مسلمانوں کو اکسائیے تو وہ اپنا نقصان آپ ہی کر لیں گے
غلام غوث
1st march, 2016, 10.15 PM
(مژگاں نیوز نیٹ)
ETVاردو میں 1.2.2016 کو آندھرا پردیش کے نیلور ڈسٹرکٹ میں ہوے ایک واقعہ کو دکھایا گیا اور ڈبیٹ بھی ہوا . ڈسٹرکٹ نیلور کے پولیس یس پی مسٹر گجراو نے وہاں کے مسلم نوجوانوں کو موجودہ حالات کے تحت کونسلنگ کر نے کے لئے مدعوکیا جسمیں بہت زیادہ نوجوان شامل ہوے . انمیں اکثریت ایسے نوجوانوں کی تھی جو سر پر چپٹی توپی ، داڑھی اور افغانی لباس میں تھے جو آجکل مسلمان ہو نے کی نشانی سمجھا جا تا ہے . کہا جا تا ہے کہ یس پی صاحب نے مسلمانوں کو کچھ ایسی نصیحت کی جو انکے مذہب کے خلاف تھی . پھر کیا تھا مسلم نوجوانوں نے طیش میں آ کر انکے خلاف نعرے لگائے اور پولیس اسٹیشن کے باہر کچھ توڑ پھوڑ بھی کی . یس پی کی جان کو خطرہ جان کر پولیس نے دو ہوائی فائر کیے اور لاٹھی چارج کر نے کے بعد کچھ نوجوانوں کو کرفتار بھی کر لیا . ڈبیٹ میں جناب سید شفع اللہ صاحب اور دوسرے سبہھوں نے یس پی صاحب جو کہ سرکاری ملازم ہیں انکے اس رویے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں ایسی باتیں نہیں کر نا چاہیے تھا . یہ سب دیکھ کر میرا ذہین پچھلے کئی سالوں میں ہوے ایسے واقعات پر گیا اور ایک سوال ذہین میں اٹھا کہ کیا ہم مسلمانوں کے ایسے احتجاج سے ، شور و غل سے ، توڑ و پھوڑ سے ، جلسے جلوسوں سے شر پسند حضرات کیا اپنی شر پسندی اور شرارت سے باز آ گئے ؟ کیا ان شر پسندوں پر حکومت نے روک لگائی اور قانونی کاروائی کی ، کیا مسلمانوں نے کوئی سبق حاصل کیا ، کیا مسلمانوں کے نقصانات کم ہو گئے ؟ جواب سب سے بڑا "نہیں "ہے شر پسند عناصر جان گئے ہیں کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں جو حالت جوش میں ہوش کھو جاتے ہیں اور خود اپنا نفع و نقصان بھول جا تے ہیں ، خود اپنا کاروبار بند کر کے مالی نقصان اٹھا تے ہیں ، جوش میں نعرے بازی کر تے ہیں ، جلسے جلوس کر تے ہیں ، کبھی کبھی توڑ پھوڑ پر اتر آتے ہیں ، پولیس لاٹھی چارج ہو تا ہے ، فائرنگ ہو تی ہے ، کچھ جانیں جا تی ہیں ، کچھ زخمی ہو تے ہیں اور پھر معصوموں کی گرفتاری بھی ہو تی ہے ۔ الغرض احتجاجیوں کا نقصان ہی نقصان ہو تا ہے . اسلئے شر پسند ہمیشہ مسلمانوں کو کچھ نہ کچھ کہکر اکساتے ہیں اور ہم بھی نادانوں کی طرح انکے جال میں پھنس جا تے ہیں . اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آخر ہمیں کر نا کیا ہے ؟ ایسے حالات میں ہمیں خاموشی کے ساتھ بغیر طیش میں آئے وہ جگہ خالی کر دینا چاہیے . اس سے بڑا احیجاج اور کوئی نہیں ہو سکتا . غور کر نے والی بات یہ بھی ہے کہ غیر ہمیں کونسلنگ کر نے کے لئے اسی وقت بلاتے ہیں جب خود ہمارے بزرگ ہمیں نصیحت نہیں کر تے . افسوس اس بات کا ہے کہ خود ہمارے اپنے اس ذمہ داری سے غفلت برت رہے ہیں . نعرے بازی اور توڑ پھوڑ سے صرف ہمارا ہی نقصان ہو گا اور کچھ نہیں اور حراست میں بھی ہم ہی جائیں گے . اب دوسرا معاملہ توہین رسالت کا ہے . دنیا بھر کے شر پسندوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کو ستانے اور تکلیف پہنجانے کے لئے کیا کر نا ہے . بس کسی پاگل یا بیوقوف سے اسلام کے خلاف کچھ کہلوا دیجئے اور دیکھیے کہ مسلمان کیسے خود کو سزا دینے لگ جا تے ہیں . اس پر جناب محمد عاصم صاحب ( سینیر نیوز ایڈیٹر ، ین ڈی ٹی وی ) نے ایک مضمون لکھا جو اس طرح ہے . " جب کوئی ایک غیر معروف دیوانہ شخص حضورؐ کے متعلق کچھ غلط بات کر دیتا ہے تو ہمارے نام نہاد اسلام کے ٹھکیدار طیش میں آ کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں . احتجاج اور کہنے والے کو سزا دینے کا مطالبہ ، مشتعل عوام ، توڑ پھوڑ اور افرا تفری شروع ہو جا تی ہے اور مسلمانوں کا ایک غیر منطقی رد عمل شروع ہو جا تا ہے . ہندو مہاسبھا کے کسی شخص کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بات پر ہم کیوں طیش میں آ جاتے ہیں اور کیوں مہینوں احتجاج کر تے رہتے ہیں . کیوں ہم اس شخص کو موت کی سزا کا مطالبہ کر تے ہیں جو کہ نا ممکن ہے . ہمارے ملک میں Blasphemy کے خلاف سزا دینے کا قانون نہیں ہے . جو کچھ مالڈا میں ہوا وہ غلط تھا . ایسا مظاہرہ اسلام کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذاتی غصہ ہے . پچھلے ایک مہینہ میں لاکھوں مسلمان مظفر نگر ، مالڈا اور دیگر شہروں میں احتجاج کر نے کے لئے سڑکوں پر نکل آیے . کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آخری مرتبہ ہم نے کب لاکھوں کی تعداد میں اچھی تعلیم . اچھے راستے ، صحت و تندرستی ، ملازمت اور امتیازی سلوک کے لئے احتجاج کر تے ہوے سڑکوں پر نکل آئے تھے . مدرسوں کی جدید کاری اور مسلم اکثریت علاقوں میں اسکولوں اور ہسپتالوں کے لئے ہم نے کب ایسے احتجاج کر تے ہوے سڑکوں پر نکلے تھے . علماء حضرات اور مذہبی حضرات کو میرا ایک مشورہ ہے کہ آپ دھلی کی سڑکوں پر ایک احتجاج کیجئے اور حکومت سے مطالبہ کیجیے کہ وہ مسلم عورتوں کے اداروں کے ڈیمانڈ پر پرسنل لا کو نئے طور سے codify کریں . بھارتیہ مہیلا مسلم آندولن ادارہ جسکے تقریبا ستر ہزار ممبر پندرہ ریاستوں میں ہیں انہوں نے ملک کے وزیر اعظم اور دوسرے لیڈروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلم پرسنل لا میں اصلاح کرائیں اور ایک ساتھ تین طلاق کو ختم کریں ، کثرت ازواج پر روک لگائیں اور متعلقہ عورتوں کو نان و نفقہ دینے جیسے معاملات پر غور کریں . اب ہم مسلمانون کو سوچنا یہ ہے کہ کیا ہمیں ان مطالبات پر غور کر نا ضروری نہیں ہے . ایسے ہی کئی مسائل ہیں جن پر ہم مسلمانوں کو فوری غور کر نا اور اصلاحی