تاکہ دولت چند ہاتھوں تک سمٹ کر نہ رہ جائے
ابوفہد، نئی دہلی
9990002673
  
4th MARCH, 2016,11:51 AM IST
مژگان نیوز نیٹ
انسانی دنیا میں معاشی ناہمواری دور کرنے کے لیے اسلام کے پیش نظر دو بہت ہی اہم اصول ہیں، ایک یہ کہ دولت کا ارتکاز نہ ہو، لوگ دولت کو ذخیرہ کرکے نہ رکھیں بلکہ دولت محل اورتجوریوں سے نکلے اور ہوا اور پانی کی طرح مسلسل گردش میں رہے ۔اور دوسرے یہ کہ دولت کا بہاؤ ایک طرف کو نہ ہو بلکہ وہ چہارجانب کو پھیلے ، ایسا نہ ہو کہ مال چند خاص محل اورتجوریوں سے نکلے اور دوسرے خاص محل اور تجوریوں میں جا کر کنڈلی مارکر بیٹھ جائے۔ پھر ایک عرصے کے بعد وہاں سے کھسکے اور پھر اسی پہلے والے محل اور تجوریوں کی طرف لوٹ جائے۔
کیونکہ اگر ایسا ہوگاکہ دولت کا ارتکاز بڑے پیمانے پر جاری رہے گا اور اس کے بہاؤ کا رخ یک طرفہ ہوگا اورایسادیر تک یا مسلسل ہوتا رہے گاتو لوگوں کے درمیان امیری اور غریبی کا فرق بہت بڑھ جائے گا۔معاشی ناہمواری ایک بہت ہی بھیانک روپ اختیار کرلے گی ،اتنی بھیانک کہ روئے زمین پر ہر کس وناکس کی زندگی اجیرن بن جائے گی ۔اورنہ صرف یہ کہ غریب افراد ہی اس سے متاثر ہوں گے بلکہ کئی اعتبار سے خود سرمایہ دار بھی اس معاشی ناہمواری سے اسی طرح متاثر ہوں گے ۔حالانکہ دنیا کا فطری نظام قائم رکھنے کےلئے معاشی تفاوت ایک حدتک ضروری بھی ہے ۔ کیونکہ اگر دنیا کے تمام انسانوں کی معاشی حالت یکساں ہوجائے تو کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کوئی کسی سے اپنا کام نہیں کرواپائے گا۔قرآن نے شاید اسی طرف اشارہ کیا ہے: نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا ﴿زخرف: ٣٢﴾
’’ہم نے دنیاوی زندگی میں ان کے معاش کے ذرائع کو ان کے درمیان تقسیم کردیا ہے اور ان میں سے بعض کے درجات بلند کردئے ہیں (یعنی انہیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مال ودولت سے نوازا ہے)تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں۔‘‘
مگر اس کا ایک حد پر رہنا ضروری ہے کیونکہ جب بھی یہ ناہمواری اپنی حدود سے آگے بڑھے گی دنیا فتنہ وفساد سے بھر جائے گی ۔یہاں تک کہ اس ناہمواری کے چلتے ہوئے یہ نظارے بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں کہ ایک طرف چند آدمیوں کے پاس اربوں روپئے ہوں گے اور دوسری طرف اربوں کھربوں لوگوں کے پاس چند روپئے بھی نہیں ہوں گے۔ہماری معاصر دنیا میں معاشی ناہمواری اپنی آخری حدود کو پہونچ چکی ہے ، ایک طرف عربوں لوگ ہیں جو خط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اور دوسری طرف معدودے چند لوگ ہیں جن کے پاس دنیا کی تقریبا آدھی سے زیادہ دولت ہے۔بے جاارتکاز اور دولت کے یکطرفہ بہاؤ نے ہمیں یہ دن بھی دکھا دیا ہے کہ دنیا کی کم وبیش ساری کی ساری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ یقیناموجودہ دنیا کی یہ ایک بھیانک تصویر ہے۔ “An Economy for the 1%”کے عنوان سے شائع ہونے والی درج ذیل رپورٹ ملاحظہ کریں:
