کسانوں کی خود کشی اور وزیر بینی پرساد کا بیان
مظہر حسنین
16 Jan, 2015,11:14 PM IST
یہ بات ہم پر روز روشن کی طرح ہے کہ ملک میں کسانوں کی صورتحال بہت ہی ناگفتہ ہے ۔ان کے خودکشی کے واقعات آئے دن نہ صرف سامنے آرہے ہیں بلکہ اس میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہمارے وزرا ء ایسے بے بنیاد بیانات دینے بعض نہیں آتے جن سے خود کشی کرنے والے کسانوں کے اہل خانہ کے زخم پھر تازہ ہو جاتے ہیں ۔مرکزی وزیر اسٹیل بینی پرساد ورما نے مہنگائی کو کسانوں ے حق میں فائدہ مند قرار دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا فائدہ کسانوں کو نہ پہنچ کر جمع خوروں اور دلالوں کو ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں کسانوں کی حالت بد سے بد تر ہو تی جا رہی ہے ۔ اب تک ملک کے مختلف صوبوں میں خودکشی کرنے والے کسانوں کے اعداد و شمارنیشنل کرائم ریکارڈ بیوروسے آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کئے گئے ہیں ۔جسے ہم قارئین کی خد مت میں پیش کر رہے ہیں ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 1995 سے اب تک ملک میں خود کشی کرنے والے کسانوں کی تعداد دو لاکھ 70 ہزار 940ہو گئی ہے۔ 2011 میں ملک بھر میں 14 ہزار 27 کسانوں نے خودکشی کر لی۔ آر ٹی آئی کے تحت ملی معلومات کے مطابق 2008 سے 2011 کے دوران سب سے زیادہ مہاراشٹر میں 1,862کسانوں نے خود کشی کی۔ ملک میں ہر ماہ اوسطاً 70سے زائد کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ہندوستان کے مختلف صوبوں میں خودکشی کرنے والوں کسانوں کی لمبی فہرست ہے۔دارالحکومت دہلی میں بھی دس کسانوں خود کشی درج کی گئی ہے ۔جبکہ کسانوں کی خودکشی کے معاملہ میں ریاست چھتیس گڑھ کی صورتحال اطمینان بخش ہے جہاں پورے سال میں ایک بھی کسان کی خود کشی معاملہ نہیں ہوا ہے۔
ملک میں کسانوں نے 1,25,000 منافع خوروں سے،جبکہ 53,902160کسانوں نے تاجروں سے اور بینکوں سے1,17,100کسانوں نے قرض لیے ہیں۔ زراعی اخراجات میں اضافہ، پیداوار میں کمی، کھاد ، بیج کا بحران، بجلی وپانی کی کمی اور پیداوار کی جائزقیمت نہ ملنے سے کسانوں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کی غلط پالیسی کی وجہ سے کسانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیاں لوٹ رہی ہیں۔ کھاد کی قیمتوں میں گیارہ، بارہ مرتبہ اضافہ کے باوجودیہ من مانی قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔حکومت کے ذریعہ فراہم کردہ بیجوں میں قوت نمو بھی کم نہیں پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں آخر کسان کیا کرے؟ حکومت کسانوں کے لئے بجلی کی فراہمی یقینی نہیں بنارہی ہے۔ راجستھان میں قحط کے پیش نظر بجلی کی تخفیف نہ کرکے تھوڑی بہت بچی فصل کو بچایا جا سکتا ہے ۔
160160160160160160160160دوسری جانب قومی کسان فیڈریشن کے کنوینر چودھری سورج مل سمیت کئی تنظیموں نے مرکزی وزیربینی پرساد ورما کے مہنگائی بڑھنے سے کسانوں کو فائدہ والی بات کو بدقسمتی قرار دیا ہے۔کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے فائدہ کسانوں کو نہیں بلکہ دلالوں کو ہوتا ہے۔ کسان کی فصل تو ہمیشہ سستے میں ہی لی جاتی ہے لیکن جیسے ہی فصل تاجروں کے گوداموں میں پہنچ جاتی ہے اس کے دام میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے کسان اپنے آپ کو ٹھگا محسوس کرتے ہیں۔