قدم اٹھا نا ضروری ہے . جس دن ہم مسلمان شر پسندوں کی غیر ذمہ دارانہ باتوں پر مشتعل ہو کر احتجاج کر نا بند کر دیں گے اسی دن وہ شر پسند بھی تھک ہار کر اپنی شرارتیں بند کر دین گے . "محمد عاصم صاحب کا یہ مشورہ قابل قدر اور قابل غور ہے . مگر مجھے معلوم ہے کہ ہم میں موجود چند جذباتی اور انا پرست حضرات اس مشورے سے اتفاق نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کر نے سے انہیں اپنی جذباتی تقریریں کر نے کا موقعہ نہیں ملے گا اور نہ ہی کوئی مالدار انہیں اسٹیج فراہم کرے گا . دشمن تو دشمن ہو تے ہیں جو ہمیں ہر طرح سے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں مگر سب سے خطرناک تو خود اپنے ہو تے ہیں جو ہمیں نیند کی گولیاں کھلا کرآی سی یو میں پہنچا دیتے ہیں . انہیں اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر مسلم قوم جاگ گئی تو انکی روزی روٹی چھن جائے گی . لکھنو سے نکلنے والا رسالہ فرنگی محل ٹائمس کے ایڈئٹر ڈاکٹر محمد طلحہ صاحب جو ایک اسلامک اسکالر بھی ہیں انہوں نے اپنے 21جنوری کے شمارے میں لکھا ہے "کہتے ہیں جب کوئی قوم زوال پزید ہو تی ہے تو وہ حقیقتوں سے بھاگنے لگتی ہے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا منھ چھپا لینا بہتر سمجھتی ہے .آج ہندستانی مسلمان بھی کچھ اسی طرح کے حالات سے گذر رہے ہیں ۔نتیجہ کے طور پر وہ عمل کی جگہ احتجاج کو ترجیح دے رہے ہیں ۔انکے پاس ہر مسلہ کا حل صرف اور صرف احتجاج ہے ۔کسی نے کچھ غلط بیانی کر لی تو بھی ہم صرف احتجاج کریں گے ۔پہلے احتجاج صرف سیاسی لو گ کیا کر تے تھے لیکن یہ رول اب مولوی حضرات نے اپنے ذمے لے لیا ہے آئے دن اخباروں میں یہ خبر چھپتی ہے کہ فلاں مولوی نے فلاں مسلے پر احتجاج کیا۔شاید یہی ایک معاملہ ہے جسمیں مسلمانوں کے تمام مسالک کے مولوی ایک ہی طرح سوچتے ہیں سنی،شیعہ وہابی ،بریلوی غرض کے ہر مسلک کے مولوی احتجاج کو ہی سب سے بہتر اور شایدمحفوظ ہتھیار سمجھتے ہیں "اب وقت ہے کہ مولوی حضرات دانشوروں کے ساتھ مل بیٹھکر حالات کا سنجیدگی سے جائیزہ لیں اور احتجاج کے نئے راستے تلاش کریں۔تیسرا مسلہ مسلمانوں کا اپنا انگریزی روز نامہ یا رسالے کی غیر موجودگی کا ہے . کوشش ضرور ہوی مگر تمام کے تمام دو چار برسوں میں بند ہو گئے کیونکہ پہلے تو ہم مسلمان اخبار خرید تے نہیں اور دوسرے یہ کہ ہمارے ایسے اخبار صرف مذہبی باتوں سے آراستہ ہو تے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا نہیں . ہمیں چاہیے کہ ایسے اخبار اور ٹی وی چانلس لائیں جو موجودہ کمرشیل اخباروں اور چیانلوں کا مقابلہ کر سکیں . یہ کام ہمارے چند مالدار حضرات ملکر کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہی کچھ لوگوں نے انہیں جنت اور دوزخ میں ایسا الجھا دیا ہے کہ وہ اپنی دولت غیر ضروری کاموں میں لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں . چوتھا معاملہ آر یس یس اور اسکی ذیلی تنظیموں سے بات چیت کے ذریعہ انکی نفرت کو دور کر نے کا ہے . آج یہ سچ ہے کہ کوئی کتنی بھی کوشش کر لے وہ آر یس یس اور بی جے پی کو ختم نہیں کر سکتے . اسلئے بہتر ہے کہ ان سے بات چیت کی جائے . یہ بات سچ ہے کہ وہ صرف چار پانچ فیصد ہیں مگر جو بھی ہیں وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر بولنے والے ہیں جبکہ باقی 90 فیصد خاموش اکثریت ہیں . پانچ فیصد تو ہر طرف دکھائی دیتے ہیں جبکہ نود فیصد خاموش بیٹھے رہتے ہیں . مگر وہی نود فیصد غیر مسلم اکثریت مسلمانوں کے حق میں بات کر تی ہے اور ہماری حفاظت کر نے میں آگے آگے رہتی ہے . اگر ملک میں امن و امان قائم رکھنا ہے اور ملک کو طاقتور بنا نا ہے تو ان پانچ فیصد لوگوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کر نا ہے . اس کوشش کا ایک راستہ انکے ساتھ بات چیت اور سمجھانا بجھانا ہے . شہر بنگلور میں ویزن کرناٹکا کی جانب سے بی جے پی یم یل یے کے ساتھ جنتا عدالت پروگرام کر نے کے بعد خود انہوں نے بات چیت کی پیش کش کی ہے جو ویزن کرناٹکا نے مان لیا ہے . بہت پہلے کچھ لوگوں نے جو اس جانب قدم بڑھانے کی کوشش کی وہ ایسے تھے کہ انکا مطالعہ اور مشاہدہ بہت کم تھا . اسلئے وہ ناکام ہو گئے . بات چیت کے لئے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہندستانی لیڈرون کی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا ہو ( ڈاکٹر امبیڈکر ، گاندھی ، نہرو ، اندراگاندھی ، ہندستان کی تقسیم کی تاریخ ، آریس یس کی سوچ اور اسکے لیڈروں کی سوانح حیات ، Bunch of thoughts) . مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جبکہ ہوا میں باتیں کر نے والے اور گلیوں کی سیاست سے واقف لوگ ہر جگہ مل جایں گے . کچھ لوگ صرف اعتقاد کی بنیاد پر باتیں کر تے ہیں جبکہ انکے مقابلے پر آئے دوسرے لوگ غلط تاریخی بنیادوں پر باتیں کر تے ہیں . اللہ کا فضل ہے کہ ایسا اچھا مطالعہ اور غور و خوص کر نے والے چند دانشور شہر بنگلور میں موجود ہیں اور انکی یہ کوشش ہے کہ آر یس یس کے ساتھ کھل کر بات چیت ہو ، غلط فہمیاں دور ہوں ، شر پسندوں پر روک لگے ، ملک میں امن و امان قائم ہو ، فرقہ وارانہ روک تھام بل پاس ہو ، ہر کسی کو اسکا جائز حق ملے اور ملک ترقی اور کامرانی کی طرف آگے بڑھے . انشا اللہ یہ کام ویزن کرناٹکا ادارہ شہر بنگلور سے شروع کرے گا کیونکہ اسمیں بہترین تھنکرس ہیں . اگر کوئی مشورے دینا چاہے تو ضرور اس فون نمبر پر دے سکتے ہیں 9880480664 , 9740125500 , 9945364685 . 1st march, 2016, 10.15 PM
(مژگاں نیوز نیٹ)

Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.