مظفر حنفی کے متفرق اشعار
  
مظفر حنفی کے متفرق اشعار
(1)
یہ سطح آب پہ بہتے چراغوں جیسے لوگ
کہ یہ تو اور خفا ہوتے ہیںمنانے سے
(2)
عمر بھر صرف تیرا نام لیا ہے ہم نے
لوگ کہتے ہیں بڑا کام کیا ہے ہم نے
(3)
خداے عزو جل ! تو جاوداں کرتا ہے لفظوںکو
مظفر اپنی ہر تخلیق تیرے نام کرتا ہے
(4)
پھر در و دیوار میرے کر دےے دیوار و در
یہ میری بپھری ہوئی تنہائی تو نے کیا کیا
(5)
عطا خلوص نے کی ہے یقین کی دولت
گمان اس کے مرے درمیان پڑتا نہیں
(6)
تعصب سخت جان ایسا کہ صدیوں تک نہیں مرتا
بھروسے کی عمارت لمحہ بھر میں بیٹھ جاتی ہے
(7)
رنجور تو کرتا ہے دل چور تو کرتا ہے
لیکن وہ محبت بھی بھرپور کرے ہے گا
(8)
بجھتے بجھتے بھی ظالم نے اپنا سر جھکنے نہ دیا
پھول گئی ہے سانس ہوا کی ایک چراغ بجھانے میں
(9)
جو دہشت گرد کہہ کر بے خطا پر وار کرتے ہیں
زمانے کو بغاوت کے لیے تیّار کرتے ہیں
(10)
کیسے مر مر کے چکاتے ہیں ہر اک سانس کے دام
لوگ جینے کے بہانے تو بنا لیتے ہیں
(11)
ہم بھوک اُگاتے ہیں کھیتوں میں ہمارے گھر
سبزی بھی نہیں پکتی چاول بھی نہیںبنتے
(12)
اُس بی بی کا نام وفا تھا حضرتِ عشق فدا تھے جس پر
حضرت نے ہجرت فرمائی بی بی نے پردہ فرمایا
(13)
جیسے غزلوں میں شامل ہو ہر پڑھنے والے کی سوچ
یہ فانوس مظفر صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
(14)
آگیا میں کسی جگنو کی نظر میں کیسے
بوند بھر نرم اُجالا مرے گھر میں کیسے
(15)
تھوڑی سی روشنی ہے اسے جو بھی لوٹ لے
جگنوں میاں کے پاس خزانہ تو ہے نہیں
(16)
اب کہہ دیا تو بات نبھائیں گے عمر بھر
حالانکہ دوستی کا زمانہ تو ہے نہیں
(17)
سائے مچل رہے ہیں چراغوں کی گود میں
سمجھے تھے ہم کہ گھر سے اندھیرا نکل گیا
(18)
ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں غلط اثر
بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے بیٹا نکل گیا
(19)
کچھ دیر تو نیزے پہ اچھالو نہ سروں کو
بستی میں ابھی رقصِ سر ختم ہوا ہے
(20)
ایسے میں کیا پیار پنپتا پانی میں کیا گلتی ریت
تو گہرے ساگر کاموتی میں ساحل کی جلتی ریت
(21)
میرا نشانہ اپنی ذات آپ حریفِ کائنات
سوچ سکیں آپ سے میرا جہاد کم نہیں
(22)
یوں چھائوں میں چلتا رہوں کب تک مرے مولا
سایہ ابھی پہنچا نہیں سب تک مرے مولا
(23)
اک بار مظفر کو بھی توفیق عطا کر
مزدور بھی جاتے ہیں عرب تک مرے مولا
(24)
کوفہ و کربلا سے دور بُغض و عناد کم نہیں
قحطِ حسین ہے بہت ابنِ زیاد کم نہیں
(25)
ستم رسیدہ ہے ہندستان میں اردو
اسی زبان میں ہندستاں زیادہ ہے
(26)
ناخن سے گوشت ‘ گوشت بدن سے الگ نہیں
ہم منفرد ہیں اور وطن سے الگ نہیں
(27)
بیمار اَنا کے ہاتھوں جب فرعون خدا بن جاتے ہیں
اُن کے ہی محلوں میں پَل کر بچے موسیٰ بن جاتے ہیں
(28)
کل تک ان کی تکراروں سے تیری غزلیں زخمی تھیں
آج مظفر نقّادوں کے جھگڑے میں دیوان گیا
(29)
میرے مذہب نے سکھایا ہے مظفر مجھ کو
جنگ کی مجھ سے شروعات نہیں ہونے کی
(30)
جنازے اٹھ چکے منصور اور سرمد کے
ہمارے جسم کہ مستول پر معلق ہیں
