موبائل فون کا محفوظ استعمال
جمیل اختر
سڈنی/ کمپیوٹر کے اس دور میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نے پوری دنیا تک رسائی آسان بنادی ہے ۔وہیں یہ سہولت بعض اوقات زحمت بھی بن سکتی ہے۔ چین اورآسٹریلیا میں اس موضوع پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں ان میں ڈپریشن شدت اختیار کرجاتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ انٹرنیٹ ان کی زندگی کا اتناا ہم حصہ بن جاتا ہے کہ ایک دن انٹرنیٹ استعمال کئے بغیر رہنا ان کی پریشانی نہ صرف بے انتہا بڑھا دیتا ہے بلکہ وہ ڈپریشن کا شکار بھی ہوجاتے ہیں

 
 انٹرنیٹ کازیادہ استعمال نوجوانوں میں ڈپریشن کا سبب بنتا ہے،تحقیق
سڈنی/ کمپیوٹر کے اس دور میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نے پوری دنیا تک رسائی آسان بنادی ہے ۔وہیں یہ سہولت بعض اوقات زحمت بھی بن سکتی ہے۔ چین اورآسٹریلیا میں اس موضوع پر کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں ان میں ڈپریشن شدت اختیار کرجاتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ انٹرنیٹ ان کی زندگی کا اتناا ہم حصہ بن جاتا ہے کہ ایک دن انٹرنیٹ استعمال کئے بغیر رہنا ان کی پریشانی نہ صرف بے انتہا بڑھا دیتا ہے بلکہ وہ ڈپریشن کا شکار بھی ہوجاتے ہیں

 
 کمز ور قوتِ سما عت والے افرادکے لیے خصو صی مو با ئل
لندن/ کمز ور قوتِ سما عت رکھنے والے افرادکے لیے تیز آوازوالا خصو صی مو بائل فو ن بنا لیا گیا ہے ۔جس سے انہیں زیادہ و اضح اور تیز آواز سنا ئی دے گی ۔ اس مو بائل کی رنگ ٹو ن کی آواز عام فونز کی بہ نسبت کئی گنا تیز ہے جو ایک سوڈیسی بیل تک پہنچ سکتی ہے جبکہ اس میں خصو صی اسپیکر لگائے گئے ہیں ۔جس سے فون کر نے والے فرد کی آ واز تیز اور واضح سنا ئی دے گی۔ ان اسپیکر کی زیا دہ سے زیادہ حد ایک سو دس ڈیسی بیل ہے جو فٹ بال ورلڈ کپ میں مشہور ہونے والے باجے Vuvuzelaکی آواز کے ہم پلہ ہے یہ فو ن خصو صی طور پر عمر رسید ہ افراد کے لیے بنا یا گیا ہے اس لیے اس کے بٹن اور ان پر کندہ اعداد بھی زیادہ بڑے اور نما یا ں اندا ز میں مو جو د ہیں ۔واضح رہے کہ اس مو با ئل فو ن میں ہیڈ سیٹ کے ساتھ ساتھ قوتِ سما عت کا آ لہ بھی لگا یا جا سکتاہے

 
 سات گھنٹے کی پرسکون نیند صحت مند زندگی کی ضمانت
آسٹن نیند کی کمی اور زیادتی دونوں ہی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں نیند کے انسانی زندگی پر اثرات سے متعلق ایک تحقیق کی گئی ہے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ 7 گھنٹے کی نیند انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ دن میں سات گھنٹے سے کم یا زیادہ سوتے ہیں ان میں د ل کے امراض کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیند کی کمی یا زیادتی جسم کا قدرتی نظام بھی متاثر کرتی ہے ۔نیند کی بے قائدگی کے باعث بلڈ پریشر اور خون میں گلوکوز کی سطح ناہموار ہوجاتی ہے جو شریانوں کی سختی کا باعث بنتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ساتھ گھنٹے کی مکمل نیند انسان کو نہ صرف چاق و چوبند رکھتی ہے بلکہ صحت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

 
  سب سے بڑا کون؟؟؟
