احوالِ صحافت‘: اردو صحافت کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا
ڈاکٹر ریحان انصاری
  
سہیل انجم لکھتے ہیں: ”صحافت کسی بھی واقعہ کو نشر کرنا یا دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس انداز میں پہنچانا ہے کہ اسے لوگ سمجھ سکیں“۔
اب صحافت کی اصطلاح ”میڈیا“ میں ضم ہو چکی ہے۔ لیکن صحافت کا عمل اور کینوس وسیع تر ہوا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا دونوں کی پیشکش میں صحافت کو ہی اعتبار حاصل ہے۔پرنٹ میڈیا بھی رنگدار ہوچکا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی انٹرنیٹ پر تعلیم یافتہ انسانی گروہ تحریری مواد کو فوقیت دیتا ہے۔صرف توثیقِ خبر کے لیے ویڈیو یا تصویری میڈیا کی جانب رجوع ہوتا ہے۔ ویسے تحریری و تصویری میڈیا بھی ایک دوسرے میں بالکل پیوست اور اب ایک ہی وجود سمجھے جاتے ہیں۔دنیا کی ہرزبان کے میڈیا نے ترقیہ کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اردو زبان بھی اس میں شامل ہے۔
اردو زبان برصغیر ہندوپاک میں زیادہ اور پوری دنیا میں بیشتر ممالک میں اب اپنا وجود اور ترویج رکھتی ہے۔ اس کا میڈیا بھی اپنے تنوع اور پیشکش کے لحاض سے معاصر زبانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔ اس کا ثبوت وہ اعدادوشمار ہیں جو اردو پرنٹ میڈیا کے تعلق سے رجسٹریشن آف نیوزپیپرس اِن انڈیا (RNI) کی سالانہ رپورٹ سے آشکارا ہے کہ ہندوستان میں اردو اخبارات تعداد کے لحاظ سے ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔یقینا ابھی اردو والوں کی نئی جنریشن کو اردو تعلق سے سنجیدہ نہیں دیکھا جا رہا ہے مگر جب ہم اپنی زبان کو باقی رکھنے میں دلچسپی لیں گے اور اردو کے اخبارات اور رسائل کو انٹرنیٹ پر یا گھر پر منگوا کر دیکھتے رہیں گے تو نئی جنریشن کو بھی ترغیب مل سکتی ہے۔ اسی عمل میں اپنی تہذیبی اور اخلاقی شناخت بھی پوشیدہ ہے۔ ’احوالِ صحافت‘ ایک ایسی کتاب ہے جس نے درجِ بالا تاثرات ہی نہیں ابھارے بلکہ ہماری برسوں کی تشنگی کی تسکین کا سامان ثابت ہوئی۔ سہیل انجم (دہلی) نے بظاہر ایک کتاب لکھی ہے مگر اصلاً یہ اردوصحافت کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس میں طلبائے صحافت کے ذہنوں میں اٹھنے والے بیشتر سوالات کا جواب اجمالاً موجود ہے۔ اس میں تاریخِ اردوصحافت، ہمارے چند اسلافِ صحافت کے مختصر حالات مع ان کی بیباک منتخبہ تحریروں کے نمونے اور تحریکیں، تحریکِ آزادی کی ابتدا سے آزادی تک حریت پسندی و جرا¿ت خیزی کے ساتھ انگریزوں سے مقابلہ آرائی، قربانیاں اور بیباکیاںمذکور ہیں۔ طلباءکے لیے صحافت کے رموزونکات کے ساتھ ہی دورِ جدید میں اردوصحافت کے تقاضے و رہنمائیاں، اردو صحافت کی کارپوریٹ سیکٹر سے رشتہ داری اور اس کے اثراتِ نیک و بد باب وار درج ہیں۔جو نتیجہ خیز ہی نہیں بلکہ کہیں باعثا ہمت ہیں تو کہیں باعثِ عبرت بھی ہیں۔میڈیا کا معاشرہ سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ اور یہ میڈیا ہماری مشترکہ ہندوستانی تہذیب پر کس کس انداز سے اثرانداز ہوتا ہے اس کا بھی بھرپور تجزیہ ہے۔
