کتاب عرض ہے
خالی ہاتھوں میں ارض و سماء لئے ہیں سلیم کوثر
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
16,JUNE, 2015, 5.30AM (مژگان نیوز نیٹ)
یقینی طور پر یہ کتاب ہماری ملکیت نہیں ہے ۔ ہم نے یا تویہ پڑھنے کے لئے مانگی ہے اور لے کر بیٹھ گئے ہیں یا پھر یہ کتاب ہمیں دینے کی عنایت کرنے والا نیک دل انسان اسے دے کر بھول گیا ہے۔اس سے پہلے کہ آپ اس سلسلے میں ہمیں کوئی الزام دیں ہم آپ کو صاف صاف بتا دیں کہ ہماری بھی بہت سی کتابیں ایسے ہی اِ دھر اُدھر ہوجاتی ہیں۔ہمارے ایک سسرالی عزیزجو بینک میں ہیں ایک دن ہمارے گھر آئے تو کتابوں کودیکھ کر کہنے لگے کہ ان کتابوں کی قیمت دو تین لاکھ تو ہوگی۔ہم نے کہا کہ کیا آپ کا بینک ان کتابوں پر قرض دیدے گا۔وہ لاجواب ہوگئے۔ ہم جس دور میں ہیں وہاں کتابیں اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہیں کیونکہ اب لوگوں کی پڑھنے کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ کتاب عرض ہے کا مقصد بھی یہی رہا ہے کہ ہم آپ کو کتابوں کی طرف دوبارہ گھسیٹ کر لائیں۔اس لئے کتاب عرض ہے میں آپ کو وہ بوجھل ناقدانہ روش نظر نہیں آئے گی جس میں کتاب پر لکھنے سے پہلے ناقدشروع کے کئی صفحات میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانے کے لئے آپ کومغربی مصنفوں کے حوالوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ ہمارا حوالہ یا حوالے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی صاف سی وجہ یہ ہے کہ ہم جاہل ہیں اور ہم نے ادب کو اتنا نہیں پڑھا ہے جتنا دیگر لوگ پڑھ لیتے ہیں۔بس اتنا ضرور پڑھا ہے کہ جس سے ہم کچھ اور پڑھ لکھ جائیں۔اپنے اس پڑھنے لکھنے میں جب ہم آپ کو بھی شریک کر لیتے ہیں تو اس سے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب لکھنے والے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ کتاب عرض ہے سے کتابوں کے خریدنے یا پڑھنے کے رحجان میں کیا فرق آیا ہے مگر اکثر آنے والے ٹیلی فون جب ہم سے کتاب عرض ہے میں پیش کی گئی کتاب کے مصنف اور اس کی کتاب حاصل کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔اس لئے آپ کتاب پڑھنے کی عادت ترک نہیں کیجئے ۔کتاب پڑھئے چاہے اس کے لئے آپ کو ہماری طرح کتاب ہی کیوں نہ ڈھانپنا پڑھے۔ جب آپ کتاب پڑھیں گے تب ہی تو آپ کو پتہ چلے گا کہ کتاب ڈھانپنا برائی میں شامل ہے اور ایسا کام نہیں کرنا چاہئے۔
خیر ہم کہاں آپ کو لے کر چلے گئے کہ آج جو کتاب ہم عرض کر رہے ہیں وہ ایک لاجواب شاعر کی کتاب ہے ۔سلیم کوثر کی اس کتاب کی وجہ سے ہمیں جو دولت ملی ہے وہ بے پایاں ہے۔ ہمارے والد صاحب جناب پروانہؔ رُدولوی مرحوم نے کسی آمد کے موقع پر یہ کتاب اٹھاکر اس میں اپنی ایک غزل اور چند دیگر اشعار رقم کردیے ہوں گے۔جب ہم نے یہ کتاب اٹھائی تو ہمارا دل احساس کے کتنے ارض و سماء سے ہوکر گزرا ہے ہم نہیں بتا سکتے۔انھوں نے اپنے دستخط کے ساتھ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۲ ء کو جو غزل اس کتاب کے آخری صفحہ پر تحریر کی ہے وہ ایک ایسی دولت ہے جسے پاکر ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے ؂ تمام عمر کٹی انتظار میں جس کے
