ہمارے خون میں جس دم اُبال آئے گا: غزل از مسلم نوازؔ

ہمارے خون میں جس دم اُبال آئے گا
جنون حد سے بڑھے گا زوال آئے گا

وہ خضرِ راہ ہے سب اسکی دسترس میں ہیں
زمین کیا ہے فلک بھی کھنگال آئے گا

مجھے بُھلا کے وہ شاداں دکھائی دیتا ہے
وہ رو پڑے گا مرا جب خیال آئے گا

میں جی رہا ہوں کسی کو خوشی نہیں یارو
میں مر بھی جاؤں تو کس کو ملال آئے گا

یہی ہے وقت کہ خود کو سمیٹ لے مسلمؔ
نہیں تو دیکھنا اک دل وبال آئے گا

مسلم نوازؔ ،
12/3/H/1 ۔پٹوار بگان لین، کولکاتہ۔۹
muslimnawaz@gmail.com
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.