”مولانا محمد عثمان فارقلیط : حیات وخدمات“۔۔۔۔۔۔مصنف سہیل انجم ۔۔۔تبصرہ نگار ڈاکٹر عمیر منظر
  
آزاد ہندوستان کی ابتدائی چند دہائیوں میں اردو کے جو ممتاز صحافی گزرے ہیں ان میں ایک اہم نام مولانا محمد عثمان فارقلیط کا بھی ہے۔ وہ کم وبیش ایک چوتھائی صدی تک جمعیة علماءہند کے روزنامہ اخبار الجمعیة کے چیف ایڈیٹر رہے اور اپنے اداریوں اور شذرات سے پامال ملت اسلامیہ کو، جو کہ تقسیم ملک کے بعد ایک ہاری ہوئی فوج میں تبدیل ہو چکی تھی، ایک جرا ¿ت مند اور با حوصلہ فوج میں بدلنے کا گراں قدر فریضہ انجام دیتے رہے۔ آزادی کے بعد برسہا برس تک مسلم کش فسادات کی وجہ سے ہمت ہار دینے والے ہندوستانی مسلمانوں میں زندگی کا نیا جوش اور ولولہ پیدا کرنے اورفسادات کے زخموں سے چور شکست خوردہ ملت اسلامیان ہند کو اٹھا کر کھڑا کرنے میں انھوں نے جو ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انھوں نے نصف صدی تک صحافت سے وابستہ رہ کر جس طرح پرورش لوح وقلم کی اس کی بھی مثال بہت کم ملتی ہے۔ انھوں نے اپنے قلم کو ہمیشہ ملت اسلامیہ کی امانت سمجھا اور کبھی بھی اس امانت میں انھوں نے خیانت نہیں کی۔ ان کا قلم ایک مقدس اور پاکیزہ نشتر تھا جس سے وہ مسلمانان ہند کے زخموں کا اندمال کرتے تھے اور ان پر اپنی شیریںبیانی کا پھایا رکھتے تھے۔
اسی کے ساتھ وہ مسلم دشمن عناصر کی چالوں اور سازشوں کو بھی بڑی جراتمندی سے بے نقاب کرتے اور انھیں اپنے قلم سے ناکام بناتے رہے۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ ایسے جید اور ملت نواز صحافی کی خدمات کی طرف لوگوں کی توجہ بہت کم گئی۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے ایک معتبر صحافی اور ادیب جناب سہیل انجم نے اس جانب توجہ فرمائی ہے اور انھوں نے ان کے صحافتی کارناموں کو منظر عام پر لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ مولانا فارقلیط پر ان کی پہلی کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے۔ اس کتاب کا نام ”مولانا محمد عثمان فارقلیط : حیات وخدمات ہے“۔ 256صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنے آپ میں بہت تنوع رکھتی ہے۔ اس کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں مولانا فارقلیط کی نا مکمل خود نوشت یادداشتیں ہیں۔ اخبار الجمعیة سے سبکدوش ہونے کے بعد انھوں نے یادداشتیں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن وہ 1942تک کے واقعات لکھ سکے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کو ان کے برادر عم زادجناب سلیمان صابر نے مکمل کیا ہے۔ اس باب میں انھوں نے اپنے زمانہ طالب علمی سے لے کر لاہور اور کراچی میں صحافتی خدمات انجام دینے سے متعلق معلومات یکجا کرنے کے علاوہ اس دور کی قومی وبین الاقوامی سیاست پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔
دوسرا باب ”مولانا فارقلیط کو خراج عقیدت“ کے نام سے ہے۔ یہ باب دو حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں وہ مضامین یکجا کر دیے گئے ہیں جو ان کے انتقال کے بعد مشاہیر ادبا و صحافیوں نے سپرد قلم کیے تھے۔ مضمون نگاروں میں پروفیسر نثار احمد فاروقی، سلیمان صابر، مولانا امداد صابری، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا اخلاق حسین قاسمی، شرقی عثمانی، ضیاءالحسن فاروقی او رمولانا عزیز الرحمن جامعی کے مضامین ہیں۔ دوسرے حصے میں پروفیسر اختر الواسع، ڈاکٹر فیروز دہلوی، مولانا عبد الحفیظ رحمانی، اے یو آصف، مولانا اسعد اعظمی، احمد ابراہیم علوی اور بعض دیگر شخصیات کے مضامین ہیں جن میں مولانا فارقلیط کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ دوسرے حصے کے مضامین سہیل انجم کی درخواست پر تحریر کیے گئے ہیں۔ تیسرے باب میں مولانا عثمان فارقلیط کے ان اداریوں اور مضامین کا انتخاب شامل کیا گیا ہے جو انھوں نے الجمعیة کے ایڈیٹر کی حیثیت سے تحریر فرمائے تھے۔ اس کے علاوہ اس باب میں ایسے مضامین بھی ہیں جو الجمعیة سے سبک دوشی کے بعد وہ وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ہیں۔ اس باب میں مولانا فارقلیط کے پچیس مضامین کے علاوہ ان کے بہت سے اداریے اختصار سے شامل کیے گئے ہیں۔ پروفیسر نثار احمد فاروقی کے مطابق مولانا فارقلیط نے کم از کم دس ہزار اداریے اور شذرات لکھے ہوں گے۔ لہٰذا ایک کتاب میں ان کو یکجا کرنا مشکل ہے۔
کتاب کے شروع میں سہیل انجم نے مولانا کی حیات وخدمات پر ایک تفصیلی اور تحقیقی مضمون قلمبند کیا ہے جس میں ان کی زندگی اور ان کی صحافت کا بھرپور انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب پر ماہر اقبالیات پروفیسر عبد الحق نے پیش لفظ لکھا ہے۔
مولانا فارقلیط پر سہیل انجم کی دوسری کتاب کمپوزنگ کے مرحلے میں ہے جس میں صرف ان کے اداریوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کا نام ”مولانا عثمان فارقلیط کے اداریے“ ہے۔ اس کتاب کے شروع میں مولانا امداد صابری، جناب مالک رام، جناب فاروق ارگلی اور مولانا فارقلیط کے صاحب زادے جناب محمد فاروق کے گراں قدر مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سہیل انجم ایک مبسوط پیش لفظ لکھ رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ کتاب عید بعد منظر عام پر آجائے گی۔ ”مولانا محمد عثمان فارقلیط: حیات وخدمات“ سہیل انجم 370/6Aذاکر نگر نئی دہلی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا موبائیل نمبر ہے : 09582078862۔اس کتاب کی قیمت دو سو روپے ہے۔ دس سے زائد نسخے منگانے پر خصوصی رعایت کی پیشکش ہے۔ امید ہے کہ اہل ذوق حضرات کو یہ کتاب پسند آئے گی۔ یہ کتاب ادارہ نوائے اسلام سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
Copyright © 2013-14 www.misgan.org. All Rights Reserved.