کرگئی دریا سبھی صحرا صفت
  
حسن آتش ؔ مغربی بنگال
غزل
کرگئی دریا سبھی صحرا صفت
یہ مری آسودگی تشنہ صفت
مرمریں گردن تری مِینا صفت
اور حسیں رخسار ہیں صہبا صفت
چاندنی تھی باعثِ تسکینِ قلب
ہوگئی اب چاندنی شعلہ صفت
قصہ ¿ِ پارینہ ہیں اخلاص و ظن
ہیں بشر اب آج کے سودا صفت
خوف سے نہ منجمِد ہو جائے وہ
گر لہو ہے تو رہے پارہ صفت
مخلص و ہمدرد ہوتے تھے رفیق
آج ہیں ایذارساں،ایذا صفت
سُر بدل دیتا ہے ہر جنبش پہ وہ
فطرتاً ہے آدمی شہنا صفت
جھوٹ، مکاری،ریاکاری ،دغا
تجھ سے آتش دور ہیں بیجا صفت
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.