کتاب عرض ہے
کربلا کے بعد قاتلانِ حسین کا عبرتناک انجام
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
16,JUNE, 2015, 5.40AM (مژگان نیوز نیٹ)
آج ہم نے کئی کتابیں عرض کرنے کے لئے سوچی ہوئی تھیں مگر جب ہم ان میں سے ایک کتاب اٹھانے کے لئے ریک کی طرف بڑھے تو ہماری نظر اس کتاب پر جاکر ٹھہر گئی۔ہم نے کئی باراس کتاب کو اٹھا کر الگ رکھا مگر نہ جانے کیوں بار بار یہ ہی کتاب اپنی طرف کھینچتی رہی۔ پھر ہمیں خیال آیا کہ کربلا کے شہیدوں کے چہلم کے حوالے سے یہ کتا ب عر ض کرنے کا موقع ہے اس لئے اس کتاب کے آس پاس ہی نظر بار بار ٹھہر رہی ہے۔ اس لئے یہ کتاب ہمارے لئے آج اہم ہوگئی ہے۔ اس کتاب کو ہمارے والد پروانہؔ رُدولوی مرحوم نے تحریر کیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر جسے غالباً قیس رامپوری صاحب نے تیار کیا ہے، ہمارے والد صاحب کے نام کے ساتھ الحاج لکھا ہے۔ ۱۹۹۲ ء میں شائع اس کتاب کی قیمت پچیس روپئے تحریر ہے جسے حیا پبلشنگ ہاؤس کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔ ناشرین میں ہم تین بھائیوں کا نام ہے۔ ناظمِ اشاعت سیّد سبطِ اصغر رضوی تحریر ہے۔ تعداد دو ہزار ہے۔ یقینی طور پر یہ تمام کتابیں جلد ہی فروخت ہوگئی ہوں گی کیونکہ ان کی قیمت بہت کم رکھی گئی تھی۔ ایک سو بیس صفحات ہیں۔کتاب کا انتساب ’’اپنے جڑواں بھائی سیّد محمد کمیل صادق رُدولوی کے نام جو میری ہی طرح تاریخِ اسلام کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرتے ہیں مگر میرے بر خلاف اپنے علم و تجربہ کو سمیٹے ہوئے بیٹھے ہیں ‘‘ لکھ کر کیا گیا ہے۔ اسی صفحہ پر مخمورؔ سعیدی صاحب کا ایک شعر بھی ہے۔
پھر زمیں کا عذاب اس دل پر
پھر نظر آسمان پر میری
کتاب میں تیس باب ہیں ۔عرضِ مصنف میں پروانہ ؔ رُدولوی صاحب نے صاف تحریر کیا ہے کہ حجِ بیت اللہ ادا کرتے ہوئے دل میںیہ خیال آیا کہ اس کتاب کو لکھنے میں تاخیر سے کام نہ لیتے ہوئے ان قارئین کی خدمت میں پیش کریں جو اسلامی تاریخ کا مطالعہ عقیدتمندی کے موٹے چشمے لگاکر نہیں کرتے بلکہ نہایت غیر جانبداری کے ساتھ تاریخ کو پڑھتے ہیں اور حقائق کو کھلی آنکھوں کے ذریعے دل میں اتارتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کتاب کو لکھتے ہوئے انھوں نے یہ خیال رکھا ہے کہ ان پر عقائد غالب نہ آنے پائیں اور بے لاگ اور غیر جانبدارانہ روش پر وہ عمل کریں۔ اس کے ثبوت کے طور پر انھوں نے لکھا ہے کہ’’ میں نے پیغمبرِ اسلام رحمت عالم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے علاوہ کسی اور نام پر ( ’’ ؓ ‘‘ یا ’’ ؑ ‘‘ ) کی روایتی علامات نہیں چسپاں کی ہیں جو جانبدار مورخین کی جانبداری کی چغلی کھاتی ہیں۔‘‘ انھوں نے قارئین اکرام سے گزارش کی ہے کہ وہ مطالعہ کے وقت جو چاہیں علامت استعمال کرلیں۔
کتاب کا اگلا باب’’ واقعہ کربلا کا پس منظر ‘‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں واقعاتِ کربلا سے پہلے کے حالات ،حضرت امام حسین ؑ کی مدینہ سے مکّہ ہجرت ،کوفہ سے حضرت امام کو بلانے کے لئے خطوط کاذکر اور حج کے دوران حضرت امام حسین ؑ کے قتل کی سازشوں کے بارے میں بھی تحریر ہے۔ اس میں کئی کتابوں کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اگلا باب’’ کوفیوں کی دعوت ‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس میں بے شمار خطوط کا ذکر ہے جس میں انھیں دعوت دی گئی تھی ۔یہ خطوط عبداللہ بن سلیع اور عبداللہ بن سمع سکری کے حوالے کئے گئے تھے کہ وہ انھیں ’’امیرالمومنین‘‘ حسینؑ کی خدمت میں پہنچادیں۔انھوں نے مکّہ پہنچ کر یہ خطوط حوالے کئے۔اس باب میں اس وقت کے کوفہ کے حالات کا بھی تذکرہ ہے کہ کس طرح حسینؑ کے خط کے بارے میں ابنِ زیاد تک خبر پہنچائی گئی۔اس کے بعد کا باب ’’زیاد کوفہ میں ‘‘کے عنوان سے ہے۔ اس میں آغاز میں تحریر ہے کہ کس طرح چالاکی سے ابن زیاد بصرہ سے کوفہ پہنچا۔وہاں کے لوگوں نے جب ایک قافلہ کو بیابانی راستے سے کوفہ کی جانب آتے ہوئے دیکھا تو وہ سمجھے کہ اما م حسین تشریف لا رہے ہیں۔لوگ ان کے استقبال میں آنے لگے ۔بالآخر مسلم بن عمر باہلی نے زیاد کو پہچانا اور اور ایک شخص سے کہا کہ ’’ یہ عبیداللہ بن زیاد ہے حسین بن علی نہیں۔ یہ سننا تھا کہ کوفہ والوں میں بھگدڑ مچ گئی۔اس کے بعد اگلے دن کوفہ کی جامع مسجد میں سب کو جمع کرکے اس نے جو تقریر کی ہے اس کا ذکر ہے۔ساتھ ہی اس کے بعد کے واقعات میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کا تذکرہ اگلے ابواب میں ہے۔ اس کے بعد’’ مختار کون تھا ‘‘ کے عنوان سے ایک اور باب میں تاریخ کے حوالوں سے ان کی پیدائش اور دیگر حالات کا تذکرہ ہے۔اسی مضمون میں تحریر ہے کہ ’’ مختار کے معنی چنے ہوئے کے ہیں ۔اس لئے کچھ خوش عقیدہ مورخین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ نام قدرتی طور پر اس لئے قرار پایا کیونکہ وہ واقعہ ء کربلا کا بدلا لینے کے لئے چنے ہوئے تھے۔ ‘‘اس میں لکھا ہے کہ ’’ جب حضرت مسلم حضرت امام حسین کے ایلچی بن کر آئے تو سب سے پہلے حسین کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں میں مختار بھی تھے۔‘‘
اس سے اگلے باب میں ’’ عقیدت کا حصار‘‘ کے عنوان سے تحریر ہے کہ ’’ چونکہ مختار بن ابو عبیدہ ثقفی نے قاتلان حسین سے گن گن کر بدلے لیے اس لیے ان کی شخصیت کے گرد عقیدت کا حصار کھینچا ہوا نظر آتا ہے۔ اور اس حصار میں بعض ایسی باتیں دیکھنے اور سننے کو مل جاتی ہیں جو ہر ہیرو کے ساتھ اس کے عقیدتمند جوڑ دیتے ہیں۔ ‘‘ اس ایک جملے سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ اس کتاب کو تحریر کرتے وقت پروانہؔ رُدولوی صاحب نے جو خود شیعہ تھے مگر انھوں نے کس فکر کو سامنے رکھا ہوگا۔اس مضمون میں تاریخ کے حوالے سے ان کے کردار کا مطالعہ کیا گیا ہے جو قاتلان حسین سے انتقام کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔’’ انھوں نے ایک عظیم الشان اور طاقتور سلطنت کو للکارا تھا اور چوری چھپے اپنے مقصد کی تکمیل نہیں کی تھی بلکہ میدان جنگ میں ایک ایک کو چُن چُن کر ختم کیا تھا۔