کتاب عرض ہے
ھو بہ ہو پروانہ رُدولوی
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
”باپ رے باپ “۔ جب یہ کتاب ہمارے ہاتھ میں آئی تو ہمارے منہ سے یہی جملہ نکلا۔ اس لئے کہ یہ کتاب زبان و بیان کے معاملے میں منفرد اور بلندمقام رکھنے والے قلم کے دھنی پروانہ رُدولوی کے قلم کا جادو ہے۔ دوسری طرف اپنے باپ کے لکھے کوپڑھ کر یہ اندازہ ہو ہی جاتا ہے کہ ہر مصنف کا بھی ایک باپ ہوتا ہے ۔ہمیں یہ کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہو ہی گیا کہ لکھنے میں بھی ہمارے باپ ابّا ہی ہیںجوہم سے کہیں لاکھ درجہ بہتر لکھا کرتے تھے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان کی تحریریں آج بھی ہمیں راہ دکھاتی ہیں مگر ان کی کتاب کو عرض کرنا ہمارے لئے ڈان کو پکڑنے سے زیادہ مشکل ہی نہیں ناممکن لگ رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اردو نے ان کو اتنا نہیں دیا جتنا انھوں نے اردو کو دیا۔اس لئے ان کے اور ہمارے درمیان مدتوں ایک ایسی خلیج موجود رہی جس میں ہم پانی نشیب میں گرتا ہے کی تصویر بن کر اردو کی طرف پلٹی مارتے تھے اور وہ دنیاکی رفتار سے رفتار ملانے کے لئے ہمیں انجینئرہی بنائے رکھنا چاہتے تھے۔ آخر میں جیت ہماری باغیانہ بے حیائیوں کی ہی ہوئی لیکن ان کو بھی صبر آ ہی گیا کہ یہ جہاں کا خمیر ہے وہیں کی خاک ہوگا۔اس سے پہلے وہ نہ جانے کتنے شاگردوں کو اس بھٹّی میں تپا چکے تھے۔ہم تک آتے آتے بادل تشنہ لب ہو گیا تھا مگر پھر کہتے ہیں کہ مچھلی کے بچے کو کون تیراکی کا درس دیتاہے۔ اسی کو سامنے رکھتے ہوئے ہو بہ ہوپروانہردولوی آپ کی خدمت میں عرض ہے۔
ایک صحافی جب لکھتا ہے تو پھر وہ دوست اوردشمن کی قید سے آزاد ہوکر لکھتا ہے۔ یہی سچے صحافی کی پہچان ہے۔ پروانہ رُدولوی نے اپنی کتاب ’ ہو بہ ہو‘ میں کئی شخصیات کے خاکے تحریر کئے ہیں۔ مخمور سعیدی اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں : ”۔۔۔ کسی شخص کا جو عکس خاکہ نگار کے ذہن میں ہے،اس نے وہ ہو بہ ہو پیش کردیا ہے۔۔۔۔۔۔جن اشخاص کے یہ خاکے ہیں،ان میں سے کچھ،یا مجھ سمیت بھی، ان کے بعض بیانات سے شاید زیادہ خوش نہ ہوں۔لیکن یہ نا خوشی بے جا ہوگی۔“
دراصل مخمور صاحب کے بارے میں ان کے خاکے میں پروانہ صاحب نے ان کی شاعری کے بارے میں کوئی ایسا جملہ کہا ہے جس پر بعد میں اخبارات میں خط و کتابت چلی تھی۔ہم نے مخمور صاحب سے ڈی ڈی اردو کے ایک انٹرویو کے دوران اس بارے میں پوچھا تھا تو انھوں نے کہا کہ دراصل پروانہ صاحب شانت جھیل میں پتھر پھینک کر ہلچل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے یہ سبھی خاکے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں کہ ان میں زیادہ تر لوگ پروانہرُدولوی کے ساتھ کے لوگ ہیں ۔ خاکوں میں انھوں نے جیسا دیکھا ویسا لکھ دیا ہے۔ ان میں سے ایک آدھ توایسے تنگ نظر صاحب نکلے تھے کہ انھوں نے جب رُدولی کے ادبی منظر نامہ پر ایک بڑے پروفیسر صاحب سے مضمون لکھوایا تو اس میں سے پروانہ رُدولوی صاحب کا نام ہی غائب کروادیا۔یہ پروفیسر صاحب بھی ایسا کرکے خوش ہی ہوئے ہوں گے مگر انھیں اس بات کا احساس نہیں رہا ہوگا کہ جب آنے والی نسلیں ان کی تحریر کو پڑھیں گی تو ان کی شخصیت کا یہ رُخ دیکھ کر انھیں اوئی اللہ نہیں سمجھیںگی۔
