کتاب عرض ہے
ریگستان میں جھیل ہے
نجمہ محمود کی
تبصرہ نگار : تحسین منور
  
  
دراصل ہمیں اس کتاب کو سب سے پہلے عرض کرنا چاہئے تھا لیکن اس کتاب کے ساتھ پروفیسر نجمہ محمود صاحبہ نے ہمیں ادبی تخلیقات کا مجموعہ ” جنگل کی آواز“ بھی بھیج دیا تھا۔ ہم جب جنگل کی آواز سننے بیٹھے تو پھر ہم اس میںہی الجھ کر رہ گئے۔ان کی کہانیوں اور مختصر ناول ” جنگل کی آواز“ میں اتنے اتار چڑھائو ہیں کہ آپ کو الجھن کا شکار بنادیتے ہیں۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ ہم نے جنگل کی آواز سے کنارا کیا اور خود کو ”ریگستان کی جھیل“ کے لائق بنانے میں لگ گئے۔ہم چاہتے تھے کہ ہم پروفیسر نجمہ محمود کے مجموعے پرلکھتے وقت ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں لکھیں ۔اس لئے ہمیں وقت درکار تھا تاکہ ہم ان سب باتوں کو بھلا سکیں جو اِدھر اُدھر سے ہم تک پہنچیں تھیں۔ کسی تخلیق کار کی ذاتی زندگی میں جھانکے بغیر اس کی تخلیق پر لکھنا اپنے آپ میں مشکل کام تو ہے مگرکبھی کبھی انصاف کاتقاضہ یہی ہوتا ہے۔اس لئے آج صرف ان کی شاعری کی ہی بات کی جائے تو بہتر ہے۔
مجموعے میں موجودان کی تصویر کا عنوان ’یہ جو کاغذ پہ ہے اتری میری تصویر کہاں‘ ہے ۔آپ قسم لے لیں ہمیں ان کی بات کا سو فیصد یقین ہے کیونکہ اس تصویر کو کئی بار مختلف زاویوں سے دیکھنے کے باوجود ہم اگر کبھی ان سے ملیں گے تو ہمیں نہیں لگتا کہ ہم اس تصویر کی وجہ سے انھیں پہچان پائیں گے۔حرف ِ اول کے طور پر سید حامد صاحب کا ٦١/ اپریل ٤٠٠٢ ءکا مضمون ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ٩٤١ صفحات کی اس کتاب کا سنِ اشاعت ٤١٠٢ءہے۔اسی طرح فلیپ میں موجود وحید اختر صاحب کے مضمون پر بھی ٨١ /جولائی ٢٨٩١ ءکی تاریخ ہے۔کتاب میںچند نظموں کے نیچے لکھے جانے کا سال درج ہے مگر زیادہ تر میں ایسا نہیں ہے۔ کتاب کے ناشر وژن پبلیکیشنز ،علی گڑھ ہیںاور اس کی قیمت دو سو روپئے ہے۔کتاب” اپنے بیٹے فریدوں(خسرو )کے نام ہے جس کے پیہم اصرار کی وجہ سے شاعری کا یہ مجموعہ منظر عام پر آیا “ ہے۔ فلیپ پروحید اختر صاحب کی تحریر کے مطابق” نجمہ کی رومانیت انھیں اس دورِ اولیںمیں لے جاتی ہے جب عالم میں صرف ایک مذہب تھااور اس کی ایک ہی دیوی تھی(دیوی ماں)جو محبت اور تخلیق ،جلال و جمال کا مظہر تھی۔نجمہ اس دیوی کو پھر وہ جگہ دلانا چاہتی ہیں جو مرد خدائوں (Male god)نے اس سے چھین لی ہے۔“
مدر گوڈیس کہاں ہو تم ؟
دور افق کے پاس ایستادہ
تمہارے پُر جلال اور حسین مجسمے پر پتھر برستے ہیں
اور تمہارے پرستاروں کی نگاہوں سے لہو ٹپکتا ہے
تمہاری پرستش پر پابندی لگ چکی ہے!!