اس لئے ان کے جذبئے بے جگری کو یک سر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کے اقدامات کی تہہ میں آلِ محمدؐ سے ان کی عقیدت مندی کو بہت آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے اور ان کے اس جذبہ ء عقیدت پر آسانی سے انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔‘‘اس باب میں وہ تمام حالات تحریر ہیں کہ کیسے مختار نے مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی ، کس طرح وہ لشکر جمع کرنے نکلے ،کس طرح حالات بدلنے کے بعد وہ ابنِ زیاد سے ملے اور کس طرح وہ قید خانے تک پہنچائے گئے۔ وہ قید خانے میں ہی تھے کہ واقعہء کربلا ہوا۔اس باب میں تحریر ہے کہ ’’دربارِ یزید کی تمام بے عزتیوں کو جھیلنے کے بعد مخدرات عصمت و طہارت کو قید خانہ میں پناہ ملی اور ایک سال بعد ان سب کو قید سے نجات ملی ‘‘ ۔اس کے ساتھ ہی یہ لوگ کیسے رہا ہوئے اور کربلا ہوتے مدینہ روانہ ہوئے اور کس طرح ان کے مدینہ پہنچنے پر مدینے میں’’ جو کہرام مچا کہ زمین و آسمان بھی رودیے ‘‘کا ذکر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ مدینہ میں نوحہ و ماتم کا سلسلہ پندرہ شبانہ روز تک رہا ۔ایک روایت میں ہے کہ اس دوران کسی کے گھر میں آگ نہیں سلگائی گئی ۔بنی ہاشم کی عورتوں نے لگ بھگ پانچ سال تک غم کا لباس نہیں اتارا اور اپنے سروں میں تیل نہیں ڈالا ،اپنی آنکھوں میں سُرمہ نہیں لگایا۔جب ۹ /ربیع الاول ۶۷ ہجری کو عبیداللہ بن زیاد اور عمر سعد کے سر مدینے پہنچے تو بنی ہاشم کی عورتوں نے لباسِ غم اتارا اور خوشیاں منائیں۔
اگلا باب ’’ مختار کی رہائی ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ’’وہ جس قید خانہ میں بند تھے اس میں داخلہ کے لئے چالیس پچاس سیڑھیاں اترنا پڑتا تھا۔مختار کو اس قید خانہ میں دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر اورزنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا ۔اس شدید اذیت کے باوجود مختار کو یقین تھا کہ وہ ایک دن قید سے ضرور چھوٹیں گے اور قاتلان حسین سے گن گن کر بدلا لیں گے۔‘‘اس مضمون میں مختار کی رہائی کے واقعات درج ہیں۔اگلا باب’’ مختار مکّہ میں‘‘ ہے ۔پھر اگلے باب میں ’’انتقام کی منصوبہ بندی ‘‘ کا ذکر ہے۔ دھیرے دھیرے یہ کتاب ایک ایک باب کے حوالے سے ان مناظر تک پہنچتی ہے جس کے بارے میں کتاب کا عنوان ہے۔ چھوٹے چھوٹے باب میں کافی مواد موجود ہے۔ جو پروانہ ؔ رُدولوی جیسے انسان ہی تحریر کر سکتے تھے جن کی تاریخ کے حوالوں پر غضب کی نظر رہتی تھی۔ اس کتاب کی تیاری میں انھوں نے بے شمار کتابوں سے مدد لی تھی جس کا تذکرہ وہ آغاز میں ہی کر چکے ہیں۔ایک باب ’’ اموی سلطنت کا زوال ‘‘ کے عنوان سے ہے ۔اس کے بعد کے حالات میں’’ نعرہ ء انتقام‘‘ اور اس کے بعد ’’کوفیوں کی بغاوت ‘‘،’’شمر بن ذی الجوشن کا فرار اور قتل‘‘ کا ذکر ہے۔ ابنِ زیاد کے ایک درباری شاعر ابو الخلیق پر بھی ایک عنوان ہے جو قاتلانِ حسین میں شامل تھا۔جس کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’’ اس کی گرفتاری ،صفائی اور قتل کے سلسلے میں تاریخ میں جو تفصیل دی گئی ہے وہ بہت دلچسپ ہے ۔اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور کے درباری شاعروں کا ذہنی ڈھانچہ ایک ہی ہوتا ہے۔‘‘ یہ جملہ بہت دلچسپ ہے۔ اسی باب میں ایک اور قاتل کا ذکر ہے کہ کیسے وہ عورتوں کے لباس میں فرار ہوا تھا اور اس کو اسی لباس میں الٹا لٹکا کر قتل کیا گیا۔ایک باب میں’’ حرملا بن کاہل اسدی کا قتل ‘‘کے بارے میں ہے۔ یہی ظالم تھا جس نے چھ مہینے کے پیاسے حسین کے بیٹے علی اصغر کو تیر مار کر قتل کیا تھا۔اس باب میں حرملا کے عبرت ناک انجام کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی کئی دیگر قاتلوں کا انجام بھی اسی باب میں ہے۔ کتاب میں اگلے ابواب میں’’ عمر بن سعد کی گرفتاری اور قتل ‘‘ اور ’’ قتل عبیداللہ ابن زیاد کی مہم ‘‘کا تذکرہ ہے ۔ایک باب ’’عبداللہ بن زیاد پھر بچ نکلا ‘‘کے عنوان سے بھی ہے۔ ساتھ ہی ’’ حصین بن نمیر میدان جنگ ‘‘میں کربلا کی جنگ کے خاص زمہ داروں میں سے ایک کا تذکرہ بھی ہے۔ایک باب مختار کے زوال کے عنوان سے ہے۔ ایک باب میں جو کہ’’ تتمّہ ‘‘ کے عنوان سے ہے اس میں انتقام کے واقعات پر غور و فکر کیا گیا ہے کہ کیا جو سلوک انتقام کے دوران کیا گیا وہ مناسب تھا۔اس کے علاوہ ایک باب’’ انتقام اور زینب کُبریٰ ‘‘کے عنوان سے ہے ۔یہ آخری باب ہے ۔اس میں ان کے یزید کے دربار میں دیے گئے خطبے کاذکر ہے ’’جس میں انھوں نے صاف طور پر یزید کی قسمت کا فیصلہ کردیا تھا ‘‘۔وہ لکھتے ہیں کہ’’ زینب نے اپنے خطبوں سے خون حسین کا انتقام لینے کے لیے انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ جماعتی طور پر بھی مسلمانوں کو متحرک بنادیااور ایک ایسی جماعت بھی کھڑی کردی جس نے تمام قاتلان حسین کو کیفر کردار تک پہنچادیا۔‘‘
الحاج پروانہؔ رُدولوی اپنی اس کتاب میں ایک تاریخ داں کی حیثیت سے ابھر سامنے کر آتے ہیں جو اسلامی تاریخ کے ایک ایسے واقعہ کے بعد کے حالات میں ان ظالموں کے عبرت ناک انجام کو ہم تک لاتے ہیں جنھوں نے کربلا کے میدان میں خدا کے رسول کے نواسے کو تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کردیا تھا ۔یہی نہیں انھوں نے ان کے افراد خانہ کو بھی نہیں بخشا اور قتل حسین کے بعد کربلا سے کوفے تک جو ظلم و ستم ہوئے وہ بھی اس قدر تھے کہ ان کا انجام تو یہی ہونا تھا۔ تاریخِ اسلام کے طالب علموں کے ساتھ ساتھ جو لوگ بھی تاریخ کا غیر جانبداری کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ کتاب واقعی کام کی ہے۔ مختصر سی کتاب میں تمام واقعات و حالات بہت سادہ سی زبان میں اس طرح رقم ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپ کے ذہن میں ثبت ہوجاتے ہیں اور آپ کو ظلم کے خلاف فکر انگیزی کا موقع عطا کرتے ہیں۔ پروانہؔ رُدولوی کا یہ اندازاب تک بہت کم لوگوں کے سامنے آ پایا ہے۔ اس لئے یہ کتاب اہمیت کی حامل ہے اور یقیناً ملک کے کئی کتب خانوں میں ضرور موجود ہوگی۔
(بشکریہ ہمارا سماج،دہلی)
16,JUNE, 2015, 5.30AM (مژگان نیوز نیٹ)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.