وہ موت تحفہء آساں بنی ہے اب کے برس
یہ کتاب جن کی بھی ملکیت ہے ان کے لئے ’’ طاہرہ آپا‘‘نے پیش کی ہے۔ قلم سے لکھا ہے۔’’سالِ نو مبارک،عابدی صاحب کے لئے، بہترین دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ،طاہرہ آپا،دسمبر ۹۰ ء ‘‘۔اب کچھ کچھ مسئلہ حل ہو رہا ہے ۔ممکن ہے کہ یہ کتاب آل انڈیا ریڈیو پر اردو کی خبریں نثر کرنے والے ہمارے محترم جناب اشرف علی عابدی صاحب کو آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس پر اناؤنسر رہیں محترمہ طاہرہ نیازی صاحبہ نے پیش کی ہو۔عابدی انکل نے یہ کتاب یا تو ابّا کو یا ہمیں مطالعہ کی غرض سے دی ہوگی۔جو بھی ہے ہم نئے برس کے موقع پر طاہرہ آپا کی نیک خواہشات عابدی صاحب کو ایک بار پھرپیش کرتے ہوئے یہ کتاب عرض کر رہے ہیں جو یقینی طور پر اس وقت صرف سلیم کوثر کے خالی ہاتھوں میں ارض و سماء نہیں ہے بلکہ ہمارے لئے پوری دنیا ہے ۔ سلیم کوثر کا یہ شعری مجموعہ ماں کے نام ہے۔وہ لکھتے ہیں ’’ ایک دعا کی چھاؤں میں ساری عمر بتانی ہے‘‘۔یہ کتاب یقینی طور پر اس قدر مقبول رہی ہوگی کہ اسے تحفہ میں دیا گیا ہے۔ احمد برادرس ،ناظم آباد کراچی نے اس کی طباعت کی ہے۔کتاب میں اس کے چار ایڈیشن کا ذکر ہے۔ پہلا ۱۹۸۱ء اور پھر دوئم ڈیلکس ایڈیشن بھی ۱۹۸۱ ء میں ہی آیا۔ اس کے بعد لگتا ہے کہ اس کتاب کی پھر ضرورت پیش آئی اور ۱۹۸۵ ء میں بھی اس کا ایک اور ایڈیشن شائع ہوا ۔یہیں لوگوں کو صبر و قرار نہیں آیا تو پھر اس کا ایک اور ایڈیشن ۱۹۸۸ء میں بھی شائع کیا گیا۔اب آپ سمجھے کہ یہ خالی ہاتھوں میں ارض و سماء نہیں ہے بلکہ اس میں زمین و آسمان کی گہرائی اور بلندی سب کچھ ہے جو ایک حساس تخلیق کار کے تخیل کی پرواز سے وجود میں آتی ہے۔ لذت دربدری بھول گیا ہوں اب تو
خالی ہاتھوں میں کبھی ارض و سماء لایا تھا
کتاب کی قیمت پچاس روپئے تحریر ہے ۔ناشر نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی ہیں۔کتاب کا سرورق نہایت شاندار ہے اور اتنے برس کتابوں کے درمیان دبے رہنے کے باوجود اپنی کشش اس قدر قائم رکھے ہے کہ ہم سے ہمارے اسکول جاتے بیٹے نے کہا کہ اس کا سرورق کتنا شاندار ہے۔ جمیل نقش نے سرورق کی نقاشی کی ہے۔لیکن جہاں یہ سب نام تحریر ہیں ان کا’ فونٹ‘ اتنا چھوٹا ہے کہ ہم باقی نام پڑھنے سے ہچکچاتے رہے۔کتاب کے آغاز میں میرؔ صاحب کا وہ شعر درج ہے جو دنیا کو آئینہ خانہ بتاتے ہوئے دیواروں کے بیچ منہ نظر آنے کی بات کرتا ہے مگر شرط یہ لگاتا ہے کہ چشم ضروری ہیں۔یہ شعر اس بات کا اعلان ہے کہ اندر کے صفحات میں آپ کو چشمِ بینا کی کرامات جابجا دکھائی دے سکتی ہیں مگر چشم ہو تو ہی آپ کا کام چل سکتا ہے ورنہ اشعار کی دیواروں سے سر ٹکراتے نظر آئیں گے اور منہ کی کھائیں گے۔
کتا ب کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہے اس کی تخلیق کا مہینہ یا سال یا دونوں ہی کلام کے آخر میں درج ہیں۔سلیم کوثر کہتے ہیں ؂ سولے سترہ سال میں ،میں نے
جو دیکھا ہے
جو سوچا ہے
جتنے میں نے عشق کئے ہیں
جتنے دکھ جھیلے ہیں
جتنی راتیں جاگی ہیں