(31)
کوئی ےوسف نہیں ہے اور کاروبار پھیلا ہے
ہمارے سامنے اِک مصر کا بازار پھیلا ہے
(32)
مجھ پہ ارزاں تھی یہ دولت کہ قلم روشن تھا
خوب تقسیم کیا نور غزل پاروں میں
(33)
بہت ٹپکاے ہیں قطرے لہو کے شعر کہنے میں
بڑی مشکل سے میری حسرتِ تعمیر نکلی ہے
(34)
پھول برسائیں میرے دوست کہ پتھر برسائیں
میں نے ہات اپنے اٹھا رکھے ہیں اوپر کی طرف
(35)
کہاں کہاں سے کیا کسب نور مت پوچھو
کسی کی مانگ میںچھوٹی سی کہکشاں کے لیے
(36)
دولت درد عطا کی ہے کرو سجدئہ شکر
کہ فرشتے بھی ترستے ہیں میاں اس کے لیے
(37)
اب کہہ دیا تو بات نبھائیں گے عمر بھر
حالانکہ دوستی کا زمانہ تو ہے نہیں
(38)
ہم بھی جاتے ہیں کلیجے سے لگائے غم کو
دیکھیے حال وہاں کون سنانے پاے
(39)
اچھل پڑتا ہے سایہ اور مجھ کو ڈر نہیں لگتا
کوئی آسیب ہو انسان سے بڑھ کر نہیں لگتا
(40)
اور پھر اک روز اس نے بھی کنارا کر لیا
میری ہر تنہائی میں موجود ہونے کے لیے
(41)
درےا کو ہم سراب سمجھ کر نہ چھوڑ دیں
اک چیز ہے عقیدہ بہم کیجیے اسے
(42)
ہزار لوگوں سے دوستی کی نہ ہو سکی خود سے آشنائی
عجب عناصر خمیر میں تھے عجیب اسرار ذات کے تھے
(43)
اُمیدوں پر پھول آنے میں عمریں کھپ جاتی ہیں میاں
کیا سمجھے تھے نخلِ تمناّ دو دن میں پھل جائے گا
(44)
نفس کو اپنے ضعیف کرتا ‘ انا کو اپنا حریف کرتا
مگر اسے فکر ہی نہیں تھی کئی وسیلے نجات کے تھے
(45)
وہ ہٹتے تھے کنارے سے نہ دریا پار کرتے تھے
مگر ہر بلبلے ہر موج سے تکرار کرتے تھے
(46)
مرتبے رنگ نے ‘ خوشبو نے ہوا نے پاے
خار تھے ہم ترے نزدیک نہ آنے پاے
(47)
گُل بھی کردے مجھے آندھی تو نہ گھبرانا تو
روشنی ‘ دیکھ مری بات نہ جانے پائے

(48)
شہر بھر میں نہیں اک باغ مظفر صاحب
غول چڑیوں کا جہاں شور مچانے پائے
(49)
ہمیں بھی پیاس لگتی ہے ہمیں بھی سانس لینی ہے
سمندر پر تمھیں قابو ہوا پر حکمراں تم ہو
(50)
اگر پیچھے پلٹتے ہیں تو پتھرا جائیں گے ہم بھی
عدو پر وار بھی ممکن نہیں ہے درمیاں تم ہو
(51)
غزلوں پر غزلیں کہتا ہوں جذبہ تشنہ کا تشنہ ہے
وحشت کب رہنے دیتی ہے گھر پچیسوں بار بنایا
(52)
دل کے سِکے کو ڈھالا ہے تم نے خوب مظفر صاحب
اس پہلو ویرانی رکھی اس رُخ بازار بناےا
(53)
ایک گُل مراد ہی ہاتھ نہ آسکا مرے
آنکھ پر تیر مارتے پھول ہزار چار سو
(54)
سیلابوں کو شئہ دینے میں طوفاں کو اکسانے میں
کتنے ہاتھوں کی سازش ہے اک دیوار گرانے میں
(55)
کہاں کہاں سے کیا کسبِ نور مت پوچھو
کسی کی مانگ میں چھو ٹی سی کہکشاں کے لئے
(56)
ہم سوختہ نصیب اسی سر زمیں کے ہیں
اردو زباں بھی تاج محل بھی ہمارا ہے
(57)
راستہ جن سے الگ ہے میرا
اُن بزرگوں کی دعا چاہتا ہوں
(58)
کچھ اس طرح متبّم ہے دستِ حسرت پر
کہ جیسے پھول تو دامن پسارتا ہی نہ ہو
(59)
کھلتا تھا شگوفہ کہ پڑا لُو کا تھپیڑا
تازہ تھا ابھی زخم ، وہیں آن لگا تیر
(60)
خود کو ہر سمت سے محفوظ سمجھتے تھے بہت
مار ڈالا ہمیں آئینہ دِکھا کر تم نے
(61)
سر دھڑ کی بازیاں تو لگاتا ہے آدمی
مٹی کا پائوں لے کے کہاں دیوتا چلے
(62)
