کیسا ساماں، کیسی منزل،کیسی رِہ کیسا سفر
غزل۔۔۔۔ڈاکٹر جاوید جمیل
کیسا ساماں، کیسی منزل،کیسی رِہ کیسا سفر
ہمسفر ہی جب نہیں ہے کیسے پھر ہوگا سفر

نفسِ امّارہ سے نفسِ مُطمئنہ تک کی راہ
آتشیں موسم، زمیں پُر خاراور تنہا سفر

حسرتِ دیدار ایسی فیصلہ کُن تھی مِری
لمحہ بھر میں ہو گیا اِک عمر سا لمبا سفر

پہلے منزل سامنے تھی اب نظر سے دور ہے
جانے کیسے کیا ہوا کس موڑ پہ بھٹکا سفر

شانہ دینے کے لئے اے دوستو صد شکریہ
اب اتارو دفن کر دو ہو چکا پورا سفر

ان چٹانوں میں کہاں یہ حوصلہ روکیں مجھے
کرتا ہوں جاویدؔ میں بھی صورتِ دریا سفر

Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.