اردو چینلوں پر محرم سے متعلق پروگرام
تحسین منورؔ
18 Oct, 2015,11:14 PM IST
پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے نواسے حضرت امام حسین ؑ نے 1400 برس قبل کربلا کے میدان میں ہزاروں کے ظالم لشکر کے سامنے اپنے تین دن کے بھوکے پیاسے 72 ساتھیوں کے ساتھ حق و انصاف کے لئے جو بے مثال قربانی پیش کی تھی محرم اسی قربانی کی یادگار ہے۔ ان 72 شہیدوں میں 6 ماہ کے ان کے بیٹے علی اصغر اور 18 برس کے بیٹے علی اکبر بھی تھے۔ بھائی اور بہن کے بیٹے قاسم اورعون و محمد بھی تھے۔
   سال کے دوست حبیب بھی تھے۔ ان کے پاس فوج نہیں تھی بلکہ حق کے ایسے ستون تھے جن کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں مہاتما گاندھی سے لے کر گرودیو روندر ناتھ ٹیگور سمیت متعدد عظیم شخصیات کے لئے کربلا چراغِ راہ بن جاتی ہے۔ امام حسینؑ کی مدد کے لئے بھارت سے بھی سچ کے سپاہی گئے تھے۔ انہیں حسینی برہمن کہا جاتا ہے۔ امام حسین ؑ نے یزید کے لشکر میں گھرجانے کے بعد ان سے جنگ ٹالنے کے لئے بھارت جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔اس لئے بھارت کو ان کی تمنا کا ملک بھی کہا جاسکتا ہے۔ بھارت میں غیر مسلم بھی امام حسینؑ کا نام عزت اور احترام سے لیتے ہیں اور ان کی یاد مناتے ہیں۔یہ بھارت کی صدیوں پرانی تہذیب کا ہی اظہار ہے جہاں تشدد اور دہشت گردی کے خلاف حق کو عزت و توقیر بخشی جاتی ہے۔ محرم کا مہینہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے لیکن غم میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اس کی مبارکباد نہیں دیتے ہیں۔
اس بار محرم چاند نکلنے کے مطابق 15 یا 16 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ ہمارے یہاں سرکاری طور پر جو چھٹی کا دن محرم کہلاتا ہے وہ اصل میں محرم کی دس تاریخ ہوتی ہے جسے "یوم عاشورہ" بھی کہتے ہیں۔ اس دن زیادہ تر تعزیہ اور علم کے جلوس نکلتے ہیں جس میں لوگ اپنے عقیدے کے مطابق حضرت امام حسین ؑ کی قربانی کو یاد کرتے ہیں۔ اس بار کئی جگہ دسہرا ہونے کی وجہ سے قانون و انتظام اور بھائی چارہ بنائے رکھنے کے لئے محرم کا جلوس نہیں نکالا جا رہا ہے کیونکہ ان ہی تاریخوں میں مورتی وسرجن بھی ہونا ہے جس سے راستے میں ٹریفک جام کا مسئلہ پیدا ہو سکتاہے۔ یہ فیصلہ امام کے چاہنے والوں نے خود ہی لیا ہے اور اس سے بھی کربلا کا پیغام عام ہورہا ہے ۔
میڈیا کی طرف آئیں تو بھارت میں محرم سے متعلق نشریات میں آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کا ہمیشہ سے ہی خاص مقام رہا ہے۔ اس پر چاند رات سے ہی نوحہ، سوز اور سلام نشر ہونے لگتا ہے۔ آٹھ سے دس محرم کے درمیان اردو سروس پر صرف محرم سے متعلق پروگرام ہی نشر ہوتے ہیں۔ جن میں ریڈیو فیچر،مراثی اور تقریریں شامل ہوتی ہیں۔ 24؍ اکتوبر کو خواتین کاپروگرام "بزم خواتین" محرم پر ہی مرکوز ہوگا۔ دس محرم کو رات دس بجے "محرم اور گنگا جمنی تہذیب" کے عنوان سے خاص ریڈیوفیچرمیں غیر مسلم ادیبوں اور شاعروں کا کلام پیش کیا جائے گا۔ اس رات 12 بجے لکھنؤ کی "شامِ غریباں" کی مجلس بھی نشر ہوگی۔ اردو سروس اب ڈ ی ٹی ایچ ور انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہونے کی وجہ سے ملک و بیرون ملک میں کافی سنی جاتی ہے۔ اس کوآل انڈیا ریڈیو ایپ کے علاوہairworldservice.org/urdu پر بھی سنا جا سکتا ہے ۔ دوردرشن کا اردو چینل بھی محرم کے دوران کئی پروگرام پیش کرسکتا ہے۔ دوردرشن کے کچھ علاقائی چینل بھی اس موقع پر بہت سے پروگرام پیش کرتے ہیں۔
