غزل مسلسل:رضیّہ کاظمی الہ آ بادی
حق کہے جانےکاحق ہے،تویہ جرٔات کرتےہیں
کوئی بھی فتویٰ ہو صادرہم پہ ہمّت کرتے ہیں۔

ڈھنگ سے پڑھنا نہیں آتا ،خطابت کرتے ہیں
علم ادھ کچرا ہو اپنا پھر بھی حجّت کرتے ہیں

عقل و دانش جو عطا کی ہے ہمیں اللہ نے
خرچ کرنا چا ہئےجس جا پہ خسّت کرتے ہیں

مثل اک ریشم کےکیڑےکے ہی اپنے خول میں
بنکےتانےبانےہی سمجھےکہ جدّت کرتے ہیں

نام پر مذہب کے کرتےہیں اکھاڑے بازیاں۔۔۔۔۔۔
حق پرستی کے بہا نےخوب بدعت کرتے ہیں

جو کہا ملا نے بس سمجھے اسے حکم خد ا
جاۓ تکمیل فرائض فکر جنّت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو محفل ہو رضیّہ یا کہ فورم ہو کوئ۔۔۔۔۔۔
ہم نواؤں کو ہی لے کرساتھ شرکت کرتے ہیں
از
رضیّہ کاظمی الہ آ بادی 5 کیلڈر کورٹ،پرنسٹن،
نیو جرسی امریکہ
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.