میری دھرتی کے مسلمان بڑ ے بھولے ہیں
مظہر حسنین
10 Jan, 2016,3:41 PM IST
جانتخابات کا دور آتے ہی سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش تیز کردیتی ہیں ۔انھیں وعدوں کی خوبصورت وادیوں کی سیر کرائی جانے لگتی ہے ۔تما م سیاسی پارٹیاں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں ۔چناوی مفاد کے لیے مولیوں کو خریدا جاتا ہے ،ان سے فتوے جاری کرایے جاتے ہیں ،سیاسی بیانات دلائے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دوسری جانب وہ سیاسی پارٹیاں جو یہ کہتی ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے وہ الیکشن کے وقت اپنے رویے کو تبدیل کرکے مسلمانوں کے ہمددرد کے طور پر پیش کرنے لگتی ہیں ۔ملک میں مسلمانوں کی بد تر صورتحال کا اندازہ سبھی کو ہے اور بحث و مباحثے میں سچر کمیٹی رپورٹ کا خوب تذکرہ بھی کیا جاتا ہے ۔ سچر کمیٹی رپورٹ مسلمانوں کی حقیقی صورت حال کو سامنے لانے کے لیے یقیناًنہایت اہم لیکن اس سے زیادہ اہم ہے اس رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے کے اقدام کیے جائیں ۔سچر کمیٹی کے مطابق مسلمانوں کا وجود ملک کے نئے دلت کی شکل میں ہے۔ وہ تعلیم سے لے کر تجارت تک، ملازمت سے لے کر صحت تک غرض کہ ہر شعبہائے زندگی میں ملک کی دوسری اقوام سے پچھڑے ہوئے ہیں، اس کمیٹی نے نہ صرف ان کی پسماندگی کا جائزہ لیا ہے بلکہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقے کوریزویشن دینے پر بھی زور دیا ہے۔پھر بھی مسلمانوں کی بہتری کے تعلق سے عملی اقدام کا فقدان ہے اورمسلم سیاسی رہنماصرف کف افسوس کا اظہار کرتے ہیں ۔ اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار خود مسلمان ہیں ۔مسلمان اپنے حقوق سے لاعلم ہیں، تعلیم اور ملازمت میں جو سہولیات انہیں دی جا چکی ہیں وہ اس سے بھی مستفیدنہیں ہو پائے ہیں۔ ہماری دھرتی کے مسلمان حد درجہ بھولے پن کا شکار ہیں اور اب بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کی ان کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
انھیں بڑی آسانی دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، مسلسل ذہنی وہ جسمانی اذیتیں پہنچائی جاتی ہیں ۔لیکن ہمارے سیاسی رہنما ؤں میں یہ جرأت نہیں ہوتی کہ ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں ۔مسلمانوں کو اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اپنے وجوداور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے لازم ہے کہ انتخابات کے وقت مسلمان سوجھ بوجھ سے کام لیں۔سیاسی پارٹیوں کے لالی پوپ ،سرکاری اسکیموں کے اعلانات ،تلافی و معافی کے عیارانہ ہتھکنڈوں ،جھوٹے وعدوں سے جذباتی طور پر بلیک میل نہ ہوں ۔
مسلمانوں میں تعلیمی بیداری اور تعلیمی معیار کی مثال امتحانات کے نتائج ہیں؟ ہر ذی شعور اس بات سے باخبر ہے کہ ان اداروں میں کیا تعلیم دی جارہی ہے ۔ مسلمان رہنما بھی کو ئی ایسی کو شش نہیں کر رہے ہیں جس سے مسلمانوں کا تعلیمی معیار بلند ہو ۔مسلمانوں کی زبو حالی کی ایک دو وجوہات ہو ں تو بیان کیا جائے یہاں تومعا ملہ ہی کچھ عجیب ہے ۔ جس طرف نظر اٹھایئے مسا ئل کا انبار ہے ۔ فرقہ بندی ، مذہبی مسائل ، بدعت و سنت کے فتوے سے ہی فرصت نہیں ہے کہ زندگی کے دوسرے مسائل پر متحد ہو کر سنجیدگی سے غور وخوض کیا جائے ۔ مسلمانوں کی تعلیمی ، معا شی ، سماجی ، سیاسی پستی کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ چندمسلم اداروں کو چھوڑ کر کوئی بھی ایساادارہ نہیں ہے جس میں مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم کا کوئی معقول انتظام ہو ۔ اعلیٰ تعلیم تودور بنیادی تعلیم ،جس پر خوبصورت مستقبل کا انحصار ہو تا ہے اس کے لئے ہم کتنے سنجیدہ ہیں؟ دوسری قوموں کے تعلیمی معیار کا جائزہ لینے پر ان کی تعلیمی ترقی کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔مسلمانو ں کے لئے مذہبی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور دو سرے علوم کے لئے عدم دلچسپی دکھائی جاتی ہے ۔ آج دنیا کی ہر قوم تعلیم کی طرح راغب ہو رہی ہے تو ہماری قوم میں تعلیم کی لئے اتنی کاہلی اور سستی کیوں ہے؟ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی بھی ایسا سیاسی رہنما سامنے نہیں آیا جومخلصانہ طور پر قوم کی فلاح کے لئے کام کرے ۔ ہمارے رہنماؤں کی ملّی ہمدری اسی وقت ختم ہوجاتی ہے جب ہم انہیں اپنا نمائندہ منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیج دیتے ہیں ۔کیونکہ اب وہ اپنا سیکولر کردار پیش کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو شایدپارٹی میں انہیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہے ۔وہ پارٹی سے وفاداری ، اعلیٰ کمان کی جی حضوری تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں ۔
مذہبی ٹھیکہ داروں نے مسلمانوں کے فرقوں میں اتنی خلیج پیدا کر دی ہے کہ کسی بھی صورت میں تمام فرقے ایک صف میں آنے کے لئے راضی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے بھی گریز نہیں کرتے ۔مسلمانوں کی پسماندگی کی لئے ذمہ دار وجوہات پر روشنی ڈالی جائے تو اس کے لئے مسلمان کم ذمہ دار نہیں ہیں ۔ آج تو لفظ مسلمان ہی سب سے بڑا جرم ہے لیکن ہمارے مسلم رہنماؤں ، دانشوروں اور علماء ایسے اقدامات نہیں کرتے جو قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ہوں ۔ کوئی مسلمان اپنی محنت کی بنا ء پر اونچے مقام تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی دل ودماغ میں اپنے اسٹیٹس کی بات جگہ کر جاتی ہے اس لئے اسے قوم کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں رہ جاتی ہے ۔ایسی صورت میں مسلمان کہاں جائے ، کیا کرے ، کس کو اپنا سمجھے کس کو غیر؟جب ہمارے سیاسی لیڈران مسلمانوں کے ٹھیکہ دار بن کر برساتی مینڈھکوں کی طرح الیکشن کی دوران وعدوں کی ایک طویل فہرست کر سامنے آتے اور پھر ایسا گم ہو تے ہیں کہ ان کی شکل تک یاد نہیں رہ جاتی ۔کیونکہ میری دھرتی کے مسلمان بڑے بھولے ہیں۔
( مژگان نیوز نیٹ/ یو این این)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.