راحت اندوری کے اشعار
ہمیں حقیر نہ جانو ہم اپنے نیزے سے
غزل کی آنکھ میں کاجل لگانے والے ہیں

گھروں کے دھنستے ہوئے منظروں میں رکھّے ہیں
بہت سے لوگ یہاں مقبروں میں رکھّے ہیں

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر
ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھّے ہیں

پہن کے آتے ہیں پجاری جو منصبوں کے
کلاہ ٹوپ سے بھاری پہن کے آتے ہیں

امیرِ شہر تِری طرح قیمتی پوشاک
مِری گلی میں بھکاری پہن کے آتے ہیں

یہی عقیق تھے شاہوں کے تاج کی زینت
جو اُنگلیوں میں مداری پہن کے آتے ہیں

ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے
قمیض لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں

عبادتوں کا تحفّظ بھی اُن کے ذمّے ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں

یہ مسجدوں کی سیاست سیاہ چشمہ ہے
جسے امام بخاری پہن کے آتے ہیں

Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.