حکومت کسانوں کے مفادکے برعکس مہنگائی کو کسانوں کے حق بہتر قرار دے کر کسانوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔کسانوں کو راحت کے نام پر 60 ہزار کروڑ کے قرض کا سود معاف کر کے حکومت واہ واہی لوٹناچاہتی ہے، جبکہ اس کے عوض میں صنعت کاروں کو 7 لاکھ کروڑ کی امداد دی جاتی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسانوں کے تئیں حکومت کتنی سنجیدہ ہے۔ خود وزیر اعظم نے تقریر میں کہا ہے کہ ملک کا بجٹ مانسون کی وجہ سے متاثر ہوا ہے ۔اگر کسان، زراعت اور ملک کو بچانا ہے تو زراعت کے اخراجات کو کم کرنا ہوگا،کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت دینی ہو گی، اس کو یقینی بنانے کے لئے بازارکے نظام کو ٹھیک کرنا چاہیے اور مہنگائی سے صارفین کو بچانے کے دلالوں اور جمع خوروں پر روک لگانی ہوگی۔ یو پی اے حکومت پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے مطالبات کو قبول کرکے کولونیل بلیک لینڈ ایکویزیشن(Colonial Black Land Acquisition Act) اور ایگریکلچر اینٹی اسپیشل اکنامک زون ایکٹ 2005 (Agriculture Anti-Special Economic Zone Act 2005) منسوخ کرنا ہوگا۔ حکومت کی تمام کوششوں اور دعوؤں کے باوجود قرض کے بوجھ سے دبے کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک میں ہر ماہ 70 سے زیادہ کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ جبکہ ایک لاکھ 25 ہزار خاندان منافع خوروں کے شکنجہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔حق اطلاعات قانون(RTI) کے تحت ملی معلومات کے مطابق، ملک میں 2008 سے 2011 کے درمیان ملک بھر میں3,340 کسانوں نے خود کشی کی۔ اس طرح سے ہر ماہ ملک میں 70 سے زیادہ کسان خود کشی کر رہے ہیں۔ آر ٹی آئی کے تحت زراعت کی وزارت کے محکمہ زراعت اور تعاون سے ملی معلومات کے مطابق، 2008 سے 2011 کے دوران سب سے زیادہ مہاراشٹر میں1,862کسانوں نے خود کشی کی۔ آندھرپردیش میں1,065 کسانوں نے خود کشی کی۔ کرناٹک میں اس مدت میں 371 کسانوں نے خود کشی کی۔ اس مدت میں پنجاب میں 31 کسانوں نے خود کشی کی جبکہ کیرالہ میں 11 کسانوں نے قرض سے تنگ آ کر موت کو گلے لگایا۔ حکومت کے تمام دعوؤں کے باوجود ملک میں کسانوں کی خو د کشی کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی ہے۔ 160160160 ملک بھر میں سب سے زیادہ کسانوں نے سودخوروں سے قرض لیا ہے۔ ملک میں کسانوں کے 1,25,000خاندانوں نے منافع خوروں سے قرض لیا ہے جبکہ53,902 کسان خاندانوں نے تاجروں سے قرض لیا۔ بینکوں سے 1,17,100کسان خاندانوں نے قرض لیا جبکہ کوآپریٹو سوسائٹی سے کسانوں کے 1،14،785 خاندانوں نے قرض لیا۔ حکومت سے 14،769 کسان خاندانوں نے اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے77602 کسان خاندانوں نے قرض لیا۔ آر ٹی آئی کارکن گوپال پرساد نے حق اطلاع قانون کے تحت2007-12 کے دوران