نجمہ محمود نے ایک طویل پیش لفظ تحریر کیا ہے جو صفحہ چار سے شروع ہوکر صفحہ سترہ پر جاکر تھمتا ہے۔وہ آخری سطر میں نوٹ کے ذریعے کہتی بھی ہیں” یہ پیش لفظ کسی بندھے ٹکے اصولوں کا پابند نہیں۔اصل مقصد اسی تحریر کی اشاعت تھی۔“ یہ پیش لفظ کم بلکہ اپنی شاعری اور اپنا مقدمہ زیادہ معلوم دیتا ہے۔اسی پیش لفظ سے معلوم پڑتا ہے کہ ایم اے انگریز ی سال ِ اول کی طالبہ رہتے ہوئے برسات کے موسم کی دلکشی نے انھیں ایسا متاثر کیا کہ انھوں نے اپنے ہاسٹل کے کمرے میں لوٹ کر چند خیالات قلم بند کرلئے۔ پھر انھیںخیالات کی کو کھ سے نجمہ محمود کی پہلی نظم ”رازِ سر بستہ “ باہر نکلی ۔ فضا مسحور کُن کیوں ہے طبیعت میں جنوں کیوں ہے
کہ آخر کون سا پوشیدہ راز ان وسعتوں میں ہے
کہ بادل کیوں گرجتے ہیں کہ بجلی کیوں تڑپتی ہے
کہ جس کو زندگی کہتے ہیں وہ کیا چیز ہے آخر
میں اس انجان رستے پر پھرونگی کب تلک یونہی
میں ہر نقشِ قدم سے کب تلک آخر یہی پوچھوں
مجھے بس اتنا بتلادے کوئی میں کون ہوں کیا ہوں
یہ ان کا ہی کمال ہو سکتا ہے کہ انھوں نے اس خوبصورت نظم کو چالیس سال کے بعد ٧٠٠٢ ءمیں” شاعر“ میں شائع کروایا ۔کیونکہ وہ اس نظم کی تخلیق سے ہی وہ سکھ پاچکی تھیں کہ ان کو رازِ سر بستہ کو زمانے سے بانٹنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ دو چار جگہ پڑھا اور کام ہوگیا۔ان کی اس نظم کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ اگر ان کی زندگی کے بہت سے ماہ وسال جو کئی بار گُم سے نظر آتے ہیں وہ انھیں مل گئے ہوتے اور اپنے طور پر جینے کے لئے ملے ہوتے تو ان کا نام کئی سر فہرست خواتین ادیبوں میں شامل ہوتا۔ہم توخیر ان کے سامنے بچے ہی ہیں کہ جس دوران انھوں نے اپنی یہ نظم لکھی تھی ہم بھی اس دنیا میں آنے کی راہ کھوج رہے تھے لیکن مسلم یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران پڑھے لکھے لوگوں کو ان کا ادب سے نام لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ” انھوں نے قصداً خود پر ”شاعرہ“ ،”فکشن نگار“ ، ”نقاد“،اور ”نثر نگار“ کا ٹھپہ نہیں لگنے دیا اس لئے کہ وہ ہمہ جہت ادیب ہیں اور ہمہ جہتی یک جہتی سے بر تر ہے۔“
اس مجموعے میں موجود طویل و مختصر ٠٩ نظموں میں سے تقریباًچالیس کے عنوانات حسنِ فطرت کے آس پاس کے ہیں۔ان کی فکر میں یہ قدرتی مناظر اور فطرت سے ان کی دلچسپی اور ہم آہنگی کا مظہرہیں۔منظر بہت عجیب تھا،پونم کا چاند،رات اور طوفان،اے سمندر،بدلتے ہوئے موسموں کے رنگ،ندی،روح کی روشنی سے فضائیں معمور،آسمانوں کے بدلتے ہوئے،خشک پتوں کی موسیقی،فطرت کی سحر طرازیاں،خواب میں دیکھا ہوا منظر،سدا بہار درخت،رین اندھیاری،خزاں کا حسن،اس کی یاد کا سورج،ریگستان میں جھیل،شجر سایہ دار،پانی کی دیواریں،مدر گاڈیس،میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں،برف یوں ہی گرے،سرد سطحِ آب اور آتشیں تہ آب،برکھا میں بجلی،خشک آبشار،آنسوئوں کی ندی،باغِ عدن،نفرتوں کا بحرِ بے کراں،دھند اور ہالہ،نخلستان،گھنی چھائوں ،آفتابِ نو، ہزاروں کائناتوں کا مسکن، آسمانوں کو چھونے کی سعی،جوہر کی نمود،روشنی کی طرف،روشنیاں مگر تاریکی،شجر جو سایہ دار تھاخزاں رسیدہ ہوگیا،لہر اور سمندر، سمندرآسماں، وجود کے درخت کی ،شام،پانی مہکتا ہے،اندرونی آنکھ سے دیکھا ہوا منظر،نور کی آخری کرن جیسے عنوانات یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ نجمہ محمود کا فطرت سے رشتہ بہت گہرا اور مضبوط ہے۔
میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں
دھیمی دھیمی پھوار گرتی ہے
مجھ میں دریا ہیں موجزن ہر سو
لہریں اُٹھتی ہیں ڈوب جاتی ہیں
میرے اندر ہوائیں چلتی ہیں۔یہ نظم کا عنوان اپنے اندر ایک سطرمیں ہی مکمل نظم ہونے کا مادہ رکھتا ہے۔ یہ رومی کی بانسری سے بھی جا ملتا ہے۔ اور ہر دم کے دم سے بھی اس کا سلسلہ جُڑ جاتا ہے۔ پھر آدمی کے وجود کے اندر جو ہر طرح کے آندھی اور طوفان ہیں ،وہ ہوائیں تو اپنے آپ میں غضب کے احساس کا طلسم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کون دو گھڑی کے لئے رُک کر اپنے اندر کی ان ہوائوں کے روبرو ہونا چاہتا ہے۔جب کوئی خاتون اپنے اندر اٹھنے والی جذبات و احساسات کی ہوائوں کا ذکر کرے تو اس کے اتار چڑھائو کے بارے میں سوچ ہی لینا احساس کے جزیروں پر اتر جانے جیسا ہے۔ان کی نظم فن اور فنکار میں وہ ایک ایسے عہد کے ساتھ سامنے آتی ہیں کہ جہاں ظلمتوں میں روشنی کا چراغ جلانا وہ اپنی زمہ داری سمجھتی ہیں۔ یہ نظم ٦٦٩١ ءکی ہے جو کہ ان کے طالب علمی کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔
دل کے اندر یہ راز داری ہے
کوئی چپکے سے مجھ سے کہتا ہے
یہ چراغ اب تمہیں جلانا ہے
دہر کو روشنی دکھانا ہے
ایسا لگتا ہے کہ ذہنی طور پر زمانے سے زیادہ ان کے مقابل کوئی ایسی شخصیت رہی ہے جس نے ان کے معصوم سے دل کو سمجھنے میں بھول کر دی۔مگر ان کے دل کے نہاں خانے پر اس کی یادوں کی دستک کسی نہ کسی طور سے جاری رہی ہے۔
روح کے نہاں خانوں
ذہن کی گپھائوں میں
کون چھپ کے بیٹھا ہے ؟
درد کی لہر بن کر
کون اس سمندر میں
ڈوب کر ابھرتا ہے
اس نظم میں ایک موسیقی ریز آہنگ تو ہے ہی جو خود بخود ذہن پر اپنے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن اس میں احسا س کی ایسی شدت بھی ہے جوہر صبح کو اُگتے ہوئے سورج کے ساتھ یادوں کے جذیروں سے ٹکراتی ان لہروں کا پتہ دیتی ہے جن کا مقصد نا امیدی کی چٹانوں سے ٹکراکر بکھرنا بھر رہ گیا ہے ۔ اے صبا اگر تیرا
اس گلی میں جانا ہو
اس سے جاکے کہہ دینا
تیرا ہم نفس تجھ سے
بات کو ترستا ہے
اس سے یہ بھی کہہ دینا
اس کی یاد کا سورج
ہر صبح کو اُگتا ہے
یادوں کی گھُس پیٹھ سے نکلنے کے لئے انھوں نے اپنے ہمیشہ کے ساتھی قدرتی مناظر اور فطرت کی سحر انگیزیوں کا ہم سفر بننے کا لاشعوری فیصلہ کرلیا ہوگا جو ان کی تخلیقات میں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ان کی شاعری میں ،ان کی ہر بات میں ان کے انداز میں ان کے تصورات میں خیالات میں اور اپنی شاعری سے تعلقات میں بھی ایک طرح کی معصومیت سے جھلکتی ہے۔جیسے کوئی معصوم تتلی کے پر باندھ کر ہوا میں بکھرتے رنگوں کے ذریعے اپنے ہونے کا احساس کروانا چاہتا ہو۔ کہ کرسی اور طاقت کو
خدا سمجھا انھوں نے
کہ یہ معصومیت کے ساز کی موسیقی کیا سمجھیں
یا اسی طویل نظم’ پھرتا ہے فلک برسوں میں’ ایک جگہ وہ کتنی بڑی بات آسانی سے کہہ دیتی ہیں۔
اسے تبدیل کرنے ،اپنا ہی جیسا بنانے کی
ہر ایک کوشش بہت ناکام ہوئی ہے
کہ وہ اب بھی محبت کا وہی پیکر
اسے نفرت سے نفرت ہے
ان کی ہر بات میں ایسی معصومیت ہے کہ جس سے ایک ایسی شخصیت ہمارے سامنے نکھر کر آتی ہے جو زمانے کی سازشوں اور چالاکیوں سے انجان سی ہے۔ وہ اپنے آس پاس کے قدرتی مناظرمیں اس طرح کھوئی ہوئی ہے کہ اس کواپنے رنج و غم بھی زمانے کی دلکشی کا سامان سے نظر آتے ہیں۔ منظر بہت عجیب تھا ہم کھو کے رہ گئے
دوری پہ آبشار تھا ہم رو کے رہ گئے
