کتاب عرض ہے
اودھ میں اردو مرثیہ
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
قول تو ہے کہ نماز بخشوانے گئے تھے اور روزے گلے پڑ گئے مگر ہمارے ساتھ کچھ اس سے جدا ہوا۔ہم نماز پڑھنے گئے تھے اور ہمیں ڈاکٹر ریاض الہاشم اپنی کتاب ’اودھ میں اردو مرثیہ ‘ کے ساتھ مل گئے۔ کتاب بھی ایسی ویسی نہیں، انہوں نے عنوان کے ساتھ لکھ بھی دیا ہے کہ یہ آغاز سے عہدِ حاضر تک کا معاملہ ہے۔ ا س میں ہماری رُدولی سے سید جعفر مہدی رزم رُدولوی کا ذکر بھی ہے ۔یقین مانئے جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد 508 صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کو لے کر ایک میٹرو سے دوسری میٹرو میں گھومنا اور اس کے بعد جہاں جانا وہاں اس کتاب کی مفت میں تشہیر کرنا بہت ہی بھاری بھرکم عمل تھا۔وہ بھی ایسی کتاب جس کے سر ورق پر میر انیس ،واجد علی شاہ اور جوش صاحب کے علاوہ دو اور ایسی شخصیتوں کی تصویر یںموجود ہوں جن کو آپ نہیں پہچان پا رہے ہوں،لیکن جو اپنے اپنے سے اور پہچانے پہچانے سے لگ رہے ہوں۔ دل میں ایک لہر سی اٹھی تھی تبھی کہ کاش ان شعراکا نام بھی ان کی تصویر وںکے گولوں کے نیچے داغ دیاجاتا تو ہمارے بعد کی نسلوں کو ہماری طرح اپنی یادوں پر گرد جم جانے کا احساس نہ ہوتا۔لیکن ان تصویروں کو پہچاننے کی کاوش میں وقت گزارنانہایت آسان ساہو گیا تھا۔
دو سو ساٹھ روپئے کی قیمت والی یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ ِ اردو زبان کے مالی تعاون سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس نے شائع کرنے کی محنت کی ہے ۔انتساب کے بعد کے صفحہ پر سیّد نصیر رضا کا ایک بند ہے جس میں مرثیہ کوشدتِ ،عظمتِ ،شوکتِ،ندرتِ افکار کا ’بہتا‘دریا کہا گیا ہے۔بات یہیں تمام نہیں ہوئی ہے بلکہ مرثیہ کو نظم کی سبھی اصناف یعنی مثنوی،قصیدہ ،رباعی اور غزل میں سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ اس کے حق میں ہیں اپنے ہاتھ کھڑے کر سکتے ہیں ۔جو لوگ نہیں ہیں وہ بھی اس کتاب کو پڑھ کر اپنے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
کتاب کے چھ باب ہیں ۔پہلا باب ،دبستان اودھ ایک تعارف ،چار حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ سیاسی ،سماجی ،تہذیبی صورتِ حال اور چوتھا حصّہ، اودھ میں عزاداری کے فروغ کے لئے سازگار ماحول۔ دوسرا باب ،اودھ میں اردو مرثیے کا تشکیلی دور تین ذیلی باب میں منقسم ہے۔ جس میں اودھ میں مرثیے کی ابتدا ئ، اودھ کے ا بتدائی مرثیے اور اہم مرثیہ نگاروں کی تخلیقات کا فنّی تجزیہ ۔اس میں محمد رفیع سودا ،میر تقی میر،مہربان،جرئا ت،مصحفی ،ضاحک،میرشیر علی افسوس ،سکندر، حیدری،گدا،احسان،ناظم،مقبلکے مراثی کا جائزہ ہے۔ ادب کے طالب علموں اور خاص طور سے مرثیہ پر کام کرنے والوں کے لئے یقینی طور پر کوزے میں سمندر سمو دیا گیا ہے ۔یہی نہیں مجلس و ماتم برپا کرنے والوں کے لئے بھی یہ کسی خزانے سے کم نہیں ہے۔اس میں بے شمار ایسے مرثیے ہیں جو ہم برس ہا برس سے اپنی مجلسوں میں اور محرم کے سوگوار شب و روز میں سینہ بہ سینہ پڑھتے چلے آرہے تھے مگر اب جا کر معلوم چل رہا ہے کہ یہ کن صاحب کی تخلیقی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