’’ امیر اور غریب کے درمیان فرق اب اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے نصف وسائل اور دولت و اثاثےپر صرف 62 امیروں کا قبضہ ہے۔ ایک طرف دنیا کی ایک بڑی آبادی وسائل کی کمی کی وجہ سے کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تو دوسری طرف صرف 62 لوگوں کے پاس وسائل کی بھرمار ہے۔دی انڈیپنڈنٹ میں شائع اوکسفیم کی نئی رپورٹ کے مطابق 2010 سے غریب آبادی کی دولت میں 41 فیصد یا 10 ٹریلین ڈالر کی کمی آئی ہے، جس سے یہ پہلے کے مقابلہ اور زیادہ غریب ہو گئے ہیں جبکہ امیروں کی دولت میں 17.60 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔“An Economy for the 1%” کے عنوان سے شائع اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امیروں اور غریبوں کی درمیان اس فرق میں گزشتہ ایک سال میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 2011 میں دنیا بھر کے 388 امیروں کے پاس دنیا کے آدھے وسائل تھے۔ اس کے بعد امیروں کی تعداد میں مسلسل گراوٹ درج کی جاتی رہی۔ 2014 میں یہ تعداد 80 تھی تو 2015 میں یہ مزید گر کر صرف 62 ہو گئی۔ایکسفیم کے سربراہ مارک گولڈرنگ کے مطابق ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر نو میں سے ایک شخص ہر رات بھوکے پیٹ سوتا ہو، وہاں ان امیر لوگوں کو کیک کا سب سے بڑا ٹکڑا دینا مناسب نہیں ہے۔‘‘
اوریہ سب کچھ اسی دنیا میں ہورہا ہےجو خود کو مہذب اور متمدن کہلاتی ہے اور اس کے باجود ہورہاہے کہ دنیا کا ہر ادنیٰ و عالی انسان چاہے وہ کتنا بھی غریب و بےچارہ کیوں نہ ہو تھوڑ ا بہت ٹیکس ضررور بھرتا ہے۔ مالدار لوگ تو حکومت کو بہت زیادہ ٹیکس دیتے ہیں مگر پھر بھی ایسا ہے کہ دولت گھوم پھر کر انہیں کے پاس آتی رہتی ہے۔ دولت امیر لوگوں کے پالتو کتوں کی طرح ہوگئی ہے کہ جہاں وہ جائیں گے وہ بھی وہیں جائے گی۔ دولت کے خزانوں پر غیر خدا پرست لوگ قابض ہوگئے ہیں اور ان کی بندربانٹ پوری تندہی کے ساتھ جاری وساری ہے ۔
معاشی ناہمواری کی اسی بھیانک صورت حال کے پیدا ہونے کے امکان سے قرآن نے بہت پہلے آگاہ کردیا تھا۔ اور پھر اس سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے رہنما اصول بھی دئیےتھے۔قرآن نے کہاتھا کہ اجتماعی یا انفرادی طور پر حاصل ہونے والی دولت کا کچھ حصہ مجبوروں، نادار وں، بیماروں، قرض داروں، بے گناہ قیدیوں، مسافروں اور یتیموں کے لیے خاص ہونا چاہئے۔ قرآن کے الفاظ ہیں:
مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ﴿الحشر: ٧﴾
’’ جو کچھ بھی (مال ودولت)اللہ اِن بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ (مال ودولت)تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے ‘‘
یہ آیت مالِ فے(فيء) کے بارے میں ہے۔ یعنی وہ مال جو غیر مسلم بستیوں سے جنگ کے بغیر حاصل ہو ۔مالِ فے کی وضاحت تفسیرقرطبی میں اس طرح کی گئی ہے: ’’الفيء، وهو ما رجع للمسلمين من أموال الكفار عفوا صفوا من غير قتال ولا إيجاف ; كالصلح والجزية والخراج والعشور المأخوذة من تجار الكفار . ومثله أن يهرب المشركون ويتركوا أموالهم ، أو يموت أحد منهم في دار الإسلام ولا وارث له
