کھجور کے طبی فوائد
کھجور کا استعمال صرف سنتِ رسول ہی نہیں بلکہ اس کے طبی فوائد بھی بیش بہا ہیں۔ کھجور کو ہمیشہ سے ہی طاقت ورپھل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں موجود قدرتی اجزا ذہنی اور جسمانی کمزوریوں کے خلاف موثر ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور میں Calcium,Phosphorus,I ronاورPotassium سمیت کئی قدرتی عوامل پائے جاتے ہیں جو توانائی بخش ثابت ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور کا استعمال کمزور دل کے افراد کے لئے بھی انتہائی مفید ہے جبکہ پیٹ کے سرطان سمیت قبض کی شکایت سے بھی بھرپور حفاظت کرتا ہے۔

 
 بچوں کا کولیسٹرول لیول چیک کرنا ضروری ہے ،،،طبی ماہرین
نیویارک عالمی سطح پر بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان پرطبی ماہرین نے سفارش کی ہے کہ تمام بچوں کا کولیسٹرول لیول چیک کرنا ضروری ہے۔ اس ایک ٹیسٹ سے آنے والی نسلوں کومتعدد موذی امراض سے بچانے کی حکمت عملی وضع کی جاسکے گی۔ بچوں کی بیماریوں سے متعلق معروف جریدے ''پیڈیا ٹریکس'' میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سفارش کے علاوہ بچوں کے باپ دادا سے متعلق بیماریوں کا ریکارڈ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر والدین میں کولیسٹرول کی بیماری تھی توبچوں کو اس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ بچوں میں دل کی بیماریوں کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کی بڑی وجہ کولیسٹرول کی سطح میں توازن کا بگاڑ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ولیم نیل نے ویسٹ روجینیا یونیورسٹی میں اپنی تحقیق کومکمل کرنے کے بعد جو سفارشات مرتب کیں ان میں ''کولیسٹرول سکریننگ'' کو نہایت اہم قراردیا گیا ہے۔

 
  ائیر پورٹس پر نصب باڈی اسکینر ز سے کینسر کا خطرہ
لندن طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ائیر پورٹس پر نصب کئے گئے نئے باڈی اسکینر ز سے کینسر پیدا ہونے کا خطرہ ہے ۔ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں ریڈیالوجی کے ماہر
Dr David Brennerکا کہنا ہے کہ ان اسکینرز سے نکلنے والی شعاعیں عام ایکسرے سے بیس گنا زیادہ طاقتور ہوتی ہیں اوران سے گزرنے والے افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتاہے ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ان اسکینرز سے پیدا ہونے والے طبی پر مزید تحقیق ہونی چاہئیے اور انہیں عوام کی صحت کے لئے محفوظ بنانا چاہیے ۔