ہو بہ ہو میں احمد جمال پاشا،اقبال عمر،امیر قزلباش،چندر بھان خیال، حسن نجمی سکندر پوری،حیات لکھنوی،خان عزمی رُدولوی،زبیر رضوی،شریف الحسن نقوی،عزیز وارثی،فاروق ارگلی،کمار پاشی،گوپال متّل،مجتبیٰ حسین ،محسن زیدی،مخمور سعیدی ،معین اعجازاور ہیم وتی نندن بہوگنا پر لکھے خاکوں میں یہ شخصیات ہو بہ ہو جیسی تھیں ویسی نظر آتی ہیں۔یہی ہو بہ ہو کی کامیابی ہے۔چند لوگوں کے خاکوں میں سے دو چار سطریں چُرا کر ہم یہاں تحریر کرنے کی ہمت کر رہے ہیںجس سے آپ کوبھی ہو بہ ہو کا اندازہ ہو چلے مگر کسی شخصیت کو ہو بہ ہو سمجھنے کے لئے تو ہو بہ ہو کاپورا مطالعہ ضروری ہے۔
امیر قزلباش
”۔۔۔۔ صرف ماہرین نفسیات ہی نہیں بلکہ امیر قزلباش سے دو چار ملاقاتوں کے بعد ہر شخص یہ محسوس کر سکتا ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی خلا ہے جس کو پُر کرنے کی کوشش میں وہ ناکام ہیں،ان کی یہ ناکامی ایک کرب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اور ان کا یہ کرب ان کی شاعری کی شناخت بن چکا ہے۔۔۔۔۔۔“
چندر بھان خیال
” ۔۔۔۔۔۔میں نے ان کے مجموعہ کلام میں جتنے بھوت پریت اور سانپ پکڑے تھے ان کی تعداد اب مجھے یاد نہیں رہ گئی مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ جب میں نے یہ تعداد چندر بھان خیال کو بتائی تو ان کا ردّ عمل ایک شریف آدمی کا ردّ عمل تھا۔وہ بڑی معصومیت سے ہنس دیئے اور بات آئی گئی ہوگئی۔لیکن ان کی ہنسی میرے دل میں گھر کر گئی۔۔۔“
حیات لکھنوی
”۔۔۔۔۔۔پہلی نظر میں بالکل پہلوان لگتے ہیں۔لیکن ان سے گفتگو کیجئے تو ایسا لگتا ہے کہ گویا دبستان کھُل گیا۔لکھنوی تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ دیکھنا ہو تو ان کو دیکھ لیجئے ۔نہایت نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہیں،بے تکلف دوستوں سے بھی عامیانہ انداز میں نہیں ملتے۔تقدیم و تاخیر کا ہمیشہ لحاظ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے شعبے کے ہر شخص کو آداب و تسلیمات کے کھٹمل نے کاٹ لیا ہے۔ ۔۔“
زبیر رضوی
”۔۔۔میرا تاثر یہ ہے کہ زبیر رضوی نے مشاعروں کو تعمیری رُخ دیا۔۔۔۔۔۔میں نے ہمیشہ اس بات کو محسوس کیا کہ زبیر رضوی کو بہتر سے بہتر کی تلاش رہتی ہے۔لیکن انہوں نے اس تلاش میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے قناعت پسندی کبھی ترک نہیں کی نہ ہی کسی کی جوتیاں سیدھی کیں بلکہ اپنے اندر صلاحیتیں پیدا کیںاور مقابلہ کرکے آگے بڑھے نہ کہ سفارشات کی سیڑھیاں استعمال کر کے۔۔۔۔۔۔“
شریف الحسن نقوی