’’فے وہ مال ہے جو مسلمانوں کو(مسلم حکومت کو) کسی غیر مسلم بستی سے بنا کسی جنگ اور جد وجہد کے حاصل ہو۔جیسے صلح، جزیہ، خراج اور عشر کے بطور حاصل ہونے والا مال ۔اسی طرح وہ مال بھی اسی ضمن میں آئے گا جسے اسلامی ریاست کے غیر مسلم عوام چھوڑ کر کسی دوسرے ملک کو کوچ کرجائیں یاان میں سے کوئی فوت ہوجائے اور اس مال کا کوئی وارث نہ ہو۔‘‘
اللہ نے اس مال میں صاحب حیثیت مسلمانوں کا حصہ نہیں رکھا اوربعض اوقات جنگ کے راستے کی تمامتر صعوبتیں جھیلنے کے باوجود نہیں رکھا، بلکہ اِس کو غرباء ومساکین کے نام کردیا۔اور جو مال اللہ اور رسول اللہ کے لیے رکھا گیا ہے وہ بھی در اصل غرباء ومساکین کے لیے ہی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺتو اپنی ذات پر اپنی ذاتی کمائی کا مال بھی خرچ نہیں کرتے تھے توبھلا غنیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو وہ اپنی ذات پر کس طرح خرچ کرسکتے تھے۔اس مال کی نسبت آپﷺ کی طرف کرنے کی بظاہر وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺ اس مال کو اپنی صوابدید پر تقسیم کرنے کے مجاز تھے ۔اور جس مال کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے وہ تو دراصل غرباء ومساکین ہی کے لیے ہے کیونکہ یہ مال اللہ کو تو بہرحال کسی بھی صورت میں پہنچنے والا نہیں ہے۔ قرآن کی وضاحت کے مطابق ،اس مال کو امیروں کے درمیان اس لیے تقسیم نہیں کیا گیا تاکہ دولت امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔اُس وقت(درج بالا آیت کے نزول کے وقت) جو لوگ امیر ہوتے تھے ان کے لیے جنگوں میں حصہ لینا قدرے آسان ہوتا تھا اور جو لوگ غریب یا محتاج ہوتے تھے ان کےلئے اسباب کی کمی اور عذر کی وجہ سے جنگوں میں حصہ لینا قدرے مشکل تھا۔دولت مندوں کے لیے تجارت اور کھیتی باڑی کے علاوہ جنگیں بھی مال کمانے کا ایک اچھا ذریعہ تھیں۔انہیں مال کمانے کے بہت سے ذرائع حاصل تھے اورنتیجے کے طور پر ہر موقع پر وہی زیادہ سے زیادہ مال کے مالک بن جاتے تھے اور اس طرح مال چہار جانب سے سمٹ سمٹا کر صرف صاحب حیثیت لوگوں کی تجوریوں کی طرف ہی منتقل ہوتارہتا تھا۔ لہذا اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ کم از کم مسلمان اپنے طور پر یہ کریں کہ مالِ فے کو مالداروں کی طرف جانے سے روکیں اوراس مال کوغرباء ومساکین کے لیے ہی خاص کردیں ۔ یہاں اس دنیا میں بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ کئی لوگوں کو مال کمانے کے ذرایع میسر نہیں ہوتے اور عمر بھر نہیں ہوتے جبکہ بعض دوسرے لوگوں کو خوب ذرائع میسر ہوتے ہیں اور پھر انہیں حاصل ذرائع ان کے لیے مزید ذرائع پیداکرنے کا بہت بڑاذریعہ اور سہارا بن جاتے ہیں۔
