کتاب عرض ہے
ابن صفی کی شخصیت اور فن کا آئینہ
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
16,JUNE, 2015, 5.40AM (مژگان نیوز نیٹ)
یہ سوال بارہا ہمارے کمزور سے ذہن میں آتا رہاتھا کہ ہم نے جب جب اردو ادب کا مطالعہ کیا تو اس میں ہمارے پسندیدہ مصنف ابن صفی کے بارے میں کوئی مواد کیوں نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ جتنے ادبی کتب خانوں میں ہم نے کتابوں کی جتنی بھی الماریاں کھنگالیں ان میں طلسم ہوش ربا اور الف لیلیٰ،فسانہ ء عجائب اور گلزار نسیم تو مل جاتی ہیں جن میں مافوق الفطرت دنیا کا ایک الگ ہی سنسار بسا نظر آتا ہے مگرحقیقت کی دنیا میں رہنے والی ابنِ صفی کی ڈھائی سو کتابوں سے ہماری ملاقات کیوں نہیں ہوپاتی ہے۔ ہم کبھی کبھی عمران کے سے انداز میں سوچنے لگتے تھے کہ ہو نہ ہو ابنِ صفی نے یا پھر ان کے کسی کردار نے ان ادب والوں کی بھینس کھول لی ہوگی جس کی وجہ سے ادب والوں کو ابنِ صفی سے خدا جانے کا بیر سا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اردو ادب میں ہم ایک سے ایک عجیب و غریب سی قسم کے ادیبوں اور شاعروں اور ان کے جیسے وغیرہ وغیرہ کی شخصیات اور فن پر کتابیں یا مونوگراف پاجاتے ہیں وہیں ابنِ صفی پر یہ ادب والے بے ادب سے دکھائی دیتے ہیں۔وہ تو شکر ہو کہ جب سے ہم اردو اکادمی دہلی کی گورننگ کونسل میں ممبر بنے ہیں اس کی ادبی سرگرمیوں میں سرگرم ہونے کے ہمارے معاملات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایسی ہی حرکت میں برکت قسم کے سمینار میں جب ہم نے شرکت کی تو وہاں ہم نے اس کتاب کا اجراء ہوتے پایا۔ ابنِ صفی (شخصیت اور فن کے آئینے میں)، خالد( محمود اور جاوید) کی مرتب کردہ یہ کتاب ابن صفی پر ہوئے ایک سمینار میں پیش کئے گئے مقالات کا سنگم ہے۔ مگر اس کتاب کا اہم حصّہ بس یہ سمجھ لیجئے کہ اس کا مقدمہ ہے جوڈاکٹر خالد جاوید صاحب نے تحریر کیا ہے۔ ارداکادمی ،دہلی کی کتابیں چھپائی کے معاملے میں بہترین کہی جاسکتی ہیں ۔اسی کی سلسلہء مطبوعات نمبر ۱۹۴ ،یعنی یہ کتاب ۲۰۱۴ ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کی قیمت صرف ڈیڑھ سو روپئے ہے۔صفحات ۲۴۸ ہیں ۔حرفِ آغاز میں اکادمی کے سیکریٹری انیس اعظمی اکادمی کے اغراض و مقاصد کا یبان کرتے ہوئے جس جس کا حقِ تشکر بنتاہے وہ ادا کر دیتے ہیں۔ پیش لفظ میں ہمارے استاد پروفیسر خالد محمود صاحب نے اپنی اس دیرینہ خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ اردو کے مقبول ترین ناول نگار ابن صفی پر ایسا سمینار کروانا چاہتے تھے جس طرح افسانوی ادب کے بعض دیگر مقتدر مصنفّین پر ہوتا رہا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی خدمات کا بہت کم اعتراف ہوا ہے۔اس لئے اگرسمینار کسی دانش گاہ میں ہو تو ’’اس اجتماعی بے التفاتی کا کچھ نہ کچھ سدباب ہو سکتا ہے جو اس فطری تخلیق کار کے ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر روا رکھی گئی ہے۔‘‘ خالد محمود صاحب کو یہ موقع تب ملا جب انھیں ۲۰۱۰ ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے شعبہ ء اردو کی صدارت کا موقع ملا۔انھوں نے ’’اپنے شعبے کے رفیق کار ڈاکٹر خالد جاوید کا ابن صفی سے عشق بے پایاں دیکھ کر انھیں اپنا شریک کار بنالیا‘‘۔اردو اکادمی دہلی کے اشتراک سے یہ سمینار ۱۴ تا ۱۶ دسمبر ۲۰۱۲ ء کو ہوا اور بقول خالد محمود صاحب ’’خوب ہوا‘‘۔
