بصد خلوص برائے ثواب پڑھ ڈالیں:غزل از جاوید جمیلؔ
بصد خلوص برائے ثواب پڑھ ڈالیں
کتاب عشق کا ہر ایک باب پڑھ ڈالیں

اندھیرا آنے پہ یہ علم روشنی دیگا
چراغ بجھنے سے پہلے کتاب پڑھ ڈالیں

پسِ حجاب رخِ ماہناز پڑھ نہ سکے
ہو آج اِذن اگر بے حجاب پڑھ ڈالیں

عجب نہیں کہ نیا عزم دل میں پیدا ہو
ہماری کیا تھی کبھی آب و تاب پڑھ ڈالیں

زمین پہ بھی اسی میزان کو کریں قائم
فلک پہ درج خدا کا خطاب پڑھ ڈالیں

قیاس کیجئے کیا کیا سوال آئیں گے
سوال آنے سے پہلے جواب پڑح ڈالیں

شروع گود سے ہو، گور تک رہے جاری
حساب رکھنا ہے کیا بے حساب پڑھ ڈالیں

مطالعہ ہو مقالے کا ہے یہ حق جاویدؔ
ملے نہ وقت تو لبِ لباب پڑھ ڈالیں
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.