مالِ فے کا حصول تو ایک وقتی چیز ہےاور اس وقتی چیز سے غرباء ومساکین کا بہت زیادہ بھلاہونے والا نہیں تھا گرچہ اس میں بھی چند ایک ذرائع مستقل ہیں جیسے ، خراج اور عشر وغیرہ۔ پھر بھی یہ مال ناکافی تھا اس لیے اللہ نے غرباء ومساکین کی مستقل بھلائی کے لیے زکوٰۃ کا ایک منظم نظام متعارف کروایا ۔ زکوٰۃ کے نام پرمالدار مسلمانوں سے ان کی کمائی کا ڈھائی فیصد لیا جاتا ہے اور غریب مسلمانوں کودیدیا جاتا ہے۔حدیث شریف میں ہے: تؤخذ من أغنیائہم وتردّ علی فقرائہم۔ (صحیح البخاری۔کتاب بد ء الوحی: 2 ۔ 130)۔ زکوٰۃ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور جو ان میں غریب ہیں ان کے درمیان تقسیم کردی جائے گی۔اور یہ مالداروں پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہے کیونکہ مالداروں کے لیے ذرائع پیدا کرنے والا خود اللہ ہے اور وہی انہیں حکم دیے رہا ہے کہ جب میں نے تمہیں اپنے فضل خاص سے مال ودولت سے نوازا ہے تو تم بھی اپنے مال میں سے اپنے غریب رشتہ داروں ، پڑوسیوں اور دیگر کمزور ونادار لوگوں کو نوازتے رہو۔بلکہ اللہ نے ان کے مال میں غرباء کے لیے ایک حصہ مقرر فرمادیا۔ اور یہ ان کے مال کا ڈھائی فیصد ہے۔
اسلام امیری اور غریبی کو ایک فطری چیز سمجھتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ غربت خود سے اوڑھی ہوئی چیز نہیں ہے یعنی غربت کا سارا الزم غریب آدمی کے سر نہیں ڈالا جاسکتا، جبکہ خاص طور پر ہم میں سے صاحب ثروت افراد غربت کا سارا الزام خود غریب کے سر پر ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ غریب آدمی کی مدد کرنے کے بجائے ہمیشہ اس کو لعن طعن کرتے رہتے ہیں۔ کبھی اسے سست بتاتے ہیں اور کبھی جاہل وگنوار کہتے ہیں، جبکہ اسلام ایسا نہیں سمجھتا ۔ اگر وہ ایسا سمجھتا ہوتا کہ غربت انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے آتی ہےتو وہ مالداروں کی خون وپسینے کی کمائی میں غریبوں کا حصہ نہیں ڈالتا۔ اسلام نے امیروں کے مال میں غریبوں کا حصہ اخلاق کے طور پر نہیں رکھا بلکہ اسے فرض کے طور پر رکھا ہے۔ اگر غربت کوئی اختیاری چیز ہوتی تب تو یہ صاحب حیثیت آدمی پر ظلم ہوجاتا کہ وہ محنت کرے اور کمائے اور غریب آدمی دن رات سوئے ، موج کرے اور پھر فوکٹ میں صاحب حیثیت آدمی کے مال میں ڈھائی فیصد کا حصہ دار بن جائے۔اگر اسلام کی غریب نوازی پر جائیں تو جو لوگ ہمارے آس پاس رہتے ہیں ، رشتہ دار اور غیر رشتہ دار ، اگر وہ مستحق ہیں اور ہم صاحب نصاب ،تو صحیح معنیٰ میں وہ ہمارے بزنس پارٹنر ہیں، وہ ہمارے منافع میں ڈھائی فیصد کے حصہ دار ہیں، اگر اسلامی حکومت ہے تو حکومت اِس کی ذمہ دار ہے کہ وہ ہم سے ہمارے منافع کا ڈھائی فیصد لے اور مستحق افراد تک پہنوچادے اور اگر حکومت نہیں ہے تو یہ ذمہ داری بھی خود ہمارے ہی سر آپڑے گی کہ ہم خود مستحق آدمی کو تلاش کریں اوراس کا ڈھائی فیصد اس کے گھر پہنوچادیں،بناکسی لیت و لعل کے اورکسی طرح کے احسان اور فتح مندی کے تصور کے بغیر۔