”۔۔۔۔دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو نکتہ چینی کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لے۔اس لئے شریف الحسن نقوی سے کبھی یہ توقع نہیں رہی کہ وہ میری تنقیدی تحریروں کو بھول جائیں گے۔مگر مجھے ہمیشہ اس بات کا دُکھ رہا ہے کہ اردو اکادمی پر میری تنقید کو وہ اپنے خلاف تنقید سمجھتے تھے۔جبکہ یہ بات بالکل خلافِ واقعہ تھی۔میری ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ شریف الحسن نقوی نہایت نیک نفس، شریف الطبع اور اعلیٰ انتظامی صلاحیت رکھنے والے انسان ہیں اور شائد اِن صفات کا حامل کوئی اور سیکریٹری اردو اکادمی کو عرصہ تک نہ مل سکے گا۔۔۔۔۔۔“
فاروق ارگلی
”۔۔۔دہلی میں میری نظر میں ایسا کوئی اور اردو کا قلم کار نہیں ہے جس نے فاروق ارگلی جیسی محنت کی ہو اور تہنیتی کارڈ وںسے لے کر تاریخِ اسلام تک کا مصنف رہا ہو۔۔۔۔۔انہوں نے مذہب،اخلاقیات،سماجیات، سیاسیات،ادبیات،فلمیات الغرض ہر موضوع پر اتنا کچھ لکھا ہے کہ اب خود ان کے لئے اپنی تحریروں کاشمار ممکن نہیں رہ گیا ہے۔۔۔۔“
کمار پاشی
”۔۔۔۔اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی آدمی دنیا کی تمام خصوصیات رکھتا ہے مگر انسان نہیں ہے تو وہ کمار پاشی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔ اس لئے اچانک میرے دل میں کمار پاشی کی قدرو منزلت بھی کم ہو گئی میں نے ان کے ہاں آنا جانا بند کردیااور ایک چھوٹا سا نوحہ بھی کہہ ڈالا۔۔۔۔“
گوپال متّل
”۔۔۔۔۔۔گوپال متّل کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔مطالعہ کی اس وسعت ہی کے بل پر انہوں نے اکثر اپنے مخالفوں کو چت کیا ہے۔بلکہ چاروں شانے چت کیا ہے۔انہوں نے نئے شاعروں اور ادیبوں کی ایک پوری نسل کی تربیت کی ہے۔آج کے بہت سے شاعروں،ادیبوں،افسانہ نگاروں،اور تنقید نگاروں کو ان کا مرہونِ منّت ہونا چاہیئے کہ وہ گوپال متّل اور تحریک ہی کے وسیلے سے پہلی بار ادبی دنیا سے متعارف ہوئے تھے۔۔۔“
مجتبیٰ حسین
”مجتبیٰ حسین ”سیلف میڈ مزاح نگار“ ہیں۔ان کی تخلیقات میں نہ کسی کی خوشہ چینی کا سراغ ملتا ہے نہ کسی کی پیروی کا نشان۔بلکہ خود اُن کا ساختہ اور پرداختہ ہے۔وہ خود اپنے شاگرد ہیں اور خود اپنے استاد۔اللہ میاں نے تو انہیں آدمی ہی بنایا تھا مگر مزاح نگار بن گئے۔۔۔“
محسن زیدی
” اُن کی اہلیہ رفیعہ نے میرے ابّا مرحوم سے کسبِ تعلیم کیا ہے اور آج بھی جب اپنے ماسٹر صاحب کا ذکر کرتی ہیں تو ان کی آنکھوں میں احترام کی چمک پیدا ہوجاتی ہے۔حالانکہ مجھے اپنے ابّا مرحوم سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ جس زرخیز دماغ سے انہوں نے ہم لوگوں کو محروم رکھا اگر اس کا تھوڑا سا حصّہ بھی ہم لوگوں پر صرف کر دیتے تو ہمیں اُن مصیبتوں سے نہ گزرنا پڑتا جن کی یاد ہی دل کو تڑپانے کے لئے کافی ہے۔ابّا مرحوم اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے اور ہمارے دادا کوئی معمولی انسان نہ تھے۔برسوں رنگون میں رہ چکے تھے۔رنگون سے آنے کے بعد ریاست مہونہ اور ریاست امیر پور کے مختارِ عام (اٹارنی جنرل) بھی رہے تھے۔کئی گائوں میں ان کی زمینداریاں اور پٹّے تھے۔ریاست جے پور تک ان کی مختاری کی دھوم تھی۔خوش حالی ان کے گھر کی باندی تھی۔پھر ابّا کو کیا ضرورت تھی کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر بے وطنی کی زندگی گذاریں۔۔۔۔“