تیسرے باب میںخلیق،فصیح،ضمیراور دلگیر کے حوالے سے اودھ میں اردو مرثیے کے دوسرے دور پر گفتگو کی گئی ہے۔اس میں ان کے حالات زندگی اور کلام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
کتاب کا چوتھا باب مرثیے کے طالب علموں کے لئے نہایت اہم ہو جاتا ہے۔اودھ میں مرثیے کا عبوری دور کے عنوان سے اس باب کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے میں تعارف :دوسرے اور عبوری دورکے فرق کے ضمن میں میر انیس ،مونس،نفیس،وحید،عروج، سلیس،عارف،فائق اور قدیم کی مرثیہ نگاری کی خصوصیت کا ذکر ہے۔ وہیںدوسرے حصّہ میں دبیر،اوج،مونس،انس،عشق، تعشق،مئودب، رشید،حمید،جدیداور شدید کی مرثیہ نگاری اور ان کے مرثیوں کا خصوصی بیان ہے۔پانچواں باب اودھ کے مرثیوں میں رزمیہ عناصر پر مبنی ہے۔ادب میں جدید مرثیے کی صورتِ حال چھٹا باب ہے ۔جس میں مصنف کے مطابق بیسویں صدی کے مرثیہ گو شعرا کے کلام آتے ہیں۔لیکن یہاں تک پہنچتے پہنچتے کتاب اتنی پھیل چکی ہوتی ہے کہ ان پر سرسری نگاہ ہی ڈالی جا سکتی ہے لیکن اس کے باوجود اہم شعرا کا کلام یہاں موجود ہے۔پوری کتاب میں جہاں بھی مراثی کے اقتسابات دئے گئے ہیں ان کا فنّی اور تخلیقی تجزیہ بھی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہی خصوصیت ادب کے طالب علموں کے لئے بہت کام کی ہے۔
ڈاکٹر ریاض الہاشم پراس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں کئی حضرات نے عنایتیں کی ہیں۔ کچھ تو عدیم الفرصت ہونے کے باوجود ہدایت کے لئے ہمیشہ موجود (سر پر سوار) رہے ہیں۔ان قابل حضرات کی عنایتوں کے بغیر یہ کتاب منظر عام پر نہیں آسکتی تھی۔ ان میں تقریباً گیارہ پروفیسر صاحبان ہیں،چند ایک ڈاکٹر صاحبان بھی ہیں،ایک دو ماسٹر صاحب ہیں ،کچھ انجینئر بھی ہیں،دوست بھی ہیں ،ڈپٹی ایس پی بھی اورآر پی ایف کے کمشنر کا بھی تعاون رہا ہے۔ اپنے بھائیوںکا شکریہ بھی ہے۔ اس کتاب میں یو این این کے بانی اصغر علی انصاری مرحوم جو ریاض الہاشم کے برادر نسبتی تھے، کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ وہ واقعی بہت مہربان اور اچھے انسان تھے جنہوں نے اس خود غرض جہان میںزیادہ دن زندگی بسر کرنا گوارا نہیں کیا۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
کتاب میں ’حوالے‘ کے عنوان کے تحت شارف رُدولوی اور شارب رُدولوی ،یہ دو نام کتابوںکے حوالے سے کئی بار آئے ہیں۔جہاں تک شارب رُدولوی صاحب کی بات ہے ان سے تو ہم رُدولی والے تک’ بھلی بھانتی پریچت‘ ہیں لیکن اس بار رُدولی جانا ہوا تو ان شارف رُدولوی کی تلاش ضرور کریں گے جو خاموشی سے مرثیوں پر اتنا لکھ چکے ہیں کہ’ حوالے ‘ میں شامل ہوتے چلے گئے مگر ہم رُدولی والوں تک کو ہی اس کی خبر نہیں ہو پائی۔کہیں یہ کاتب کی خطا تو نہیں ہے جسے ہم کاتب ِتخلیق کا لکھا سمجھ رہے ہیں۔