بڑے اور چھوٹے کی بحث تقریباً ہم کسی نہ کسی انداز میں ہرروز سنتے ہیں، جو بڑے اور چھوٹے آدمی سے لے کر ملکوں اور کرہ ارض کی کم و بیش ہر چیز کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن کائنات میں ہماری زمین کی حیثیت کیا ہے۔ شاید کچھ بھی نہیں۔ حال ہی میں سورج سے 320 گنا بڑے ستارے کی دریافت کے بعد اب سائنسی حلقوں میں یہ سوال گردش کررہاہے کہ اس کائنات کی سب سے بڑی چیزکونسی ہے۔ اس سے قبل دریافت ہونے والا سب سے بڑا سیارہ سورج سے 150 گنا بڑا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ستاروں کا حجم بڑھتا ہے توان کے اندر توانائی کی مقدار کشش ثقل سے بڑھ جاتی ہے۔ جس سے ان کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا اوروہ ٹوٹ پھوٹ کر حصوں میں بٹ جاتے ہیں۔ کہکشائیں اور نظام شمسی اسی عمل کے ذریعے وجود میں آئے ہیں۔ نئے دریافت ہونے والے سیارے کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے بڑے حجم کی بنا پر اس کے لیے سورج کی طرح طویل عرصے تک اپناوجود برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
سورج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ساڑھے چارارب سال سے زیادہ عرصے سے روشنی اور حرارت دے رہاہے اور ابھی تک اس کی کل کمیت کا ایک فی صد حصہ بھی توانائی میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ کائنات کا بنیادی جزو ستارہ ہے۔ ستارہ ایک سورج کی طرح ایک مرکز کے طورپر کام کرتا ہے جس کے گرد کئی سیارے گردش کرتے ہیں، جب کہ کئی سیاروں کے اپنے ذیلی چاند ہوتے ہیں جو ان کے گرد گھومتے ہیں۔ ستاروں کی ایک بڑی تعداد اکھٹی ہوکر کہکشاں بناتی ہے اور جب کئی کہکشائیں کسی ایک سلسلے میں مربوط ہوجاتی ہیں تو ایک کلسٹر یاجھنڈ وجود میں آتا ہے۔ کائنات میں کہکشاؤں کے بہت سے جھنڈ دریافت ہوچکے ہیں جن میں سے سب سے بڑے کلسٹر کا نام ’گریٹ وال’ ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ گریٹ وال کی لمبائی 50 کروڑ نوری سال اور چوڑائی تقریباً 30 کروڑ نوری سال ہے۔سائنس دان کائنات میں فاصلے کی پیمائش کے لیے نوری سال کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک نوری سال سے مراد روشنی کا وہ سفر ہے جو وہ ایک سال میں کرتی ہے۔ روشنی کی رفتار ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ کہکشاؤں کے کلسٹر ’گریٹ وال‘ کی دریافت 1989ء میں ہوئی تھی۔اس دریافت کے 14 سال بعد کائنات میں موجود اس سے بھی بڑے کلسٹر کا انکشاف ہوا جسے ’سلون گریٹ وال‘ کانام دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کلسٹر یا جھنڈ ہماری کہکشاں سے تقریباً ایک ارب نوری سال کی دوری پر واقع ہے، اور اس کی لمبائی کا اندازہ لگ بھگ ایک ارب 30 کروڑ نوری سال ہے۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ کہکشاؤں کے کلسٹر اگرچہ ایک دوسرے سے طویل فاصلوں پر ہیں لیکن ایک قوت انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ ماہرین اس قوت کو کاسمک ویب یا کائناتی جال کا نام دیتے ہیں۔ کائنات کی سب سے چھوٹی اکائی ایٹم ہے۔ مگر ایٹم بھی نظام شمسی کی طرح ایک مرکز رکھتا ہے جسے نیوکلیس کہتے ہیں، نیوکلیس میں پروٹان اور نیوٹران ہوتے ہیں اوراس مرکز کے گرد الیکٹران گھومتے ہیں۔ جیسے سورج اور اس کے سیارے۔۔