اور ہاں ایسا بالکل نہیں ہے کہ دنیا کے یہ باسٹھ لوگ عقل اور قسمت کے اعتبارسے دنیا کے باقی تمام افراد پر فائق ہیں اور انہوں نے جو کچھ کمایا ہے وہ سب کا سب ان کی بے پناہ ذہانت اور رات دن کی انتھک محنت کا راست نتیجہ ہے۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ بلکہ سچی بات یہ بھی ہے کہ ان کی اس بے پناہ دولت کے پیچھے ان کی ذہانت اور انتھک محنت سے زیادہ دنیا کا انتہائی ناقص اقتصادی سسٹم بھی ہے جس کے چلتے ہوئے خود بخود ایسا ہوتا چلا جاتا ہے کہ غریب غریبی کی طرف بڑھتا ہے اور امیر امیری کی طرف دوڑتاچلا جاتا ہے۔یہاں غریبوں کی راہ میں ہزار طرح کی رکاوٹیں ہیں اور امیروں کے لئے ہزار طرح کی سہولتیں اور مواقع ہیں۔
آج کی دنیا کا یہ مشہور مقولہ ہے کہ پیسہ ،پیسے کو کماتا ہے۔اور یہ اس باعث ہے کہ مارکیٹ میں جو پیسہ گردش کررہا ہے اس کے بہاؤ کا رخ پہلے سے بھری ہوئی تجوریوں، عالی شان محلوں اور پہلے سے بھرے ہوئے پیٹوں کی طرف ہے، یہ کچھ اس وجہ سے بھی ہے کہ ہمارا اشرافیہ اپنے ماتحت نوکرچاکر اور تنخواہ داروں کو ان کی محنت اور آج کے زمانے میں ان کی واجبی ضروریات ، پیسے کی قدر وقیمت اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق انہیں مشاہرہ اور تنخواہ نہیں دیتا۔سرمایہ دارانہ ذہنیت کی حامل دنیا کا ہر فرد یہی سمجھتا ہے کہ مزدور اور غریب لوگ ان کے پیسے پر پل رہے ہیں اور خود ان بیچاروں کو بھی یہی احساس ستائے جاتا ہےاور اسی لئے ان کی زبان ہر چھوٹی بڑی خطا کے موقع پر بس یہی ایک جملہ دہراتی ہے: ’’ حضور !میں نے آپ کا نمک کھایا ہے ‘‘۔شاید وہ نہیں جانتا کہ یہ ’’نمک‘‘ اسے اس کے جسم و جان کی قیمت پر ملا ہے۔ اس کے برعکس حضور ﷺ نے فرمایا کہ مالداروں کو غریبوں کی محنت اور تقدیر سے روزی ملتی ہے۔کیا کسی فیکٹری کے مالک اور ملک کے سربراہ کی زبان سے کبھی آپ نے یہ بات سنی ہے کہ وہ ان کے مقدرسے روزی کھارہا ہے اور وہ جو کچھ بھی ہے اپنے نوکر چاکر کی وجہ سے ہے۔ اگر کہیں آپ نے ایسا سنا بھی ہے تو اس کی سیاسی اور معاشرتی معنویت پر ضرور غور کیجئے۔آج کی جمہوری حکومتوں میں کئی لوگ اس طرح کی باتیں بولتے رہتے ہیں مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کسی بہت بڑی حقیقت کے اظہار کے طور پربول رہے ہوتےہیں بلکہ اس کے پس پردہ ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی معاشرتی اور سیاسی تصویر میں رنگ آمیزی چاہتے ہیں ۔وہ اپنے آپ کو لوگوں کا مسیحا ثابت کرنا چاہتے ہیں جبکہ درحقیقت وہ بہت بڑے ظالم انسان ہوتے ہیں۔
حضورﷺ کا فرمان ہے: أَبْغُونِي فِی ضُعَفَائِكُمْ ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ (مشکوۃ المصابیح)
’’مجھے کمزوروں اور غریبوں کے دمیان تلاش کرو، کیونکہ تمہیں انہی کمزور لوگوں کی وجہ سے روزی دی جاتی ہے اور انہی کے ذریعہ تمہاری مدد کی جاتی ہے۔‘‘ اس میں نہ صرف یہ بات کہی گئی ہے کہ مالداروں کو کمزورں کی وجہ سے روزی ملتی ہے بلکہ اس میں خود حضورﷺ کا اسٹینڈ بھی واضح ہورہا ہے۔ ’’مجھے غریبوں میں تلاش کرو۔‘‘ یعنی آپ ﷺہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، ان کے وکیل اور طرفدار ہیں، جب کبھی کسی کو ان کی تلاش ہو تو وہ کمزور لوگوں کے درمیان جائے وہیں پر اسے آپ ﷺ بھی مل جائیں گے۔