ہندوستان میں کسانوں کی اموات کا علاقہ کے لحاظ سے اعداد و شمار کی رپورٹ طلب کی تھی ۔ ان کسانوں کی تعداد کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھی جنہوں نے منافع خوروں سے قرض لیا تھا۔ 2011 میں بھی ملک بھر میں 14 ہزار سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہیں۔ مہاراشٹر 3,337خودکشی کے واقعات کے ساتھ اس فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ آندھرا پردیش میں2,206، کرناٹک میں 2,100 اور مدھیہ پردیش میں 1,326 کسانوں نے موت کو گلے لگایا ہے۔ تمام ریاستوں میں سب سے اچھی کارکردگی چھتیس گڑھ کی ہے، جہاں پورے سال ایک بھی کسان کی خودکشی کا معاملہ نہیں پیش آیا۔ دارالحکومت دہلی میں بھی دس کسانوں نے خود کشی کر لی۔مہاراشٹر کے یوتمال ضلع میں جاری زرعی بحران کی وجہ سے کسانوں نے خود کشی کی ہے۔ایک دہائی سے ملک بھر میں کسانوں کی خود کشی کے معاملے میں پانچ ریاستیں مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سر فہرست ہیں۔ 2011 میں بھی پورے ملک میں کسانوں کی خو دکشیوں کا 64 فیصد ان پانچ ریاستوں میں ہی رہا۔ اس دوران مدھیہ پردیش میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ودربھ عوامی تحریک کمیٹی کے صدر کشور تیواری نے نومبر 2009 میں ودربھ میں 22 کسانوں کی خود کشی کی فہرست جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ریاست میں کپاس اور دیگر فصلوں کو ہوئے نقصانات کی وجہ سے مایوس 895 کسان خود کشی کر چکے ہیں۔ پورے ملک میں مراٹھی ہمدرد ہونے کے ڈھول پیٹنے والے بال ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کو غریب کسانوں کی خود کشی کا واقعہ نظر نہیں آتا ۔ اپنے آپ کو مہاراشٹر کے سربراہ کہلانے والے شرد پوار کیوں خاموش ہیں؟ ا نہیں اپنی وزارت سے مستعفی ہو جانا چاہئے؟ واضح ر ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس کے لئے قصور وار ہیں۔کسانوں کو بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان سنگین حالات کے لئے ذمہ دار کو ن ہے؟ حکومت کا زراعت کو فائدہ پہنچانے کا دعویٰ کھوکھلا نظر آتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق مختلف ر یاستوں میں ہوئے خودکشی کے واقعات اس طرح ہیں۔مہاراشٹر3,337،آندھرا پردیش2,206،کرناٹک 2,100،160مدھیہ پردیش 1,326،مغربی بنگال807،اتر پردیش645،گجرات میں 578،ہریانہ 384،بہار 83،ہماچل پردیش
46،جھارکھنڈ 94،پنجاب 98اوراتراکھنڈا 25۔
کسانوں کی خود کشی کے واقعات مہاراشٹر، کرناٹک ، کیرالہ ،آندھر پردیش، پنجاب، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں ہوئے ہیں ۔ سال 1997 سے لے کر 2006 تک یعنی 10 سال کی مدت میں ہندوستان میں 166304 کسانوں نے خود کشی کی۔ اگر ہم مدت کو بڑھا کر 12 سال کی کرتے ہیں یعنی سال 1995 سے 2006 کے درمیان کی مدت کا تعین کرتے ہیں تو پتہ چلے گا کہ اس مدت میں تقریبا 2 لاکھ کسانوں نے خود کشی کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں اوسطا سولہ ہزار کسانوں نے ایک برس میں خودکشی کی ہے۔یہ اعداد و شماریہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ملک میں خود کشی کرنے والا ہر ساتواں فرد کسان تھا ۔ سال 1998 میں کسانوں کی خود کشی کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1997 کے مقابلے میں سال 1998 میں کسانوں کی خودکشی میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا اور آئندہ تین برسوں یعنی سال 2001 تک ہر سال تقریبا سولہ ہزار کسانوں نے موت کو گلے لگا لیا ۔ سال 2002 سے 2006 کے درمیان یعنی کل پانچ سال کی مدت پر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہر سال اوسطا 17513 کسانوں نے خودکشی