خالد محمود صاحب اپنے پیش لفظ میں ابن صفی کو لے کر ان کے چاہنے والوں کے جنون کا ذکر کرنا نہیں بھولتے ۔وہ بتاتے ہیں کہ’’ میں اپنی بستی کے ایسے دیوانوں سے ذاتی طور پر واقف ہوں جنھوں نے حمید کی نقل میں بکرا پال رکھا تھا۔اپنے اس شوق کی پرورش میں خود روکھا سوکھا کھاتے اور بکرے کو اپنی حیثیت سے زیادہ اور بہتر کھلاتے۔نتیجتاً بکرا فربہ اور خود نحیف ہوگئے تھے۔ایک صاحب نے چوہیا پالی تھی جس کے پیروں میں حمید کی چوہیا کی طرح گھونگرو باندھے گئے تھے۔‘‘ اسی میں آگے چل کر وہ ایک غیر مسلم صاحب کے بارے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے ان سے بتایا کہ وہ ابن صفی کا ایک ناول ایک آنہ یومیہ کرائے پر لاتے ہیں اور کسی اردو داں طالب علم کو ایک آنے دے کر سنتے ہیں۔ایک بارا نھیں خیال آیا کہ کیوں نہ اردو ہی سیکھ لی جائے کہ پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی دوسروں کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔ خالد محمود صاحب سوال پوچھتے ہیں کہ اردو میں کون سا ایسا ادیب ہے جس نے محبوبیت کا یہ مقام حاصل کیا؟
جیسا کہ ہم نے آغاز میں کہا کہ اس کتاب کا مقدمہ بے انتہا معلوماتی ہے اور اس میں پاپولر ادب کو لیکر کار آمد بحث پڑھنے کو مل جاتی ہے۔ اس میں مغربی دنیا کے جاسوسی ادب اور اس سے منسلک معاملات پر کافی غورو فکر بھی نظر آتا ہے۔ لیکن اس مقدمہ کے آغاز میں تیسری ہی سطر میں کسی نے ان سے پورا بدلہ لے لیا ہے اورسمینار کا سال ۲۰۱۲ ء کی جگہ ۱۹۱۲ ء لکھ دیا ہے۔ یہ غلطی اس مقدمہ پر نظر کا کالا ٹیکہ ہے یہ مان کر چلئے گا کیونکہ اس میں خالد جاوید نے جس قسم کا مواد میسر کروادیا ہے اور جس انداز سے ابن صفی کے ادب میں مقام کو لے کر مثالیں پیش کی ہیں وہ کوئی عاشقِ ابن صفی ہی کر سکتا تھا۔ویسے بھی خالد محمود صاحب پیش لفظ میں ان کے عشق کی معراج کے بارے میں خیال پیش کر ہی چکے ہیں۔ اس لئے خالد جاوید صاحب جب یہ لکھتے ہیں کہ’’ اس کتاب کو پیش کرتے ہوئے ہم ایک روحانی مسرت سے ہمکنار ہیں‘‘ تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں لگتا ہے۔ وہ مقدمہ کے آغاز میں ایسے ہی سامنے رکھی ابن صفی کی تحریروں سے چند جملے رقم کر دیتے ہیں بغیر کسی تمہید کے۔ لیکن اگر وہ ان جملوں کا انتخاب کر کے لکھتے تو زیادہ بہتر رہتا کیونکہ آغاز میں ہی ایک ربط قائم ہوجاتا۔ لیکن کیونکہ یہ معاملہ روحانی ہو چلا تھا شائد اس لئے انھوں نے سوچا ہوگاکہ اس میں غیب کا کوئی پہلو بھی شامل ہوجائے۔ یہ تو ہم نے یوں ہی کہہ دیا لیکن انھوں نے یہ اس لئے ہی کیا ہوگا کہ ہم پڑھیں اور ہم کو بھی محسوس ہو کہ ابن صفی کو کہیں سے بھی پڑھئے وہ کمال لگتے ہیں۔ ان میں آج کے دور کی سچائی بھی نظر آجاتی ہے۔ آپ سوچئے جو تحریر کئی دہائی قبل وجود میں آئی ہو اگر اس میں اکیسویں صدی کے مسائل جا گزیں ہوجائیں تو یہ اس کے مصنف کا کمال نہیں تو اورکیا ہے۔ان میں سے چند ایک اقتباسات دیکھئے۔
