میر انیسؔ
مرثیہ
یا رب، چمنِ نظم کو گلزارِ ارم کر
اے ابرِ کرم، خشک زراعت پہ کرم کر
تو فیض کا مبدا ہے، توّجہ کوئی دم کر
گم نام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر
جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے
اقلیمِ سخن میرے قلمرو سے نہ جائے
ہر باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری
بلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاری
ہر نخل برو مند ہے یا حضرتِ باری
پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری
وہ گل ہوں عنایت چمنِ طبعِ نِکو کو
بلبل نے بھی سُونگھا نہ ہو جن پھولوں کی بو کو
غوّاصِ طبیعت کو عطا کر وہ لآلی
ہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالی
اک ایک لڑی نظمِ ثریّا سے ہو عالی
عالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی
سب ہوں دُرِ یکتا نہ علاقہ ہو کسی سے
نذر ان کی یہ ہوں گے جنھیں رشتہ ہے نبی سے
بھر دے دُرِ مقصود سے اُس دُرجِ دہاں کو
دریائے معانی سے بڑھا طبعِ رواں کو
آگاہ کر اندازِ تکلّم سے زباں کو
عاشق ہو فصاحت بھی، وہ دے حُسن، بیاں کو
تحسیں کا سماوات سے غُل تا بہ سَمک ہو
ہر گوش بنے کانِ ملاحت، وہ نمَک ہو
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دُوں
قطرے کو جو دُوں آب تو گوہر سے ملا دوں
ذرّے کی چمک مہرِ منوّر سے ملا دوں
خاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوں
گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اِک پھُول کا مضموں ہو تو سَو رنگ سے باندھوں
گر بزم کی جانب ہو توّجہ دمِ تحریر
کھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویر
دیکھے نہ کبھی صحبتِ انجم فلکِ پیر
ہو جائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیر
یوں تختِ حسینانِ معانی اُتر آئے
ہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے
ساقی کے کرم سے ہو وہ دَور اور وہ چلیں جام
جس میں عوضِ نشہ ہو کیفیتِ انجام
ہر مست فراموش کرے گردشِ ایّام
صوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکام
ہاں بادہ کشو، پُوچھ لو میخانہ نشیں سے
کوثر کی یہ موج آ گئی ہے خُلدِ بریں سے
وہ فرش ہو اس بزم ارم رشک میں نایاب
ہو جس کی سفیدی سے خجل چادرِ مہتاب
دل عرش کا لوٹے کہ یہ راحت کا ہے اسباب
مخمل کو بھی حسرت ہو کہ میں اس پہ کروں خواب
آئینوں سے ہو چار طرف نور کا جلوا
دکھلائے ہر اک شمع رُخِ حُور کا جلوا
آؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزم
خیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولوالعزم
قطعِ سرِ اعدا کا ارادہ ہو جو بالجزم
دکھلائے یہیں سب کو زباں معرکۂ رزم
جل جائے عدو، آگ بھڑکتی نظر آئے
تلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے

Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.