یہ کتاب مراثی کے حوالے سے واقعی ایک بیش بہا خزانہ کہی جا سکتی ہے۔ مرثیے کی ہیئت،اسلوب ،موضوع اور دیگر اجزائے ترکیبی کے مطابق بھی اس میں کارآمدبحث موجود ہے۔ہر قسم کے مرثیوں پر گفتگو بھی کی گئی ہے۔ اس میں نہ صرف اودھ میں اردو مرثیے کاتذکرہ ہے بلکہ اگر ہم کہیں کہ مرثیہ نگاری کا مرکز ہی انیس اور دبیر کے حوالے سے کبھی اودھ ہی تھا اس لحاظ سے اس کتاب میں اردو ادب میں مرثیہ نگاری پر کافی تحقیق آمیز مواد پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ مصنف نے لگتا ہے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اس کتاب کو آپ تک پہنچایا ہے کیونکہ اس میں اودھ کی تاریخ کے علاوہ اودھ میں مرثیے کی ارتقا کے دور کا بھی بھر پور تجزیہ کیا گیا ہے۔یہی نہیں اگر آپ ادب کے طالب علم نہیں بھی ہیں تب بھی اگر آپ مرثیوں کو پڑھنا چاہیں تب بھی آپ کے مطابق منتخب کلام اس میںپڑھنے کو مل سکتا ہے۔
ہمیں یاد آیا کہ ہمارے مرحوم والد محترم پروانہ رُدولوی صاحب نے کبھی واقعاتِ کربلا کو مثنوی کے انداز میں ’شاہنامہ ءکربلا ‘ کے عنوان سے ایک کتاب میں سمو دیا تھا ۔اُن کا تعلق بھی اودھ سے ہی تھا۔ ایک زمانے میں اس کتاب کی کافی دھوم تھی۔جسے ہما اور ہدیٰ کے ادارے سے کئی بار شائع کیا گیا۔رُدولی میں ہی سید محفوظ الحسن رضوی جنہوں نے رام چرت مانس پر تحقیق کی تھی اور جو ہندی والوں کے لئے ایک معتبر شخصیت تھے اور’ پُنڈریک‘ کے قلمی نام سے ہندی ادب میں عزت پاتے تھے۔انہیں اکثر مجلسوں میں ان کے لکھے ہندی مرثیے پڑھتے بھی ہم نے دیکھا ہے۔ رُدولی کے ہی سیّد عزیز الحسن رضوی آصف رُدولوی نے بھی بہترین مرثیے لکھے ہیں۔ ممکن ہے کچھ زیادہ کی تلاش میں کچھ لوگ رہ بھی گئے ہوں۔
یہ اچھی بات ہے کہ ہر کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی گنجائش ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ یہ کتاب تو یوں بھی صرف پانچ سو عدد ہی شائع ہوئی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دوسرے ایڈیشن میں جو یقینی طور پر جلد ہی آئے گا کیونکہ اس کتاب کی نوعیت دیکھ کر تو لگتا ہے کہ یہ زیادہ تر جن جن یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اردو زبان کی تعلیم و ترویج عام ہے خریدوالی جائے گی۔ رہی سہی کثر اردو کی لائبریریاں اور اکیڈمیاں پوری کر ہی دیں گی۔قیمت کم ہی ہے ۔طالب علم بھی ایک آدھ فلم یا دیگر عیب زدہ شوق کی قربانی دے کراس کتاب سے اپنا کتُب خانہ آباد کر سکتے ہیں۔جہاں تک ہماری بات ہے تو سچ بتائیں جیسا کہ ہم نے آغاز میں ہی کہا ہے کہ ہمیں تو یہ کتاب مفت میں ملی تھی ۔اس لئے یہ سب لکھنا فرض ہے ، لیجئے کتاب عرض ہے۔۔!!!
(بشکریہ ہمارا سماج،دہلی)
*********
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.