں کے ساتھ موت و زیست کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے فوجی کی اس حرکت پر معافی بھی مانگ لی ہے مگر تفتیش کے تعلق سے معلومات افغانی حکومت کو فراہم نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے افغانی صدر حامد کرزئی نے شدید احتجاج اور اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ قرآن کے نذر آتش کا واقعہ میں امریکی فوجی کی اس فائرنگ نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ کیونکہ قرآن برننگ کا حادثہ ابھی سرد بھی نہ ہو پایا تھا کہ امریکی افواج کی جانب سے ایک اور دلدوز واقعہ پیش آ گیا۔ کرزئی حکومت نے اسے بین الاقوامی قتل کا معاملہ قرار دیا ہے اور اسے ناقابل معافی گردانا ہے ۔ جبکہ امریکی حکام نے اس حادثے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مجرم فوجی کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس تعلق سے ایک اہم امر جو قابل توجہ ہے کہ ایک طرف امریکی صدر براک اوبامہ اور ناٹو کے اتحادی طالبان کو مذاکرات کی میز پرآنے کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف نام نہاد مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور افغانی عوام کو عموما اور طالبان کو خصوصی طور پر مختلف حیلوں کے ذریعے مشتعل کرتے ہیں قرآن برننگ کا حادثہ اور حالیہ قتل کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
Dr. Mohammad Ajmal
Visiting Professor, JNU, New Dlhi

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.