کی۔ اور یہ رعدادسال1998 سے 2002پانچ سالوں کی ہے ۔ خود کشی کے سالانہ اوسط (15747) سے بہت زیادہ ہے۔ سال 1997 سے 2006 کے درمیان کسانوں کی خود کشی کی شرح میں سالانہ ڈھائی فیصد کااضافہ ہو۔ عام طور پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ خود کشی کرنے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہی بات کسانوں کی خود کشی کے معاملے میں بھی ہے لیکن اس وقت بھی یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں مردوں کی تعدادعورتوں سے نسبتاً زیادہ تھی۔ ملک میں ہونے والے کل خود کشی کے واقعات میں مردوں کی خود کشی کا اوسط 62 فیصد ہے۔ جب کہ کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں مردوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے ۔ 2001میں کسانوں کی خود کشی کی شرح 12.9 فیصد تھی اور یہ تعداد عام طور پر ہونے والے خود کشی کے واقعات سے بیس فیصد زیادہ ہے۔ 2001 میں خودکشی کی عام شرح (فی لاکھ افراد میں خود کشی کے واقعات کی تعداد) 10.6 فیصد تھی۔ اندیشہ یہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ مرد کی خودکشی کی شرح 16.2 فیصد) خواتین(6.2 فیصد) کے مقابلے میں تقریبا ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ سال 2001 میں کسانوں کی خود کشی کی مجموعی شرح 15.8 رہی۔ یہ تعداد سال 2001 میں خودکشی کی شرح سے 50 فیصد زیادہ ہے۔ مردوں کی شرح 17.7 فیصد رہی یعنی خواتین کے مقابلے میں 75 فیصد زیادہ ہے۔
ڈاکٹر رتامبھراہیبر(سینٹر فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز، اسکول آف سوشل سائنسز،ٹی آئی آئی ایس) کی طرف سے پیش ہیومن سیکورٹی اینڈ دی کیس آف فارمر ۔ این ایکسپولیریشن (2007) کی تحقیق کے مطابق کسانوں کی خود کشی کے معاملات کو انسانی تحفظ کے نقطہ نظر سے دیکھا جا نا چاہئے ۔اگر اس زاویہ سے دیکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسانوں کی خود کشی کے واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ہندوستان کی دیہی علاقوں میں اقتصادی اور سماجی طور پر مددگار ثابت ہونے والی بنیادی ڈھانچہ کو نقصان پہنچ رہا تھا ۔
سبز انقلاب، عالمگیریت اور لبرل ازم کی وجہ سے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی آئے لیکن سرکاری افسران کسانوں کی خود کشی توضیح میں ان تبدیلیوں کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ کسانوں کی زندگی کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ خودکشی کے اسباب و عوامل کونفسیاتی وجوہات بتایا گیا۔خصوصاً مہاراشٹر، کرناٹک اور ادھرپردیش کے کسانوں نے موت کو گلے لگایا. ان ریاستوں کے زیادہ تر علاقوں کی سینچائی کا انحصار بارش کے پانی پر ہے۔ ان ریاستوں (خاص طور پر مہاراشٹر) کے خود کشی کرنے والے کسان نقد فصلوں مثلا، کپاس (خاص طور پر مہاراشٹر)، سورج مکھی،مونگ پھلی اور گنے(خاص طور پر کرناٹک)کی کھیتی کی جاتی ہے ۔ زراعت پر خرچ ہونے والے اخراجات کی بناء پر کسانوں کو بڑی مقدار میں قرض لینا پڑرہاہے۔ آل انڈیا بائیووڈائنمک اینڈا رگینک فارمنگ ایسوسی ایشن نے مہاراشٹر کے ضلع جالنا کے کسانوں کی خود کشی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا ۔ اس خط کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت نے ٹاٹا انسٹیچیوٹ آف سوشل سائنسز کو ایک سروے کرنے کو کہاگیا۔ سروے کی بنیاد پر عدالت نے مہاراشٹر حکومت سے کسانوں کی خود کشی کے واقعات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ٹاٹا انسٹیچیوٹ آف سوشل سائنسز کی سروے رپورٹ کے مطابق کسانوں کی خود کشی کی اہم وجہ زرعی اخراجات میں نا قابل برداشت اضافہ اور قرض ہے ۔