غزل
غالب ایاز
صحن مقتل کی آبرو ہم تھے
قتل کے وقت باوضو ہم تھے
یہ ندی اب کسے بلاتی ہے
پہلے تو اس کی جستجو ہم تھے
اپنی بستی کو یاد ہے کہ نہیں
اسکی گلیوں کی ہاؤ ہو ہم تھے
تشنگی دے رہی تھی سیرابی
پیاس کے دیں کنار جو ہم تھے
اپنے کچھ خواب یاد آنے لگے
رات ماضی کے روبرو ہم تھے
جانے کس بات پر وہ روٹھ گئے
ہم نوالہ تھے ہم سبو ہم تھے

Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.