اُتنے ہی حرف لکھے ہیں
سولہ سترہ برس کاسلیم کوثر کا یہ احساس یقینی طور پر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ پیش لفظ وہ ایک نظم کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ شیطان سے میری جنگ جاری ہے
اس کیلئے میں نے خداسے کوئی معاہدہ نہیں کیا
جب اس جنگ کا آغاز ہوا تھا
میں اکیلا تھا
اب یہ جنگ آدھی لڑی جاچکی ہے
میں آدھا رہ گیا ہوں
جنگ جاری ہے
اس کے اگلے صفحہ پر بھی ایک نظم ’’ بسم اللہِ وَحدہُ لاشریکَ لہُ‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں وہ جو سوال پوچھتے ہیں وہ احسا س کے بے کراں جزیروں سے ہوکر گزرتا ہے ؂
مجھے بتاؤ
نہیں تو تم بھی مرے کہے پر یقین کر لو
کہ ہم سے پہلے جو لوگ تھے،آئینے تھے،رستے تھے
ان پر اکثر کتاب اترتی تھی
اور ہم حرف کی صداقت کو ماننے سے بھی منحرف ہیں
مجھے بتاؤ
نہیں تو تم بھی میرے کہے پر یقین کرلو
وہ یقین کراتے ہوئے یہ بھی بتادیتے ہیں کہ وہ جس نئے قبیلے سے جُڑے ہیں وہ اُن لوگوں کا قبیلہ ہے جو احساس کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کا یہ قبیلہ تمام قبیلوں سے جدا ہے۔
ایک قبیلہ چھوڑ دیا اور اِک دنیا آباد رکھی
میں نے پہلا شعر کہا اور شجرے کی بنیاد رکھی
سلیم کوثر کی شاعری میں جابجا زمین و آسمان کا ذکر موجود ہے۔ مگر ان کی زمین ایسی زمین ہے جو بے چینیوں کا شکار ہے اور اس پر جتنے بھی عذاب ہیں وہ آسمان کے تو ہیں مگر اس میں سر عام قصور زمین والوں کا ہی نکلتا ہے۔مشکل تو یہ ہے کہ وہ یہ جانتے سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپانے کی حالت میں ہیں۔ ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں
ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گہرا بہت
جس دئیے کی توانائی ارض و سماکی حرارت بنی
اُس دئیے کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اُجالا بہت
سمندروں میں جزیرے پناہ دیتے ہیں
مگر یہ خاک کسی ارضِ بے اماں کی ہے
سنا ہے اب نہیں اترے گا ہم پہ کوئی عذاب
زمیں پہ آخری تہمت یہ آسماں کی ہے
ہمیں اِک اسمِ اعظم یاد ہے وہ ساتھ ہے ،ہم نے
کئی بار آسماں کو اِن زمینوں پر بلایا ہے
زمیں سے آسماں تک ایک سی ویرانیاں ہیں
کہیں جگنو نہیں ہے اور کہیں تارا نہیں ہے
وہ موسموں کا مزاج سمجھتے ہیں مگر ان کے موسم عجب قسم کے موسم ہیں۔ ان کے موسموں کو سمجھنا بھی آسان نہیں ہے۔انھیں موسموں سے شکایت نہیں ہے مگر موسم ان سے ان کی ہی پہچان طلب کرنے لگیں تو پھر ایسے موسموں سے کیا رشتہ روا رکھا جائے۔ یہ موسم رشتوں پر بھی دھوپ چھاؤں لاتے ہیں۔ تعلقات پر بھی برف جماتے ہیں اور یہی موسم ہیں جو دنیا کو حبس میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ انسان کی خود غرضی کے موسم ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیاامن و سکون کے موسموں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔
اب یہ موسم میری پہچان طلب کرتے ہیں
میں جب آیا تھا یہاں تازہ ہوا لایا تھا
ہم رُتوں کے مجرم ہیں پر ہوا کی نظروں میں
تیری پارسائی کیامیری بے گناہی کیا
بلا کا حبس رگوں میں اتر گیا اب کے