دوسری طرف اندرا گاندھی انسٹیچٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ ریسرچ (آئی جی ڈی آر) کی تحقیق میں کسانوں کی خود کشی کی وجوہات حکومت یا اس کی پالیسیوں نہیں قرار دیا گیا ہے۔آئی جی ڈی آر کی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو دیہی ترقیاتی اسکیموں کے ذریعے گاؤں میں مزید سہولت فراہم کرنی چاہئے اور وہاں زراعت کے علاوہ دیگر روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہئے۔ دسمبر 2005 میں حکومت مہاراشٹر نے چھ اضلاع ۔ امراوت، اکولا، بلڈانا، یوتمال، واسم اور وردھا کے لئے ایک خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کیا۔ جراثیم کش اور کھاد فروخت کرنے والی کمپنیوں نے کرناٹک اور مہاراشٹر میں کسانوں کو قرض دینا شروع کیا۔ اس سے کسان مزید قرض سے دب گئے۔خراب صحت، مال کو لے کر خانگی تنازعہ، گھریلو مسائل اور بیٹی کی شادی کی فکرجیسے مسائل میں الجھ کر کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ بات جی کے ویریش کی سرپرستی والی کمیٹی کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ جن برسوں میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہو۔کسان تحریک ان برسوں میں کمزور پڑ گئی۔ جب کہ 1980 کی دہائی میں مہاراشٹر میں شیتکری تنظیم کی قیادت میں کسان تحریک بہت مضبوط تھی۔
کسانوں کے قرض میں دبے ہونے کی ایک بڑی وجہ شادی بیاہ کے اخراجات ہیں لیکن کسانوں کے ذریعہ لئے گئے مجموعی قرض میں اس کی مقدارصرف(11 فیصد)جو دوسرے قرضوں سے نسبتاً کم ہے۔شادی بیاہ کیلئے سب سے زیادہ قرض بہار کے کسانوں نے لیاہے ۔ وہاں 22.9 فیصد کسانوں نے شادی بیاہ کے لیے قرض لئے۔ راجستھان اس معاملے میں دوسرے درجہ پر ہے جہاں شادی بیاہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے 17.6 فیصد کسانوں نے قرض لئے ہیں۔ کسانوں کی ایک بڑی تعدادنفع خوروں سے قرض لینے پر مجبور ہوئی۔قرض لینے والے کسانوں میں 29 فیصد نے سود خوروں سے قرض لیا ہے۔
سودخوروں سے سب سے زیادہ قرض ریاست بہار (44 فیصد) اور راجستھان (40 فیصد) میں لیے گئے ہیں۔ زرعی اشیاء کے بیچنے والے تاجر یا پھرزرعی اشیاء خریدنے والے جوقرض فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ مقروض کسانوں میں 12 فیصد نے ایسے ہی تاجروں سے قرض لیا ہے۔ قرض دینے کے لئے سرکاری ذرائع اب بھی اہم ہیں۔ مقروض کسانوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ نے سرکاری بینکوںیا دیگر قرضہ فراہم کرنے والے سرکاری اداروں سے قرض لیاہے۔جو کسان جتنی بڑی زمین کا مالک ہے اس پر اتنا ہی قرض ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ زمین کی ملکیت کے بڑھنے کے ساتھ قرض میں ڈوبے کسانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہاہے ۔اس کی نشاندہی کرنی چاہئے۔چھوٹے اور سرحدی کسانوں کے اوپر بھی قرض کابڑابوجھ ہے۔ ایسے کسانوں کی آمدنی بہت کم ہے۔ان باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسان ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر مسلسل قرض کے بھیانک دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں ۔
( مژگان نیوز نیٹ/ یو این این)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.