سب سے چھوٹا اور سادہ ایٹم ہائیڈروجن کا ہے جس کے نیوکلیس میں صرف ایک پروٹان ہوتا ہے اور اس کے گرد صرف ایک الیکٹران گردش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن کے اٹیم سے خصوصی عمل کے ذریعے خارج ہونے والی توانائی ہی کہکشاؤں اور شمسی نظاموں کی تحلیق کا سبب ہے۔ گویا کہ کائنات کی سب سے چھوٹی اکائی کائنات کی سب سے بڑی اکائیوں کو جنم دیتی ہے۔ خلا میں نئی طاقت ور دوربینوں کی تنصیب اور خلائی تحقیقاتی مراکز میں جدید آلات کے بعد حاصل ہونے والے اعداد وشمار سے یہ ظاہر ہوا ہے اور کائنات کی وسعتوں میں کہکشاؤں کے کلسٹر یا سپر کلسٹر ایک معمولی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کائنات کی وسیع و عریض وسعتوں میں ان سے بھی کہیں بڑے خلائی اجسام موجود ہیں۔ شاید اسی لیے دانا کہتے ہیں کہ ہر نئی دریافت کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہوجاتا ہے کہ ہمارا علم بہت محدود ہےاور ہماری حیثیت شاید کچھ بھی نہیں۔

 
  میٹھے مشروبات ذہنی تناؤ اور جارحانہ برتاؤ میں کمی کرتے ہیں
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلزاور کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے محقیقین نے ایک مشترکہ تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ میٹھے مشروبات بشمول چائے میں چینی کی مقدار ذہنی تناؤ اور جارحانہ برتاؤ میں کمی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آفس کے معمولات میں چینی والی چائے یا دیگر میٹھے مشروبات پینے والے افراد دیگر افراد کی نسبت کم ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ ان کا برتاؤ بھی جارحانہ نہیں ہوتا اور وہ کسی قسم کے بحث مباحثے سے بھی اجتناب برتتے ہیں اس تحقیق کے مطابق مشروبات میں موجود میٹھا انسانی دماغ میں ہیجان پیدا کرنے والے متحرکات کو قابو کرتا ہے جس کے تحت وہ ذہنی تناؤ میں کسی فوری ردِ عمل کا اظہار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

 
 جعلی دوا شناخت کرنے والا آلہ
گزشتہ ہفتے جنیوا میں منعقد ہونے والی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں جعلی ادویات کے خطرات گفتگو کا موضوع بنے رہے۔ عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر خریدی جانے والی نصف سے زیادہ ادویات جعلی ہوسکتی ہیں ۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنگین مسئلے کا کوئی واحد حل نہیں ہے۔ گذشتہ سال نائیجیریا میں84 نوزائیدہ بچے ملاوٹ شدہ دوا پینے سے ہلاک ہوگئے تھے ۔ محفوظ ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم فارما سیوٹیکل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پچھلے سال جعلی ادویات کے استعمال سے بیماریوں اور ہلاکتوں کے 2000 سے زیادہ واقعات ہوئے ۔یہ تعداد 2008ء کے مقابلے میں نو فیصد سے زیادہ ہے ۔ ادویات کی تیاری اور ان کی ریسرچ سے متعلق ایک بڑے ادارے PhRma کے ڈائریکٹر سکاٹ لاگنگا کا کہنا ہے کہ گھٹیا معیار کی نقلی ادویات بیچنا آسان اور نفع بخش کام ہے ۔ جعلی ادویات کی تیاری اور ان کی فروخت امیر اورغریب دونوں ممالک کے لیے ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہیں ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق فروخت کے لیے پیش کی جانے والی جعلی ادویات میں زیادہ تر ہارمونز ، سٹیراوئیڈز اور کینسر کی روک تھام کی دوائیں شامل ہوتی ہیں ۔