نہ جانے زہر گھُلی یہ ہوا کہاں کی ہے
بارش ہونے کو ایک زمانہ ہوا سلیمؔ
پانی ٹپک رہا ہے ابھی تک مکان سے
سلیمؔ کوثر ہر گھڑی کسی سفر سے دوچار لگتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جابجا سفر کی داستانیں نظر آتی ہے۔ ہر غزل میں کوئی نہ کوئی ایسا شعر موجود ہے جو ان کو درپیش سفر کی نشاندہی کرتا ہے۔ مگر یہ سفر ذات کا سفر ہے جس میں سارے جہان کے لُٹے پٹے مسافر بھی نظر آجاتے ہیں۔ان میں وہ مسافر بھی ہیں جو تاریک راتوں میں کسی سحر کی آرزو میں اپنی جمی جمائی زندگی چھوڑ کر چل پڑے تھے مگر ان کا سفر منزل پر پہنچ کر بھی تمام نہیں ہوا ہے۔یہ ان مسافروں کا سفر بھی ہے جو کشتیاں جلا کر ساحل پر اترے تھے اور اب ان کے پاس واپس جانے کی تمام راہیں مسدود ہوچکی ہیں۔ رستہ نہیں واپسی کا کوئی
میں آگیا کشتیاں جلاکر
شب گزیدہ لوگوں کو نیند سے الجھنا ہے
رات کی مسافت میں رزمِِ صبح گاہی کیا
ہر اک قدم پہ بچھے ہیں سحر کے اندیشے
یہ تیرگی کا سفر ختم ہو تو سولیں گے
جو لوگ ہجر کی مسافتوں میں تھک کے سو گئے
خیالِ موسمِ وصال ہی انھیں جگائے گا
تو طے ہوا نا،اس گلی کے موڑ تک تو ساتھ ہیں
پر اس گلی کے موڑ تک بھی اک زمانہ آئے گا
منڈیر پر چراغ رکھ دیے ہیں خود جلائے گا
وہ آنے والا شخص جانے کس طرف سے آئے گا
سب سے پہلے تو پتوار سے گرہِ آب کھولنا
پھر مخالف ہوا تیز ہوجائے تو بادباں کھولنا
وہ جب حرف کو لفظ کے حوالے کرتے ہیں تو خیالات کی ایک ایسی پاکیزہ دولت اُن حرفوں کے ساتھ کر دیتے ہیں کہ ان حرفوں پر زرا سا بھی حرف نہیں آتا۔مگر یہ حرف اس کتابِ دل کی روشنائی سے ترتیب پاتے ہیں جہاں تیرگی اور روشنی کی جنگ نہ جانے کب سے جاری ہے۔ سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت
سارے ناموں میں اک نام سوہنا بہت اور ہمارا بہت
تو اپنے حرف اس کے نام کرکے خود کو بھول جا
یہ عہدِ بے ہُنر ہے کس کو معجزہ دکھائے گا
میرے ہاتھوں میں بھی زیتون کی شاخیں تھیں کبھی
میں بھی ہونٹوں پہ کبھی حرفِ دعا لایا تھا
بے ہنر لوگ کہاں حرف کی سچائی کہاں
اب کتابیں کسی دریا میں بہادی جائیں
انھیں اس بات کا بھی افسوس ہے کہ گیان کے تمام صحیفوں کو یاد کرکے بھلادیا جارہا ہے۔ اگر گیان عمل میں نہیں تو کس کام کا؟ تم نے کتابِ عشق بھلادی ہم سے گُم ہوگئی
ہم سے گُم ہوگئی ہے لیکن یاد تو پوری ہے
سلیم کوثر جو خالی ہاتھوں میں ارض و سماء رکھتے ہیں وہ ہاتھ بھرے ہوئے ہیں۔ اس میں زمین کی وسعتیں ہیں جو آسمان کے لامتناہی سلسلے سے جاملتی ہیں۔رات دن ،چاند سورج ،زندگی کے تمام موسم ،دلوں کی کشمکش،حیرانی اور اس سے بلا کی ویرانی مگر امید کا ٹمٹماتا دیا جو جگنو کو بھی حوصلہ دیتا ہو، سب کچھ تو ہے یہاں پر۔ ان کی شاعری کو رواروی میں پڑھتے ہوئے نہیں گزرا جاسکتا ۔بارہا ان کے اشعار کے ساتھ کئی کئی دن گزارنے پڑتے ہیں۔ ان کی بات کرنے ا کانداز ہی ایسا ہے جو ایک ایسی تڑپ کی سمت اشارا کرتا ہے جو جاگتے ذہنوں کا مقدر بن چکی ہے۔ اس طرح دن کے اجالے سے ڈرے لوگ سلیمؔ
شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھانے لگ جائیں
جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ یہ کتاب کسی اور کی ہے۔اس میں کئی اشعار پر اس طرح کے نشان موجود ہیں جیسے ان کو پسند کیا گیا ہو۔ہم ان میں سے چند اشعار کسی تمہید کے بغیر یہاں رقم کر رہے ہیں ممکن ہے کہ ان سے سلیم کوثر کی شاعری کے ان نہاں خانوں پر بھی روشنی پڑجائے جہاں ہماری تنگ نظر نہ پڑسکی ہو۔
نہ تو ملا ہے نہ خود ہی سے نبھ سکی اپنی
تو پھر یہ عمر کہاں ہم نے رائیگاں کی ہے
لے اُڑی بادِ کم آثار سرِ دست کہیں
میں تو صحرا سے ترے گھر کا پتہ لایا تھا
پلٹ کر دیکھ لے تو ٹوٹ جائے
یہاں ہر شخص اتنا اجنبی ہے
ہم صبر کی تلقین کیا کرتے تھے جس کو
اب کے اسے دیکھاہے تو آنسو نکل آئے
زندہ ہے ابھی سلیم کوثر
کس غم میں یہ شہر مر رہا ہے
میں نے جس صف کو چھوڑا ہے اسمیں شامل سارے لوگ
اپنے قد کو بھول کے اپنا سایہ دیکھنے والے تھے
اب آئینہ حیرت سے اک اک کا منہ تکتا ہے سلیم
پہلے لوگ تو آئینے میں چہرہ دیکھنے والے تھے
آب و گِل کے زخم لے کر موسموں کے پیار سے
خشک پتّے دیر تک چمٹے رہے اشجار سے
میں تو آوارہ سہی پر شام کے ڈھلنے تلک
میرا سایہ آن ملتا ہے تری دیوار سے
تجھے بھلائیں کہ اب تیری آرزو کی جائے
یہ بات طے ہو تو پھر تجھ سے گفتگو کی جائے
چراغ اور اندھیرے کی جنگ میں کچھ لوگ
یہ سوچتے ہیں کہ اب بیعتِ عدو کی جائے
جو عکس ٹوٹ گیا اس کا کیا بنے گا سلیمؔ
شکستگی اگر آئینے کی رفو کی جائے
تو نے اک مجھ کو پکارا تھا سرِ راہ گزر
رک گیا سارا زمانہ تیری آواز کے ساتھ
زمیں کے ساتھ میں تقسیم ہو نہیں سکتا
میں اپنے گھر سے نکل کر بھی اپنے گھر میں ہوں
ہر آنکھ پر کھلتی نہیں آئینے کی حیرت
ہر آئینہ رکھتا نہیں حیرت کو چھپا کر
میں خود اپنی آگ ہی میں جل بجھا تو یہ کھلا
شرط جلنے کی نہیں تھی کیمیا ہونے کی تھی
آنگن میں دیوار اٹھانے کی کچھ ایسی ریت چلی
اپنی آگ میں جل جاتے ہیں اک دوجے سے اوجھل لوگ

میں اپنا جرم کیسے چھپاتا بھلا سلیم
میرا شمار خود بھی میرے مخبروں میں تھا
ہم سفر سے لوٹ کر آئے تو یہ عقدہ کھلا
اپنی بستی میں ہمیں پہچانتا کوئی نہیں
آگہی کا خوف تو پھر آگہی کا خوف ہے
بے ارادہ بھی ترے ہاتھوں میں پتھر آئے گا
نئی ہوا نے عجب معجزے دکھائے ہیں
اُکھڑ گیا ہے وہی پیڑ جو پُرانا تھا
میں ہوں اس دور کا سقراط مجھے زہر نہ دو
میں تو احساس کی تلخی سے ہی مرجاؤں گا
جس شاعر کے پاس احساس کی تلخی کی دولت موجود ہو وہ دن میں کتنی بار جیتا اور کتنی بار مرتا ہوگا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں صرف وہ ہی بتا سکتے ہیں کہ جو خود اس راہ سے ہوکر گزرتے ہوں۔مگر یہ بات طے ہے کہ سلیم کوثر کا یہ احساس اب اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ جہاں آر پار کے سوا اب کوئی چارا نہیں بچاہے مگر کیا کیا جائے کہ جن کو جلنا ہے ان کو ہر حال میں سحر ہونے تک جلنا ہے۔مشکل تو یہی ہے کہ جس منزل کی طرف سحر سمجھ کر لوگ چل پڑتے ہیں وہ بھی تاریکی کا ہی کوئی دوسرا ٹھکانہ ہوتا ہے۔
سلیمؔ تجھ کو بکھرنا ہے اور جلنا بھی
یہ خاکدان ترا شمعدان تیرا ہے
(بشکریہ ہمارا سماج)
16,JUNE, 2015, 5.30AM (مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.