اصلاح امت ،امام حسین ؑ کامقصدِ سفر
سید صادق رضا تقوی
16 Oct, 2015,10:14 AM IST
(مژگاں نیوز نیٹ) دین اسلام کی بقا کے لئے حضرت امام حسین علیہ السلام نے 28 رجب 61 ہجری کومدینے سے اپنے سفر کا آغا زکیا۔یہ عالم اسلام کی تاریخ بدلنے کے سفر کا آغاز ہے۔یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سفر کا آغاز تھا۔یہ اصلاح امت کا سفر تھا۔یہ ذمہ داریوں اور وظیفے کی ادائیگی کا سفر تھا۔یہ ایثا ر فدا کاری کا سفر تھا۔ہجرت رسول اکرم ﷺ سے ہجرت کا آغاز ہوا لیکن امام حسین علیہ السلام کے سفر سے اسلام کی اصلاح و رتبدیلی کے ایک نئے باب اور تاریخ کا آغاز ہوا ہے۔امام حسین علیہ السلام کے اس سفر کا مقصد امتِ محمد یؐ کی اصلاح تھا۔آپ محمد ابن حنفیہ کو اپنی وصیت تحریری طور پر لکھ کر دیتے ہیں تاکہ رہتی دنیا میں حسین ابن علی ؑ کی یہ وصیت باقی رہ جائے اور من مانی کرنے والے ،کربلا کے من گھڑت مقاصد بیان کرنے والے اور خواہشات نفسانی کی پیرو ی کرنے والے افراد کو منہ توڑ جواب دیا جائے کہ حسین ابن علی نے کس وجہ سے سفر کیا تھا:
’’انماخرجت ا لطلب الاصلاح فی امتہ جدی،ارید ان آمر بالمعروف و انہی عن المنکر‘‘ میں تو صرف اس لیے نکل رہا ہو ں کہ اپنے نانا محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کی اصلاح کیلئے کوئی قد م اٹھاسکوں ،میں اپنے سفر سے چاہتا ہوں کہ لوگوں کو اچھائی اور نیکیوں کا حکم دوں اور بری باتوں سے روکوں۔'' امام حسین علیہ السلام کے اس جملے سے جو تربیتی نکات ملتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
* معصوم امام بھی اپنی شرعی ذمہ داری کی ادائیگی کیلئے عمل انجام دیتا ہے اورعملی اقدامات کرتا ہے۔
* معصوم امام کا مقصد صرف اور صرف اصلاح امت تھا۔
* ''اصلاح'' کا عمل کسی بھی زمانے میں واجب ہو سکتا ہے اور اس کیلئے امام جیسی ہستی کو بھی اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔ * طلب کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ انسان کا کام اپنی ذمہ داری کو انجام دے۔
* ''لطلب الاصلاح''کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ انسان کا کام اپنی ذمہ داری کی صحیح طو ر پر ادائیگی کیلئے قدم اْٹھانا ہے۔
* اچھائی اور نیکی کاحکم دینا سب پر واجب ہے اور برائی اور گناہوں سے روکنا بھی۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام حسین ۔ کتنا بڑا اور اہم ترین کام انجام دینے کا ارادے کیے ہوئے تھے!جب معصوم امام کا مقصد'' اصلاح امت'' ہے تو پھر اْن کی عزاداری کو بھی اصلاحی ہو نا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ امام حسین ۔کی عزاداری میں ا صلاح امت نام کی کوئی چیز نہ ہواورخطبا ،علما او رذاکرین کرام منبر سے اصلاح امت کی باتیں بیان نہ کریں۔اگر ہماری عزاداری میں اصلاح امت کی بات نہ کی جائے تو یہ امام حسین ۔ کی عزا داری نہیں ہے ،اس لیے کہ اگریہ امام کی عزاداری ہو تی تو اس میں اصلاح امت کا پیغام ہوتا!
عزاداری سے بھی اصلاح امت کا پیغام قوم تک پہنچایا جاسکتا ہے۔اگر عزادار ی میں اصلاح امت کی بات نہیں تو ہمیں از سر نو جائزہ لینا ہو گا اپنی عزاداری اور اس میں شامل رسومات کا!
جب حسین ابن علی ؑ اپنے زمانے کے حالات و واقعات کو دیکھ کر اپنا شرعی وظیفہ سمجھتے ہیں کہ امت کی اصلاح کیلئے وطن کو خیر آباد کہا جائے ،آرام وسکوں کے بستر کو لپیٹ دیا جائے ، حلقہ ء درس و بزم دوستاں سے نکل کر رسم شبیری کو زندہ ،یادگار اور دائمی بنایا جائے تو اب موجود ہ حالات میں امام حسین علیہ السلام کی عزادار ی سے بھی یہی کام لینے چاہئیں۔عزاداری سے قوم کو خواب غفلت سے بیدا ر کیا جائے اوراخلاقی،عقائدی ،فکر ،نظریاتی ،ثقافتی اور سیاسی انحرافات سے معاشرے کو پاک کیا جائے نیزنوجوان نسل کے ذہن میں پیدا کیے جانے والے شبھات کو دور کیا جائے۔
* اگر ہماری عزاداری سے اصلاح امت کا کام لیا جاتا توآج ہماری حالت اتنی نا گفتہ بہ نہ ہوتی!
* آج عقائدی دنیا میں علی الاھیت ،نصیریت ،ائمہ طاہرین کو رب کہنے کی یلغار نہ ہوتی۔
* اگر ہماری عزاداری سے اْس کا حقیقی کام لیا جاتا توخود ساختہ اور نام نہاد مولوی اور ذاکر خود کو خدائیت کا درجہ دے کر اپنے آپ کوسادھ لوح عوام سے سجدے نہ کراتے!
* اگر ہماری عزاداری سے اْس کا حقیقی کام لیا جاتا تو شعرا ء کرام اپنے کلام میں نصیریت اور علی کے خدا ہونے کا پرچار نہ کرتے! * اگر ہماری عزاداری سے اْس کا حقیقی کام لیا جاتا تو آج قوم متحد ہوتی اورقوم کے خلاف ہونے والی ہر سازش ناکام ہو جاتی۔ * کاش ہماری عزاداری ،حقیقی معنیٰ میں امام حسین ۔کی عزادار ی ہوتی اور اصلاح کا کام انجام دیتی!
28 رجب سے10 محرم الحرام61 ہجری تک امام کا یہ تاریخی سفر اورآپ کے تاریخی جملے درحقیقت تاریخ کے تمام اپنے پرائے، دوست نما،کم ہمت ،بے حوصلہ،کم ظرف، جھوٹے ،بزدل ،کھوکھلے،کوتاہ قد افراد،جھوٹی شان وفضیلت سے تاریخ میں مصنوعی سانس لینے والے ،مال پرست،جاہ طلب،دنیا کے پجاری ،شیطان کے حامی اورنفس پرستوں کیلئے ایک کھلا چیلنج ہیں جو اما م عالی مقام کی سیرت،روش،احادیث اور کربلا میں تحریف کرنے کے درپے ہیں۔آئیے امام حسین ۔کے ان تاریخی جملوں سے کسب الہام کرتے ہوئے اپنی ،معاشرتی اور قومی اصلاح کیلئے قدم اْٹھائیں اور عزاداری کو با مقصد طریقے سے برپا کرنے کی کوشش کریں۔ (مژگاں نیوز نیٹ)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.