’’ جب ایک آدمی پاگل ہوجاتا ہے تو اسے پاگل خانے میں بند کردیتے ہیں اور جب پوری قوم پاگل ہوجاتی ہے تو طاقتور کہلانے لگتی ہے۔‘‘ (انوکھے رقاص، ۱۹۵۷ء)
’’یہ آدمی کے چھچھورے پن کی کہانی ہے ۔۔۔۔آدمی کتنا گر سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔دنیا کی طاقتیں جو اپنے اقتدار کے لئے رسّہ کشی کر رہی ہیں اِس سے بھی زیادہ گِر سکتی ہیں۔ان کے بلند بانگ نعرے جو انسانیت کا بول بالاکرنے والے کہلاتے ہیں زہر آلودہ ہیں۔‘‘ (وبائی ہیجان،۱۹۵۷ء) ’’اگر تم قانون کو ناقص سمجھتے ہو تواسے اجتماعی کوششوں سے بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ۔اگر اس کی ہمت نہیں ہے تو تمھیں اسی قانون کا پابند رہنا پڑے گا۔اگر تم اجتماعی حیثیت سے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس سے متفق ہو۔‘‘ (لاش کا بلاوا، ۱۹۵۸ء)
’’آدمی نے خود ہی اپنی زندگی میں زہر بھرا ہے اور اب خود ہی تریاق کی تلاش میں سرگرداں ہے۔وہ خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے،لیکن اپنے پڑوسی تک بھی اس کی پہنچ نہیں ہے۔‘‘ (سیکڑوں ہم شکل، ۱۹۵۹ء)
’’آدمی سنجیدہ ہوکر کیا کرے جب کہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے اپنی تمام تر سنجیدگی سمیٹ کر دفن ہوجانا ہے۔ ‘‘(کالی تصویر ،۱۹۵۷ء) یہ مقدمہ ابن صفی کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ خالد جاوید لکھتے ہیں کہ ’’ ان کی تحریریں دراصل ا یک ’ مہاکاویہ ‘ ایک ’ مہابیانیہ‘ ہیں جو لگاتار اٹھائیس سال تک قسط وار شائع ہوتا رہا۔‘‘وہ کہتے ہیں کہ ’’فریدی حمید سیریزکے ناول ہندستانی فضا اورعمران سلسلے کے تمام ناول پاکستانی فضا کی نمائندگی کرتے ہیں ،اگرچہ اس کے بارے میں کھل کر اشارہ نہیں کیا گیا ہے۔ ‘‘ خالد جاوید اس بات کو سراسر رد کرتے ہیں کہ ابن صفی کے ناول غیر ملکی ناولوں کا چربہ ہیں۔وہ کہتے ہیں ’’ ابن صفی کے ناولوں میں مقامیت کا عنصر زیادہ ہے ،ماحول کی جزئیات نگاری کی سطح پر بھی اور کردار نگاری کی سطح پر بھی۔اردو زبان کا محاورہ اور چٹخارہ بہت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ابن صفی کا ترجمہ کرنا آسان نہیں ہے۔‘‘ خالد جاوید یہ کہتے ہوئے کہ ابن صفی کے’’ جاسوسی ناول لکھنے سے اعلیٰ ادب کے آبگینوں کو ٹھیس لگ جاتی ہے‘‘ مغرب کے جاسوسی فکشن کا جائزہ پیش کرتے ہیں اس سے ان کی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ابن صفی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور ان کا ادب میں ایک مقام ہونا چاہئے۔یہاں تک کہ وہ ستیہ جیت رے کی ’فلودا ‘ سیریز کی جاسوسی کہانیوں کی بھی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ لاطینی امریکی ادب کی ہندستانی ادب سے مماثلت پر بھی اس میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ابن صفی کو صرف اس بنا پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے جاسوسی اوب تخلیق کیا ہے اور وہ مقبول عام قسم کے لکھنے والے ہیں۔‘‘یہ بات کہتے ہوئے وہ ایک ہی سانس میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ’’ابھی تو ہم وثوق سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ابن صفی کے ناول مکمل طور پر جاسوسی ناول ہی ہیں۔‘‘ یہ بات کچھ ہم سے ہضم نہیں ہوتی کہ اگر ابن صفی کے ناول جاسوسی نہیں ہیں تو پھر کیا ہیں؟
