سلگتے کشمیر کو ہوا نہ دی جائے
ڈاکٹر خواجہ اکرام
   کشمیر میں جس تیزی سے حالات بگڑے ہیں کہ اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں تھا ۔ ابھی صرف ایک ماہ پہلے ہی یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ حالات نئے موڑ لیں گے اور کشمیر کی سرزمین کو تاریخ ایک بار پھر امن و سکون کی وادی لکھ کر جنوبی ایشیا کو نی مژدہ دے گی ۔ابھی بہت دن نہیں ہوئے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کشمیر کے دورے پر گئے تھے اور کشمیر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کئی نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا تھا ۔ سارک کانفرنس کے دوران وزرا کی ملاقات نے بھی امید جگائی تھی کہ کشمیرکے حوالے سے نئی پیش رفت ہوگی۔ امید یہ کی جارہی تھی جلد ہی کشمیر مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان بھی بیچ کا کوئی راستہ نکلے گا۔ دوسری جانب وزیر اعلی عمرعبد اللہ سے بھی بڑی امیدیں تھیں تقریباً ڈیڑھ سال پہلے انھوں نے جب ریاستی حکومت کااقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تو کشمیر سمیت پورے پورے ملک کے عوام کا خیال تھا کہ نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ ضرور کوئی کر شمہ کر دیکھائیں گے ۔ امید یہ تھی کہ مرکزی حکومت میں جس اانداز سے نئی نسل نے اپنی موجودگی درج کرائی تھی اسی طرح عمر عبداللہ بھی کچھ نہ کچھ ضرو ر کریں گے ۔ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ جس طرح راہل گاندھی نے ملک میں اپنی سیاسی سر گرمیوں سے ملکی سیاست کو نیا رخ دیا ہے اسی طرح عمر عبد اللہ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر اپنے لیے اور اپنی پارٹی کے لیے کچھ ایسا کریں گے کہ ریاست میں نیا اعتماد بحال ہوگا۔ لیکن یہ عمر عبد اللہ کی ناعاقبت اندیشی یا نا تجربہ کاری کہیں کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور عوام جلد ہی حکومت سے بیزار ہونے لگی ۔ ایک سال قبل جب میں ایک ہفتے کے لیے کشمیر میں تھا تو وہاں مقامی لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا تھا ۔ اسی وقت لوگوں کو مایوس کن تاثرات سن کر مجھے بذات خود ایک دھچکا سا لگا تھا کہ عمر عبداللہ یہ کیا کر ہے ہیں ؟ اور اب کشمیرکی موجودہ صورتحال دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ موجودہ صورت حال کے لیے کہیں نہ کہیں ریاستی حکومت بھی ذمہ دار ہے۔مرکز کی جانب سے بھر معاونت کے با وجود اگر ریاستی حکومت کچھ کرنے میں ناکام رہی تو اسے بر سر اقتدار پارٹی کے لیے بد قسمتی ہی کہیں گے۔ عمر عبداللہ کےوالدجو ہر مسئلے پر بڑی بڑی باتیں کرنے کے عادی ہیں ۔ابھی مرکز میں وزیر ہیں ۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ کشمیرمیں اتنا کچھ ہوا اور ہو رہا ہے مگر ان کی جانب سے کوئی بیان بھی نہیں آیا۔ اگر ابھی وہ مرکز میں وزیر نہ ہوتے اور ان کے بیٹے ریاست میں وزیر اعلیٰ نہ ہوتے تو ان کی شعلہ بیانی دیکھنے کو ملتی ۔خیراب یہ تو طے ہو گی اہےکہ عوام اب کبھی ان کی پارٹی کو منہ نہیں لگائے گی ۔ لیکن ابھی ریاست کو جس انداز سے فعال ہونا چاہیے تھا وہ ریاست کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملا۔تقسیم ہند کے بعد چند برسوں کو چھوڑ کر ریاست پر ہمیشہ حکمرانی کی ہے اور بیشتر مرتبہ اس کے دور میں حالات خراب ہوئے ہیں، حالانکہ ایک زمانے میں یہ سب سے مقبول ترین سیاسی جماعت تھی اور اسی کی قیادت میں کشمیریوں کو مہاراجوں سے آزادی ملی تھی۔ریاستی وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت سے بھارت نے کافی امیدیں وابستہ کی تھیں اور خیال یہ تھا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو ’قومی دھارے‘ میں لاکر علیحدگی پسند جذبات کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہونگے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ انھوںنے اس سمت کوئی بہتر کارکردگی نہیں کی اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے ۔ یہی نوجوان جو احتجاج میں پیش پیش ہیں اگر با روزگار ہوتے تو انھیں اس کی فرصت بھی نہ ملتی ۔ مجموعی طور پر موجودہ صورتحال کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ ریاستی حکومت بھی برابرکی ذمہ دار ہے ۔ ریاستی حکومت کے علاوہ کشمیر کی پولیس اورانتطامیہ نے بھی حالاتکو سنبھالنےکے بجائے بغیر کسی تاخیر کے کشمیر کو فوج کے حوالے کر دیا یہ ملک کے لیے اچھی بات نہیں ہے ۔ گذشتہ دو دہائی پہلے جو کشمیر کی حالت تھی اب پھر وہی حالت سے کشمیر دو چار ہے ۔ کشمیر کے شہروں کے علاوہ دیہی علاقے بھی کر فیو کی زد میں ہیں ۔ کشمیر میں حریت پسند لیڈروں کی زہر افشانی اور اشتعال انگیزی نے بھی اس جلتے میں گھی کا کام کیا ہے ۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے کرائے کے نوجوانوں سے جو پتھر بازی کرائی گئی وہ بھلے ہی تھوڑی دیر کے لیے ایسے عناصر کی خوشی کا سبب تھی لیکن اس سے کشمیر پھر کئی سال پیچھے چلا گیا، یہ بات ان بے روزگار نوجوانوں کو تو سمجھ میں نہیں آئے گی مگر اب اسے اثرات سے یہ بھی نہیں بچ پائیں گے ۔ایسے نازک موڑ پر مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو چاہیئے کہ جتنا جلد ہو سکے عوام کے اعتماد کو بحال کریں او ر فوج کو جلد از جلد کشمیر سے واپس بلائیں ۔ ورنہ حالات اور بھی بگڑتے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں سر گرم حریت پسند لیڈروں کو بھی چاہیئے کہ جب حالات نارمل ہورہے تھے اور گفت و شنید کا دور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا تو پھر کیوں وہ اشتعا ل کو ہوا دے رہے ہیں ۔ابھی ضرورت اس بات کہ ہے کہ حریت کے لوگ بھی عوام کو پُر امن رہنے کی تلقین کریں۔لیکن اس کے بر عکس ایسے بیانات جاری کیے جارہے ہیں جس سے اشتعال میں اضافہ ہی ہوگا۔مثلا سرینگر مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کا یہ بیان کہ ‘‘ بھارت اور کٹھ پتلی انتظامیہ نے کشمیریوں کے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں سے خوف زدہ ہو کرپورے مقبوضہ علاقے کو فوج کے حوالے کردیاہے جو کہ ان کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبو ت ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطا بق میر واعظ عمر فاروق نے جنہیں گزشتہ کئی دنوں سے غیر قانونی طورپر گھر میں نظربند رکھا گیا ہے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجیوں نے پوری آبادی کو محصور اور قیدی بنا رکھا ہے انھوں نے کہا کہ بے بس عوام کو فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ کر ایک بار پھر 1990کی سیاہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے جب بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے نہتے کشمیریوں کو ظلم و تشددکا نشانہ بنایا تھا ۔میر واعظ عمر فاروق نے افسوس ظاہر کیا کہ گزشتہ ساٹھ برس کے تلخ تجربات کے بعد بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودا رادیت دے دینا چاہیے تھا تاہم انھوں نے کہاکہ بھارت اب بھی اپنے ہٹ دھرمانہ پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔انھوںنے کہاکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی بنیادوں پر ہی حل کیا جانا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ ظلم و تشدد سے نہ تو کشمیری عوام کوخوف زدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے عزم کو پامال کیا جا سکتا ہے۔ میرواعظ نے مسلسل کرفیو ، بار ایسوسی ایشن کے صدرمیاں عبدالقیوم سمیت حریت رہنمائوں ، کارکنوں اور بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ۔ انھوں نے کشمیریوں پر زوردیا کہ وہ حریت کانفرنس کے پروگرام کے مطابق اپنا پر امن احتجاج جاری رکھیں’’۔ دوسری جانب پولیس اور آرمی کی بے رحٕمانہ کاروائیا ں بھی اس شعلے کو مزید ہوا دے رہی ہیں ۔ ابھی تک کشمیرتقریبا گیارہ بے قصور مارے جاچکے ہیں ۔ان مرنے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں ۔ اس سے لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیر میں کچھ ماہ قبل فرضی جھڑپوں کی خبریں آئیں اور قصور وار افسروں کو سزا دینے کی بھی خبریں آئیں ۔ لیکن حکومت کو چاہیئے تھا کہ ایسے افسروں کے خلاف ایسی کاروائی کی جاتی کہ لوگ حکومت کے رویے سے خوش ہوتے مگر ایسا نہ ہونا بھی حریت پسندوں کو در اصل موقع دینا ہی تھا۔خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دو لوگوں کے درمیان گفتگو کی جو تفصیلات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان سے بھی یہی اندازہ ہو رہا ہےکہ موقعے کا فائدہ اٹھا کر کچھ ایسی طاقتیں ضرور ہیں جوحالات کو مزید بگاڑنا چاہ رہی ہیں ۔ایسے نازک موڑ پر جہاں ملک کو ایک جانب نکسلیوں کے خطرات کاسامنا ہے وہیں دوسری جانب پُرامن ہوتے کشمیر کے حالات کو اگر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ملک کی سلامتی کے لیے یہ بہتر نہیں ہوگا۔
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.