مخمور سعیدی
”گوپال متّل نے جب تحریک کا آغاز کیاتو ان کی نظرِ انتخاب مخمور سعیدی پر پڑی اور مخمور سعیدی کو ان کا سایہءشفقت راس آگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہندوستان اور پاکستان کے معروف شاعر بن گئے۔ ” اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے“ کے اصول پر مخمور سعیدی نے سختی کے ساتھ عمل شروع کیا اور اس طرح ان کا حلقہءاحباب وسیع ہوتا گیا۔لیکن مخور سعیدی کو اس بات سے اتفاق نہیں ہے۔۔۔“
معین اعجاز
”میں کیا ان کا کوئی بھی دوست نہیں گھبراتا کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ ان کی ناراضگی صرف ان کے وسوسوں کا عکس ہوتی ہے۔یہ وسوسے ایک نہ ایک دن حقیقت سامنے آنے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی ناراضگی بھی دور ہو جاتی ہے۔۔۔۔میری اب بھی یہی رائے ہے کہ معین اعجاز کی تحریروں میں شگفتگی نہیں ہوتی اور یہی ان کی تحریروں کی انفرادیت ہے۔کسی مصنف یا شاعر کے لئے اپنی پہچان قائم کر لینا ایک بڑی بات ہے۔اور یہ بڑی بات معین اعجاز نے کر دکھائی ہے۔۔۔۔۔۔“
ہیم وتی نندن بہوگنا
”۔۔۔۔منظر علی سوختہ میری شکایت لے کر جواہر لال نہرو کے پاس بھی پہنچے اور انہوں نے ڈاکٹر سمپورنانند کی چیف منسٹری چھنوادی۔مجبوراً میں نے اپنا اخبار بند کردیا۔چونکہ میری زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی اس لئے میں نے کانپور کو خیر باد کہہ دیا اور بمبئی میں پناہ گزیں ہوا۔۔۔۔بہوگنا جی ایک شاطر سیاستداں تھے۔وہ مسلم مسائل میں کافی دخل رکھتے تھے۔ ایک بار نجی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ مسلمان کو مطمئن کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔میں نے کہا ” کیسے“ انہوں نے کہا ” ان کے تمام مطالبات تسلیم کر کے“۔
ہو بہ ہو کا مقصد کسی کو ناراض کرنا نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان شخصیات کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا ہے۔ ان میں بہت سی ایسی شخصیات ہیں کہ جن کے بارے میں آپ نے زیادہ نہ تو پڑھا ہوگا اور نہ سنا ہوگا لیکن اگر پروانہ رُدولوی ان کے بارے میںلکھتے ہیں تو یہ احساس ضروری ہوجاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ شخصیات پروانہ صاحب کی نظر میں اہمیت کی حامل رہی ہوں گی ۔کتا ب میں پروانہ صاحب کے بارے میں ان کی اہلیہ محترمہ اُمِّ حبیبہ کا مضمون بھی موجود ہے جس میں ہم کو پروانہ صاحب کے ایک ایسے انسانی رُخ کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے رہے ہوں گے۔کل ملا کر ہو بہ ہو ایک ایسی کتاب ہے جس میں اگر آپ اُن شخصیات کے رو بہ رو ہو پانے میں ناکام ہو بھی جائیں تب بھی پروانہ رُدولوی صاحب کی ایک ایسی تحریر کو روبرو ضرور پاتے ہیں جو رواں دواں ہے اور اب تک تو جاوداں ہے،آگے کا حال اللہ جانے۔ (بشکریہ ہمارا سماج)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.