سرکاری اسکولوں کو اور اردو کو بچائیں تو کیسے ؟
غلام غوث
7 Septemer, 2015, 10.15 PM
(مژگاں نیوز نیٹ)
الہ آباد ہائی کورٹ نے 17.8.2015 کو اپنے ایک فیصلہ میں یو پی سرکار کو یہ حکم دیا ہے کہ سرکاری ملازم ( اسکولوں کے ٹیچرس ملا کر ) ، منتخب سیاستدان اور عدالتی نظام سے تعلق رکھنے والے اور تمام وہ لوگ جو اپنی تنخواہ اور مالی امداد حکومت سے لیتے ہیں وہ سب اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کر نے کے لئے سرکاری پرئمری اسکولوں میں داخل کرائیں . یہ فیصلہ سرکاری اسکولوں کو بند ہو نے سے بچانے اور انکا معیار بڑھانے کے لئے دیا گیا . جسٹیس سدھیر اگروال نے یہ بھی فیصلہ سنایا کہ جو لوگ اسکی خلاف ورزی کر تے ہیں انہیں سخت سزا دینی چاہیے . مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے بچے کو سرکاری پرئیمری اسکول کے بجائے کسی پرائیویٹ اسکول میں داخل کر تا ہے تو اسے چاہیے کہ جتنی فیس وہ اس اسکول کو دیتا ہے اتنی ہی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرے اور اس وقت تک جب تک وہ پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا رہے گا . ساتھ میں اگر وہ سرکاری ملازم ہے تو اسکا ایک مدت کے لئے انکریمینٹ اور پرموشن روک دیا جانا چاہیے . عدالت نے سرکار کو مشورہ دیا کہ وہ ایسا قانون چھ ماہ کے اندر بنائے جس سے ان لوگوں کے بچے جبرا اپنی پرئیمری تعلیم سرکاری اسکولوں میں حاصل کریں ا ور اسے آئندہ سال سے لاگو کرے تاکہ ان اسکولوں کا میعار اپنے آپ سے یا مجبوری کے تحت اچھا ہو جائے اور ٹیچرس بھی مارے ڈر کے اچھا پڑھانے پر مجبور ہو جائیں . اس فیصلے کو اخباروں میں ہڑھنے کے بعد مجھے امید ہو گی کہ اب اردو کو اور سرکاری اسکولوں کو بچانے کی آواز اٹھانے والے زور دار آواز اٹھایں گے اور کرناٹک میں بھی ایسا قانون لاگو کروانے کی کوشش کریں گے . مگر اب تک نہ کسی نے آواز اٹھائی اور نہ ہی کسی نے اخباروں میں کچھ لکھا . اگر یہ خاموشی جان بوجھ کر ہوی ہے تو یہ ایک منافقانا فعل ہے اور اگر لاعلمی سے ہوی ہے تو ظاہر ہے کہ اردو اور سرکاری اسکولوں کو بچانے پر زور دینے والے احباب اخبارات نہیں پڑھتے . دونوں صورتیں افسوس ناک ہیں . مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ بلکل یہی مشورے پچھلے دس سالوں سے میں ا پنے مضامین میں دیتا آ رہا ہوں اور رنج اس بات کا ہے کہ کسی نے میرے ایسے فیصلے کی تائید نہیں کی . میں بار بار کہہ رہا ہوں اور لکھ بھی رہا ہوں کہ ہماری اردو اسکولوں کے ٹیچر اپنے بچوں کو خود اپنے اردو اسکولوں میں داخل نہ کراکر اور انہیں انگریزی کانونٹوں میں داخل کرواکر ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ تم اپنے بچوں کو ہماری سرکاری اردو اسکولوں میں داخل کرا کر انکی زندگی برباد کر رہے ہو ؛ ذرا ہم کو دیکھو کہ ہم کیسے آپ تمام کو بیوقوف بنا کر آپکے بچوں کی بربادی کا صلہ تنخواہ کی صورت میں ہر ماہ کھا رہے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل بھی شاندار بنا رہے ہیں . میرا اٹھنا بیٹھنا ایسے بیشمار شاعروں اور اردو کے متوالوں سے ہو تا ہے جنکے بچے اردو نہیں جانتے اور نہ ہی اردو اسکولوں میں پڑھتے ہیں مگر جب اسٹیج پر آتے ہیں تو تقاریر ایسی پر زور کرتے ہیں کہ سامعین انکے جھانسے میں آ نے پر مجبور ہو جا تے ہیں . اللہ ہم سب کو ایسے منافقوں سے بچائے . سرکاری اسکولوں کی حالت یہ ہے کہ اکثر ٹیچر جادوگروں کی طرح صرف بیس بچے ہو ں تو انہیں چالیس بتا نے کا ہنر جانتے ہیں اور انسپکٹروں کی مٹھی گرم کر کے انہیں ٹھپہ لگانے پر راضی کر والیتے ہیں . اس طرح اسکول تو بند ہو نے سے بچ جاتے ہیں اور ٹیچر بھی ٹرانسفر ٹال جا تے ہیں . جو انسپکٹر اسکول کے معائنے کے لئے آتے ہیں وہ اکثر اردو سے نا بلد ہو تے ہیں اسلئے کھاتے پیتے ہیں اور سب کچھ ٹھیک ہے کہہ کر دستخط ڈال کر چلے جاتے ہیں . خطا صرف ٹیچروں کی نہیں ہے جو پڑھاتے کم ہیں اور وقت گزاری زیادہ کر تے ہیں بلکہ خطا اسی فیصد والدین کی ہے جو دو بچوں کو پالنے کی صلاحیت نہ رکھنے کے باوجود سات آٹھ بچے پیدا کر دیتے ہیں . مذہبی حضرات انہیں صرف اتنا ہی بتا تے ہیں کہ بچوں کی پیدائش کو روکنا گناہ ہے مگر یہ نہیں بتا تے کہ ان بچوں کی پرورش کر نا ایک اہم فرض ہے ورنہ اسلامی طریقے سے فیمیلی پلاننگ کر نا چاہیے . حالت ایسی ہو گئی ہے کہ " ہم بچے پیدا کریں گے آپ مالدار پالیے " ہمارا کام بچے پیدا کر نا ہے اور مالداروں کا کام انہیں اسکالر شپ دینا اور ٹیچروں کا کام انہیں پڑھا نا اور سارا دن انکی دیکھ بھال کر نا ہے ورنہ اللہ ناراض ہو جائے گا . نہ جانے کب ہمیں اس منطق سے چھٹکارا ملے گا اور کب ہماری سوچ میں تبدیلی آئے گی . شاید یہی سبب ہے کہ دنیا بھر میں دیڑھ کڑوڑ یہودی ہیں مگر سب کے سب میعاری تعلیم یافتہ اور مالی اور سائنسی لحاظ سے کافی آگے ہیں جبکہ ہم مسلمان 160کڑوڑ ہیں جنمیں ایک سو کڑوڑ نیم تعلیم یافتہ اور ناکارہ ہیں . قریبا تیس کڑوڑ عرب ہیں مگر بیس کڑوڑ سے زیادہ نیم تعلیم یافتہ ، کاہل اور ناکارہ ہیں . اکثر والدین بچوں کو گھر میں بٹھا کر پڑھانے اور انکی اسکولی ضرورتوں کو پوری کر نے کے قابل نہیں ہیں جسکے سبب بچے مڈل اسکول ہی میں ڈراپ آوٹ ہو جا تے ہیں . والدین سمجھتے ہیں کہ بچوں کی تمام ذمہ داری اسکول کے ٹیچروں کی ہے جو کہ ایک غلط سوچ ہے . اب سے تیس یا چالیس سال پہلے ایک زمانہ تھا جب مشکل سے چند غریب بچوں کو اسکالرشپ ملتی تھی مگر آج حکومتیں ہر غریب بچے کو ایک ہزار سے لے کر پچاس ہزار تک کی اسکالر شپدیتے ہیں اور بینکوں سے آسانی سے قرضہ بھی ملتا ہے . ایسے میں بچوں کو پڑھانا آسان ہے بشرطیکہ دالدین گھروں میں بچوں کی برابر دیکھ بھال کریں . ستر فیصد ذمہ داری والدین کی ہے جبکہ تیس فیصد ماحول اور ٹیچرس کی ذمہ داری ہے . ہمارے علماء حضرات جمعہ کے خطبوں میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ دلا کر مسلمانوں کی ذہین سازی کر سکتے ہیں . آج سرکاری اسکولوں میں بچوں پر اور ٹیچروں کی تنخواہ پر جو خرچ ہو رہا ہے وہ پرئیویٹ اسکولوں اور کانونٹوں سے بہت زیادہ ہے مگر پھر بھی میعار تعلیم کم ہے . ایک تو اسلئے کہ جو بچے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لیتے ہیں وہ زیادہ کند ذہین اور شرارتی ہو تے ہیں جبکہ چالاک اور ذہین بچوں کو کانونٹوں میں داخل کر دیا جا تا ہے جہاں دکھاوے کا مغربی انداز ہو تا ہے . اگر کسی کانوینٹ کا رزلٹ نود فیصد ہے تو اس میں کوئی کمال نہیں ہے جبکہ سرکاری اسکولوں میں رزلٹ اگر پچاس فیصد بھی آ جائے تو قابل تعریف ہے .. اب اگر سرکاری اسکولوں کا میعار بڑھانا ہے تو اسکا ایک اہم راستہ وہی ہے جو الہ آباد ہائی کورٹ نے بتایا ہے . اس میں ایک تو چالاک اور مالدار بچے بھی آ جائیں گے ، دوسرے وہ گھروں میں ٹیوشن بھی لیں گے اور ٹیچرس بھی محنتی اور ہوشیار ہو جائیں گے . ستر فیصد سرکار ی اسکولوں کے ٹیچروں کو ملکی اور ملی مسائل سے واقفیت نہیں ہے کیونکہ وہ مذہبی حضرات کی اکثریت کی طرح اخبار اور ماڈرن کتابیں اور رسالے نہیں پڑھتے . اسلئے ہر دو سال میں ایک مرتبہ انکا جنرل نالج امتحان لینا چاہیے اور جو فیل ہو تے ہیں انکا ایک انکریمنٹ کٹ کر دینا چاہیے . ایسے ٹیچروں کو پرموشن بھی نہیں دینا چاہیے . اردو کو بچانا ہے تو اردو اسکولوں کو بچانا ہے اور اردو اسکولوں کو بچانے کے لئے بیس پچیس شاعروں کو خوش کر نے سے زیادہ اردو اسکولوں پر ٹیچروں پر اور والدین پر کوشش کر نا ہو گا . محلہ محلہ میں تقاریر ، جلسے اور جمعہ کے خطبوں کے ذریعہ عوام کی معلومات میں اضافہ کر نا ہو گا . آج کے ماحول میں ہمارا سب سے زیادہ زور انگریزی اور کمپیوٹر پر ہو نا چاہیے جبکہ اردو کو میٹرک تک توجہ دینا چاہیے . سچر کمیٹی رپورٹ میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ اگر اردو کو بچانا ہے تو اسے ہر کانونٹ اور کالج میں جہاں مسلم بچے ہیں وہاں اسے اسپشل سبجکٹ کے طور پر لاگو کرنا چاہیے . یہ کام اردو اکاڈمی کو پورے زور سے کر نا چاہیے ورنہ اردو اکاڈمی صرف شعر گوئی کی محفل بن کر رہ جائے گی جیسی آج ہے . عجیب بات یہ بھی ہے کہ اکاڈمی کے ذمہ دار صرف انکی ہاں میں ہاں ملانے والوں کے مشورے لیتی ہے جبکہ صاف دلی کے ساتھ میٹھے اور کڑوے مشورے دینے والوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں . اگر اکاڈمی کا یہی رویہ رہا جو پچھلے پندرہ سالوں سے ہے تو اسے بند کر کے یہ ذمہ داری سیاسی لوگوں سے قربت رکھنے والوں کے بجائے ریٹائرڈ اردو پروفیسرس کو یا اردو اخباروں کی اسوسیشن کو سونپ دینا چاہیے . جذباتی اور خوابوں خیالوں کی باتیں اور تقریریں کر دینے سے اور اپنی ہی بات کو صحی ثابت کر نے کی کوشش کر نے سے نہ اردو بچے گی اور نہ ہی سرکاری اسکولس . میرا مقصد سرکاری اسکولوں کو بچا نا ہے جہاں تعلیم فری ہے . اردو چونکہ سرکاری اسکولوں میں پڑھائی جاتی ہے اسلئے اردو کے بھی بچ جانے کے امکانات ہیں ..یہ میرا برسوں کا ذاتی مشاہدہ ہے
7 Septemer, 2015, 10.15 PM
(مژگاں نیوز نیٹ)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.