جب کہ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر افریقہ میں ملیریا، تپ دق اور ایچ آئی وی ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے جو دوائیں خریدی جاتی ہیں ، ان میں زیادہ تر جعلی ہوتی ہیں۔ اشیفی گوگو صارفین کو جعلی مصنوعات سے بچانے کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی کے سربراہ ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کی حکومت ان کی کمپنی کی متعارف کردہ موبائیل فون ٹیکنالوجی کے ذریعے اس خطرے کا مقابلہ کر رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار ہے جس کی مدد سے صارفین ادویات خریدتے وقت یہ پرکھ سکتے ہیں کہ وہ اصلی ہیں یا نقلی ۔ لاٹری کے ٹکٹ کی مانند تقریباً ہر دوا پر ایک سکریچ پینل ہوتا ہے جسے کھرچنے سے اس کے نیچے چھپا ہوااس دوا کا مخصوص نمبر ظاہر ہو جاتا ہے ۔دوا خریدنے والا اس نمبر کو ٹیکسٹ میسیج میں بھیجتا ہے اور اسے فوراً ہی اس دوا کے اصلی یا نقلی ہونے کے بارے میں جوابی پیغام مل جاتا ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرچہ جعلی ادویات دنیا بھر میں فروخت ہوتی ہیں،تاہم امیر ممالک ان پر نظر رکھنے اور ان کی فروخت روکنے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں ۔

 
 آٹو میٹک برقی عینک
دنیا میں ایسے افراد کروڑوں میں ہیں جنہیں نظر کی عینک کی ضرورت پڑتی ہے اور ایسے لوگ بھی کچھ کم نہیں ہیں، جنہیں یہ علم ہی نہیں ہے کہ ان کی نظر کمزور ہے۔کمزور نظر کا علاج ہے نظر کی عینک، یا کنٹیکٹ لینس یا پھر لیزر کے ذریعے آنکھ کے عدسے کی درستگی۔تاہم کچھ لوگ وٹامنز اور مقویات کھا کر بھی خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نظر کی کمزوری پر قابو پانے کے لیے دنیا بھر میں جو چیز سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے ، وہ ہے عینک۔ کچھ لوگوں کو پڑھنے کے لیے اور کچھ کو دور کی چیزیں دیکھنے کے لیے عینک کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے افراد بھی کچھ کم نہیں ہیں،جن کی نزدیک اور دور ، دونوں ہی نظریں کمزور ہوتی ہیں۔ وہ یا تودو الگ الگ یاپھر ایسی عینک استعمال کرتے ہیں جس میں دور اور نزدیک دونوں عدسے ہوتے ہیں۔مگر بات یہیں تک محدود نہیں ہے مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب دور ، نزدیک اور درمیانے فاصلے تینوں جگہ دیکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ درمیانے فاصلے کی نظر کی کمزوری عمر اور وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ اس کا ایک حل ہے پراگریسو لینس۔ یہ خصوصی عدسے دور سے نزدیک تک مخصوص نمبرکے درمیان ہرفاصلے پر صاف دیکھنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ مگر یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں ، کیونکہ انہیں ہر آنکھ کے نمبر اور ضرورت کے مطابق انفرادی طورپر تیار کیا جاتا ہے۔تاہم اب ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سارے مسائل سے چھٹکارہ ملنے کے دن قریب آگئے ہیں اور روایتی عینک اب بننے جارہی ہے ماضی کی ایک شے۔ اس سال کے آخر سے ایسی الیکٹرانک عینکوں کا استعمال شروع ہونے والا ہے جو آپ کی آنکھ کی ضرورت اور جس چیز کو آپ دیکھنا چاہیں گے، اس کے فاصلے کو سامنے رکھتے ہوئے خود کو ایڈجسٹ کرلے گی۔توقع ہے کہ الیکٹرانک عینک اس سال کے آخر تک امریکا اور اگلے سال برطانیہ میں فروخت کے لیے پیش کردی جائے گی۔