معاصر دنیا میں موجود اس بھیانک معاشی ناہمواری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت ٹیکس کی صورت میں عوام سے جو پیسہ وصول کرتی ہے اس کے مصارف میں فرد یا تنہا انسان نہیں ہے ۔اس کے مصارف میں تعلیم، صحت ،اسپورٹ، فنون لطیفہ اور قدیم عمارتوں اور تہذیبوں کی بازآبادکاری اور تزین کاری تو شامل ہے مگر انسان بنیادی طورپر شامل نہیں ہے ، یعنی ایسا نہیں ہے جس طرح زکوٰۃ میں ہے کہ غریب انسان کی محض غربت بھی قومی اثاثے کے مصارف میں سے ایک بڑا اور اہم مصرف ہے۔اسلام میں سب سے پہلی ضرورت بھوکے آدمی کی بھوک مٹانا اور اس کی غربت کو دور کرنا ہے۔باقی ساری چیزیں ثانوی درجے پر ہیں ۔اسلام میں زکوٰۃ کے ذریعہ قومی اثاثے کا ایک معتدبہ حصہ براہ راست غریب آدمی کی جیب میں پہنوچتا ہے جبکہ جمہوری حکومتوں میں زیادہ سے زیادہ اتنا ہوتا ہے کہ انہیں کم سود پر قرضہ مل جاتاہےیا بڑھاپے کے نام پر کچھ رعایتیں مل جاتی ہیں اور بس ۔جبکہ اس نظام میں وی آئی پیز کے لیے ہزاروں طرح کی رعایتیں اور سہولتیں ہیں۔
ایک اہم اور قابل غور با ت یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا میں زکوٰۃ کے نظام میں کمزوری واقع ہوئی ہے ۔اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو مسلمانوں میں دینی شعور اور پختگی کی بہت زیادہ کمی ہوگئی ہے جس کے باعث انہوں نے اپنی زندگی سےاس کو سرے سے خارج ہی کردیا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے پس پردہ خلافت یا ریاست کی کوئی قوت نہیں ہے جوکہ مسلمانوں کو زکوٰ ۃ اداکرنے کے لیے مجبور کرسکتی، بالکل اسی طرح جس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے زمانے کے لوگوں کو مجبورکیا تھا۔بلکہ آپؓ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف اعلان جنگ بھی کردیا تھا۔آپؓ نے فرمایا تھا:
وَاللّٰہِ لَو مَنَعُونِی عِقَالًا کَانُوا یُوَدُّونَہَا لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم َلقَاتَلتُہُم عَلٰی مَنعِہَا (صحیح البخاری)
یعنی ”اللہ کی قسم ! جولوگ ایک رسی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودیاکرتےتھے،اگرمجھےنہیں دیں گے تومیں ان سےجنگ کروں گا۔‘‘
اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہوتی تو مسلمان زکوٰۃ کے معاملے میں اس قدر تساہل نہ برتتے جس قدر اب برت رہے ہیں۔اور اس کا راست نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خود مسلمانوں میں بھی محتاجوں ، غریبوں اور مانگنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ ہم میں سے کئی لوگ محنت اور دولت کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں، ہم یہ مانتے ہیں کہ محنت مال حاصل کرنےکا پہلا اور راست ذریعہ ہے، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں محنت کش لوگ سب سے بڑی تعداد میں ہیں اور وہی سب سے زیادہ محروم ہیں۔ اگر محنت ہی سب کچھ ہوتی تو محنت کش طبقہ سب سے زیادہ محروم نہ ہوتا اور دنیا کے دوسرے تمام طبقات کے بالمقابل ان کے یہاں خودکشی کا گراف سب سے زیادہ بلند نہ ہوتا۔ ہمارے ملک ہندوستان میں کسان سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں اور وہی سب سے زیادہ خودکشی بھی کرتے ہیں۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ محنت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، کم از کم پیسہ کمانے کے معاملے میں محنت کا درجہ پہلا ہرگز نہیں ہے۔پیسہ کمانے میں پیشے( Profession )کو بھی بہت بڑا دخل ہے۔یہاں پیشوں (Professions )کی اہمیت اور قدروقیمت میں بہت زیادہ تفاوت پایا جاتاہے۔ اور خاص اسی باعث ایسا ہے کہ ایک پیشے سے وابستہ آدمی ،محض پانچ منٹ میں پانچ کروڑ روپئے کماسکتا ہے جبکہ دوسرے کئی پیشوں سے وابستہ افراد پانچ گھنٹوں میں محض پانچ سو روپئے بھی نہیں کماپاتے۔ کام ، پیشے اور اشیاء کی قدروقیمت میں بہت زیادہ تفاوت ہونے کی وجہ سے ایسا ہے کہ خون سستا ہے اور مسکراہٹیں بیش قیمت ہے۔معاصر دنیا میں سرکردہ شخصیات کی طرف سے ایک لفظ بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے اور وہ ہے سخت محنت (Hard Work) جب بھی کسی قدآور شخصیت کا تذکرہ آتا ہے تو اس کے ساتھ ’’یہ بہت محنتی ہیں/تھے‘‘ کا ٹیگ ضرور لگایا جاتا ہے۔یقینامحنت کی اپنی ایک خاص معنویت ہے اور اسے کسی بھی قیمت پر کم نہیں آنکا جاسکتا۔مگر محنت بذات خود بہت زیادہ معنویت نہیں رکھتی ، محنت کی قدرو قیمت پیشہ( Profession ) اور اس کی زمانی ومکانی قدر (value)کے ساتھ ملکر متعین ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کھیتی کسانی اور محنت مزدوری کرنے والے ہمیشہ غریب رہتے ہیں، کیونکہ ان کی محنت بہت کمتر درجے کی قدر (value) رکھتی ہے اور ان کی محنت اور کمائی کی صحیح قیمت انہیں نہیں ملتی جبکہ وہ لوگ جو کرسیوں پر براجمان ہیں، پروفیسر ہیں، انجینیر ہیں یا سبھاؤں کے ممبرز ہیں انہیں ان کے کام، محنت اور کمائی کی بہت زیادہ قیمت ملتی ہے اور اس طرح وہ بہت جلد امیر ہوجاتے ہیں۔ غبارے بیچنے والا یا گلیوں میں گھوم گھوم کر پھیری کرنے والا اگر دن میں بیس گھنٹے اور ہفتے میں پورے سات دن بھی کام کرے گا تب بھی اس کی تھکادینے والی محنت اسے بہت زیادہ فائدہ نہیں دے گی اور وہ غریب ہی رہے گا،جبکہ بڑے کاروباری لوگ تھوڑی سی زیادہ محنت سے اور ایسی محنت سے جو بہت کم مشقت والی ہوتی ہے،بہت سارا روپیہ کماسکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ صرف محنت اپنی کوئی خاص قدر نہیں رکھتی ، اس کی قدر دوسری چیزوں سے مل کر کسی اہمیت کی حامل بنتی ہے۔ اور اسی لئے صرف محنت کا مشورہ دینا کافی نہیں بلکہ فرد کی سطح پر پیشے کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے اور اجتماعی سطح پر نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔اور مسلمانوں کے لئے نظام کو ٹھیک کرنے کے معنیٰ صرف یہ ہوں گے کہ وہ اقتصادیات کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات ، اصول وہدایات اور نظام کو دنیا کے سامنے رکھیں اور اپنے معاشروں میں اسے نافذ کرنے کی اپنی جیسی کوشش کریں۔

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.