غزلیں: ڈاکٹر فریا د آزر
  
نہ روک پائی مری آستین کی خوشبو
اسے بھی لے گئی بہلا کے بین کی خوشبو
گلاب اگے تھے مرے شہر کے ہر آنگن میں
مگر فضا میں تھی رقصاں مشین کی خوشبو
مرے وجود کا مجھ کو دلا گئی احساس
مرے گمان سے لپٹی یقین کی خوشبو
نہ جانے کون سی مٹی پڑی تھی گملوں میں
گلاب دینے لگے یاسمین کی خوشبو
میں آسمان پہ پہنچا مگر ستانے لگی
مرے وجود سے لپٹی زمین کی خوشبو
بس ایک آن میں سارے جہاں میں پھیل گئی
بتوں کے شہر سے اٹّھی جو دین کی خوشبو

*
عظمتِ آدمی کو سمجھا کر
میری آوارگی کو سجدہ کر
مجھ سے پتھر یہ کہہ کے بچنے لگے
تم نہ سنبھلو گے ٹھوکریں کھا کر
مدتوں سے مرا ہوا ہوں میں
پھر مجھے ایک بار زندہ کر
یا حقیقت کا رنگ دے اس کو
یا مرے خواب میں نہ آیا کر!
توڑنے والا جب ملا نہ کوئی
رہ گئے پھول کتنے مرجھا کر
اب خلا کے بدن پہ آنکھوں سے
اپنے آزرؔ کا نام لکھا کر

*
شہر آتے ہی وہ بے جھجھک بک گیا
صبح کا آدمی شام تک بک گیا
کیا سویمبر رچائے دھنک بک گئی
آج سیتا کی خاطر جنک بک گیا
چند چاول کے دانوں نے دکھلایا رنگ
اور دھرتی کے ہاتھوں فلک بک گیا
شام کو ہی خریدا تھا خود کو مگر
پھر ضرورت پڑی صبح تک بک گیا
جس کے ہاتھوں کی مہندی خریدی گئی
اس کے اجداد کا گھر تلک بک گیا
جانے کیا شے خریدی ہے اس نے ابھی
اس کے چہرے کا آزرؔ نمک بک گیا

*
آزماکر عالمِ ابلیس کے حربے جدید
ہوگئے قابض مری صدیوں پہ کچھ لمحے جدید
دفن کر دیتا تھا پیدا ہوتے ہی عہدِ قدیم
رحم ہی میں مار دیتا ہے اسے دورِ جدید
ننھا کمپیوٹر! کلم ، کاپی، کتابوں کی جگہ
اِس قدر سوچا نہ تھا ہوجائیں گے بستے جدید
ہوگیا محروم بینائی سے بھی اب آخرش
دیکھتا تھا رات دن وہ آدمی سپنے جدید
کیوں نہیں لے جاتی اب وحشت بھی صحرا کی طرف
بن گیا کیوں شہر از خود آج صحرائے جدید
دادی اور نانی کے قصوں میں مزہ آتا نہیں
اب سناتے ہیں مرے بچے ا نھیں قصے جدید
سب سنائی دیتا ہے آزر ؔ اذانوں کے سوا
محوِ حیرت ہیں کہ ہم بھی ہو گئے کتنے جدید

نوٹ:- غالباً اس طرح کے صوتی قافیوں کا تجربہ غزل میں پہلی بار کیا جارہا ہے
*
دہر میں زندہ ابھی نمرود کا ہمزاد ہے
امتحاں میں اب بھی ابراہیم ؑ کی اولا د ہے
سب حقائق مجھ سے بھی پہلے کہیں موجود تھے
میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ مری ایجاد ہے
آج بھی مرہونِ منت ہے "سہاروں" کا ادیب
کیا عجوبہ ہے کہ خالق سے بڑا نقاد ہے
ابتدائے دل کی گہرائی میں اتر تھا کبھی
اب زبان و لب پہ ہی اسلام زندہ باد ہے
اور کچھ بتلاتے ہیں اعمال ہم سب کے مگر
عظمتِ رفتہ کا ہم سب کو ترانہ یاد ہے
ایسا لگتا ہے کہ شاید ہو گیا قیدی فرار
اب تو رمضانوں میں بھی ابلیسیت آزاد ہے

*
اس نے میرا نام شوریدہ سروں میں لکھ دیا
اور خود کو امن کے پیغمبروں میں لکھ دیا
جب ملا تبدیلئ تاریخ کا موقع اُسے
نام خود اپنا سنہرے اکشروں میں لکھ دیا
شاہی محلوں سے مٹاکر مجھ کو بے حس وقت نے
جا بہ جا سہمے شکستہ مقبروں میں لکھ دیا
جب کتابوں کے لگے انبار تو میں نے بھی پھر
ایک سا مضمون سارے تبصروں میں لکھ دیا
میں نے اُس کو ناقدِ اعظم کہا کچھ سوچ کر
اُس نے مجھ کو عصر کے دیدہ وروں میں لکھ دیا
میں نے یوں ہی نام آزرؔ رکھ لیا تھا بے سبب
اُس نے بھی میرا مقدر پتھروں میں لکھ دیا

*
گھٹ گھٹ کے مرگیا مرے اندر کا آدمی
پھر آکے بس گیا کوئی پتھر کا آدمی
کس کو خبر تھی خلد سے آکر زمین پر
فتنے بپا کرے گا یہ گز بھر کا آدمی
آتا تھا دیر رات کو جاتا علی الصباح
بچے اُسے سمجھتے تھے دفتر کا آدمی
میں وقت پر وہاں بھی نہ پہنچا تھا عادتاً
کب سے پکارتا تھا مقدر کا آدمی
وہ شخص موقع ملتے ہی بن بیٹھا راکشس
گھر والے مانتے تھے جسے گھر کا آدمی
آزرؔ سے مل کے مجھ کو بھی ایسا ہی کچھ لگا
صدیوں پہ ہے محیط گھڑی بھر کا آدمی

*
ہر آن سازشِ نو میں پھنسانا چاہتا ہے
میں سر اٹھاہی نہ پاؤں زمانا چاہتا ہے
جہاں کہیں بھی میں طاقت کی شکل میں ابھروں
کسی بہانے وہ مجھ کو دبانا چاہتا ہے
مرے وجود سے اِس درجہ خوف ہے اُس کو
کہ میرا نام ونشاں ہی مٹانا چاہتا ہے
یہ کس چراغ کا جن ہے جو سارے عالم سے
چراغ امن و اماں کے بجھانا چاہتا ہے
میں اپنا ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کا مگر
وہ اپنے آگے مرا سر جھکا نا چاہتا ہے
میں معترض بھی نہیں اُس کے قہقہوں پہ مگر
مجھے رُلا کے ہی وہ مسکرانا چاہتاہے

*
تخیلات میں پھر تاج وتخت اُگنے لگے
زمیں ہٹی تو خلا میں درخت اُگنے لگے
جہاں فساد میں اعضائے جسم کٹ کے گرے
اُسی زمین سے ہم لخت لخت اُگنے لگے
پھر انتخاب کا موسم گزرگیا شاید
پھر اُس کے ہونٹوں پہ لہجے کرخت اُگنے لگے
کچھ اِس طرح انھیں بے رحمیوں سے کاٹا گیا
نحیف پودوں کے پتے بھی سخت اُگنے لگے
خزاں نصیبی کا بوڑھا شجر بھی خوش ہے بہت
کہ برگ شاخوں پہ کچھ نیک بخت اُگنے لگے
تو کیا ہمیں بھی سفر کا پیا م آنے کو ہے
خیال و خواب میں کیوں سبز رخت اُگنے لگے

*
یہ اور بات کہ لمحوں میں ڈھل گئیں صدیا ں
حصارِ وقت سے باہر نکل گئیں صدیاں
چلے تو فاصلہ طے ہو نہ پایا لمحوں کا
رکے تو پانؤں سے آگے نکل گئیں صدیاں
وہ الفیوں سے بھی برتر ہے تھی خبر کس کو
سو جزوِ خاک کی عظمت سے جل گئیں صدیاں
وہ لمحہ سرورِ عالم کو جب ملی معراج
اسی کے صد قۂ جاں سے سنبھل گئیں صدیاں
کبھی کبھی ہوئے تخلیق پل بہ پل دیوان
کبھی کبھی تو مری بے غزل گئیں صدیاں
حقیر قصبوں کو دے دے کے رنگ عظمت کا
عظیم شہروں کا نقشہ بدل گئیں صدیاں
Copyright © 2011-12 www.misgan.org. All Rights Reserved.