پتھّر اُٹھا ليا ؛ تو کبھي شيشہ بنا ليا؟: غزل از کریم اللہ حسینی بیابانی

پتھّر اُٹھا ليا ؛ تو کبھي شيشہ بنا ليا؟
لوگوں نے ميرے سچ کا تماشہ بنا ليا

مجبوريوں کا چَہرے پر ھوتا ہے يوں آثر
کے آزوردگي و خار کا خُد نقشہ بنا ليا؟

آنسوں جھلک رہے تھے آنکھوں سے مُسلسل
پھر کانٹوں پے کسي پھول نے درخشاں بنا ليا؟

مايوسيوں کے ڈر سے کَل شب وہ بدنصيب
تاريک اَندھيروں ميں ايک گوشہ بنا ليا؟

صديوں کا مسافر کوي اَنجامِ سفر پَر
پھر اِبتدا ے سفر کو توشہ بنا ليا

ميں زندہ رہا ہوں صبر اَور اُمّيد پر کليم
ہم سايا توکّل کو جو ھميشہ بنا ليا
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.