الیکٹرانک عینک برقی رو کے ذریعے کام کرتی ہے اور اس کے خصوصی عدسوں سے بجلی کا چارج گذر سکتا ہے جو اسے اپنانمبر سیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔برقی عینک کی ساخت کچھ اس طرح کی ہے کہ اس کے ہر عدسے کے درمیان مائع کرسٹل کی ایک تہہ ہوتی ہے۔ جب عینک استعمال کرنے والا کسی چیز کو دیکھتا ہے تو مائع کرسٹل سے گذرنے والی برقی لہر ، فوکس کا تعین کرکے نمبر سیٹ کردیتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جس طرح ڈاکٹر آپ کو ایک کمپیوٹر مشین کے سامنے بٹھا کر آپ کی عینک کا نمبر نکال لیتا ہے۔

 چین:گوگل کے لائسنس کی تجدید ایک سوالیہ نشان‍‍‌
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ انٹرنیٹ سینسر شپ کے حوالے سےپہلے ہی سختی سے خبردار کرچکے ہیں۔ اپنے ایک ترجمان کی وساطت سے انہوں نے کہا تھا کہ گوگل اور دوسری غیر ملکی انٹرنیٹ کمپنیوں کو لازمی طورپر چینی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں چین میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر یہ زور دوں گا کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر کام کریں اور انٹرنیٹ کا انتظام چینی قانون کے مطابق چلائیں۔
چین میں آج بدھ کے روزانٹرنیٹ صارفین اور گوگل کے عہدے دار اپنی سانسیں روکے چینی حکومت کے اس فیصلے کے منتطر ہیں کہ آیا وہ اس معروف امریکی سرچ انجن کے اپنے ملک میں کام کرنے کے لائسنس کی تجدید کرتے ہیں یا نہیں، کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے سے انٹرنیٹ کی آزادیوں کے حوالے سےگوگل اور چینی عہدے داروں کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے۔
گوگل کو توقع ہے کہ چین میں اس کے ہوم پیج میں ایک چھوٹی مگر نمایاں تبدیلی ، انٹرنیٹ کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ میں اس کا کاروبار بچانے کے لیے کافی ہوگی۔
گوگل یہ اعلا ن کرچکا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کےدوران اس کے ہانگ کانگ میں قائم سینسر کی پابندیوں سے آزاد ویب سائٹ پر چینی صارفین کا وزٹ ایک خود کار نظام کے تحت روک دیا جائے گا۔
نئے منصوبے کے تحت، اب انٹرنیٹ استعمال کرنے والے چینی صارفین ، جب کسی ریسرچ کے لیے گوگل کی ویب سائٹ پرجانا چاہیں گے تو ان کے لیے گوگل کا سینسرشدہ چینی ہوم پیج کھلے گا، جس پر ان کے لیے ہانگ کانگ کے ہوم پیج پر جانے کا انتخاب بھی موجود ہوگا۔
گوگل کو، جس کے چین کے لیے لائسنس کی تجدید ہونا ہے،بیجنگ کی جانب سے اپنے لائسنس کی منسوخی کے خطرے کا سامنا ہ ے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے چینی صارفین کے لیے گوگل کے ہانگ کانگ ہوم پیج پر خود کار نظام کے ذریعے منتقلی ، بیجنگ کے انٹرنیٹ کے سخت قوانین کو توڑنے کے مترادف ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بدھ کی شام تک لائسنس کے اجرا کے بارے میں کوئی اعلان کرے گ ی۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ انٹرنیٹ سینسر شپ کے حوالے سےپہلے ہی سختی سے خبردار کرچکے ہیں۔
اپنے ایک ترجمان کی وساطت سے انہوں نے کہا تھا کہ گوگل اور دوسری غیر ملکی انٹرنیٹ کمپنیوں کو لازمی طورپر چینی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے
۔ انہوں نے کہا کہ میں چین میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر یہ زور دوں گا کہ وہ قانون کے دائرے کے اندر کام کریں اور انٹرنیٹ کا انتظام چینی قانون کے مطابق چلائیں۔
گوگل اور چینی حکومت کے درمیان سینسر کی پابندیوں کے حوالے سے پچھلے کئی مہینوں سے ایک تلخ تنازع جاری ہے۔
مارچ میں گوگل نے انٹرنیٹ پر موجود اس مواد تک رسائی روکنے سے انکار کردیاتھا جسے بیجنگ حساس خیال کرتا ہے۔
اس نے چین میں اپنی سائٹ بند کردی تھی اور اپنے انٹرنیٹ صارفین کو اپنے ہانگ کانگ کے پیج پر منتقل کرنا شروع کردیاتھا۔
چین میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 40 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے اکثر گوگل پر یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ چینی قوانین کی پابندی کرے۔کتابوں کے ایک سٹور میں کام کرنے والے لیو کا کہنا ہے کہ وہ گوگل کی سائٹ استعمال کرتا ہے، تاہم کمپنی کوچاہیے کہ وہ چینی قوانین کا احترام اور اس پر عمل کرے۔
ایک ریستوان کے منیجر یو لانگ سیا کا خیال ہے کہ چین کی مارکیٹ چھوڑنے سے گوگل کے بزنس کو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔کیونکہ گوگل کے جانے کے بعد دوسرے انٹرنیٹ انجن اس کی جگہ لے لیں گے اور گوگل گھاٹے میں رہے گا۔
اپنے ایک بیان میں گوگل نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ چینی حکومت کے ساتھ اس کا تعاون لائسنس کی تجدید میں مدد دے گا
۔
 ریڈیو دوربینوں کے ذریعےکائنات میں ذہین مخلوق کی تلاش
واشنگٹن 9.06.10
سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ کرہ ارض سے باہر کی دنیا کو سرکرنے اور کائنات کے بارے میں مزید جاننے کے تجسس میں اضافہ ہورہاہے۔ حال ہی میں یورپی سائنس دانوں نے جدید ریڈیو دور بینیں نصب کرنےکے ایک بڑے پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ ان کے ذریعے کائنات کے ارتقا اور دوسرے سیاروں پر کسی ذہین مخلوق کی موجودگی کا سراغ لگانے میں مدد مل سکے گی۔ پورٹس متھ، آکسفورڈ اور ساؤتھ ہمپٹن یونیورسٹیاں اس بڑے پراجیکٹ پر مشترکہ طور پر کام کررہی ہیں ۔پہلے مرحلے میں اس ہفتے ہیمپشائر کے قریب اینڈور کے خلائی تحقیقاتی مرکز میں کم فریکونسی والے ریڈیو کے 96 نشریاتی کھمبے نصب کیے جائیں گے۔ جب کہ اس کے بعد نیدر لینڈز، جرمنی، فرانس، سویڈن اور پولینڈ میں اسی طرح کے مزید پانچ ہزار انٹینے لگائے جائیں گے۔ یونیورسٹی آف پورٹس متھ کے خلائی تحقیق سے متعلق شعبے کے پروفیسر بوب نکول کا کہنا ہے کہ کم فریکونسی کی ان ریڈیو دوربینوں سے مفید معلومات حاصل ہوسکیں گے جن کی مدد سے سورج ، کائنات کے موسمی تغیرو تبدل اور بالحضوص دوسرے سیاروں میں کسی ذہین مخلوق کی موجودگی کا کھوج لگانے میں مدد مل سکےگی۔ وہ کہتے ہیں اس جدید ریڈیو ٹیلی سکوپ کے ذریعے ممکن ہے کہ ہم اس پرانے اور اکثر پوچھے جانے والے سوال کا جواب دینے کے قابل ہوسکیں کہ آیا اس پوری کائنات میں ہم واحد ذہین مخلوق ہیں۔ یورپ میں نصب کیے جانے والی کم فریکونسی کی یہ ریڈیو دوربینیں ، انتہائی ایف ایم فریکونسی پر کام کریں گی۔اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ایک نیٹ ورک سے منسلک ہوں گی جنہیں نیدر لینڈز میں نصب ایک سپرکمپیوٹر میں منتقل کردیا جائے گا، جہاں سائنس دان ان معلومات کا تجزیہ کریں گے۔
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.