سہیل انجم چاہتے تو دوسرے اردو صحافیوں کی مانند خبریں لکھ پڑھ کر، مضامین سپردِقلم کرنے اور چھپانے کے کام کرکے اور دوسرے حربے استعمال کرکے مست رہ سکتے تھے لیکن سہیل انجم نے اس کتاب کو تحریر کرکے سچ پوچھیے تو اردو والوں کے سر سے ایک قرض اتارا ہے۔آپ نے اس سے قبل بھی کئی تلخ و شیریں کتابیں صحافت کے موضوع پر دی ہیںجن کی پذیرائی ہمارے دور کے اکابرین کر چکے ہیں۔
’احوالِ صحافت‘ مبتدیانِ صحافت کے لیے ورق ورق رہنما اور ایک دستاویز ہے تو مشّاقان و مشتاقانِ اردو صحافت کے لیے ایک ریمائنڈر اور ریفریشر کی حیثیت رکھتی ہے۔
سہیل انجم ایک ایسے صحافی ہیں جن کی نظروں سے عصری حسیت یا تقاضوں سے متعلق کوئی موضوع چھپ نہیں پاتا اور فوراً ان کا خامہ سبک روی سے چلنے لگتا ہے۔ ادب و فنون، مذہب و جنون، معاشرت و سماج، سیاسیاتِ ملکی و بین الاقوامی، پیشہ و مالیات،شخصیات و سفریات وغیرہ ہمہ قسم کے موضوعات ان کے قلم کی روشنائی مستعار لے کر مرقوم ہوچکے ہیں۔مگر یہ خیال نہ لائیں کہ وہ کافی سن رسیدہ ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندہ ہیں اور ان کے اساتذہ ان پر فخر کرتے ہیں۔انھوں نے اپنے قلم پر کسی بھی مصلحت کا دباو¿ کبھی قبول نہیں کیا اور اپنے محسوسات و مشاہدات کو من و عن لکھا ہے۔ یوں بھی ان کی شخصیت کے ظاہر و باطن سے شرافت و نجابت پھوٹتی رہتی ہے۔ نہایت خوش خصال اور محبت لٹانے والے آدمی ہیں۔ ان کا خلوص دیکھ کر بے ساختہ یہ مصرعہ یاد آتا ہے کہ ”اتنے مخلص بھی نہ بن جاو¿ کہ پچھتانا پڑے“۔
زبان کے معاملے میں بھی بیحد شستہ، بامحاورہ، سلیس و رواں اردو لکھتے ہیں۔ اور انھیں یہ دستاویز ہم نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک معتبر ترین ہستی پروفیسر عبدالحق صاحب دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: ”ان کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ادبیت ہے، اسلوبِ تحریر بہت جان لیوا ہے اور اندازِ تحریر دامنِ دل کو کھینچتا ہے۔ سہیل انجم نئی نسل کے صحافیوں میں ایک امتیاز رکھتے ہیں، ان کے خبر و نظر میں موجود واقعہ کی منصفانہ تعبیر ہمیں متاثر کرتی ہے، اردوصحافت کے ماضی و حال پر ان کی بصیرت افروز نظر ہے، وہ تحریر و قلم کی حرمت کا حتی المقدور پاس رکھتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی مجھے عزیز ہیں کہ ان کی تحریریں شگفتگی سے خالی نہیں ہوتیں۔ ادب و انشا سے ہم آمیزی صحافت کے جوہر آشکار کرتی ہے اور دلنوازی بھی بخشتی ہے۔ ان سے بہت توقعات ہیں“۔ ’احوالِ صحافت‘ کے ساتھ سہیل انجم ایک درجن کتابوں کے مصنف ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کا موضوع صحافت ہی ہے۔ اس کثیرالتصنیفی عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے باخبر، باریک بین اور دوربین صحافی ہیں۔سہیل انجم ایک کثیرالمطالعہ اور میدانِ عمل کی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ’احوالِ صحافت‘ موصول ہونے کے بعد ہمیں لگا کہ اسے سرسری طور سے پڑھ لیں گے مگر افسوس کہ ہمیں اپنے ارادہ میں ناکامی ہوئی۔ اس کے ایک ایک صفحہ کو ٹھہرٹھہر کر پڑھنا ہوا اور انجام کار ’احوالِ صحافت‘ کو پڑھ کر ہم تو سہیل انجم کے پرستار ہوگئے۔ ذیل میں ان کی کاٹ دار اور تجزیہ نگار تحریر کے چند نمونے ملاحظہ کریں:
١) اردو صحافت میں کارپوریٹ سیکٹر والے مضمون میں لکھتے ہیں، ”یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اردو صحافت کی جانب محبت پاش نظروں سے اچانک کیوں دیکھنے لگے جن کا کردار اردوزبان کے حوالے سے واضح نہیں رہا ہے یا جن کو اس لٹی پٹی زبان سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن کا جائزہلینے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ کارپوریٹ یا تجارتی ادارے کسی بھی معاملہ میں اس وقت تک ہاتھ نہیں ڈالتے جب تک انھیں اس سے کسی قسم کے مالی فائدے کی امید نہ ہو“ اس مضمون کا اختتام بھی بہت خوب کیا ہے کہ ”جس کو ان اداروں سے نکلنے والے اخبار پسند ہوں گے وہ ان میں دلچسپی لے گا۔ فی الحال اس اندیشے میں بھی کوئی دم نظر نہیں آرہا کہ ان اخباروں سے مسلمانوں کا عقیدہ خراب ہوجائے گا اور ان کے ایمان پر تلوار لٹک جائے گی۔ مسلمانوں کا عقیدہ اتنا کمزور اور ان کا ایمان اتنا متزلزل نہیں ہے کہ چند اخبارات ان کو بگاڑ سکیں۔ ہمیں ہر اس تبدیلی کا خیرمقدم کرنا چاہیے جس کے دامن میں اثبات کے امکانات زیادہ ہوں اور نفی کے کم“۔
٢) ’ہمعصر اردو صحافت کے تقاضے‘ میں آپ ان سطور سے ابتدا کرتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ زندہ زبانیں روزگار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جذبہ کی بنیاد پر باقی رہتی ہیں اور ان کی شریانوں میں اقتصادیات و معاشیات کے لہو کے بجائے جوش اور جنون حرارت بن کر گردش کرتے ہیں۔ یہ موضوع الگ بحث کا متقاضی ہے کہ اگر زبان روزگار فراہم نہ کرسکے تو کیا ہم اس سے اپنا ناطہ توڑ لیں اور اسے اپنی زندگی کے شب و روز سے خارج کردیں؟“
٣) فیچر اور مضمون کا موازنہ کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: کوئی ضروری نہیں کہ جو شخص اچھا مدیر، اچھا مضمون نگار اور اچھا صحافی ہو وہ اچھا فیچر نویس بھی ہو۔ کوئی بھی مضمون جہاں سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے وہیں فیچر کے لیے دلچسپ اور پُرلطف پیرایہ¿ بیان ضروری ہے۔ مضمون کی عمارت جہاں ٹھوس حقائق کی بنیاد پر تعمیر کی جاتی ہے وہیں فیچر کی تعمیر مشاہدے اور وجدان کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مضمون جہاں معلوماتی ادب کا نمائندہ ہوتا ہے وہیں فیچر تفریحی ادب کا علمبردار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تفریحی ادب بھی اردو ادب کے خزانے کا ایک گراں قدر حصہ ہے، اس لیے فیچر کو تفریحی ادب کہہ کر نہ تو نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت کم کی جاسکتی ہے۔“
’احوالِ صحافت‘ پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والے اسے براہِ راست سہیل انجم سے حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب کی قیمت دو سو(200) روپے ہے آپ سے رابطہ درج ذیل پتوں پر ہوگا:
Suhel Anjum
370/6A, Zakir Nagar, New Delhi, 110025
M#: 9582078862 / 9818195929
email: sanjumdelhi@gmail.com
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.