چراغِ سخن
از:دائم غواصی
بنام فہیم انور۔۔رانبدر ناتھ ٹیگور کی خود نوشت سوانح” جیون شریتی “کا بنگلہ سے براہِ راست اردو ترجمہ” میری یادیں“ پیش کرنے پر

فہیم انور، ٹی وی جرنلسٹ

نظم
مشکل ترین کام ہے یہ ترجمہ کا فن
قدرت زبان پر بھی ہو دل میں رہے لگن
محفوظ بہر حال تصنع سے ہو متن
ترکیبِ لفظ ،طرزِ بیاںکا ہو بانکپن
صورت گری ہو ایسی کہ رخ پُر کشش رہے
قاری کے دل میں پڑھنے کی ہر دم خلش رہے
اس کی نگارشات حسیں بھی سلیس بھی
ٹیگور جس کو کہیئے ،ہے شیخ الریئس بھی
ہمدم وہ میر کا ہے ،اسد کا جلیس بھی
بنگلہ ادب کا کہیئے اسے ہی انیس بھی
جیون کو اس کے دے دیا پیکر فہیم نے
مشکل یہ مارکہ تھا کیا سر فہیم نے

کوشش کچھ ایسی نیک ہی کی ہے فہیم نے
بوسیدہ سی قبا تھی ،جو سی ہے فہیم نے
ٹیگور کی صراحی سے پی ہے فہیم نے
جینے کی اک ترنگ بھی دی ہے فہیم نے
وحشت کا نام پھیل گیا شہرِ داغ میں
پرویز ہی کی مئے ہے سبھی کے ایاغ میں
کس نے کہا تو نابغہ روزگار ہے
لیکن ادب شناشوں میں تیرا شمار ہے
بے شبہ ”میری یادیں“ عجب شاہکار ہے
میرے فہیم تجھ پہ فہیمی نثار ہے
کر شکر رب کا ،رنگِ تصور پہ ناز کر
جو گُر ترے قلم کا ہے اس گُر پہ ناز کر

دائم ہے مستند بہت افسانہ حیات
دستِ صفا میں آئے نظر جیسے کائنات
فنکار کے جہات کے ہیں مختلف جہات
پیکر تراشیوں میں وہ تیری خصوصیات
سکتے میں اہلِ علم ہیںتیری اُڑان پر
اردو کو ناز ہے ترے فن کے جہان پر
سکتے کی جا ہے ،تجھ کو بصیرت خدا نے دی
اربابِ جامعہ کی رفاقت خدا نے دی
بخشا ہُنر خدانے ،فراست خدا نے دی
بنگالے کی زمین کو رفعت خدا نے دی
شہرِ نشاط سے گئی دہلی تلک یہ ضو
روشن رہے مدام چراغِ سخن کی لو

Dayam Ghwwasi
41,Dr.H.K.Chatterjee Street,
Belur, Math.Howrah-711202
Mob:09903000114
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.