رباعیات جوش ملیح آبادی

پہلو میں مِرے دیدہٗ پُرنم ہے کہ دل
معبود! یہ مقیاسِ تپِ غم ہے کہ دل
ہو ذرّہ بھی کج تو بال پڑ جاتا ہے
یہ شیشئہ ناموسِ دو عالم ہے کہ دل


زاہد رہِ معرفت دکھا دے مجھ کو
یہ کس نے کہا ہے کہ سزا دے مجھ کو
کافر ہوِں؟ یہ تو ہوئی مرض کی تشخیص
اب اس کا بھی علاج بتا دے مجھ کو


اپنی خلوت سرا میں جائوں کیوں کر
خود کو اپنی جھلک دکھائوں کیوں کر
ہے سب سےبڑا فاصلہ قُربِ کامل
اپنی ہستی کا بھید پائوں کیوں کر


اپنی ہی غرض سے جی رہے ہہں جو لوگ
اپنی ہی عبائیں سی رہے ہیں جو لوگ
اُن کو بھی کیا شراب پینے سے گُریز؟
انسان کا خون پی رہے ہیں جو لوگ


کیا پھر یہی کھونا پانا ہو گا؟
پھر نازِ خرد دل کو اٹھانا ہوگا؟
سُنتے ہیں کہ اے بیخودی کُنجِ لحد
پھر حشر کے دن ہوش میں آنا ہوگا؟


آغاز ہی آغاز ہے، اور کچھ بھی نہیں
انجام بس اِک راز ہے، اور کچھ بھی نہیں
کہتی ہے جسے نغمئہ شادی دُنیا
اِک کرب کی آواز ہے، اور کچھ بھی نہیں

Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.