’ریگستان میں جھیل ‘ نظم کو پڑھتے ہوئے کہ ان کے مجموعے کا جو عنوان بھی ٹھہری ہے یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ وہ ریگزاروں میں بھی پیاس کی تڑپ کے بیچ امید کی جھیلوں میں ڈوب جانا چاہتی ہیں۔ریگستان کی یہ جھیل امید کی قوسِ قزح ہے یا پھر ایک اور سُراب یہ وہ ہی جانیں جن کی زندگی غضب کی پیاس کے حوالے ہوتی ہے ۔یہ ریگستان کی جھیل ہی ان کی اپنی پہچان ہے۔
اچانک حیرتوں میں ڈوب کر ہم نے یہ دیکھا
اک بڑی جادو بھری سی جھیل ہے
جس میں کہ تا حدّ نظر
قوس ِ قُزح کے رنگ بکھرے ہیں
انھیں پڑھتے ہوئے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ جیسے ان پر خود کو ثابت کرنے کا بہت بڑا دبائو ہے۔ اس لئے کہیں کہیں وہ زمانے سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ وہ ادب میں ناقدری کا بھی شکار نظر آتی ہیں۔ اس کا انھیں احساس بھی شدت سے ہے۔ اس لئے پیش لفظ میں وہ لکھتی ہیں” کتابوں اور اعزازات و انعامات کی طویل فہرستیں فقط ایک ہی نام کے ساتھ دیکھ کر اپنی کم مائگی کا احساس کم ہوجاتا ہے ”۔
اسی میں آگے جاکر وہ ایک بہت پائے کی بات کہہ دیتی ہیں ۔” فالتو وقت اگر زبان و ادب کی ذاتی طور سے تدریس ،عزت نفس سے مزین ہونہار تخلیق کاروں کی تلاش ،ان کی اخلاقی تربیت ،گمشدہ تخلیق کاروں کی بازیافت پر صرف کیا جائے تو یہ کارنامہ ہوگا۔“ اگر یہ دنیا تمہاری ہوتی
تمہارے بازو قلم نہ ہوتے
تمہاری پرواز روکنے کی سعی نہ ہوتی
تمہاری منزل بھی جگمگاتی
ان کی زندگی کا گیارہ برس کا عرصہ انگریزی ادب کی تحقیق و تنقید کے حوالے سے اہم رہا ہے۔انھوں نے ورجینیا وولف کی تحریروں میں تصورِ انسانِ کامل کے موضوع پر تحقیق کی ہے جس پر انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی ہے۔ایسے میں ان کی تخلیقات میں انگریزی ادب و
شاعری کے اثرات جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ ورڈزورتھ ،شیلی،کیٹس،کولرج وغیرہ ذہنی طور پر ان کے ہم سفر محسوس ہوتے ہیں۔
تصور کی دنیا جو اتنی حسین نہ ہوتی
تو حقیقت کی تلخیوں نے
وجود کو چکنا چور کردیا ہوتا
ان کی شاعری میں رومانیت تو ہے مگر وہ کبھی کبھی محتاط انداز میں آگے بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔
روبرو تھے وہ ہمارے لیکن
ان سے اک بات نہ ہونے پائی
دل میں طوفان تھا تلاطم تھا
پھر بھی برسات نہ ہونے پائی
دل تو کرتا ہے ان کی ہر نظم کے ساتھ یہاں سلسلہ جوڑا جائے کہ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہیں مگر ہمارے کاغذ کا تو دامن بہت ہی تنگ ہے۔لیکن ہم چلتے چلتے یہ اعلان تو کر ہی سکتے ہیں کہ پروفیسر نجمہ محمود نے ریگستان میں جھیل کے لئے ذریعے ہمارے سامنے خود کولاکر یہ احساس تو کرا ہی دیا ہے کہ وقت، دل سے لکھی تحریروں کو کبھی مٹنے نہیں دیتا اور وہ کسی نہ کسی بہانے سے اپنے ہونے کے احساس کے ساتھ زمانے کے سامنے آن موجود ہوتی ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ یہ زمانہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتا ۔زمانے کی یہ سرد مہری انھیں ایک نئی زندگی کا مژدہ سناتی ہے۔ وہ نئے انداز سے اپنی کربلا سجاتے ہیں۔ ان کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے جہاں وہ اپنے سچ کے ساتھ اپنی صلیب اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں۔جب ایسا ہوتا ہے تو کانٹوں میں گلاب کھلتے ہیں، اندھیرے میں سورج اگتے ہیں اور ریگستان میں جھیل بن جاتی ہے۔
قلم کر دو ہمارے بازوئوں کو
ہمارے ہاتھ میں اک زہر کا پیالہ تھمادو
کہ ہم سقراط کی مانند
میرا اور حبّہ کی طرح
سچ کے امیں ہیں
(بہ شکریہ ہمارا سماج دہلی)
Copyright © 2014-15 www.misgan.org. All Rights Reserved.