 ہائی بلڈ پریشر کا علاج چاکلیٹ سے ‍‍‍‌
چاکلیٹ کے ایک ٹکڑے کوپانچ سال تک اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھنے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں دل کے حملے یا اسٹروک کا خطرہ 20 فی صد تک کم ہوجاتا ہے ہائی بلڈ پریشر کم کرنے میں چاکلیٹ کا ایک چھوٹا ٹکڑا اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ آدھے گھنٹے کی ورزش۔ یہ نئی تحقیق یقنناً ان لوگوں کے لیے اطمینان کا باعث ہوگی جو آئے روز چاکلیٹ کے نقصانات کے بارے میں خبریں پڑھ سن کر خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔چاکلیٹ دنیا بھر میں، مشروبات اور میٹھائیوں میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا مرکب ہے جسے کاکاؤ نامی پودے کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ پودا براعظم امریکہ اور افریقہ میں کاشت کیا جاتا ہے۔
ایک نئے مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ چاکلیٹ کے ایک ٹکڑے کوپانچ سال تک اپنی خوراک کا حصہ بنائے رکھنے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں دل کے حملے یا اسٹروک کا خطرہ 20 فی صد تک کم ہوجاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر کالی چاکلیٹ ، ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں زیادہ مفید ہے ، کیونکہ اس میں ایک ایسا کیمیائی مرکب پایا جاتا ہے جو خون کی رگوں کو قدرتی طور پر نرم کر دیتا ہے، اور رگوں کے نرم ہونے کا مطلب ہے، خون کے دباؤ میں کمی ۔آسٹریلیا کی ایڈلائیڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیرن رائیڈ کہتی ہیں کہ آپ کو اپنے خون کا دباؤ کم کرنے کےلیے ہمیشہ دواؤں کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی آپ ان کے بغیر بھی ، دوسرے طریقوں سے اپنے خون کا دباؤ کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔ اور اس کے لیے آپ کھانے پینے کی کچھ چیزوں سے مدد لے سکتے ہیں۔
ایک اور مطالعاتی جائزے سے معلوم ہواہے کہ دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد میں80 فی صد کا تعلق ترقی یافتہ ممالک سے ہے اور 2001ء میں اس مرض کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک، اسٹروک اور دیگرپیچیدگیوں سے 76 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اپنی ابتدائی سطح پر اکثر لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں ہائی بلڈ پریشر کی ایک بڑی وجہ، موٹاپا، ذہنی دباؤ، مرغن خوراک اور ورزش کی کمی ہے
۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہر دس میں سے ایک شخص کواس مرض کے موذی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے لازمی طورپر باقاعدگی سے دوا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔حالیہ مطالعاتی جائزے میں ڈاکٹر رائیڈ اور ان کی ٹیم نے 1955ء اور 2009ء کے درمیان سینکڑوں افراد پر چاکلیٹ اور کوکا کے استعمال پر کیے جانے والے جائزوں کے نتائج کو اپنے سامنے رکھا۔انہیں معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کو جب چاکلیٹ دی گئی تو ان کے خون کے دباؤ میں عمومی طورپر پانچ فی صد تک کمی ہوئی ، جب کہ جن افراد کے خون کا دباؤ نارمل تھا، ان پر چاکلیٹ کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
ماہرین نے ان نتائج کو ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے سلسلے میں یہ ایک اہم دریافت کا نام دیا ہے۔ ڈاکٹر کیرن کہتی ہیں کہ یہ جاننے کے لیے کہ خون کے دباؤ پر کنٹرول کے لیے کتنی مقدار میں، اور کتنی بار چاکلیٹ استعمال کرنےکی ضرورت ہوگی، مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔کیونکہ ماضی کے مطالعاتی جائزےروزانہ کی بنیاد پر چاکلیٹ کی چھ گرام سے ایک سوگرام تک کی مقدار کے استعمال پر مبنی تھے۔ جریدے بی ایم سی میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایاگیا ہے چاکلیٹ کھانے سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا افراد کے خون کادباؤ پانچ درجے تک کم ہوجاتا ہے۔ جب کہ اتنی کمی کے لیے روزانہ تقریباً آدھ گھنٹے کی ہلکی ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ خون کا 140 درجے سے زیادہ دباؤ، ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے
۔ اس سے قبل سال کے شروع میں منظر عام پر آنے والی ایک تحقیق سے ظاہر ہوچکاہے کہ ہفتے میں ایک چاکلیٹ بار کھانے سے اسٹروک کے خطرے میں 22 فی صدتک کمی ہوسکتی ہے۔
 انٹرنیٹ بچوں کا دوست اور دشمن دونوں
ثاقب الاسلام | واشنگٹن ڈی سی
انٹرنیٹ کو آج کے دور کی ایک اہم ترین ایجاد اور ضرورت سمجھا جاتا ہے۔انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے اعداد و شمار اکٹھے کرنے والی ایک ویب سائٹ world Internet Stats کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعدا د سال 2000 ءمیں ایک لاکھ 33 ہزار تھی جو اب بڑھ کر تقریبا 2 کروڑ ہو چکی ہے۔ لیکن انٹرنیٹ کے جہاں بےشمار فوائد ہیں ، وہیں اس کے کچھ نقصان دہ پہلو بھی ہیں، خاص طورپر بچوں کےحوالے سے۔ کینیا کی حکومت ، بچوں کی ایک فلاحی تنظیم اور مائیکرو سافٹ ایسٹ افریقہ نے ، والدین کو ان خطرات سے آگاہ کرنے کا ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ، کمپیوٹر سکرین پر جن چیزوں تک بچے رسائی حاصل کر سکتے ہیں، وہ والدین اور اساتذہ کے لیے قابل فکر ہے۔ اگر بچوں کی نگرانی نہ کی جائے تو انٹرنیٹ بچوں پر بہت مضر اثرات ڈال سکتا ہے ۔ اس کا احساس کینیا کے ایک ہائی سکول کے پرنسپل جو این ماؤٹي کو اس وقت ہوا جب ان کی بیٹی نے ایک سماجی تعلقات کی ویب سائٹ فیس بک کی ممبر شپ لی۔ جو این ماؤٹی کہتے ہیں کہ کس نے اسے فیس بک پر آنے کی پیشکش کی ۔ وہ باتیں کرتے رہے اور پھر اس نے کہاکہ میں کینیا آ رہا ہوں اور تم سے ملنا چاہتا ہوں۔ماؤٹی کاکہنا ہے ان کی بیٹی اس بات سے پریشان ہو گئی کہ کوئی اجنبی اس سے ملنا چاہتا ہے۔ دوسرے والدین کو بھی اسی طرح کی پریشانیاں ہیں۔ خاص طور پر افریقہ میں بچے انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں ہونے کے خطرات سے دو چار ہیں۔ مارک ماٹنگا مائیکرو سافٹ ایسٹ افریقہ لمیٹڈ سے منسلک ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے بچے اس طرح کی باتوں کہ میں آجاتے ہیں۔ کہ کوئی انھیں پیسے دے سکتا ہے، انھیں مغربی ممالک میں بلا سکتا ہے یا ان سے آکر مل سکتا ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں جن سے افریقی بچے آسانی سے انٹرنیٹ پر ہونے والی زیادتیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماٹنگا کا کہنا ہے کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان بچوں کے والدین اس ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہوتے۔ انٹرنیٹ پر موجود عریانی و فحاشی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کینیا کی حکومت، بچوں کی ایک فلاحی تنظیم اور مائیکرہ سافٹ ایسٹ افریقہ لمیٹڈ نے مل کر ، والدین کو انٹرنیٹ کے نقصانات سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔برائن وک اس پروگرام کے منیجر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی شخصیت پر بہت اثر ڈال رہا ہے۔ یہی اس منصوبے کی بنیاد ہے کہ ہم والدین کو اس خطرے سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں۔ اس پروگرام کے تحت والدین کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ کیسے اپنے بچوں کو کچھ ویب سائٹس استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں۔ کمپیوٹر پر گیمز اور دوسری سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ مارک ماٹنگا کہتے ہیں کہ آپ جو کچھ بھی آن لائن پوسٹ کرتے ہیں وہ ان ویب سائٹس پر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ کوئی بھی آپ کی یا آپ کے بچے کی تصویر ے کر اسے کسی بھی شکل میں پوسٹ کر سکتا ہے۔ ماٹنگا کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے والدین اور بچوں اور اساتذہ کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم کس طرح انٹرنیٹ کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.