کسی کو حشر تک رہنا نہیں ہے
زیادہ کچھ ہمیں کہنا نہیں ہے
(63)
صدائے بازگشت بھی نہ آئی میری چیخ پر
بگُل بجا تو ہر طرف جوان ہی جوان تھے
(64)
جُھکے ہوے سر سے پُھوٹ نکلا اُبل اُبل کر خدائی سا کچھ
خبر ہے تجھ کو کہ جم رہا تھا تِری عبادت پہ کائی سا کچھ
(65)
ابھی تو چاند پر پہلا قدم رکھا ہے بستی نے
ابھی اے آسماں تجھ پر میری باری نکلتی ہے
(66)
کوئی بھی چلنے پر آمادہ نظر آتا نہیں
کارواں کا کارواں مصروف سالاری میں ہے
(67)
شعر کہتا ہے مظفر داد سے بیگانہ وار
پھل کھانے میں لذّت جو شجر کاری میں ہے
(68)
ہونے لگا ہے ماں کی دعا میں غلط اثر
بیٹی تو گھر میں بیٹھی ہے بیٹا نکل گیا
(69)
میرے قلم نے دُھوپ کی فلمیں لگائی ہیں
اب تک تمھاری زلف کے ستائے تھے شعر میں
(70)
پَل بھر میں ناقدین نے تجزیّہ کر لیا
ہم نے پچاس سال کھپائے تھے شعر میں
(71)
دلبری کا عجب انداز نکالا اُس نے
چاند کے پردے پر تصویر بنادی اپنی
(72)
رات کے سائے درو دیوار سے لپٹے رہے
دن بھی نکلا تو ہمارا گھر کہاں روشن ہوا
(73)
اک سِتارہ سا کہیں ٹوٹ گیا پہلوں میں
ہجر کی رات نے چُپکے سے کہا سنتے ہو
(74)
وہ سر سے پا تک تمام شعلہ
اسے کوئی1 چومتا کہاں سے
(75)
یوں بھی دلّی میں لوگ رہتے ہیں
جیسے دیوانِ میر چاک شدہ
(76)
ایک میرا دوست جس کا آخری دم تھا لہو
اور میں مجبور میرے پاس بھی کم تھا لہو
(77)
تھے ہر صدف میں اشکِ ندامت بھرے ہوے
کاٹے گئے ہیں دستِ تمنّا کہاں کہاں
(78)
میں کے برگِ خشک تھا مسند نشیں ہوں گھاس پر
دھوپ میری مملکت ہے میرا پرچم ہے ہوا
(79)
ویسے بھی اپنے دستِ ہُنر کھا رہے ہیں زنگ
پھیکا پڑا ہے رنگِ چمن میرے ساتھ آ
(80)
قطرہ ہوں تو شبنم جیسے جی لوں گا
لوگو مجھ کو دریا میں ضم نہیں ہونا
(81)
مری حق گوئی خامی ہے خردمندوں کی نظروں میں
یہ بے حد قیمتی خامی ہے مولا اور خامی دے
(82)
اگر درکار ہے تاثیر تجھ کو اپنے شعروں میں
انھیں رنگت مقامی دے انھیں لہجہ عوامی دے
(83)
کبھی تو صدقہ میرا خاک سے اتارا جائے
مجھے بلندی ¿ افلاک سے اتارا جائے
(84)
نہ جانے کب سے زمیں گھومتی ہے محور پر
مجھے سنبھال کے اس چاک سے اتارا جائے
(85)
میں اپنا شعر کیسے نذر کردوں اہلِ دولت کو
اُجالے میں تو یہ روشن ستارا ڈوب جائے گا
(86)
تجھے میں چاند کہتا ہوں تو کچھ اُمید رکھتا ہوں
مری آنکھوں کو ، دل کو ، رات کو بے نور مت کرنا
(87)
کہیں مقبولیت کا زنگ آجائے نہ لہجے پر
اسے شاعر ہی رہنے دو اسے مشہور مت کرنا
(88)
ہمارے ، زندگی بھر پائوں چادر سے رہے باہر
تعجب ہے سکندر کے کفن سے ہاتھ باہر تھے
(89)
زمانہ مجھ سے برہم ہے مرا سر اس لیے خم ہے
کہ مندر کے کلس مسجد کے مینارے بناتا ہوں
(90)
اوس پڑتی ہے مُرادوں کی سُنہری فصل پر
درد کا لشکر قریبِ شِرجاں اُترا ہوا
(91)
بہر صورت بشر ہے دوست ، پیغمبر نہیں کوئی
وہ اپنے نفع پر بیشک تجھے قربان کر دے گا
(92)
یہ کام اہلِ سیاست نے لاجواب کیا
خفا کسی سے ہیں جینا مرا عذاب کیا

٭٭٭
  آ ئینہ
مرتب : ڈاکٹر صبا تسنیم
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.