اسی مقدمہ میں ہمیں معلوم چلتا ہے کہ ابن صفی کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ تھاجو دراصل وکٹر گن کے ایک ناول سے ماخوذ تھا۔اس میں پہلی بار انھوں نے کرنل فریدی کو پیش کیا تھا۔ یہ بات ابن صفی پرانگریزی ناولوں کا چربہ کا الزام لگانے والوں کو موقع دے ہی دیتی ہے۔اپنے مقدمہ میں وہ ابن صفی کے کرداروں پر بھی بحث کرتے ہیں۔وہ حمید اور عمران کے کرداروں کے فرق کو اس طرح سمجھاتے ہیں ’’ حمید کا مزاح عمران کے مزاح سے قطعی مختلف ہے اور ایک دوسری سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ عمران کی حماقت دراصل معصومیت ،اخلاق ،بہادری ،بے جگری ،فرض شناسی ،استقلال،ملال اور افسردگی کا ایک عجیب و غریب مجموعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن صفی کے تمام فن کو زبان کا چٹخارہ کہہ کر کمتر درجے کا نہیں ثابت کیا جاسکتا۔وہ ایک جگہ سیّد محمد اشرف کی اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے ذہن جدیدکے ادب پیما میں اردو کے دس بڑے لکھنے والوں میں ابن صفی کا نام بھی لیاتھا ۔وہ اس پر افسوس بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اردو کے ہی ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے ایک انٹرویو میں ابن صفی کے نام تک سے اپنی نا واقفیت کا اظہار کیا تھا۔ ایک حد پر پہنچ کر آپ کو لگتا ہے کہ یہ مقدمہ ہی اس کتاب میں سب کچھ ہے اب آگے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے خالد جاوید نے اپنی ’’روحانی وابستگی‘‘ کے چلتے باقی لوگوں کے ساتھ زیادتی ہی کی ہے۔ لیکن اس میں چند مقالات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔کتاب میں شامل مقالات یہ ہیں۔ میرے حصّے کے ابن صفی (آفاق احمد)،قرئات مسلسل کا استعارہ :ابن صفی (شافع قدوائی)،عوامی ادب کی شعریات: ابن صفی کے حوالے سے (علی احمد فاطمی )اردو فکشن میں ابن صفی کی معنویت (قاضی مشتاق احمد)،ابن صفی: قلم بردارِطنز ومزاح (مختار ٹونکی)،ڈگر سے ہٹ کر (وہاج الدین علوی)،ابن صفی انوراور رشیدہ سیریز کے آئینہ میں(شعیب نظام)،ادب کے تقاضے اور ابن صفی(یعقوب یاور)،ابن صفی:بعض امتیازات (قمرالہدیٰ فریدی)،ابن صفی کے جاسوسی ناولوں میں اردو کا ذکر (مناظر عاشق ہرگانوی)،ابن صفی کا عمران: ایک جائزہ (خالد جاوید)،ابن صفی کا فن حمید کے آئینہ میں (رضی الرحمن)،ابن صفی کی کردارنگاری(شان فخری)’’تزک دو پیازی ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ(سہیل انجم)،ابن صفی کا ادبی نصب العین(محمد عارف اقبال)،ابن صفی : فن اور شخصیت (قائد حسین کوثر)،ابن صفی کے ناولوں میں طنز و مزاح کے رنگ(نسیم انصاری)،ابن صفی : ماورائے اسرار(خان احمد فاروق)،ابن صفی اور عام قاری (سیفی سرونجی)اور ابن صفی کے منفی کردار (لئیق رضوی)۔ہم ہر مقالہ پر کچھ نہ کچھ لکھنا چاہتے تھے مگر مقدمہ نے ہی ہماری جان لے لی اور جگہ کم پڑ گئی۔