زی سلام پر ہمیشہ کی طرح چاند رات سے 11 دن تک روزانہ رات کو 11 بجے سوز، سلام، تقریر اور نوحے نشر ہوں گے جن میں مولانا شمشاد حسین، مولانا سید غلام علی، مولانا کلب جواد، مولانا معراج مہدی، مولانا نعیم عباس، مولانا کلب صادق، مولانا یعسوب عباس، مولانا حسن کمیلی ، مولانا محسن تقوی، مولانا کلب رشید اور کمشنر ایس ایم جواد عابدی کی تقریریں مختلف روز نثر ہونگی۔یہ پروگرام اگلے دن صبح 6 بجے بھی دوبارہ نشر کیا جائے گا۔ ای ٹی وی کا اردو چینل بھی ہر سال کی طرح "صدائے کربلا" کے عنوان کے تحت محرم سے متعلق پروگرام چاند رات سے ہر رات 11 بجے سے ساڑھے بارہ بجے رات تک نشر کرے گا۔ دہلی میں گزشتہ 13 سال سے ریاض ملک اس پروگرام کے پروڈیوسر ؍ڈائریکٹر کا فرض نبھا رہے ہیں۔"صدائے کربلا" میں سوز، سلام اور نوحوں کے علاوہ مولانا حبیب حیدر، مولانا مرزا اشفاق، مولانا محسن تقوی، مولانا کلب صادق، مولانا حمیدالحسن، مولانا کلب جواد، ڈاکٹر شوکت علی مرزا، مولانا وصی حسن، مولانا میثم زیدی، مولانا مرزا محمد اطہر اور مولانا منتظر مہدی کی تقریر مختلف دن نشر ہونگی۔ اس کے علاوہ ہر دوپہر ڈھائی بجے "نوائے عزا" میں بھی سوز، سلام،نوحے اور مراثی نشر کئے جائیں گے۔
سہارا کے اردو چینل عالمی سمے پر بھی چاند رات سے یومِ عاشورہ تک محرم سے متعلق میں کافی پروگرام ہیں۔’’پیغامِ کربلا ‘‘ کے عنوان سے روزانہ چار بار مختلف علما کی اسٹوڈیو میں ریکارڈ کی گئیں تقریریں نثر کی جائیں گی جس میں کربلا میں حضرت امام حسینؑ کی شہادت اور ان کے پیغام پر روشنی ڈالی جائے گی۔اطلاع کے مطابق یہ تقریریں صبح ساڑھے آٹھ بجے ،دوپہر ساڑھے بارہ بجے،سہ پہر ساڑھے چار بجے اور رات کو ساڑھے نو بجے نثر کئے جانے کی امید ہے۔عالمی سمے کوشش کر رہا ہے کہ محرم کی دس تاریخ سے قبل وہ دلّی اور لکھنؤ کے کچھ خاص امام بارگاہوں سے مجالس کوبراہ راست نثر کرے۔ یہ نثریات محرم کی آٹھ تاریخ سے ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ عالمی سمے پر دن بھر مختلف اوقات میں سوز، سلام ،مراثی اور نوحے بھی نثر کئے جاتے رہیں گے۔ساتھ ہی خبروں میں محرم سے متعلق سرگرمیوں کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔
اس بار محرم اور دسہرا ساتھ ساتھ ہیں۔ دونوں ہی برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت ہیں۔ محرم ظلم کے خلاف تحمل،برداشت اور صبر کی علامت ہے جو آج آئی ایس آئی ایس،القائدہ اور بوکو حرام جیسی دہشت گرد سوچ سے لڑنے کی طاقت فراہم کر سکتا ہے۔ اس وقت جس طرح سیاست نے مذاہب کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ دونوں ہی تہوار ملک کے شہریوں کو حق کے قریب لا سکتے ہیں۔ میڈیا اس سلسلے میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اسے انتخابی جوڑ گھٹا سے فرصت نہیں ملنے والی ہے۔ کاش اردو چینلو ں کے ساتھ ساتھ دوسرے قومی چینل بھی محرم کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کا کام کر پاتے تو ہمارے ملک میں امن و شانتی کے لئے اس قدربھٹکنا نہیں پڑتا۔(مژگاں نیوز نیٹ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.