کتاب میں اکثر مقامات پر کتابت کی غلطیاں پڑھنے کے سلسلے کو بے چین کر دیتی ہیں۔ امید ہے آئندہ ایڈیشن میں انھیں دور کر لیا جائے گا۔لیکن کُل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ابن صفی کے چاہنے والوں کو ابن صفی کی تحریروں کو ایک نئے سلیقے اور طریقے سے سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ اس لئے ابن صفی کے چاہنے والوں کے لئے یہ کتاب پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ یقینی طور پر ابن صفی شخصیت اور فن کے آئینے کے بعد ہمیں یقین ہے کہ ابن صفی پر لکھنے والوں کا ایک نیا حلقہ پیدا ہوگا بلکہ ہم تو یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اس کتاب میں شامل مقالات پر انھیں لکھنے والے الگ سے کتاب کیوں نہ لکھ دیں۔ہمیں لگتا ہے کہ ڈاکٹر خالد جاوید کو تو اپنا مقدمہ اور بڑھا کر جلد ہی ایک اور کتاب کا انتظام کر لینا چاہئے۔
آپ نے ابن صفی کو جس قدر پڑھا ہے اس میں ادب کے لحاظ سے کیا کچھ پڑھا ہے وہ اس کتاب کے مقدمہ اور مقالات کو پڑھ کر اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب آپ کو یہ بھی یقین دلانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ آپ نے ابن صفی کو پڑھ کر کوئی کوڑا کرکٹ نہیں پڑھا ہے بلکہ ادب کا ہی سرمایہ آپ تک پہنچا ہے۔ یہ بات بھی ہمیں کہیں سے پتہ چلی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ابن صفی کی شخصیت اور فن پر سمینار کے بعد کچھ دیگر شہروں میں بھی ابن صفی کے چاہنے والوں کی جھجک ختم ہوئی اور انھوں نے سمیناروں میں کھُل کر اس بات کا اظہار کیا کہ’’ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں ‘‘ ۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ چاہے وقت کے ادبی مافیہ آج آپ کی پہچان نہ ہونے دیں مگر آپ کی تحریریں آج نہیں تو کل اپنی پہچان منوا کر رہتی ہیں۔ اس لئے لکھتے پڑھتے رہئے اس فکر سے آزاد ہو کر کہ کوئی پہچان بھی رہا ہے یا نہیں۔وقت ہر شخص کو آئینہ دکھا دیتا ہے۔جس کا ثبوت ابنِ صفی کے لئے اب شروع ہوئی تحقیق اور تنقیدکا سلسلہ ہے۔ بس امید ہے کہ ان پر تحقیق یا تنقید کرنے والے کرنل فریدی یا عمران کی شخصیت سے تو واقف ہی ہوں بلکہ حمید کا بھی خیال رکھتے ہوں۔یہی نہیں ایکسٹو کی پوری ٹیم اس کی نگاہوں میں ہو،رنگ بدلتی دنیا کا رنگ ان کے سامنے ہو،انسانی نفسیات اور فلسفہ ان کی پکڑ سے دور نہ ہواور اقوامِ متحدہ کی کمزور نظر بھی ان کی نظر میں ہو جو صرف مغربی دنیا کی عینک سے ہی تمام عالم کو دیکھتی ہے۔ ادب پر بھی باادب باملاحظہ ہوشیار جیسی کیفیت ہواور زندگی کے معمولی سے نظر آنے والے لمحات کی اہمیت کا بھی اندازہ ہو تب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ابن صفی کی کھوج تحقیق و تنقید کے شہزادے ڈھنگ سے کر پائیں گے اور انھیں ان کے جاسوسی ناولوں کے پلاٹ میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔
(بشکریہ ہمارا سماج)
16,JUNE, 2015, 5.40AM (مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.